یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے 108 محنت کشوں کی جبری برطرفی

اکتوبر2009کوپنجاب حکومت نے تمام خود مختار اور نیم خودمختار اداروں کو ایک نو ٹیفیکیشن جاری کیا کہ پنجاب میں گریڈ 1تا15کے تما م کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کر دیا جائے ۔یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے محنت کش بھی اسی زمرے میں آتے تھے ۔پنجاب میں تقریبا تمام اداروں کے سربراہوں نے جن میں علامہ اقبال میڈیکل کالج اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی بھی شامل ہے نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کردیا ۔یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے محنت کشوں نے کئی بار وائس چانسلر کو درخواستیں دیں ہم کنٹریکٹ محنت کشوں کو ریگولر کیا جائے لیکن انہوں نے اس سے صاف انکار کردیا ۔پھر اس کے بعد 27اکتوبر 2009تا31اکتوبر2009یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے تماممحنت کشوں نے ریگولر ہونے کے لیے احتجاج کیا ۔یونیورسٹی انتظامیہ نے محنت کشوں کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ ایک میٹنگ میں ریگولر کا پراسیس شروع کر دیں گے ۔اور کسی محنت کش کو victimizeنہیں کیا جائے گا ایک ہفتے کے بعد بد قسمتی سے وائس چانسلر نے نہ صرف محنت کشوں کو ریگولر کرنے سے انکار کیا بلکہ یونیورسٹی کے ایک محنت کش مسٹر محمد نوید پر ایک ہفتہ تک تھا نہ مسلم ٹاؤن اور تھا نہ نواں کوٹ لاہور میں شدید تشدد کروایا اور یونیورسٹی کے تمام محنت کشوں کو ہراساں کیا کہ اگر کسی نے ریگولر ہونے کا مطالبہ کیا تو ان کے ساتھ مسٹر نوید جیسا سلوک کیا جائے گا ۔حالانکہ یونیورسٹی ایکٹ میں ملازمین کو ریگولر کرنے کی پروویژن موجود ہے جبکہ ابھی تک کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر نہیں کیا گیا ۔ملازمین نے ظلم و تشدد سے تنگ آکر اپنی ملازموں کے تحفظ کے لئے قلم چھوڑ ہڑتال کی ۔جس کے نتیجے میںیونیورسٹی انتظامیہ نے تمام ملازمین کو گیٹ سے باہر نکال کر یونیورسٹی میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ۔
uhs کے محنت کشوں پنجاب اسمبلی کے سامنے یونیورسٹی انتظامیہ اور وائس چانسلر کی ناانصافی اور جبر کے خلاف احتجاجی کیمپ لگایا 9اپریل2010کو ہم محنت کشوں نے وائس چانسلر کو ایک representationارسال کی اور جواب میں وائس چانسلر نے محنت کشوں کو نوٹس بھجوائے کہ میں آپ کی representationکو considerنہیں کرتا محنت کشوں نے یونیورسٹی میں داخلے اور نوکریوں کے لئے احتجاج جاری رکھا ۔30اپریل2010کو ریٹائرڈ کرنل جاوید اقبال نے 110محنت کشوں کو یکے بعد دیگرے ٹرمینیشن کے لیٹر ارسال کر دئے ۔اس طرح اپنے آٹھ سالہ جبر مسلسل کے دور کو ایک بار پھر دہرایا ۔جس میں229ملازمین کو بغیر کسی وجہ سے فارغ کردیا گیا تھا ۔
ملازمین نے 25مارچ 2010سے31مارچ2010تک یونیورسٹی کے گیٹ پر دھرنا اور پر امن احتجاج کیا ۔لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نیمحنت کشوں پر یونیورسٹی کے تمام گیٹ بند کردئے اور یونیورسٹی کے اندر آنے کی اجازت نہ دی ۔
تمام محنت کشوںیکم اپریل 2010سے تاحال حال پنجاب اسمبلی کے سامنے بھوک ہڑتال کیمپ لگائے ہوئے جب کہ دوسری جانب یونیورسٹی کے نئی بھرتیوں کے انٹرویو جاری ہیں آج 70دن گزرنے کے باوجود پنجاب حکومت خاموش ہے کے وائس چانسلرمضبوط تعلقات کے مالک ہے اور اہم سیاسی شخصیات،وزیروں اور مشیروں کی ہمدردیاں اس کے ساتھ ہیں ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اس اہم ایشو جس میں 108خاندانوں کے روزگار کا مسئلہ ہے سیاسی رنگ دیا جارہا ہے اور ہمارے خلاف جھوٹ اور بدنیتی پر پراپیگینڈہ کیا جارہا ہے کہ یہ توڑ پھوڑ کرتے ہین اور بدمعاش لوگ ہیں حالانکہ یہ محنت کش نہایت محنت ،لگن اور دیانت داری کام کرتے ہیں۔ خوف و ہراس کے سائے انکے ذہنوں پر چھائے رہے ہیں اور یہ ذہنی مفلوج ہوتے جارہے ہیں کیونکہ انکو اپنے گھرونں کے چولہے اس بے روزگاری اور مہنگائے کے دور میں بجھتے نظر آرہے ہیں وائس چانسلر اور کرنل پرویز اقبال نے 108نہایت محنت ،لگن اور دیانت داری سے کرنے والے محنت کشوں کا معاشی قتل کر کے محنت کشوں کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔تنخوہیں بند ہیں ،رزق چھین لیا گیا ہے۔ دس سال سے یونیورسٹی جن محنت کشوں کی وجہ سے چلا رہی تھی ان کو بے روزگار کردیا ہے پاکستان اور عالمی محنت کش طبقے سے اپیل کرتے ہیں کہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہورکے محنت کشوں موقف کے لئے آواز اٹھائیں اور جدوجہد کا ساتھ دیں ۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: