سوشلزم اور کیمونزم میں کیا فرق ہے؟

عام طور پر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ سوشل ازم اور کیمونزم میں کیا فرق ہے؟ایک یہ انقلاب کے بعد مختلف ادوار کے لیے استعمال ہوتا ہے،جبکہ دوسراتحریک کے لیے۔
مارکس اور اینگلز نے سوشلزم اور کیمونزم کو مستقبل کے سماج کے لیے استعمال کیا ہے۔جہاں انقلاب کے بعد پہلا مرحلہ سوشلزم اور کیمونزم کو دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔محنت کش طبقہ کے انقلاب کے بعد جب ریاست اور ذرائع پیدورا پر محنت کشوں کا جمہوری قبضہ ہو جائے تو یہ مرحلہ سوشلسٹ کہلاتا ہے۔جس کے مطابق’’ہر ایک سے کام اس کی صلاحیت کے مطابق اور معاوضہ اس کی محنت کے مطابق‘‘کارل مارکس کے مطابق یہ عہد پرولتاریہ کی آمریت کاعہد ہوگا۔لیکن یہ سویت یونین میں انقلاب کی زوال پذیری کے عہد سے مختلف تھاجہاں پرولتاریہ کی آمریت کے نام پر محنت کشوں پر ہی آمریت مسلط کر دی گئی تھی۔مزدور طبقہ کا ریاست اور معیشت پر مکمل کنٹرول،جس کے ذریعے وہ ردانقلاب کی قوتوں کا مقابلہ کرئے اور پیدوار کو اس سطح تک ترقی دئے،جہاں غیرطبقاتی سماج کاقیام ممکن ہو سکے۔کیمونزم کی اصلاح ان حالات کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں سوشلسٹ نظام مکمل طور پر فتحیاب ہوچکا ہو۔یہ ایک غیر طبقاتی سماج ہوگا جہاں پوری دنیا میں محنت کشوں کے کنٹرول میں ہوگی،ریاست خاتمہ ہوجائے گی اور مارکس کے مطابق’’جس میں ہرایک سے کام اس کی اہلیت کے مطابق لیا جائے گا اورہر کسی کو اُس کی ضرورت کے مطابق دیا جائے گا۔
تحریک کے حوالے سے مارکس وادی اور غیر مارکسی دونوں اس کو تقریبا ایک ہی معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔سوشلسٹ اور کیمونسٹ مارکس اور اینگلز سے پہلے سھی موجود تھے۔دی ڈگرز اپنے آپ کو کیمونسٹ کہلاتے اور ریڈیکل اصلاحات کا مطالبہ کرتے تھے۔اس طرح فرانسیسی انقلاب کے دوران بابیوف اور اس کے خفیہ اور سازشی گروپ تھے۔
مارکس اور اینگلز نے سائنٹفیک سوشلزم کی بنیاد رکھی،اس کی ابتداء کیمونسٹ مینیفیسٹو اور بعدازں بیشمارے تحریروں سے ہوئی۔اینگلز نے اپنی کتاب سوشلزم خیالی اور سائنٹفیک میں اپنے سے پہلے کے سوشلسٹوں کو خیالی سوشلسٹ قرار دیا۔سرمایہ داری نظام کے قیام اور صنعت کاری کی وجہ سے پیدوار میں بے تحاشہ اضافہ ہوا،وہاں محنت کشوں کے حالات زندگی بہت بدتر ہوگے ان حالات اور انقلاب فرانس کے نعروں اور جدوجہد انسانیت کو آزادی کاآدارش دیا۔ان حالات نے دانشواروں کی بڑی تعداد کو متاثر کیا،جن میں رابرٹ اوون،سنیٹ سائمن اور فورئیے شامل تھے۔یہ نظام کو اوپر سے تبدیل کرنا جاہتے تھے،یعنی سرمایہ داروں کو سمجھ کر یاں ان کو منصوبہ بندی کے عملی نمونے دیکھ کر۔اس کے برعکس مارکس اور اینگلز کے نزدیک سرمایہ داری نظام کا قیام اورمزدور طبقہ کاجنم ،طبقاتی جدجہد کے فروغ اور انقلاب کے ذریعے سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کرکے ایک غیر طبقاتی معاشرہ قائم کرسکتا ہے۔
محنت کشوں کی جو ابتدئی جماعتیں تشکیل پائیں وہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹیاں کہلائیں،جیسے جرمن یاروسی سوشلسٹ پارٹیاں وغیرہ،لیکن پہلی جنگ عظیم کے مواقع پر چند پارٹیوں کو چھوڑکر باقی سب نے پہلی جنگ عظیم میں اپنے اپنے ممالک کی حمایت کر دی،جس سے سیکنڈ انٹرنیشنل میں لیفٹ اپوزیشن نے جنم لیا اور سوشل ڈیموکریسی اصلاح پسندی میں تبدیل ہوگی،جو سرمایہ دارنہ نظام کی تبدیلی کی بجائے اس میں اصلاحات کی ترجمان بن کر سامنے آئی۔
روس میں بالشویک پارٹی کے انقلاب کے بعد ریشین سوشل ڈیموکریٹک لیبر پارٹی کا نام تبدیل کر کے کیمونسٹ پارٹی رکھا دیا گیااور تھرڈ انٹرنیشنل کے قیام کے بعد انقلاب اور محنت کشوں کی سیا ست کرنے والی پارٹیاں کیمونسٹ پارٹیاں کہلائیں۔
سویت یونین میں مزدور ریاست کی زوال پذیری کی وجہ سے ،وہاں جنم لینے والے حالات کی وجہ سے کیمونزم کو جبر کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا جانے لگا۔اور کیمونسٹ پارٹیوں کے اصلاح پسند کردار سے انقلابی لیفٹ نے خود کو ان سے علیحدہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو مارکسٹ یاں انقلابی سوشلسٹ کہنا شروع کر دیا۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: