پی ٹی سی ایل کے 26ہزار محنت کشوں کی ہڑتال

(تحریر:رضا علی)
پی ٹی سی ایل کے 26ہزار محنت کش 16اگست سے ہڑتال پر ہیں ۔گرفتاریاں،تشدد اور تنخواہوں کی بندش کے باوجود ان کی پر عزم جدوجہد جاری ہیں ۔یہ جدوجہد محنت کش طبقے کے صلاحیت اور طاقت کا اظہار ہے ۔
تنخواہ میں اضافہ کا مطالبہ:
حکومت نے جون میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پچاس فی صد اضافہ کیا تھا۔ پی ٹی سی ایل کے محنت کشوں کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں بھی 50فی صد اضافہ کیا جائے ان کی موجودہ تحریک کا آغاز جزوی ہڑتال اور مظاہروں سے ہوا مگر ایت صلات نے محنت کشوں کے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو محنت کشوں نے ہڑتال کردی مختلف یونینوں پر مشتمل اتحاد سامنے آیا ۔جس میں CBAبھی شامل تھی ہڑتال کی کال کی بھرپور حمایت سامنے آئی اور ملک بھر میں تحریک شروع ہو گئی ۔
محنت کشوں پر حملے کی تیاری:
حکمران طبقہ سیلاب کا بہانہ بنا کر تنخواہوں میں اضافے کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ موجودہ سیلاب میں تباہی کی وجہ خود یہ نظام اور اس کے حکمران شامل ہیں ۔وزیر خزانہ کا بیان کہ صرف دو ماہ کی تنخواہوں کے پیسے رہ گئے ہیں یہ محنت کشوں پر حملے کی تیاری ہے کچھ محکموں میں تنخواہ اضافے کے بغیر دی گئی ہے ان حالات میں یہ اہم ہڑتال ہے اس کی پر عزم اور بہادر جدوجہد کی وجہ سے میڈیا میں بھی اس کی بھر پور کوریج ہوئی ۔
ایت صلات کی دہشت گردی:
ایت صلات نے محنت کشوں کو کچلنے کی بھرپور جدوجہد کی اور پولیس گردی کا بھی استعمال کیا ۔ان کے خلاف ایف آئی اور درج کی گئی ان کی تنخواہ اور بونس کو روک لیا گیا ۔
مگر ہڑتال مزید طاقت پکڑتی گئی شہروں میں ٹیلی فون بند ہونا شروع ہوگئے اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ۔

تحریک میں ابھار:
ان حالات میں انتظامیہ نے ضیاالدین کے ساتھ مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر یہ کہا کہ ہڑتال ختم ہو گئی ہے جب کہ دوسری جانب تمام اہم رہنما گرفتار کرلیے گے اس سے احتجاج میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے محنت کشوں نے ایکسچنجوں میں تالے لگا دئے اور ملک بھر میں بڑے احتجاجات شروع ہوگئے لاہور میں مال روڈ اور کراچی میںآئی آئی چندر ریگل روڈ پر مظاہرے ہوئے جن میں گرفتار رہنماؤں اور کارکناں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ۔

اسلام آباد میں مظاہرین دھرنے کے بعد پی،ٹی،سی،ایل کی ہیڈ کواٹر کی عمارت پر قبضہ کر لیا پولیس نے محنت کشوں پر اس موقع پر شدید تشدد کیا اور انتظامیہ نے بھی ان کو روکنے کے کوشش کی مگر ہزاروں ملازمین ہیڈ کواٹر میں آگئے

اڈیالا جیل میں قید محنت کشوں کے رہنماء ملک مقبول حسین،حسن محمد رانا،محمد زاھد اور عماد قریشی نے اپنے خط
’’مخلص اور جانثارپی ٹی سی ایل ورکرز کے نام‘‘

میں لکھا کہ ورکرز ایک ماہ سے سراپااحتجاج ہیں۔ انتظامیہ تشدا، قیدوبند اور دہشت گردی کے مقدمات کے باوجود ہمیں قربانی سے نہیں روک سکتی۔جب تحریک عروج پر ہے تو چند مزدور دشمن ٹاؤٹ مزدوروں کا سودا کر رہے ہیں۔مگر ورکرز کو ملکر یہ سازش ناکام بنانا ہوگی۔ احتجاج کی کال پی ٹی سی ایل ایمپلائیز یونین، لائنز سٹاف یونین، سندھ بلوچستان اتحاد ، ایمپلائیزڈیموکریٹک یونین اور ٹیلی کام یونین نے دی ہے اور وہ ہی مطالبات کے بعد اسے واپس لیں گے۔ مطالبات کی منظوری، شوکاز نوٹس کی واپسی، اور ٹرمینیشن جب تک ختم نہیں ہوتی ہڑتال جاری رہے گی۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: