بلوچستان ،قومی آزادی کی جدوجہد اور مارکسی نقطہ نظر

تحریر:کامریڈشہزاد
بلوچستان کاشمار وسائل کے حوالے سے دنیا کے امیر ترین خطوں میں ہوتا ہے،جہاں پرتیل گیس،سونے،تانبے کے علاوہ دیگر بیشمارمعدنی ذخائر پائے جاتے ہیں۔لیکن یہ وسائل ان کی زندگیوں میں بہتری کی بجائے اذیت کا باعث بن رہے ہیں۔ان حالات میں سامراجی مداخلت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔جس نے قومی محرومی کا خلاف جدوجہد کو بہت گھمبیر بنادیا ہے۔بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت بھی سامراجیوں کی دلچسپی کا باعث ہے۔گوادر پورٹ اور معدنی وسائل پر قبضے کی اس جنگ میں امریکہ،چین،پاکستان اور خود بلوچ حکمران طبقہ اس میں زیادہ سے زیادہ حصے کے لیے لڑرہاہے۔
بلوچستان میں قومی محرومی،جبراورتشدد کا خلاف مزاحمت جاری ہے۔نواب اکبر بگٹی کے شہادت کے بعد اس کی شدت میں اضافہ ہواہے۔اس کے ساتھ ہی بلوچ نوجوان سیاسی کارکنوں کے اغوا اور ان کی مسخ شدہ لاشوں میں تیزی سے اضافہ ہو ہے۔اب تک چارسو افراد کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں،جن میں طلباء،انجینیرز،ڈاکٹرز،سیاسی کارکن شامل ہیں۔ سنگت بلوچ کی مسخ شدہ لاش اور اس کی بہن زرینہ کی جرات خواتین میں آزادی کے لیے نئے عزم کااظہار ایک بدلتے ہوے میں موڈکو ظاہر کررہا ہے۔
ان حالات میں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ سماجی تبدیلی کی جد وجہد کرنے والوں کا اس ساری صورتحال میں کیا مواقف ہونا چاہیے کیا ہمیں قومی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرنی چاہیے، اس پر بائیں بازو میں اختلاف پایا جاتاہے۔
کچھ سوال اُٹھتے ہیں کہ کیا امریکہ اور ہندوستان بلوچ آزادی کی تحریک کی حمایت نہیں کر رہے،جبکہ دیگر کا مواقف ہے کہ یہ سردار ترقی کے مخالف ہیں اور ہمیں سرمایہ دارنہ ترقی کی حمایت کرنی چاہیے۔اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بلوچ قوم پرست پنجابی ،کشمیری یا دیگر محنت کشوں کو ماررہے ہیں ان حالات میں بائیں بازو اس تحریک کی کیسے حمایت کرسکتا ہے۔
یہاں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کرئیں گئیں کہ ان سوالوں کی منطق کیا ہے اور یہ ایک ایسے مواقعے پر کیوں اُٹھائے جارہے ہیں جب بلوچ بدترین فوجی جبر کا سامنا کررہے ہیں اور اس حالات میں مارکسی مواقف کیا ہونا چاہے۔
یہاں ہم دوسرے سوال کی جانب آتے ہیں کہ بلوچ سردار ترقی کے خلاف ہیں، تو پہلا سوال تو یہی ابھرتا ہے کہ ان سرداروں کی آج تک موجودگی کی وجہ کیا ہے اور ریاست نے ان کی سماجی بنیادوں کوختم کرنے کی کوشش کیوں نہ کی اور پھر سرداروں اور نوابوں کی اکثریت تو ہمیشہ ریاست کے ساتھ ہی رہی ہے تو ان علاقوں میں پسماندگی کی کیا وجوہات ہیں۔کیا یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ریاست اپنی بنیاد میں ہی رجعتی ہے اور اس کا حکمران طبقہ اپنا کوئی بھی فریضہ ادا کرنے سے قاصر رہا ہے،جیسے انفرسٹکچر کی تعمیروغیرہ ۔ جب وہ وسائل جوبلوچستان کے ہیں ان سے دوسرے صوبوں کا سرمایہ تو فائدہ اُٹھائے مگر خود اس علاقے کے عوام محروم رہیں تو ان حالات بائیں بازو کے مطابق تو سردار ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہوسکتے ہیں لیکن بلوچ عوام کے لیے سردار پہلا مسئلہ نہیں رہتے۔
امریکی سامراج اور انڈیا بلوچ قومی آزادی کی تحریک کی حمایت کررہا ہے اور یہ تحریک سازش ہے۔یہ وہی پرانہ راگ ہے جو ہر مزدورتحریک کے دوران سامنے آتا ہے کہ اس کی وجہ مزدورکا استحصال نہیں بلکہ ٹریڈیونینزاور سوشلسٹوں کی سازش ہے۔ روسی انقلاب کے دوران بالشیویکوں پر الزام لگایاگیاکہ وہ جرمن ایجنٹ ہیں۔یہ نقطہ نظر تاریخ کو سازش کے نظرے میں دیکھنے کا ہے اور یہ اس بات کو فرموش کرتا ہے کہ کوئی بھی تحریک کسی مخصوص سماجی حالات میں جنم لیتی ہے۔ہاں البتہ اس بات سے انکارنہیں کہ اس وقت سامراج اپنے مفادات کے تحت تحریک کے ایک حصے کی پشت پناہی کررہا ہے۔مگر اس سے پوری تحریک کو مسترد نہیں کیا جاسکتا،جس کی جڑیں قومی محرومی اور ریاستی قبضے اور آپریشنوں کے خلاف ہے۔
بلوچ قوم پرست غیر مقامی لوگوں پر حملے کر رہے ہیں۔ان میں اکثریت غریب اور محنت کشوں کی ہے،یہ ایک اہم سوال ہے اور اس کی تحریک میں مخالفت کرنے کی ضرورت ہے یہ بلو چ جدوجہد کو کمزور کررہی ہے۔لیکن یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے حالات ہیں جو ان حملوں کا باعث بن رہی ہے۔
ہم نے ان تمام سوالوں کو دیکھ جو قومی آزادی کی جدوجہد پر اُتھائے جارہے۔لیکن یہاں اہم سوال یہ ہے کہ انقلابی سوشلسٹوں کا اس تحریک کی طرف کیا رویہ ہوگا۔
انقلابی سوشلسٹ قومی حق خوداردیت کی غیرمشروط مگر تنقیدی حمایت کرتے ہیں حالاں کہ یہ ایک سرمایہ دارنہ فریضہ ہے۔لینن لکھتا ہے کہ حق خودارادیت کی جدوجہد دراصل طبقاتی لڑائی سے منسلک ہے،کیونکہ اس کے ذریعے محنت کش طبقہ کی جدوجہد کے لیے حالات بہتر ہوں گے قوموں کی آپسی لڑائی کی بجائے سرمایہ دای کے خلاف جدوجہد تیز ہوگی۔ہم قوموں کا رضاکارنہ الحاق چاہتے ہیں نہ کہ جبری،ہم سرحدوں کے قیام کی بجائے ان کو مٹانا چاہتے ہیں ہم ریاست کے خلاف ہیں،لیکن ریاست اور حق خوداختیاری سوشلسٹ انقلاب کی جانب ایک قدم ہے،جوں ہی طبقاتی نظام ختم ہوگا ویسے ہی قوموں کے ہاتھوں قوموں کا استحصال بھی ختم ہوجائے گا۔
ان حالات میں انقلابی سوشلسٹوں کو بلوچ قومی آزادی کی تحریک کی حمایت کے ساتھ،اس کو سامراج کے مداخلت کے نتائج سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیسے سامراج کی آمد ان کے لیے آزادی کی بجاے مزید تباہی ،بربادی اورجکڑبندیوں کا باعث بنئے گی اس کے ساتھ قومی تحریک میں موجودہ طبقاتی تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے محنت کش طبقے کی علیحدہ صف بندی کی ضرورت ہے جو اس جدوجہد کو پاکستان بھر کے محنت کش طبقے اور عالمی محنت کشوں کی جدوجہد کے ساتھ جوڑے اور اس کو سیاسی بنیادوں پر منظم کرے یوں ہی بلوچ قوم کی آزادی اور سماجی انقلاب کی جدوجہدحقیقی معنوں میں آگے بڑھ سکتی ہے۔
About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

%d bloggers like this: