پاکستان اور محنت کش خواتین

تحریر:کامریڈ قیصرہ
جبکہ معاشرہ اپنے آپ کویہ کہا کر بری الذمہ قرار دیتا ہے کہ لڑکیاں تو پرائی ہوتی ہیں اُنہوں نے پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے۔یوں تعلیم کے زیور سے محروم لڑکی کو سونے چاندی کے زیورات میں ملبوس جو اس کا سنگھار نہیں بلکہ اس کو قید کرنے کا ذرائع ہے۔ اُسے کھونٹے سے باندھ دیا جاتاہے جسے کہ وہ انسان نہیں کوئی جانور ہو۔یہ جنگل کا قانون ہمارے’’مہذب معاشرے‘‘ میں رائج ہے جہاں عورت کو جائیداد منقولہ تصور کیا جاتا ہے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ Women are not cattle
8مارچ دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے،محنت کش طبقے کی خواتین نے 23فروری کو امریکہ میں بڑئے پیمانے پراپنے سیاسی حقوق کے لیے مظاہرئے ،ریلیاں،اور جلسے منعقد کیے ،یہ خواتین کا پہلا عالمی دن تھا۔1910میں عالمی محنت کش خواتین کی کانفرنس کے مواقع پرجرمن سوشلسٹ CLARA ZETKINنے تجویز پیش کی کہ عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کا دن منایا جائے ۔کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ ہر سال خواتین کا دن اس نعرے کے تحت منایا جائے گا کہ خواتین کے لیے ووٹ کا حق سوشلزم کے لیے ہماری جدوجہد کو مضبوط کرئے گا۔کانفرنس میں ہونے والے فیصلہ کے تحت19مارچ 1911کو عالمی سطح پر خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔1913سے یہ دن8مارچ کو منایا جانے لگا۔عالمی سطح پر خواتین نے اپنے بہت سارے مسائل حل کر لیے ہیں،مگر تیسری دنیا اور خاصکر پاکستان میں خواتین کو شدید مسائل کا سامنا ہے۔
ماضی کی فرسودہ روایات نے آجب بھی خواتین کواپنے شکنجے میں لے رکھا ہے۔ونی،کارو کاری اورغیرت نام پر خواتین کا قتل عام ہے،بڑی تعداد میں خواتین ان کاشکار ہو رہی ہیں۔جرگہ اور پنچائیت کے تحت ظلم اور جبر کا نشانہ بننے والی خواتین کی مشالیں ہمارے سامنے ہیں۔یہ ہماری ’’بہترین سماجی روایات ‘‘کی عکاس ہے۔گھریلو تشدد،خاندان کے جبر کے ساتھ،ریاستی قوانین میں بھی خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔حکومت کے تمام تر روشن خیالی کے پروپگنڈے کے باوجودخواتین بدترین حالات کا شکار ہیں،ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی،ان کے اعتماد کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس روایتی تصور کے برعکس کے خواتین محض ایک مظلوم اور بے بس ہستی ہے،جو حالات سے مجبور ہو کر ہتھیار ڈال دیتی ہے اور سر جھکا کر اپنی تقدیر پر قانع ہو جاتی ہے۔محنت کش طبقے کی خواتین نے70کی دہائی میں ہشت نگر اور پختون خواہ کے نہ صرف کسان تحریکوں میں حصہ لیا ،بلکہ ان کو قیادت بھی فراہم کی۔یہی صورتحال آج انجمن مزارعین،لیڈی ہیلتھ ورکرز،ٹیچرز اوردیگر تحریکوں میں دیکھا جاسکتا ہے، جہاں خواتین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔انجمن مزارعین کی تحریک میں خواتین کی تھاپہ فورس نے نہایت ہی اہم کردار ادا کیا،جبکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جدوجہد تو ضرب المشال بن گئی ہے۔یہ تحریکیں نظام کے جبر کے خلاف سامنے آئیں اور ہر قسم کے ریاستی جبر کے خلاف اپنے طبقاتی مفاد میں مرد محنت کشوں کے ساتھ مل کر جدوجہدکر رہی ہیں،یہ اس بات کا واضح اظہار ہے محنت کش طبقے کی خواتین فیمنسٹ پروپگنڈے کے برعکس یہ سمجھتی ہیں کہ ان کے مسائل کی بنیادی وجہ طبقاتی نظام ہے یہ وہاں یہ حقیقی پیمانے پر پاکستان میں خواتین کی آزادی کا راستہ بھی دیکھلاتی ہیے۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: