یونان میں انقلاب کا طوفان

ترجمہ:کامریڈ شیراز

12فروری کی رات کو یونان کی پارلیمنٹ نے یورپی یونین ،آئی ایم ایف اور یورپی مرکزی بنک کی ٹرائیکا کے حکم پرکٹوتی کاپروگرام منظور کرلیا ۔وزیر اعظم لوکاس پاپاڈیموس کی سامراج کی کٹھ پتلی حکومت نے پبلک سیکٹر سے مزید 15000نوکریوں کے خاتمے،لیبر قوانین کی میں نرمی اورکم سے کم تنخواہ اور پنشن میں 20فیصد کمی پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس سے یہ 751یورو کے مقابلے میں 600یورو ہو جائے گی۔بے روزگاری 20.9ہے اور تقریبا آدھے سے زائد نوجوان بے روزگارہیں۔مزید براں وسیع پیمانے پر یہ توقع کی جارہی ہے،یورپی یونین کے وزراء کے آئندہ اجلاس میں اس سے بھی سخت اقدامات کا مطالبہ کیا جائے گا۔
جیسا کہ امید کی جارہی تھی،پارلیمنٹ کی واضح اکثریت نے محنت کشوں، غریبوں،نوجوانوں اور بزرگوں پر ہونے والے حملوں کی منطوری دی ہے ۔278کے ہاوس میں199نے کٹوتی کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا۔یہ جرمن سامراج اور اس کے جونیئر پاٹنرز(آسٹریا،ہالینڈ،فن لیند اورلکسمبرگ) کے لیے حیران کن بات نہیں تھی،وہ اب ان کٹوتیوں کے پروگرام کو عملی جامع پہنچانے کے لیے حکومت سے سخت گیر اقدامات مطالبہ کررہے ہیں کہ اس سلسلے میں طاقت ہی کیوں نہ استعمال کی جائے۔

ڈوبتے ہوئے جہازکو چھوڑکر بھگتے چوہے
پارلیمنٹ نے کٹوتیوں کے پروگرام کے حق میں ووٹ دے کر ملک کو مزید غربت کی دلدل میں دھکیل دیا اوریہ سانتائما اسکوئر میں جاری جدوجہد میں مزید اضافے کا باعث بن رہا ہے۔یونانی سماج بڑھتے ہوئے دباؤ کا اظہار اب صرف محنت کشوں اور بائیں بازو کی ریڈیکل جدوجہد اور تحریک کے ابھار میں ہی نہیں نظر آرہا ہے۔اس دفعہ لیفٹ پارٹیاں’’کیمونسٹ‘‘ کے کے ای اوربائیں بازو کے اصلاح پسند ہی ان کٹوتیوں کو مسترد نہیں کررہے ہیں۔
کٹوتیوں کی منظوری سے پہلے انتہا پسند دائیں بازو،سیمی فاشسٹ لاوُس اور اس کے منسٹرز نے اتحادی حکومت کی حمایت چھوڑ دی اور اس ممبرز کی اکثریت نے کٹوتیوں کے خلاف ووٹ دیئے۔پاسوک کے قوم پرست بائیں بازو اورقدامت پسند این ڈی اے کے کچھ ممبروں نے حکومت اور اپنی لیڈر شپ کی حمایت سے انکار کردیا۔پاسوک اور این ڈی اے کے ممبروں نے وہ جرات دیکھائی جو وہ ٹرائیکا کا سامنا کرتے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔اس کے نتیجے میں 23پاسوک،22این ڈی اے ممبرز کو ان کی پارٹی سے نکال دیا گیا،جس کی وجہ سے حکومتی اتحاد کی 300ممبرز کی پارلیمنٹ میں193 رہ گی ہے۔
یہ ظاہر کر رہا ہے کہ حکمران طبقہ کی قوتوں میں تقسیم پیدا ہورہی ہے،اس کا ایک اظہار پچھلے ہفتے ہوا،جب نیشنل یونین آف پولیس افیسرز جس کو دائیں بازو کے انتہائی قدامت پولیس آفیسرز کنٹرول کرتے ہیں ،اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں دھمکی دی ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے آفیشل کے خلاف قانونی ایکشن لے سکتے ہیں اور کوشش کرئیں گئیں کہ اپنے بہن،بھائیوں کے خلاف نہ لڑئیں۔
یہ تمام مظاہر ملک میں انقلاب سے پہلے والی صورتحال میں اضافے اور تیزی کی علامتیں ہیں۔
مظاہروں کی شدت
ٹرائیکا کا دورا،مذاکرات،کابینہ اور پارلیمنٹ کے اجلاس کے ساتھ بڑی یونینز نے عام ہڑتال کی کال بھی دئے دی ہے۔کم ازکم ایک لاکھ سے زائد لوگوں نے 12فروری کو ایتھنزمیں جبکہ اس سے بڑی تعداد میں مظاہرین نے دوسرے شہروں میں احتجاج کیا۔ریاستی افواج اور مظاہرین کے درمیان ایتھنز اورTHESSALONIKIمیں طویل عرصے کے بعد اس نوعیت کاپرتشدد ٹکراو ہوا۔محنت کشوں کے علاوں، مڈل کلاس اور پیٹی بورژوا کی بڑی تعداد بھی سڑکوں پر موجود ہے۔وہ امید رکھتے ہیں کہ لیفٹ اس صورتحال کا کوئی حل پیش کرئے گا،اس لیے کے کے ای کی حمایت میں بڑا اضافہ ہوا ہے،اس وقت اس کی حمایت 40فیصد کے قریب ہے۔
موجود صورتحال زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔محنت کش طبقے کوحملوں کی مزاحمت سے آگے بڑھکر گہرئے بحران کا اپنا حل پیش کرنا ہوگا۔ورنہ سماجی زندگی کی بڑھتی ہوئی تباہی،مڈل کلاس کے بڑے حصے کو دائیں بازو کے حل کی طرف راغب کر سکتی ہے۔لاوُس کی حکومت سے علیحدگی واضح کررہی ہے کہ وہ خود کو دائیں بازو کے صاف ستھرے قوم پرست متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔پولیس یونین کی طرف سے دھمکی صرف حکومت کی حاکمیت کی کمزوری کا اظہار ہی نہیں،بلکہ ان کی طرف سے ایک مضبوط راہنما کی خواہش کا اظہار ہے۔بیرونی محنت کشوں پر بڑھتے ہوئے نسل پرست حملے بھی اس خطرناک صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
یقینی طو پر محنت کشوں،نوجوانوں، سیلف ایمپلایڈ ،نیم پرولتاریہ کے ساتھ پیٹی بورژوا کی جدوجہد،یونانی لوگوں کی لڑنے کے عزم کو ظاہر کر رہی ہے۔پچھلے مہینوں میں ہم نے نہ صرف عام ہڑتال کی عوامی حمایت میں اضافہ ہوتے دیکھا ہے،بلکہ مخصوص شعبوں جیسے سٹیل انڈسٹری میں لمبے عرصے سے ہڑتال جاری ہے۔ہسپتالوں پر محنت کشوں نے قبضے جما رکھے ہیں اور وہاں محنت کشوں کے کنٹرول میں سروسز مہیا کی جارہی ہیں۔
اس صورتحال میں اقتدار کی جدوجہد ایجنڈے پر ہے،اس کے لیے محنت کشوں کو تیار اور متحرک ہونا ہوگا،تاکہ درمیان طبقے کے بڑے حصے کو جیت کر ریاستی جبر کے اداروں کے اندرونی نظم و ضبط کو توڑا جاسکے۔لیکن یہ وہ تناظر ہے جس سے یونانی لیفٹ کے کے ای اور SYRIZA محروم ہے ٹریڈیونین کی لیڈر شپ کا تو ذکر ہی کیا۔وہ تبدیلی کو نئے الیکشن اور پارلیمانی اکثریت کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔جیسا کہ ہم نے اپنے پچھلے مضمون’’انقلاب اور اس کے امکانات‘‘میں واضح کیا تھا کہ یونان کہ انقلاب کو مکمل طور پر مختلف حکمت عملی اور لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ایک نئی انقلابی پارٹی،جوAntarsya ,SYRIZA,اور کے کے ای کے بہترین لیفٹ کے کارکنان اور ریڈیکل ٹریڈیونینز اور occupiarsپر مشتمل ہو اور جو اصلاح پسند حکمت عملی کی بجائے انقلابی پروگرام رکھتی ہو ا۔ایسی پارٹی کی حکمت عملی اقتدار پر انقلابی قبضے کی ہو۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: