ہندوستان میں دس کڑور سے زائد محنت کشوں کی عام ہڑتال

اٹھائیس فروری کو ہندوستان میں 10کڑور سے زائد محنت کشوں نے عام ہڑتال میں حصہ لیا،ہندستان کی آزادی کے بعد یہ سب سے بڑی عام ہڑتال تھی اور 1991میں نیولبرل ازم کی پالیسیوں کے آغازبعد سے یہ 14ویں عام ہڑتال تھی۔
11بڑی ٹریڈیونین فیڈریشنز نے اس عام ہڑتال کی کال دی جبکہ 5000ٹریڈیونینز نے اس کی حمایت کی۔عام ہڑتال کے دوران بینکنگ،ایجوکیشن،ٹرانسپورٹ،کولہ، بجلی،مینوفیکچرینگ صنعت مکمل طور پر بند تھی۔
انڈیا کے سرمایہ دارنہ میڈیا نے اس ہڑتال کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی اور اس ترقی کے راستے میں رکاوٹ قرار دیا گیا،مگر اس ہڑتال کی شدت ہندوستان کے تمام شہروں میں محسوس کی گئی۔
ہندوستان جسے سرمایہ دارانہ ترقی کا معجزہ قرار دیا دیا جاتا ہے،اس کے بارے میں ارون دھتی رائے اپنے حالیہ مضمون میں لکھتی ہے کہ ہندوستان میں 250000سے زائد کسان قرضوں اورسود کی وجہ سے تنگ آکر خودکشیاں کرچکے ہیں اور80کڑور سے زائد لوگ انتہائی غربت میں زندگی بسر کررہے ہیں اور وہ صر ف20روپے روزانہ سے کم پر گزربسر کرتے ہیں۔
جبکہ ایک ارب 20کڑور سے زائد آبادی میں 100امیر ترین لوگGDPکے ایک چوتھائی کے مالک ہیں۔جبکہ ہندوستان کے ایک امیر ترین شخص مکیش امبھانی کی ذاتی دولت 20بلین ڈالر ہے،اس نے بمبمی میں ایک جدیجد ترین محل بنایا ہے۔یہ ہیلی پیڈوں،تیراکی کے تالابوں،پارکنگ اور جدید ترین آلات پر مشتمل27منزلہ محل ہے،جہاں 600سے زائد ملازمین ہر وقت خدمت کے لیے موجود رہتے ہیں۔
یہ ٹرائیکل ڈاون اکنامی کی اصل حقیقت ہے جہاں تمام تر معاشی ترقی کے باوجود عوام کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے،امیر اور غریب میں عدم مساوات میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔یہ صورتحال آج کی سرمایہ داری کی عمومی کفیت ہے۔مگر اس کی شدت سرمایہ دارنہ ’’معجزوں‘‘ میں بہت زیادہ ہے۔
مہنگائی نجکاری،نوکریوں کاخاتمہ،اجرتوں میں مہنگائی کے تناسب سے کمی اور ایسی ہی دیگر نیولبرل اقدامات نے محنت کشوں اورغریبوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔
یہ عام ہڑتال محنت کشوں میں بڑتھے ہوئے غصے اور نفرت کا اظہار تھا۔دہلی میں ہڑتالی رکشہ ڈرائیورز نے ٹریفک کو جام کردیا،جبکہ انڈیا کے معاشی مرکز بمبمی میں بینکنگ سیکٹر مکمل طور پر بند تھا،ناگ پور میں عام ؂فیکٹریوں میں ہڑتال ہوئی۔
مغربی بنگال میں ترنمول کانگرس کی تمام تر دھمیکیوں،تشدد اور گرفتاریوں کے باوجود ہرتال کامیاب رہی۔ہڑتال کی سب سے زیادہ شدت کیرالہ میں محسوس کی گئی۔
ہڑتال کا سب سے اہم مطالبہ کم از کم تنخواہ 10000روپے تھا،جبکہ اس وقت یہ مختلف ریاستوں اور صنعتوں میں5500سے6500کے درمیان ہے۔دیگر مطالبات مندرجہ ذیل تھے۔
غیر منظم محنت کشوں کے لیے قومی سماجی تحفظ فنڈ کا قیام
نوکریوں کا خاتمہ یا ان کو کنٹریکٹ میں تبدیل نہ کرنا۔
نجکاری کا خاتمہ
مستقل اور کنٹریکٹ ورکرز کی تنخواہوں اور مراعات میں برابری۔
تمام محنت کشوں کو پنشن دی جاے
ٹریڈیونینز کو تسلیم کرنے میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔
یہ بڑے اہم اور بنیادی مطالبات ہیں۔انڈین محنت کشوں کی تنخواہوں میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حقیقی کم آئی ہے۔بنیادی زندگی کی ضروریا ت میں 30فیصد اضافہ ہوا ہے۔جبکہ مہنگائی 9فیصد ہے۔
پچھلے کچھ عرصے میں انڈین محنت کش طبقے میں نئی بیداری سامنے آئی ہے اور کئی عام ہڑتالیں ہوئیں ہیں۔خاصکر ستمبر2010کی ہڑتال یہ محنت کشوں میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کا رویہ ہے جو یونینز کی لیڈر شپ کو جدوجہد اور ہڑتال کے لیے مجبورکررہا ہے۔
بائیں بازو کی فیڈریشنز جیسے(AITUC)جوCPIسے منسلک ہے،جبکہ(CITU)جوCPMسے منسلک ہے کہ ساتھ حکمران جماعت کانگرس سے منسلک(INTUC)اور BJPسے منسلک(BMS)بھی شامل تھی جو دائیں بازو کی ہندو قوم پرست یونین ہے۔اس اتحاد میں شامل تھیں جس نے ہڑتال کی کال دی
یہ محنت کش طبقے کا مہنگائی اورنوکریوں کے عدم تحفظ کی وجہ سے اپنی قیادت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا اظہارتھا۔عام ہڑتال انڈیا کے محنت کش طبقے کی جدوجہد میں اہم موڑ ہے،اس نے محنت کشوں کے موجود نظام پر اپنی نفرت،غصے اورعدم اطمان کا اظہار کیا۔مگر بائیں بازو کی پارٹیوں کااس ہڑتال میں کردار ثانوی نوعیت کا تھا۔ دائیں بازو کی موجودگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بائیں بازو کی پارٹیاں اس تحریک کو ایک حد سے زیادہ اور سرمایہ اور محنت کے درمیان بنیادی تضاد کی طرف جانے سے روکنا چاہتی ہیں۔
اتنی بڑی عام ہڑتال کی کامیابی بھی مطالبات کی منظوری کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔اس ہڑتال میں نجی شعبے کی بڑی یونینز شریک نہیں ہوئیں اس کے ساتھ سرکاری شعبے کے ایک حصے نے شمولیت اختیار نہیں کی،جیسے ریلوے روکرز جو انڈیا کی سب سے بڑی مجتمع شدہ ورک فورس ہے۔
لیکن اس کے باوجود یہ محنت کش طبقے کی طاقت کا بڑا اظہار تھا۔لیکن محنت کشوں کو اپنے مطالبات کی منظوری اور سرمایہ اور محنت کے درمیان بنیادی تضاد کو حل کرنے کے لیے،نئی طرز کی جدوجہد کی حامل ٹریڈیونینز کی ضرورت ہے،جہاں ٹریڈ یونین لیڈر شپ بنیادی اہمیت کی حامل نہ ہو،بلکہ عام ممبران جمہوری کمیٹیوں کے ذریعے فیصلہ سازی میں مکمل طور پر شریک ہوں اور یہ ٹریڈیونینز محنت کش طبقے کی نئی پارٹی تشکیل دئیں جومحنت کش طبقے کے اقتدار
اور سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد منظم کرئے۔۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: