میرانی ڈیم تربت بلوچستان کے ہزاروں غریب متاثرین کے حق میں اور واپڈا کی مجرمانہ غفلت کے خلاف لاہور میں احتجاجی کیمپ

(رپورٹ )گزشتہ پانچ سالوں سے میرانی ڈیم کے ملحقہ علاقوں میں پانی کی آفت آنے سے ہزاروں لوگ جن میں خواتین،بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے، بے سروسامانی کے عالم میں آسمان کے نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ان مظلوموں پر یہ کوئی قد رتی آفت نہیں،بلکہ نام نہاد ترقیاتی پروجیکٹ کا شکار ہیں۔میگا پراجیکٹ میرانی ڈیم پر 17اگست 2001کو کام کا آغاز ہوا جو کہ جون 2006کو مکمل ہوا۔آغاز پر ہی مقامی لوگوں نے منصوبے میں تکنیکی خامیوں کی طرف بارہا نشاندہی کی کیونکہ اُن کو یقین تھا کہ یہ پراجیکٹ اُن کے گھر،ذریعہ معاش،زمینیں،کھیت اور زندگیاں تباہ کر دئے گا۔تاہم ڈیم کی تعمیر سے قبل واپڈا کے ذمہ داروں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ اس پراجیکٹ سے ایسا کچھ نہیں ہوگابلکہ اس سے33ہزار2سوایکڑزمین آباد ہوگی ،اس منصوبے سے علاقے میں کوئی موسمیاتی اور ماحولیاتی منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے اور یہ لوگوں کی خوشحالی کا ضامن ہو گا اور اس سے صرف11سو لوگ متاثر ہونگے اور ان کی نئی آبادکاری اور معاوضے کا بندوبست کرلیا گیا ہے۔27جون2007کو پہلی بارڈیم میں پانی آیا تو یونین کونسل ناصر آباد اور نودرز کے تمام مکانات،زمینیں،مال مویشی اور باغات پانی میں تباہ ہوگئے۔اس آفت نے حکومت اور واپڈا کے تمام تر دعووُں کی قلعی کھول دی اور عوام کے مواقف کو درست ثابت کردیا۔
جب سروے کیا گیا تھا تو واپڈا نے بیک فلو پانی کی حد244فٹ(سطح سمندر سے اُوپر قرار دی تھی لیکن حکومتی دعووں کے برعکس ڈیم کا بیک فلو پانی271.4فٹ تک جا پہنچا جس کی وجہ سے 10ہزارسے زائد خاندان متاثر ہوچکے ہیں30سے 35ہزار کھجور کے درخت پانی میں ڈوب چکے ہیں،30ہزار ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں،20کاریزات(زیرزمین نہریں)150ٹیوب ویلز اور 200ڈیزل انجن تباہ ہوچکے ہیں۔ظلم یہ ہے کہ ڈیم کا پانی رات 10بجے ان علاقوں میں آیا جس کی وجہ سے لوگ راتوں رات بے سروسامانی کی حالت میں علاقے سے نکلنے پر مجبور ہوگئے اس افراتفری کے عالم میں گھریلو اشیاء،مال مویشی اور دیگر سامان لے جانے کا ہوش کس کو تھا۔
میرانی ڈیم کے متاثرین جو سطح سمندر سے 244سے264فٹ بلند پانی سے متاثر ہوئے تھا اُن کو معاوضہ مل چکا ہے جبکہ سمندر سے264فٹ بلند پانی کے متاثرین کو ابھی تک واپڈا کی طرف سے کوئی قانونی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا،جو قانونی طور پر بھی واپڈا کا فرض اور متاثرین کا حق بنتا ہے۔
ہم وفاقی حکومت اور واپڈا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ
میرانی ڈیم کے منصوبہ سازوں کی مجرمانہ غفلت اور غلط منصوبہ سازی کے متاثرین کو فوری معاوضہ ادا کیا جائے۔
میرانی ڈیم کے منصوبہ سازوں اور واپڈا کے افسران بالا کو اُن کی کی مجرمانہ غفلت پر سزا دی جائے۔
ڈیم کے متاثرین جو لاہور میں چیرانگ کراس پر دھرنا دئے رہے ہیں ہم ان کی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں اور ٹریڈیونینز، سماجی تحریکوں، بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور طلباء تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرین کے ساتھ نہ صر ف اظہار یکجہتی
کرئیں،بلکہ ان کے حقوق کے لیے سیمنار، مظاہرئے اور ریلیاں منعقد کرئیں ،تاکہ ہم میرانی ڈیم کے متاثرین کی آواز کو پاکستان کے محنت کش طبقے تک پہنچا سکیں۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: