نیپال میں چھ روزہ عام ہڑتال۔۔۔۔۔ ماؤازم کی ناکامی

ماؤسٹوں کی چھ روزہ ہڑتال نے دارالحکومت کھٹمنڈو اورنیپال کے دیگر حصوں کے کا روبار زندگی کو معطل کر دیا۔یوم مئی پر کھٹمنڈو میں لاکھوں افراد پر مشتمل مظاہرہ ہوا جس میں بڑی تعداد میں لوگ کھٹمنڈو میں آئے ہر طرف سرخ پرچم لہرارہے تھے یہ ماؤسٹوں کی طرف سے طاقت کا بڑا مظاہرہ تھا جس مقصد موجود وزیر اعظم مادہیو کو مار کا مستعفی ہونا اور قومی یکجہتی حکومت کا پراچندہ کی زیر قیادت قیام ۔
ہڑتال کا آغاز اتوار کے روز ہوا جس کے نتیجے میں کاروبار، اسکول اور ٹرانسپورٹ کھٹمنڈو سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بند ہو گیا۔ دکانیں صرف دو گھنٹوں کے لئے کھلتی تاکہ لوگ اپنی ضروریات زندگی کا سامان خرید سکیں ۔حکومت نے ہزارہاپولیس والوں کو سڑکوں پر لے آئی اور فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا نیپال میں اس وقت حکومت مخالف جذبات عروج پر ہیں ۔اس وجہ عوام کا بدترین معیار زندگی ہے چالیس فیصد سے زائد عوام غربت کی کی لکیر کے نتیجے زندگی گزار رہی ہے افراظ زر کی شرح13 فیصد سے زائد ہے اور خوراک کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے بے روزگاری کی شرح 40 فیصد سے زائد ہے۔
یونائیڈ کیمونسٹ پارٹی آف نیپال سے عوام کی بڑی امیدیں تھی۔ہڑتال کے دوران شہر میں ہر طرف موسیقی اور ڈانس ہو رہے تھے ۔شہر میں ہر طرف انقلابی نظر آرہے تھے ۔پورے ملک میں پارٹی ورکرز اور ماؤسٹوں یوتھ لیگ نے عوام کو متحر ک کر دیا۔کھٹمنڈو میں انسانی ہاتھوں پر مشتمل ۲۸ میں لمبی زنجیر بنائی گئی ۔ہر طرف انقلاب اور جدوجہد کے نعرے بلند ہو رہے ہیں تھے ماؤ نواز کی مقبولیت عروج پر تھی خاص کر پراچندہ اور بابو رام بھٹہ چاریہ عوام کی امیدوں کا مرکز بن گئے تھے تمام تر خدشات کے باوجود عوامی جدوجہد پر امن تھی ۔
اس صورتحال کے باوجود ماؤ نواز نیپالی نظام کی فرسودگی کا کوئی حل پیش نہیں کر رہے جس کا محنت کشوں،دیہی غریبوں اور نوجوانوں کو سامنا ہے ۔اس کے بجائے وہ حکومت میں مرکزی حصہ چاہتے ہیں تاکہ نیپال میں سرمایہ داری نظام قائم کر سکیں ۔یوم مئی پر تقریر کرتے ہوئے ماؤسٹ لیڈر پراچندہ نے کہا کہ ہم ہڑتال نہیں چاہتے تھے ۔مگر ہمارے سامنے کوئی حل موجود نہیں تھا ۔انڈیا ،کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کیا اور فوج سیحکومت کا حکم ماننے سے انکار کی اپیل کی۔
اپریل2008کو نیپال میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور پہلی دستور ساز اسمبلی قائم ہوئی ۔ماؤ نوازوں نے آئین ساز اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں ۔
اور عوامی تحریک کے نتیجے میں آخر کار بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی ایک دہائی سے سے جاری گوریلا جنگ بھی اختتام کو پہنچی ۔لیکن حکومت جلد ہی فوج کے ساتھ تضاد میںآئی جو ماؤ نواز گوریلوں کو فوج میں شامل کرنے پر راضی نہیں تھی ۔
اور ماؤسٹوں کی فوج آج بھی اقوام متحدہ کے کیمپوں میں مقیم ہے فوج سے تضاد کی وجہ سے ماؤ نواز حکومت سے مستعفی ہوگے اب یہ پھر جدوجہد کا آغاز کر رہے ہیں ۔
28مئی کو آئین ساز اسمبلی کی معیاد ختم ہو رہی ہے ۔اگر 28مئی تک آئین نہ بنا تو اسمبلی کی معیاد میں ایک سال کا اضافہ ہو سکتا ہے اگر تمام پارٹیاں اس کو تسلیم کریں ۔
دوسری صورت میں صدر 6ماہ تک ایمرجنسی لگا سکتا ہے اور یہ صورتحال ایک بڑا بحران پیدا کر سکتی ہے ۔
ماؤ نواز جمہوریت کی بحالی کے زریعے سرمایہ داری نظام کے قیام کو پہلی منزل سمجھتے ہیں۔اس سلسلے میںیہ چاہتے ہیں کہ نہ صرف فوج میں ان کے گوریلے شامل ہوں بلکہ جو حکومت قائم ہو ان میں ان کا بنیادی حصہ قائم ہو ۔
لیکن جدوجہد میں شریک دیہی غریب اور نوجوان طبقاتی نظام کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔
ہڑتال کے چھٹے دن جب کھٹمنڈو میں ماؤ نوازوں کے خلاف مظاہرہ ہو تو اس کے چند گھنٹوں بعد ہی ماؤ نوازوں نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ ۔ اس اعلان سے غریب عوام اور نوجوان سکتے میں آگئے اور وہ اس فیصلے کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرتے رہے ماؤ نوازوں نے ہڑتال کے خاتمے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فسادات کروانا چاہتی ہے ، اس لحاظ سے ہڑتال کا خاتمہ درست تھا کہ اس نے دیہی نوجوانوں اور شہری محنت کش طبقے کے درمیان تصادم کو روک دیا۔ہڑتال محنت کش طبقے کی وسیع ترحمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی کیونکہ یہ ہڑتال محنت کش طبقے کی بجائے ان پر پارٹی کی طرف سے مسلط کی گئی ۔یہ سٹالنسٹ طریقہ کار ہے جس میں وہ محنت کش طبقے کی تحریک کو پروان چڑھنے کی بجائے پارٹی کی جدوجہد کو اس کی جگہ دیتے ہیں
نیپال میں جہاں موجود نظام عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام ہے ۔وہاں ماؤ نواز بھی اسٹالنسٹ نظریے کے تحت پہلے سرمایہ داری نظام قائم کرنا چاہتے جو آج عالمی سطح پر زوال پزیر ہے ۔یہ سوشلزم کے بجائے بہتر سرمایہ داری نظام چاہتے جسے یہ سوشلزم کے طور پر پیش کر رہے ہیں ۔یہ محنت کش طبقے اقتدار کی بجائے اقتدار میں سرمایہ داروں کے ساتھ شراکت چاہتے ہیں ۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: