September 26, 2014

عوامی ورکرز پارٹی کی پہلی کانگرس اور انقلابی پارٹی کی جدوجہد

عوامی ورکرز پارٹی کا قیام پاکستانی سیاست میں محنت کش طبقہ کی پارٹی تشکیل دینے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تھی،آج کے عہد میں اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب سرمایہ داری نظام کوبدترین بحران کا سامنا ہے اور سامراجی تضادات میں شدت آرہی ہے ، حکمران طبقہ پوری دنیا میں محنت کشوں پر بڑے حملے کررہا ہے اور اس کے خلاف جدوجہد جنم لے رہی ہے۔اس لیف لیٹ کا بنیادی مقصدپارٹی منشور میں سامراج وسرمایہ داری مخالفت ،ریاست اورقومی سوال پر موجود تضادات پر بحث کرنااور اس سوال کو پیش کرنا ہے کہ پاکستان میں محنت کش طبقہ کی انقلابی پارٹی کا پروگرام کن بنیادوں پرہونا چاہیے۔اس کے ساتھ یہ کے پچھلے دوسالوں میں پارٹی کو جن اہم سوالوں کا سامنا رہا ہے اس پر درست پوزیشن نہ لینے کی وجہ کیا تھی اور کیا موجودمنشور پر محنت کش طبقہ کی انقلابی پارٹی تعمیر کی جاسکتی ہے۔

سرمایہ داری کی مخالفت ،نجی ملکیت کے خاتمے کے بغیر

عوامی ورکرز پارٹی کا منشورسامراجیت کی مخالفت کرتاہے۔لیکن اس کے ساتھ یہ نجی سرمایہ اور ملٹی نیشنل کو بھی کام کرنے کی اجازات دیتے ہیں ۔ صنعتی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری اور ملٹی نیشنل کو اجازات دینے میں سوشلزم حل کے طور پر نظر نہیں آتا،یہاں ترقی کو سرمایہ داری سے منسلک کردیا جاتا ہے۔یہ سماجی تبدیلی کو نظریاتی طور پر توسرمایہ داری مخالفت میں دیکھتی ہے،لیکن اس کی سرمایہ داری مخالفت کا سرمایہ داری کے خاتمے ،سوشلسٹ انقلاب اور منصوبہ بند معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہے

دہشت مخالف جنگ

پارٹی کا منشوردہشت گردی کے خلاف جنگ کوسامراجی طاقتوں اور انکی گماشتہ ریاستوں کی طرف سے دنیا پر بالادستی قائم کرنے کا منصوبہ کہتی ہے اور اس کے پاکستانی ریاست اور سماج پر ہونے والے اثرات کا بھی ذکر کرتی ہے۔لیکن سامراج اورریاست کے خلاف جدوجہد کے طریقہ کار کو سامنے لانے کی بجائے اس کو حکمران طبقہ کے پرانے اور نئے بیانئے میں کشمکش تک محدود کردیتی ہے،جس نے طبقاتی جدوجہد کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔معیشت پسندی اور لبرل ازم میں ان کے لیے سامراج یا ریاست کے خلاف جدوجہد سے زیادہ،رجعت کے خلاف جنگ اور آپریشن اہم ہوتے ہیں اور یہ سامراج اور ریاست کے ساتھ کھڑئے ہوجاتے ہیں۔یوں مظلوم پختونوں پرریاست کے آپریشن کی حامی بن جاتے ہیں۔

ریاست اور سماجی تبدیلی:

ریاست کا سوال انقلابی نظریہ اور جدوجہد میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ ہی انقلابی جماعت کو اصلاح پسندی سے علیحدہ کرتا ہے۔ عوامی ورکرزپارٹی کا پروگرام ریاست کے نوآبادیاتی کردار پر بات کرتا ہے کہ ’’اس ریاست نے اپنے عوام کو سامراجی یلغار اوراور نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے‘‘ پروگرام مزید کہتا ہے کہ’’فوجی وسول افسر شاہی اور بالادست طبقات نے مضبوط مرکز ،نام نہاد قومی سلامتی اور اسلام کے تحفظ کے نام پر ایک ہیبت ناک اشرافیائی ریاست بنا رکھا ہے،جہاں ایجنسیاں راج کرتی ہیں‘‘یہ ایک درست نشاندہی ہے اور اس کے ساتھ’’ عالمی سرمایہ داری کی جگہ جمہوری اور سوشلسٹ نظام کے قیام‘‘کو منزل قرار دینادرست ہے۔پروگرام کے ابتدائیہ میں عمومی طور ریاست،سامراج اور عوام کے تعلق کی وضاحت کی گی ہے اور یہ اہم جمہوری مطالبات کو بھی سامنے لاتا ہے،جو مزدور تحریک کی جدوجہد میں اہم ہے۔یہ وضاحت بھی کرتاہے کہ یہ کس طبقہ کی نمائندہ ہے اور سوشلزم کو حل کے طور پر بھی پیش کرتی ہے۔لیکن سوشلزم کی جدوجہد کو اس ریاست کے خاتمے سے وابستہ نہیں کرتا اوراس کااظہار ’’ہماراپروگرام‘‘میں واضح ہوجاتا ہے۔جہاں ریاست کے حوالے سے پروگرام سرمایہ داری کی حدود سے باہر نہیں جاتا، ریاست کا سوال مجرد سوال نہیں ہے،بلکہ اس کی اہمیت روزانہ کی جدوجہد میں بہت واضح ہوکر سامنے آتی ہے،جیسے عوامی ورکرز پارٹی کی قیادت نظام کے بحران اور حکمران طبقہ کے ٹکراؤ کی صورتحال میں جدوجہد کا تناظر سامنے لانے کی بجائے جمہوریت کے نام پر نواز حکومت کی حمایت میں آجاتی ہے ۔اسی طرح ڈاکٹر مالک کے وزیراعلی منتخب ہونے کو مثبت پیش رفت قرار دیاجاتا۔یہ مواقف ریاست اورلبرل ڈیموکریسی میں حل دیکھتا ہے۔

قومی سوال:

پارٹی منشور قومی تضاد کو بنیادی تضاد اور پاکستان کو کثیرالقومی ریاست تو تسلیم کرتا ہے،اور قومی جبر کی مخالفت بھی کرتا ہے۔اس کے علاوہ حق خوداردیت اور علیحدگی کے حق کو نظریاتی طور پر تسلیم کرتا ہے۔لیکن عملی طور پچھلے دوسالوں میں اس کی سیاست موجود ریاستی ڈھانچے کے دفاع میں سامنے آتی ہے۔بلوچ تحریک پر اس کا مواقف ڈاکٹر مالک کی حمایت میں جاتا ہے اور یہ وہاں کی تحریک کے مطالبات کے ساتھ جڑنے کی بجائے حکومت کی حمایت میں سامنے آتے ہیں۔لحاظ ہم دیکھتے ہیں جدوجہد کے بنیادی نعرے حق خوداردیت اور علیحدگی کے نعرے کو تسلیم کرنا تو دور کی بات یہ اس بلوچ لانگ مارچ پر بھی تضادات کا شکار ہوجاتے ہیں جو گمشدہ سیاسی کارکنان کے لیے تھا،پنجاب میں مرکزی لیڈر شپ نے اس میں شرکت سے ہی انکار کردیاتھا۔جہاں ایک طرف پارٹی کی لیڈرشپ نے دہشت مخالف جنگ کی حمایت کی اس کے ساتھ ہی پختونوں مہاجرین کی سندھ میں آمد کی سندھ پارٹی نے مخالفت اور اس کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔یہ پارٹی کو ایک سوشلسٹ پارٹی کی بجائے قوم پرستی کی طرف لے جاتی ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی کا پروگرام کس بنیادپر ہو:

عوامی ورکرزپارٹی کا پروگرام دو حصوں میں تقسیم ہے،کم ازکم پروگرام جو سرمایہ دارنہ نظام میں ممکناََ حد تک اصلاحات کی بات کرتا ہے اور ’’زیادہ سے زیادہ‘‘ پروگرام جس کا مقصد سرمایہ داری کے مقابلے میں مستقبل دورمیں سوشلسٹ نظام اوران دو پروگراموں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے،یوں یہ پروگرام سوشلزم کو حتمی منزل قرار دے کر ایک طرف رکھ دیتا ہے۔جب کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پارٹی کو واضح لائحہ عمل پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ کیسے محنت کشوں اور مظلوم اقوام و پرتوں کی جدوجہد کو سرمایہ داری نظام کے خاتمے کی جدوجہد منسلک کیا جاسکتا ہے۔کیسے ہم منصوبہ بندہ معیشت محنت کش طبقہ کے جمہوری کنٹرول میں قائم کرسکتے ہیں،جو ہمیں سرمایہ داری کے استحصال اور جبر سے نجات دلائے۔ہمیں سرمایہ داری مخالف اور سوشلسٹ کی انقلاب پارٹی کو تعمیر کرنا ہوگا۔عوامی ورکرز پارٹی اس کی طرف پہلا قدم بن سکتی ہے۔جو الیکشن میں حصہ لے اور اس کو جیتنے کی کوشش بھی کرے لیکن اس کا بنیادی مقصد سوشلسٹ انقلاب کی پارٹی کی تعمیر ہو۔ہمیں ایک ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو سامراج ،سرمایہ داری،جنگ،دہشت گردی،نسل پرستی،خواتین کی آزادی،ماحولیاتی تباہی کے خلاف،سوشلزم،انٹرنیشنل ازم اور منصوبہ بند معیشت کے لیے جو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول کے لیے جدوجہد منظم کرئے۔

       محنت کش طبقہ کی پارٹی کیسی ہو:

عوامی ورکرز پارٹی اپنے قیام سے مختلف بحرانوں کا سامنا کررہی ہے،طبقاتی جدوجہد کا کوئی بھی سنجیدہ سوال اس کو بکھیر دیتاہے(جیسے بلوچ جدوجہد یا وزیرستان پر فوجی آپریشن)۔ان حالات میںیہ ضروری ہے کہ پارٹی کے پروگرام میں ریاست،سامراج ،ترقی،جمہوریت اور انقلاب کے کرادر پر تفصیلی بحث ہو ۔چونکہ پارٹی میں اس پر مختلف نقطہ ہائے نظر موجود ہیں۔بعض اوقات تو ان کے تضادات کی نوعیت اتنی شدید ہے کہ ان کی موجودگی میں ایک پارٹی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور جن پراتفاق کے بغیر ایک ہم آہنگ اورجدوجہد کی حامل پارٹی کا قیام ممکن نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ معاملات کو لیڈرشپ کی سطح پرحل کرنے کی بجائے، پاکستان میں سماجی تبدیلی کی جدوجہد کے اہم سوالات کوجمہوری انداز میں پارٹی کے ہر ادارے میں زیربحث لیا جائے۔اس میں پارٹی سے باہر دیگر گروپس کے ساتھیوں کو شامل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ہمیں چھوٹے چھوٹے اختلافات اور اسمبلی کی ایک دو نشست کی سیاست سے باہر آنے کی ضرورت ہے ۔یہ دیکھنے ہوگا کہ پاکستان میں آج محنت کش طبقہ کی سیاست کیسے منظم کی جائے اور آج وہ کیا تبدیلیاں آئیں ہیں جس میں ہم عوام سے جڑا نہیں پارہے،کہاں غلطی ہے اور آج کے بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں کیسے انقلابی سیاست تعمیر کرسکتے ہیں ۔موجود کانگرس کسی جمہوری بحث کی بجائے مختلف گرپوں کے درمیان ایک ’’سمجھوتے‘‘ کا نتیجہ ہے اور اسی لیے کہا جارہا ہے کہ منشور اور آئین پر کوئی بات نہ کی جائے اور لیڈر شپ کو پہلے سے منتخب کرلیا گیا ہے۔ یوں یہ تضادات کو حل کرنے کی بجائے ان میں مزید اضافہ کا باعث بنے گی۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ کانگرس میں جمہوری بحث ہو اور سب ڈیلگیٹس اور ممبران کو برابر حق دیا جائے کہ وہ اپنا نقطہ نظر بیان کرسکیں،خاصکر جو پارٹی کے منشور ودستور اور مرکزی لیڈر شپ پر تنقید رکھتے ہوں۔پارٹی میں الیکشن کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ فیڈرل کمیٹی کے پاس یہ حق ہے کہ وہ نئی سلیٹ پیش کرئے لیکن یہ کم ازکم دوماہ پہلے پیش کی جائے۔اس پر پارٹی میں ہر سطح پر بحث ہو جس پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہ کی جائے اور اگر پارٹی ممبران نئی سلیٹ ،لیڈر شپ یا منشور پیش کرنا چاہیں تو ان کو اس کا بھرپور موقع ملنا چاہے اس سے پارٹی کمزور ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہوگی جب ممبران کو یہ یقین ہوگا کہ فیصلے ان کی مرضی کے مطابق ہوں گے۔اس کے علاوہ مرکزی لیڈرشپ کو فیڈرل کمیٹی کی بجائے کانگرس کو براہ راست منتخب کرنا چاہے۔پارٹی میں اختلافی نقطہ نظر رکھنے والوں کو فیکشن بنانے اپنا مواقف بیان کرنے اورمیٹنگ کا حق ہونا چاہیے ،یوں ہی جمہوری انداز میں پارٹی آگے بڑھ سکتی ہے کہنے کامطلب ہے کہ ان جمہوری آزادیوں اور اہم موضوعات پر بحث ہی محنت کش طبقہ کی پارٹی کی تعمیر کے لیے ضروری ہیں۔یوں ہی یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ مختلف رجحانات کے درمیان تضادات پر فکری مباحث نہ صرف ممبران کی نظریاتی سمجھ بوجھ میں اضافہ کاباعث بنائیں،بلکہ نظریات میں جمود کی بجائے ان میں ارتقاء اور فکری بالغ نظری پید ہوگی

۔لیفٹ اپوزیشن عوامی ورکرز پارٹی اگر آپ اس تنقیدسے متفق ہیں،تو آئیے ملکر کانگرس اورپارٹی میں ان پر جدوجہد کریں یوں ہی ہم انقلابی پارٹی کی تعمیر کی جانب آگے بڑھ سکتے ہیں۔

June 29, 2014

یوکرائین میں ردانقلاب اور فاشسٹ مخالف جدوجہد

اوڈیسا میں منظم قتلِ عام،جس میں 42لوگ کیف کی حکومت سے منسلک فورسز کے ہاتھوں مارے گے،یہ یوکرئین حکومت کے رجعتی کردار کو واضح کرتا ہے۔میڈان انقلاب حقیقت میں ردانقلاب تھا،جو دائیں بازو کے قوم پرستوں(جو مغرب کے نیولبرل ایجنٹ ہیں)فاشسٹ فرنٹ پارٹی(سبودباہ) اور فاشسٹ ملیشاء کو اقتدار میں لے کر آیا۔موجود حکومت میں نظم ونسق برقرار رکھنے میں اہم کردارفاشسٹ ملیشاء کو دیا گیا ہے۔کیف حکومت کا مقصد،یوکرئین کو یورپ اور شمالی امریکی سرمایہ کے شکنجے میں دینا ہے اور اس کے لیے وہ
Continue reading

June 15, 2014

سامراجی ریاستوں میں بڑھتے ہوئے تضادات

ترجمہ:فیروز عمران
نئے عہد کا آغاز:
عالمی نظام کے خدوخال جو سویت یونین کے انہدام کے بعد ابھرئے تھے ان کو سیاسی سطح پر شدیدزلزلے کا سامنا ہے ۔سامراجی ممالک کے درمیان اقتصادی پابندیوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں،حکمران طبقہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ایسی کوئی بھی صورتحال کمزور معاشی بحالی کا خاتمہ کرسکتی ہے۔موجود صورتحال خانہ جنگیوں اور عالمی سطح پرایک نئی سرد جنگ کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔اس کا مطلب ہے ہم ایک ایسے عہد کی طرف بڑھ رہے ہیں،جہاں انقلاب اور ردانقلاب تیزی کے ساتھ سامنے آئیں گے۔
امریکی بالادستی کا خاتمہ:
مشرق وسطی،مشرق،ساوتھ ایسٹ ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ میں ہونے والے واقعات امریکہ کے بالادست کردار کے خاتمہ کا اعلان کرہے ہیں اور عالمی سطح پر سامراجی تضادات کی شد ت میں اضافہ ہورہا ہے۔یہ دنیا کولوٹ مار کے لیے دوبارہ تقسیم کرنے کی کوشش کا آغاز ہے اور یہ پرانی سامراجی قوتوں امریکہ،جرمنی اور فرانس کی قیادت میں یورپی یونین ،برطانیہ اور جاپان کی قیمت پر ہوگا۔اس کا فائدہ نئے ابھرتے ہوئے سامراجی ممالک چین و روس اور تیزی سے ترقی کرے ہوئے ممالک انڈیا اور برازیل اُٹھا رہے ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جارحیت نئی طاقتوں کی طرف سے ہورہی ہے،جیسا کا مغربی حکمران طبقہ اور میڈیا کہ رہا ہے۔حقیقت اس کے برعکس ہے،امریکن اور یورپین حکمران طبقہ جنوبی ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ جو طویل عرصہ سے ان کی لوت مار کے لیے مختص تھے ان میں خاصکر چین کی بڑھتی ہوئی ’’پرامن ‘‘ مداخلت سے خوف زدہ ہے۔
سامراجی تضادات:
ان حالات میں یہ انتقامی طور پر چین اور روس کے گرد دائرہ تنگ کررہے ہیں ۔اس لیے امریک پسیفک کو اپنی حکمت عملی کامحور بنا رہا ہے اور مشرق وسطی اور افغانستان سے پیچھا چھڑا رہا ہے۔2013میں امریکی سامراج کو شام میں ذلت آمیز شکست،لاطینی امریکہ میں بڑھتی ہوئی پاپولسٹ امریکہ مخالف حکومتوں کا قیام،مختلف افریقی ممالک میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورثوخ،امریکی سامراج کو پاگل بنا رہا ہے۔ یہاں تک کہ یوکرائین میں اس نے کھلے عام ایک خودمختیار ریاست میں فاشسٹ گرپوں کی مدد کرکے نہ صرف ان کے اقتدار کی راہ ہموار کی اور اس کے نتیجے میں کریمیا نے یوکرائین سے علیحدہ ہو کر روس سے الحاق کرلیا۔ایسا کرتے ہوئے امریکہ نے اکھڑ پن سے یورپی یونین کی طرف سے سمجھوتے کو قبول کرنے سے انکار کردیا جواس ساری صورتحال میں پوٹین کو بے عزتی سے بچا رہی تھی۔اس بغاوت نے روسی صدر کو بہانہ فراہم کیاکہ وہ کریمیا پر غیر منصفانہ قبضہ کرلے۔ پوٹن کا سامراج کسی طور پر اوباما،کیمرون اورمرکل کے سامراج سے بہتر نہیں ہے،جیسا کہ شام میں اسد کی خونی حکومت کی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ جہاں اوبامہ اور کیری ،پوٹین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں،وہیں اس کو اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دئے رہے ہیں۔امریکی سامراج اس وقت وینزویلا میں دائیں بازو کے مظاہروں کو ہوا دئے رہاہے اور مصر میں آمر السیسی کے ہاتھوں ایک ہزار سے زائداخوان مظاہرین کے قتل وعام پر خاموش ہے۔
انٹرنیشنل ازم:
محنت کش ایک عالمی طبقہ ہے،جس کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کسی بھی سرمایہ دارنہ بلاک کے مفادات کے تابع یا کسی سامراجی طاقت سے وابستہ ہو کر،حتی کہ مظلوم اقوام کا محنت کش اپنے سرمایہ دار کی بالادستی قبول کر لے ممکن نہیں،۔ طبقاتی آزادی بنیادی بات ہے۔اس وقت اہم بات یہ ہے کہ اس عہد کے تقاضوں سمجھ جائے کہ ہم انتشار،جنگ اورنقلابات سے دہائیوں دور نہیں ہیں۔
ہم خود کو یہ دھوکا نہیں دئے سکتے کہ برطانیہ اس ساری صورتحال کا شکار نہیں ہوگا اور اس کو شاندار استشناحاصل ہوگا۔برطانوی سامراج جتنا بھی بوڑھا ہو یہ عالمی سطح پر استحصال اور خون میں لتھرا ہوا ہے۔
اس پرانتشار عہد میں حالات میں تیزی کے ساتھ تبدیلی آرہی ہیں۔انقلاب ، ردانقلاب اور نیم رجعتی معروض بڑی تیزی کے ساتھ سامنے آسکتے ہیں۔جن میں اکژپہلے سے طے شدہ حکمت عملی ناکام ہوجاتی ہے،ان حالات میں محنت کش طبقہ کے ہراول دستہ کو تیزی سے حالات کے مطابق اپنے لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ عرب انقلاب2011میں ظالم حکمرانوں کے خلاف جمہوری اور جائز بغاوت تھی جیسے آج بھی شام میں جاری ہے یایوکرائین کی صورت میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ردانقلاب ،انقلاب کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
اس کے ساتھ ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ حقیقی دشمن ہمارا حکمران طبقہ ہے اوراس کی اقتصادی پابندیوں کی سختی کے ساتھ مزاحمت کرنی چاہیے،جو دنیاکو خطرناک تجارتی و سرد جنگوں اور پر انتشار اور تباکن دور کی طرف لے جارہی ہے۔

May 21, 2014

واسا کی نجکاری کا منصوبہ نامنظور


واسا کا محکمہ جولاہور کے شہریوں کو پانی اور سنیٹیشن کی خدمات فراہم کرتا ہے اور چند سال پہلے تک منافع میں تھا ۔اسے ایک منصوبے کے تحت پنجاب حکومت خسارے میں لائی تاکہ اس کی نجکاری کی جاسکے،پہلے اس کو بجلی کمرشلریٹس پر فراہم کی گئی،پھر کرایے پر جنریٹر لے کر چلائے گے اور اب جنریٹر خرید لیے گے اور یہ سب ایک ایسے انداز میں ہوا کہ ایک منافع بخش ادارہ نقصان میں چلا گیا۔اب اس کوکمپنی بنانے کانوٹس جاری ہوگیا ہے۔اس وقت تین سب ڈویژن کمپنی کے تحت ہیں،باقی بھی کمپنی کے حوالے کردیے جائیں گئیں۔شالیمار سب ڈویژن میں نئی ملازمتیں دینے کی بجائے ہفتہ وار چھٹی ختم کردی گی ہے۔اس وقت واسا میں5332ورکرز کی نوکری پکی ہے ،جبکہ 1200کے قریب محنت کش کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر ہیں۔ڈیلی ویجز کی صورتحال بہت بری ہے ان کو سال میں آٹھ ماہ کی تنخواہ ملتی ہے۔لیکن یہ اس کے باوجود نوکری کررہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ بے روزگاری بہت زیادہ ہے۔
واسا کے محنت کشوں کا جی پی فند بحال نہیں ہوا حالانکہ پنجاب بھر میں دو سال سے اسے دوبارہ لاگو کردیا گیا ہے۔کنٹریکٹ ورکرز600کے قریب ہیں اور یہ سالوں سے جاب پر ہیں لیکن ان کو مستقل نہیں کیا جارہا اور پکی نوکریوں کو ختم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔تاکہ ان ورکرز اور نئے بھرتی ہونے والے محنت کشوں کو کم ازکم تنخواہ پر نوکری دی جائے۔اس وقت SKRAکمپنی نہایت کم تنخواہ پر محنت کش فراہم کرہی ہے ۔
لاہور میں پہلے 20گھنٹے پانی دیا جارہا تھا ،اب اس کی فراہمی 12گھنٹے کردی گئی ہے،پہلے بل150 تھا اب اس کو 600روپے کردیا گیا ہے،پہلے یہ سال میں 4دفعہ آتاتھا اب ہر ماہ آیا کرئے گا۔سیوریج کھولنے کی فیس بھی جلد ہی لاگو کی جارہی ہے۔ابھی یہ سب کمپنی کے تحت ہوگا ۔لیکن نجکاری میں کیا ہوگا اس کا اندازہ مشکل نہیں۔لاہور کے شہری جو آج پانی کو آرام سے استعمال کرتے ہیں۔یہ ان کے لیے یہ ایک نایاب شئے بن جائے گئی۔
سولڈ ویسٹ منجمنٹ کی جب نجکاری کی گئی تھی تو حکومت محکمے کو 2ارب روپے دئے رہی تھی،اس وقت ترکی کی کمپنی کو نجکاری کے بعد 12ارب روپے دیئے جارہے ہیں اور لاہور کی صفائی میں تو کچھ خاص فرق نہیں پڑا،البتہ سالڈویسٹ منجمنٹ کے محنت کشوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جارہا ہے،خاص کر کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے محنت کشوں کو جن کی بڑی تعداد کرسچن ہے۔جو اس وقت سراپہ احتجاج ہیں۔
یہ صورتحال واسا کے محنت کشوں میں بے چینی کا باعث بن رہی ہے کہ نجکاری کے بعد ان کا کیا مستقبل ہوگا،خاص کر پچھلے کچھ عرصے سے مختلف بہانے بنا کر واسا کے محنت کشوں کو شدید ہراساں کیا جائے اور نوکریوں سے نکالنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ان حالات میں واسا کے محنت کش پچھلے چند دنوں سے سراپا احتجاج ہیں۔آج واسا میں عام ہڑتال تھی اور محنت کشوں نے کوئی کا م نہیں کیا۔اس کے علاوہ لاہور پریس کلب پر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔جس میں 4000کے قریب محنت کش شریک ہوئے اس مواقع پر پنجاب حکومت اور شہباز شریف اور نواز شریف کے خلاف شدید نعرئے بازی ہوئی اور محنت کشوں نے اس عزم کا اظہار کیا کے وہ کسی بھی صورت میں ادارے کی نجکاری نہیں ہونے دئیں گئیں۔اس احتجاج کی کال CBAنے دی تھی۔لیکن واسا کی تمام تر یونینز اس ہڑتال اور احتجاج میں شریک ہیں
Image

May 3, 2014

محنت کشوکے بھگت سنگھ

تحریر:حسن رضا
فیصل آباد کے پاور لومز کے محنت کشوں کے راہنماوں کاجیل میں تیسراسال ہے۔یہ کیس ظاہر کرتا ہے کہ کیسے اپنا حق مانگنے کو حکمران طبقہ اور اس کی ریاست نے جرم میں تبدیل کردیا،جس کی سزا6محنت کشوں کو 496سال دی گی اور اب اسی کیس میں 7محنت کشوں کو287سال کی سزا سنائی گی ہے۔یہ 13محنت کش لیبر قومی موومنٹ کے راہنما تھے۔جو جولائی 2010کی محنت کشوں کی ہڑتال میں اہم کردار ادا کررہے تھے۔اس کا مقصدحکومت کی طرف سے کم ازکم تنخواہ میں17فیصد اضافہ کے اعلان پر عملدرآمدکروانا Imageتھا۔جس سے مالکان انکاری تھے۔

یکم جولائی کو جب فضل ویونگ کے محنت کش ہڑتال میں شمولیت کے لیے فیکٹری سے باہر آرہے تھے تواندار سے ان پر فائرنگ کی گی،جس پر کچھ محنت کش بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندارگے اور انہوں نے غنڈوں کو غیر مسلح کیا۔جن کو مالکان ہڑتالی محنت کشوں پرحملہ کے لیے لائے تھے۔
محنت کشوں کی مرکزی ریلی کو اسی دن ایک بار پھر حملے کا سامنا کرنا پڑا،جس میں ایک طرف بڑی تعدادمیں مالکان کے غنڈے تھے،جنہوں نے اینٹوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا اوردوسری طرف سے پولیس والے تھے،جنہوں نے ہوائی فائرنگ اوربے انتہا آنسو گیس کی شیلنگ کی۔جب مالکان اور ریاست کا وحشیانہ تشدد اور بربریت جاری تھی،اس دوران فیکٹری کو آگ لگ گی۔جس کا الزام ہڑتالی محنت کشوں پر عائد کردیا گیا۔جس کو بعدازں محنت کشوں کی طرف سے تشدد کے طور پر پیش کیا گیا۔حالانکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
تین دن بعداس کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں لیبر قومی موومنٹ کے چودہ راہنماوں اور150دیگر ہڑتالیوں کو نامزد کیا گیا۔تین ماہ بعد جب ان کو عدالت میں پیش کیا گیا،تو ان پر اقدام قتل اور فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا جس کا مقصد فیکٹری کے مالکان کا قتل تھا جس کا پہلی ایف آئی ار میں کوئی ذکر نہیں تھا۔
اس صورتحال کے باوجود عدالت نے ان محنت کشوں کو مجرم قرار دے کر496سال کی سزا سنادی۔یہ ایک شرمناک صورتحال تھی،جہاں اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والے پرامن محنت کشوں کے راہنماوں کو بدترین سزا دی گی۔وہاںیہ اس ’’ریاست،اس کے اداروں اور قانون کی حکمرانی‘‘ کی حقیقت واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔کیسے ریاست نے سرمایہ کے خادم کے طور پر محنت کشوں کو حقوق کی جدوجہد پر وحشیانہ سزا دی۔یہ محنت کش طبقہ کی تحریک پر سرمایہ کی طرف سے ایک بڑا حملہ تھا۔جس میں یہ واضح کیا گیا کہ سرمایہ کے مفاد کے خلاف کھڑے ہونا کا کیا مطلب کیا ہو تا ہے۔یہ ان محنت کشوں کو سمجھنا ہے،جنہوں چیف جسٹس کی بحالی کی جدوجہد میں حصہ لیا کہ سرمایہ داری میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کا کیا مطلب ہو تا ہے۔
لیبر قومی موومنٹ،فیصل آباد کے پاور لومز کے2لاکھ محنت کشوں کی نمائندہ تنظیم ہے،محنت کش طبقہ کے اس حصے نے پچھلے عرصے میں جدوجہد اور قربانی کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ان پر نیولبرل ریاست نے چند دن پہلے ایک اور حملہ کیا اور7محنت کشوں کو 287سال کی سزا سنائی ہے۔ان حالات یہ مزدور تحریک کی طرف سے بڑے پیمانے پرمشترکہ جدوجہد اور یکجہتی کے متقاضی ہیں۔تاکہ نہ صرف ان محنت کشوں کی رہائی کی جدوجہد کو وسیع تر کیا جائے اور ان کے موجود حق اور جدوجہد کا دفاع کیا جائے۔بلکہ یہ سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف جدوجہد کے سوال کو بھی سامنے لاتی ہے۔
پاکستان اور عالمی مزدور تحریک سے جدوجہد اور یکجہتی کی اپیل ہے۔جس میں قید محنت کشوں کے خاندانوں اور ان کے کیس پر ہونے والے اخراجات کے لیے فنڈ ریزنگ اور احتجاجی تحریک کی ضرورت ہے،اس کو ایک وسیع تر تحریک بنایا جاسکے۔تاکہ حکمران طبقہ کو ان محنت کشوں کے لیے’’انصاف‘‘پر مجبور کیا جاسکے۔ایک مضبوط اور کامیاب تحریک محنت کش طبقہ کے باقی حصوں کو بھی اعتماد بخشے گی،جس سے پاکستان میں ایک نئی تحریک جنم لے سکتی،جو اس نظام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

May 31, 2012

چیک رپبلک میں نیولبرل حکومت کے خلاف ابھرتی ہوئی جدوجہد

تحریر:پاویل سینڈڈ
چیک رپبلک میں 1989کے مخملی انقلاب کے بعد سب سے بڑے عوامی مظاہرہ دیکھنے میںآیا۔پراگ میں120000سے زائد لوگ شہر کے مرکز میں سٹاپ دی گورنمنٹ ،جو ٹریڈیونینز،سماجی تحریکوں اور نام نہاد شہری اتحاد پر مشتمل ہے۔جس کا مقصد نیولبرل اصلاحات کا خاتمہ،کٹوتیوں کے پروگرام،حکومت کے خاتمے اور نئے انتخابات کا انعقاد تھا۔
Petr Necas’s کی دائیں بازو کی مخلوط حکومت2010کے وسطہ میں میڈیا کی جھوٹی اور بدیانتی پر مبنی کمپین ،جسے آج عمومی طور پر ’’یونانی جھوٹ ‘‘کہا جاتا ہے کہ نتیجے میں قائم ہوئی،چیک کے دائیں بازو کے سیاست دانوں نے دعوی کیا کہ اگر لیفٹ جیت گیا تو چیک Continue reading

May 13, 2012

حکمران طبقہ کے تضادات اور محنت کش عوام

Continue reading

March 29, 2012

بلوچستان ،قومی آزادی کی جدوجہد اور مارکسی نقطہ نظر

تحریر:کامریڈشہزاد
بلوچستان کاشمار وسائل کے حوالے سے دنیا کے امیر ترین خطوں میں ہوتا ہے،جہاں پرتیل گیس،سونے،تانبے کے علاوہ دیگر بیشمارمعدنی ذخائر پائے جاتے ہیں۔لیکن یہ وسائل ان کی زندگیوں میں بہتری کی بجائے اذیت کا باعث بن رہے ہیں۔ان حالات میں سامراجی مداخلت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔جس نے قومی محرومی کا خلاف جدوجہد کو بہت گھمبیر بنادیا ہے۔بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت بھی سامراجیوں کی دلچسپی کا باعث ہے۔گوادر پورٹ اور معدنی وسائل پر قبضے کی اس جنگ میں امریکہ،چین،پاکستان اور خود بلوچ حکمران طبقہ اس میں زیادہ سے زیادہ حصے Continue reading
March 23, 2012

ہندوستان میں دس کڑور سے زائد محنت کشوں کی عام ہڑتال

Continue reading

March 22, 2012

ریل بچاؤ اتحاد کا نجکاری کے خلاف احتجاجی کنونشن

(رپورٹ )ریل بچاؤ اتحاد کے زیر اہتمام ریلوے ہیڈکواٹرز کے با ہر سے ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں ریلوئے مزدورں نے ریلوئے میں سیاسی مداخلت ،ریل گاڑیوں کی نجکاری،ٹھکیداری نظام،کرپشن اور میٹریل چوری کے کیخلاف احتجاجی کنونشن منعقد کیا۔ Continue reading

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.