لاہور میں تحریک انصاف کا جلسہ

کامریڈ عمر نے مجھے SMSکیا کہ تحریک انصاف کے جلسے میں جا نا ہے،راقم تو اس حوالے سے پہلے ہی کامریڈ خالد کے ساتھ پروگرام بنا چکا تھا کہ ہم جلسے میں جائیں گئیں تاکہ نہ صرف پمفلٹ تقسیم کر سکیں بلکہ اس نئی پیشرفت کا جائزہ بھی لیں۔کامریڈخالد خود طویل عرصہ تحریک انصاف میں(معراج محمد گروپ) متحرک رہے تھے۔لیکن پچھلے کچھ سالوں سے اس کو چھوڑچکے اور نوجوانوں کی نظریاتی تربیت کے لیے یوتھ ویژن میں مصروف عمل تھے،ان کے بقول عمران خان نہ تو سیاست اور نہ ہی تنظیم کی سمجھ رکھتا ہے۔
30اکتوبر کو عمر اور میں مزنگ چونگی پر کھڑئے تھے،جہاں بڑی تعداد میں نوجوان اکھٹے ہو رہے تھے،ہم چائے کی دوکان پربیٹھ گے اور اس دوران آج کے جلسہ اور پاکستان میں تبدیلی کی سیاست کے تناظر پر گفتگو کرتے رہے۔جب ہم باہر آے تو وہاں ایک بڑی ریلی کا منظر تھا ،بقول کامریڈ عمر ہم ایک شہر کو تبدیل ہوتا ہوا دیکھا رہے ہیں جوپہلے ن لیگ کا گڑھ ماناجاتا تھا۔نوجوانوں کی بڑی تعداد تھی جوانصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تحت اور اذخود آرہے تھے،بڑی تعداد کاروں اور موٹر سائیکلوں پر سوار تھی، یہ شورمچا رہے تھے، خوش گپیوں میں مصروف تھے،کبھی کھبار نعرے بازی بھی ہو جاتی، اس کے ساتھ یہ ہارن بجا کر بھی اپنے جوش کا اظہار کر رہے تھے۔
ترقی پسند دوستوں کے برعکس میرا پچھلے دو برس سے یہ خیال تھا کہ تحریک انصاف نوجوانوں اور مڈل کلاس میں تیزی سے مقبولیت حاصل کررہی ہے،کیونکہ سرمایہ داری نظام کی دونوں بڑی پارٹیاں تیزی سے عوام میں غیر مقبول ہو رہی ہیں،پچھلے کچھ عرصے میں عام لوگ بھی اس سے امیدئیں بند رہے تھے۔
کامریڈ عمر نے بتایا کہ اس چھوٹا بھائی کہہ رہا ہے کہ شہر کے اپر مڈل کلاس علاقوں سے نوجوان بڑی تعداد میں جلسہ میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔یہ
صورتحال ہمارے ایک دوست جو ن لیگ کے جلسے میں گیا تھا سے مختلف تھی جہاں لوگوں کو بسوں میں بھڑ کر لیا گیا تھا اور ان کی جلسے سے لاتعلقی واضح طور پر نظر آرہی تھی جب شہباز شریف تقریر کر رہا تھا۔
بعدازں جب ہم اندرون شہر سے جلسہ گاہ کی طرف جارہے تھے تو ہمیں نسبتاُُ سناٹا نظر آیا۔مینار پاکستان کے اردگرد کا علاقہ ایک بڑئے جلسہ کی نوید سنا رہا تھا۔یہاں غریب لوگوں بھی تھے،لیکن اکثریت مڈل کلاس کی مختلف پرتوں کی ہی تھی،فیملیز بھی جلسہ میں آرہی تھیں ،نقاب والی عورتوں کی نسبت ماڈرن لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔جلسہ گاہ میں جانے کے لیے مختلف دروازے بنائے گئے تھے، ایک لیبر کا کیمپ لگا ہوا بھی نظر آیا،جو ظاہر کررہا تھا کہ تحریک انصاف لیبر میں بھی کام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
جلسہ گاہ میں مختلف بینروں پر کرپشن،لوڈشیڈنگ اور بے روزگاری کے خاتمے سے لے کر خواتین ،اقلیتوں اور مزدورں کے حقوق کے نعرے بھی درج تھے۔مینار پاکستان کے وسیع احاطے میں نوجوانوں کے ساتھ مختلف عمر کے لوگ بڑی تعداد میں تھے،یہ سٹیج سے ہو نے والی مختف تقریروں کو غور سے سن رہے تھے، اس کے ساتھ نعرے اور ہلڑبازی بھی جاری تھی۔مڈل کلاس کی مختلف پرتوں کی بڑ ی تعداد کی وجہ سے جابجا آئی فونز ،لیپ ٹاپ اور ڈیجٹل کیمروں کے ساتھ برنڈڈ پینٹ شرٹس بڑی تعداد میں نظر آرہی تھی۔
سٹیج سے تقریباُُ ہر مقرر اس میدان میں پاکستان کے بنانے اور یہاں سے ہی پاکستان کو بچانے کی بات بار بار دھرا رہا تھا۔مطالعہ پاکستان کا شعور ان مقررین کی تقریروں میں نمایاں تھا۔
جلسہ کے دوران بے شمار لوگوں سے ملاقات ہوئی،جن سے پچھلے تین چار سالوں میں وکلاء تحریک کے دوران انٹریکشن ہوا تھا۔اس ہی دوران عرفان حسن بھی نظر آئے،جو بڑئے پرجوش تھے کہ لاکھوں کا جلسہ ہے باہر طویل ٹریفک جام ہے اور لوگ داتادربار سے پیدل آرہے ہیں۔ہمارے لوگوں کو دوسرئے شہروں سے آنے کو روکا جارہا ہے،یہ تبدیلی کے نشان ہیں۔
نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے جہاں زندگی کا پہلا جلسہ تھا،وہ تبدیلی چاہتے ہیں ،اس کااظہار ان کی گفتگو سے واضح ہو رہا تھا۔وہ ایک ’’ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں،جہاں کرپشن نہ ہو،بیرونی سرمایہ کاری آئے اور گڈگورنس ہو۔
عمران خان کی تقریر کا مفہوم بھی ’’ترقی یافتہ اور خوشحالی ،کرپشن کا خاتمہ (بیرونی سرمایہ کاری اور گڈگورنس ہو،اس کے ساتھ پاکستانی نیشنل ازم کا جھنڈا تھامے ہوئے سامراج کے ساتھ برابری بھی چاہتے ہیں اور اس کے لیے اسلامی فلاحی ریاست کا بھی نعرہ لگا یا جا رہا ہے۔
آج کے عہد میں جب عالمی سرمایہ داری نظام اپنے شدید ترین بحران سے گزار رہا ہے اور پاکستان سامراج کے معاشی اور افپاک جنگ کی قیمت ادا کررہا ہے۔سرمایہ داری نظام کے استحصال ،اس کی نجکاری اور کارٹیلز پر کوئی بات نہیں کی،جو لاکھوں نوکریوں کے خاتمے ، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی ذمہ دار ہے۔یہ بھی سمجھ سے باہر ہے جب عالمی سرمایہ داری شدید بحران کا شکار ہے ان حالات میں پاکستان میں کیوں کر سرمایہ کاری کرئے گی۔
یہ مڈل کلاس کا ابھراہے جو ایک طرف سرمایہ داری کے بحران اور جبر کا شکار ہے اورموجودہ صورتحال میں اپنے لیے مواقعوں کو تباہ ہوتے
اور اشرفیہ کے ہاتھوں لٹتا ہوا دیکھا رہا ہے۔لیکن پھر بھی سرمایہ داری میں ہی حل دیکھتاہے۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: