June 29, 2014

یوکرائین میں ردانقلاب اور فاشسٹ مخالف جدوجہد

اوڈیسا میں منظم قتلِ عام،جس میں 42لوگ کیف کی حکومت سے منسلک فورسز کے ہاتھوں مارے گے،یہ یوکرئین حکومت کے رجعتی کردار کو واضح کرتا ہے۔میڈان انقلاب حقیقت میں ردانقلاب تھا،جو دائیں بازو کے قوم پرستوں(جو مغرب کے نیولبرل ایجنٹ ہیں)فاشسٹ فرنٹ پارٹی(سبودباہ) اور فاشسٹ ملیشاء کو اقتدار میں لے کر آیا۔موجود حکومت میں نظم ونسق برقرار رکھنے میں اہم کردارفاشسٹ ملیشاء کو دیا گیا ہے۔کیف حکومت کا مقصد،یوکرئین کو یورپ اور شمالی امریکی سرمایہ کے شکنجے میں دینا ہے اور اس کے لیے وہ
Continue reading

June 15, 2014

سامراجی ریاستوں میں بڑھتے ہوئے تضادات

ترجمہ:فیروز عمران
نئے عہد کا آغاز:
عالمی نظام کے خدوخال جو سویت یونین کے انہدام کے بعد ابھرئے تھے ان کو سیاسی سطح پر شدیدزلزلے کا سامنا ہے ۔سامراجی ممالک کے درمیان اقتصادی پابندیوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں،حکمران طبقہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ایسی کوئی بھی صورتحال کمزور معاشی بحالی کا خاتمہ کرسکتی ہے۔موجود صورتحال خانہ جنگیوں اور عالمی سطح پرایک نئی سرد جنگ کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔اس کا مطلب ہے ہم ایک ایسے عہد کی طرف بڑھ رہے ہیں،جہاں انقلاب اور ردانقلاب تیزی کے ساتھ سامنے آئیں گے۔
امریکی بالادستی کا خاتمہ:
مشرق وسطی،مشرق،ساوتھ ایسٹ ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ میں ہونے والے واقعات امریکہ کے بالادست کردار کے خاتمہ کا اعلان کرہے ہیں اور عالمی سطح پر سامراجی تضادات کی شد ت میں اضافہ ہورہا ہے۔یہ دنیا کولوٹ مار کے لیے دوبارہ تقسیم کرنے کی کوشش کا آغاز ہے اور یہ پرانی سامراجی قوتوں امریکہ،جرمنی اور فرانس کی قیادت میں یورپی یونین ،برطانیہ اور جاپان کی قیمت پر ہوگا۔اس کا فائدہ نئے ابھرتے ہوئے سامراجی ممالک چین و روس اور تیزی سے ترقی کرے ہوئے ممالک انڈیا اور برازیل اُٹھا رہے ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جارحیت نئی طاقتوں کی طرف سے ہورہی ہے،جیسا کا مغربی حکمران طبقہ اور میڈیا کہ رہا ہے۔حقیقت اس کے برعکس ہے،امریکن اور یورپین حکمران طبقہ جنوبی ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ جو طویل عرصہ سے ان کی لوت مار کے لیے مختص تھے ان میں خاصکر چین کی بڑھتی ہوئی ’’پرامن ‘‘ مداخلت سے خوف زدہ ہے۔
سامراجی تضادات:
ان حالات میں یہ انتقامی طور پر چین اور روس کے گرد دائرہ تنگ کررہے ہیں ۔اس لیے امریک پسیفک کو اپنی حکمت عملی کامحور بنا رہا ہے اور مشرق وسطی اور افغانستان سے پیچھا چھڑا رہا ہے۔2013میں امریکی سامراج کو شام میں ذلت آمیز شکست،لاطینی امریکہ میں بڑھتی ہوئی پاپولسٹ امریکہ مخالف حکومتوں کا قیام،مختلف افریقی ممالک میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورثوخ،امریکی سامراج کو پاگل بنا رہا ہے۔ یہاں تک کہ یوکرائین میں اس نے کھلے عام ایک خودمختیار ریاست میں فاشسٹ گرپوں کی مدد کرکے نہ صرف ان کے اقتدار کی راہ ہموار کی اور اس کے نتیجے میں کریمیا نے یوکرائین سے علیحدہ ہو کر روس سے الحاق کرلیا۔ایسا کرتے ہوئے امریکہ نے اکھڑ پن سے یورپی یونین کی طرف سے سمجھوتے کو قبول کرنے سے انکار کردیا جواس ساری صورتحال میں پوٹین کو بے عزتی سے بچا رہی تھی۔اس بغاوت نے روسی صدر کو بہانہ فراہم کیاکہ وہ کریمیا پر غیر منصفانہ قبضہ کرلے۔ پوٹن کا سامراج کسی طور پر اوباما،کیمرون اورمرکل کے سامراج سے بہتر نہیں ہے،جیسا کہ شام میں اسد کی خونی حکومت کی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ جہاں اوبامہ اور کیری ،پوٹین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں،وہیں اس کو اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دئے رہے ہیں۔امریکی سامراج اس وقت وینزویلا میں دائیں بازو کے مظاہروں کو ہوا دئے رہاہے اور مصر میں آمر السیسی کے ہاتھوں ایک ہزار سے زائداخوان مظاہرین کے قتل وعام پر خاموش ہے۔
انٹرنیشنل ازم:
محنت کش ایک عالمی طبقہ ہے،جس کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کسی بھی سرمایہ دارنہ بلاک کے مفادات کے تابع یا کسی سامراجی طاقت سے وابستہ ہو کر،حتی کہ مظلوم اقوام کا محنت کش اپنے سرمایہ دار کی بالادستی قبول کر لے ممکن نہیں،۔ طبقاتی آزادی بنیادی بات ہے۔اس وقت اہم بات یہ ہے کہ اس عہد کے تقاضوں سمجھ جائے کہ ہم انتشار،جنگ اورنقلابات سے دہائیوں دور نہیں ہیں۔
ہم خود کو یہ دھوکا نہیں دئے سکتے کہ برطانیہ اس ساری صورتحال کا شکار نہیں ہوگا اور اس کو شاندار استشناحاصل ہوگا۔برطانوی سامراج جتنا بھی بوڑھا ہو یہ عالمی سطح پر استحصال اور خون میں لتھرا ہوا ہے۔
اس پرانتشار عہد میں حالات میں تیزی کے ساتھ تبدیلی آرہی ہیں۔انقلاب ، ردانقلاب اور نیم رجعتی معروض بڑی تیزی کے ساتھ سامنے آسکتے ہیں۔جن میں اکژپہلے سے طے شدہ حکمت عملی ناکام ہوجاتی ہے،ان حالات میں محنت کش طبقہ کے ہراول دستہ کو تیزی سے حالات کے مطابق اپنے لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ عرب انقلاب2011میں ظالم حکمرانوں کے خلاف جمہوری اور جائز بغاوت تھی جیسے آج بھی شام میں جاری ہے یایوکرائین کی صورت میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ردانقلاب ،انقلاب کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
اس کے ساتھ ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ حقیقی دشمن ہمارا حکمران طبقہ ہے اوراس کی اقتصادی پابندیوں کی سختی کے ساتھ مزاحمت کرنی چاہیے،جو دنیاکو خطرناک تجارتی و سرد جنگوں اور پر انتشار اور تباکن دور کی طرف لے جارہی ہے۔

May 21, 2014

واسا کی نجکاری کا منصوبہ نامنظور


واسا کا محکمہ جولاہور کے شہریوں کو پانی اور سنیٹیشن کی خدمات فراہم کرتا ہے اور چند سال پہلے تک منافع میں تھا ۔اسے ایک منصوبے کے تحت پنجاب حکومت خسارے میں لائی تاکہ اس کی نجکاری کی جاسکے،پہلے اس کو بجلی کمرشلریٹس پر فراہم کی گئی،پھر کرایے پر جنریٹر لے کر چلائے گے اور اب جنریٹر خرید لیے گے اور یہ سب ایک ایسے انداز میں ہوا کہ ایک منافع بخش ادارہ نقصان میں چلا گیا۔اب اس کوکمپنی بنانے کانوٹس جاری ہوگیا ہے۔اس وقت تین سب ڈویژن کمپنی کے تحت ہیں،باقی بھی کمپنی کے حوالے کردیے جائیں گئیں۔شالیمار سب ڈویژن میں نئی ملازمتیں دینے کی بجائے ہفتہ وار چھٹی ختم کردی گی ہے۔اس وقت واسا میں5332ورکرز کی نوکری پکی ہے ،جبکہ 1200کے قریب محنت کش کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر ہیں۔ڈیلی ویجز کی صورتحال بہت بری ہے ان کو سال میں آٹھ ماہ کی تنخواہ ملتی ہے۔لیکن یہ اس کے باوجود نوکری کررہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ بے روزگاری بہت زیادہ ہے۔
واسا کے محنت کشوں کا جی پی فند بحال نہیں ہوا حالانکہ پنجاب بھر میں دو سال سے اسے دوبارہ لاگو کردیا گیا ہے۔کنٹریکٹ ورکرز600کے قریب ہیں اور یہ سالوں سے جاب پر ہیں لیکن ان کو مستقل نہیں کیا جارہا اور پکی نوکریوں کو ختم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔تاکہ ان ورکرز اور نئے بھرتی ہونے والے محنت کشوں کو کم ازکم تنخواہ پر نوکری دی جائے۔اس وقت SKRAکمپنی نہایت کم تنخواہ پر محنت کش فراہم کرہی ہے ۔
لاہور میں پہلے 20گھنٹے پانی دیا جارہا تھا ،اب اس کی فراہمی 12گھنٹے کردی گئی ہے،پہلے بل150 تھا اب اس کو 600روپے کردیا گیا ہے،پہلے یہ سال میں 4دفعہ آتاتھا اب ہر ماہ آیا کرئے گا۔سیوریج کھولنے کی فیس بھی جلد ہی لاگو کی جارہی ہے۔ابھی یہ سب کمپنی کے تحت ہوگا ۔لیکن نجکاری میں کیا ہوگا اس کا اندازہ مشکل نہیں۔لاہور کے شہری جو آج پانی کو آرام سے استعمال کرتے ہیں۔یہ ان کے لیے یہ ایک نایاب شئے بن جائے گئی۔
سولڈ ویسٹ منجمنٹ کی جب نجکاری کی گئی تھی تو حکومت محکمے کو 2ارب روپے دئے رہی تھی،اس وقت ترکی کی کمپنی کو نجکاری کے بعد 12ارب روپے دیئے جارہے ہیں اور لاہور کی صفائی میں تو کچھ خاص فرق نہیں پڑا،البتہ سالڈویسٹ منجمنٹ کے محنت کشوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جارہا ہے،خاص کر کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے محنت کشوں کو جن کی بڑی تعداد کرسچن ہے۔جو اس وقت سراپہ احتجاج ہیں۔
یہ صورتحال واسا کے محنت کشوں میں بے چینی کا باعث بن رہی ہے کہ نجکاری کے بعد ان کا کیا مستقبل ہوگا،خاص کر پچھلے کچھ عرصے سے مختلف بہانے بنا کر واسا کے محنت کشوں کو شدید ہراساں کیا جائے اور نوکریوں سے نکالنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ان حالات میں واسا کے محنت کش پچھلے چند دنوں سے سراپا احتجاج ہیں۔آج واسا میں عام ہڑتال تھی اور محنت کشوں نے کوئی کا م نہیں کیا۔اس کے علاوہ لاہور پریس کلب پر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔جس میں 4000کے قریب محنت کش شریک ہوئے اس مواقع پر پنجاب حکومت اور شہباز شریف اور نواز شریف کے خلاف شدید نعرئے بازی ہوئی اور محنت کشوں نے اس عزم کا اظہار کیا کے وہ کسی بھی صورت میں ادارے کی نجکاری نہیں ہونے دئیں گئیں۔اس احتجاج کی کال CBAنے دی تھی۔لیکن واسا کی تمام تر یونینز اس ہڑتال اور احتجاج میں شریک ہیں
Image

May 3, 2014

محنت کشوکے بھگت سنگھ

تحریر:حسن رضا
فیصل آباد کے پاور لومز کے محنت کشوں کے راہنماوں کاجیل میں تیسراسال ہے۔یہ کیس ظاہر کرتا ہے کہ کیسے اپنا حق مانگنے کو حکمران طبقہ اور اس کی ریاست نے جرم میں تبدیل کردیا،جس کی سزا6محنت کشوں کو 496سال دی گی اور اب اسی کیس میں 7محنت کشوں کو287سال کی سزا سنائی گی ہے۔یہ 13محنت کش لیبر قومی موومنٹ کے راہنما تھے۔جو جولائی 2010کی محنت کشوں کی ہڑتال میں اہم کردار ادا کررہے تھے۔اس کا مقصدحکومت کی طرف سے کم ازکم تنخواہ میں17فیصد اضافہ کے اعلان پر عملدرآمدکروانا Imageتھا۔جس سے مالکان انکاری تھے۔

یکم جولائی کو جب فضل ویونگ کے محنت کش ہڑتال میں شمولیت کے لیے فیکٹری سے باہر آرہے تھے تواندار سے ان پر فائرنگ کی گی،جس پر کچھ محنت کش بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندارگے اور انہوں نے غنڈوں کو غیر مسلح کیا۔جن کو مالکان ہڑتالی محنت کشوں پرحملہ کے لیے لائے تھے۔
محنت کشوں کی مرکزی ریلی کو اسی دن ایک بار پھر حملے کا سامنا کرنا پڑا،جس میں ایک طرف بڑی تعدادمیں مالکان کے غنڈے تھے،جنہوں نے اینٹوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا اوردوسری طرف سے پولیس والے تھے،جنہوں نے ہوائی فائرنگ اوربے انتہا آنسو گیس کی شیلنگ کی۔جب مالکان اور ریاست کا وحشیانہ تشدد اور بربریت جاری تھی،اس دوران فیکٹری کو آگ لگ گی۔جس کا الزام ہڑتالی محنت کشوں پر عائد کردیا گیا۔جس کو بعدازں محنت کشوں کی طرف سے تشدد کے طور پر پیش کیا گیا۔حالانکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
تین دن بعداس کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں لیبر قومی موومنٹ کے چودہ راہنماوں اور150دیگر ہڑتالیوں کو نامزد کیا گیا۔تین ماہ بعد جب ان کو عدالت میں پیش کیا گیا،تو ان پر اقدام قتل اور فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا جس کا مقصد فیکٹری کے مالکان کا قتل تھا جس کا پہلی ایف آئی ار میں کوئی ذکر نہیں تھا۔
اس صورتحال کے باوجود عدالت نے ان محنت کشوں کو مجرم قرار دے کر496سال کی سزا سنادی۔یہ ایک شرمناک صورتحال تھی،جہاں اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والے پرامن محنت کشوں کے راہنماوں کو بدترین سزا دی گی۔وہاںیہ اس ’’ریاست،اس کے اداروں اور قانون کی حکمرانی‘‘ کی حقیقت واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔کیسے ریاست نے سرمایہ کے خادم کے طور پر محنت کشوں کو حقوق کی جدوجہد پر وحشیانہ سزا دی۔یہ محنت کش طبقہ کی تحریک پر سرمایہ کی طرف سے ایک بڑا حملہ تھا۔جس میں یہ واضح کیا گیا کہ سرمایہ کے مفاد کے خلاف کھڑے ہونا کا کیا مطلب کیا ہو تا ہے۔یہ ان محنت کشوں کو سمجھنا ہے،جنہوں چیف جسٹس کی بحالی کی جدوجہد میں حصہ لیا کہ سرمایہ داری میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کا کیا مطلب ہو تا ہے۔
لیبر قومی موومنٹ،فیصل آباد کے پاور لومز کے2لاکھ محنت کشوں کی نمائندہ تنظیم ہے،محنت کش طبقہ کے اس حصے نے پچھلے عرصے میں جدوجہد اور قربانی کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ان پر نیولبرل ریاست نے چند دن پہلے ایک اور حملہ کیا اور7محنت کشوں کو 287سال کی سزا سنائی ہے۔ان حالات یہ مزدور تحریک کی طرف سے بڑے پیمانے پرمشترکہ جدوجہد اور یکجہتی کے متقاضی ہیں۔تاکہ نہ صرف ان محنت کشوں کی رہائی کی جدوجہد کو وسیع تر کیا جائے اور ان کے موجود حق اور جدوجہد کا دفاع کیا جائے۔بلکہ یہ سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف جدوجہد کے سوال کو بھی سامنے لاتی ہے۔
پاکستان اور عالمی مزدور تحریک سے جدوجہد اور یکجہتی کی اپیل ہے۔جس میں قید محنت کشوں کے خاندانوں اور ان کے کیس پر ہونے والے اخراجات کے لیے فنڈ ریزنگ اور احتجاجی تحریک کی ضرورت ہے،اس کو ایک وسیع تر تحریک بنایا جاسکے۔تاکہ حکمران طبقہ کو ان محنت کشوں کے لیے’’انصاف‘‘پر مجبور کیا جاسکے۔ایک مضبوط اور کامیاب تحریک محنت کش طبقہ کے باقی حصوں کو بھی اعتماد بخشے گی،جس سے پاکستان میں ایک نئی تحریک جنم لے سکتی،جو اس نظام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

May 31, 2012

چیک رپبلک میں نیولبرل حکومت کے خلاف ابھرتی ہوئی جدوجہد

تحریر:پاویل سینڈڈ
چیک رپبلک میں 1989کے مخملی انقلاب کے بعد سب سے بڑے عوامی مظاہرہ دیکھنے میںآیا۔پراگ میں120000سے زائد لوگ شہر کے مرکز میں سٹاپ دی گورنمنٹ ،جو ٹریڈیونینز،سماجی تحریکوں اور نام نہاد شہری اتحاد پر مشتمل ہے۔جس کا مقصد نیولبرل اصلاحات کا خاتمہ،کٹوتیوں کے پروگرام،حکومت کے خاتمے اور نئے انتخابات کا انعقاد تھا۔
Petr Necas’s کی دائیں بازو کی مخلوط حکومت2010کے وسطہ میں میڈیا کی جھوٹی اور بدیانتی پر مبنی کمپین ،جسے آج عمومی طور پر ’’یونانی جھوٹ ‘‘کہا جاتا ہے کہ نتیجے میں قائم ہوئی،چیک کے دائیں بازو کے سیاست دانوں نے دعوی کیا کہ اگر لیفٹ جیت گیا تو چیک Continue reading

May 13, 2012

حکمران طبقہ کے تضادات اور محنت کش عوام

Continue reading

March 29, 2012

بلوچستان ،قومی آزادی کی جدوجہد اور مارکسی نقطہ نظر

تحریر:کامریڈشہزاد
بلوچستان کاشمار وسائل کے حوالے سے دنیا کے امیر ترین خطوں میں ہوتا ہے،جہاں پرتیل گیس،سونے،تانبے کے علاوہ دیگر بیشمارمعدنی ذخائر پائے جاتے ہیں۔لیکن یہ وسائل ان کی زندگیوں میں بہتری کی بجائے اذیت کا باعث بن رہے ہیں۔ان حالات میں سامراجی مداخلت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔جس نے قومی محرومی کا خلاف جدوجہد کو بہت گھمبیر بنادیا ہے۔بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت بھی سامراجیوں کی دلچسپی کا باعث ہے۔گوادر پورٹ اور معدنی وسائل پر قبضے کی اس جنگ میں امریکہ،چین،پاکستان اور خود بلوچ حکمران طبقہ اس میں زیادہ سے زیادہ حصے Continue reading
March 23, 2012

ہندوستان میں دس کڑور سے زائد محنت کشوں کی عام ہڑتال

Continue reading

March 22, 2012

ریل بچاؤ اتحاد کا نجکاری کے خلاف احتجاجی کنونشن

(رپورٹ )ریل بچاؤ اتحاد کے زیر اہتمام ریلوے ہیڈکواٹرز کے با ہر سے ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں ریلوئے مزدورں نے ریلوئے میں سیاسی مداخلت ،ریل گاڑیوں کی نجکاری،ٹھکیداری نظام،کرپشن اور میٹریل چوری کے کیخلاف احتجاجی کنونشن منعقد کیا۔ Continue reading

March 19, 2012

یونان میں انقلاب کا طوفان

ترجمہ:کامریڈ شیراز

12فروری کی رات کو یونان کی پارلیمنٹ نے یورپی یونین ،آئی ایم ایف اور یورپی مرکزی بنک کی ٹرائیکا کے حکم پرکٹوتی کاپروگرام منظور کرلیا ۔وزیر اعظم لوکاس پاپاڈیموس کی سامراج کی کٹھ پتلی حکومت نے پبلک سیکٹر سے مزید 15000نوکریوں کے خاتمے،لیبر قوانین کی میں نرمی اورکم سے کم تنخواہ اور پنشن میں 20فیصد کمی پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس سے یہ 751یورو کے مقابلے میں 600یورو ہو جائے گی۔بے روزگاری 20.9ہے اور تقریبا آدھے سے زائد نوجوان بے روزگارہیں۔مزید براں وسیع پیمانے پر یہ توقع کی جارہی ہے،یورپی یونین کے Continue reading

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.