حکمران طبقہ کے تضادات اور محنت کش عوام
بلوچستان ،قومی آزادی کی جدوجہد اور مارکسی نقطہ نظر
بلوچستان کاشمار وسائل کے حوالے سے دنیا کے امیر ترین خطوں میں ہوتا ہے،جہاں پرتیل گیس،سونے،تانبے کے علاوہ دیگر بیشمارمعدنی ذخائر پائے جاتے ہیں۔لیکن یہ وسائل ان کی زندگیوں میں بہتری کی بجائے اذیت کا باعث بن رہے ہیں۔ان حالات میں سامراجی مداخلت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔جس نے قومی محرومی کا خلاف جدوجہد کو بہت گھمبیر بنادیا ہے۔بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت بھی سامراجیوں کی دلچسپی کا باعث ہے۔گوادر پورٹ اور معدنی وسائل پر قبضے کی اس جنگ میں امریکہ،چین،پاکستان اور خود بلوچ حکمران طبقہ اس میں زیادہ سے زیادہ حصے
ریل بچاؤ اتحاد کا نجکاری کے خلاف احتجاجی کنونشن
(رپورٹ )ریل بچاؤ اتحاد کے زیر اہتمام ریلوے ہیڈکواٹرز کے با ہر سے ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں ریلوئے مزدورں نے ریلوئے میں سیاسی مداخلت ،ریل گاڑیوں کی نجکاری،ٹھکیداری نظام،کرپشن اور میٹریل چوری کے کیخلاف احتجاجی کنونشن منعقد کیا۔
میرانی ڈیم تربت بلوچستان کے ہزاروں غریب متاثرین کے حق میں اور واپڈا کی مجرمانہ غفلت کے خلاف لاہور میں احتجاجی کیمپ
(رپورٹ )گزشتہ پانچ سالوں سے میرانی ڈیم کے ملحقہ علاقوں میں پانی کی آفت آنے سے ہزاروں لوگ جن میں خواتین،بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے، بے سروسامانی کے عالم میں آسمان کے نیچے زندگی گزار نے پر مجبور ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ان مظلوموں پر یہ کوئی قد رتی آفت نہیں،بلکہ نام نہاد ترقیاتی پروجیکٹ کا شکار ہیں
ا یپکا کی کال پر ملک بھر میں کلرکوں کی ہڑتال اور احتجاجی مظاہرئے
(رپور ٹ )ایپکاکی کال پر ملک بھر کے کے کلرکوں نے قلم چھوڑہڑتال کی،دفاتر تال بندی کی گی،دھرنے دئیے اور احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مہنگائی کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے