<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	xmlns:georss="http://www.georss.org/georss" xmlns:geo="http://www.w3.org/2003/01/geo/wgs84_pos#" xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/"
	>

<channel>
	<title>Revolutionary Socialist Movement Pakistan</title>
	<atom:link href="http://rsmpakistan.wordpress.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://rsmpakistan.wordpress.com</link>
	<description>For a new world party of socialist revolution</description>
	<lastBuildDate>Sun, 20 Nov 2011 22:41:24 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.com/</generator>
<cloud domain='rsmpakistan.wordpress.com' port='80' path='/?rsscloud=notify' registerProcedure='' protocol='http-post' />
<image>
		<url>http://1.gravatar.com/blavatar/338c1aea2d59862122d0fc29df0af62e?s=96&#038;d=http%3A%2F%2Fs2.wp.com%2Fi%2Fbuttonw-com.png</url>
		<title>Revolutionary Socialist Movement Pakistan</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com</link>
	</image>
	<atom:link rel="search" type="application/opensearchdescription+xml" href="http://rsmpakistan.wordpress.com/osd.xml" title="Revolutionary Socialist Movement Pakistan" />
	<atom:link rel='hub' href='http://rsmpakistan.wordpress.com/?pushpress=hub'/>
		<item>
		<title>لاہور میں تحریک انصاف کا جلسہ</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/11/04/ptilahorerally/</link>
		<comments>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/11/04/ptilahorerally/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 04 Nov 2011 22:37:15 +0000</pubDate>
		<dc:creator>rsmpakistan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[PTI LAHORE RALLY]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rsmpakistan.wordpress.com/?p=325</guid>
		<description><![CDATA[کامریڈ عمر نے مجھے SMSکیا کہ تحریک انصاف کے جلسے میں جا نا ہے،راقم تو اس حوالے سے پہلے ہی کامریڈ خالد کے ساتھ پروگرام بنا چکا تھا کہ ہم جلسے میں جائیں گئیں تاکہ نہ صرف پمفلٹ تقسیم کر سکیں بلکہ اس نئی پیشرفت کا جائزہ بھی لیں۔کامریڈخالد خود طویل عرصہ تحریک انصاف میں(معراج [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=325&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:right;">کامریڈ عمر نے مجھے SMSکیا کہ تحریک انصاف کے جلسے میں جا نا ہے،راقم تو اس حوالے سے پہلے ہی کامریڈ خالد کے ساتھ پروگرام بنا چکا تھا کہ ہم جلسے میں جائیں گئیں تاکہ نہ صرف پمفلٹ تقسیم کر سکیں بلکہ اس نئی پیشرفت کا جائزہ بھی لیں۔کامریڈخالد خود طویل عرصہ تحریک انصاف میں(معراج محمد گروپ) متحرک رہے تھے۔لیکن پچھلے کچھ سالوں سے اس کو چھوڑچکے اور نوجوانوں کی نظریاتی تربیت کے لیے یوتھ ویژن میں مصروف عمل تھے،ان کے بقول عمران خان نہ تو سیاست اور نہ ہی تنظیم <span id="more-325"></span>کی سمجھ رکھتا ہے۔<br />
30اکتوبر کو عمر اور میں مزنگ چونگی پر کھڑئے تھے،جہاں بڑی تعداد میں نوجوان اکھٹے ہو رہے تھے،ہم چائے کی دوکان پربیٹھ گے اور اس دوران آج کے جلسہ اور پاکستان میں تبدیلی کی سیاست کے تناظر پر گفتگو کرتے رہے۔جب ہم باہر آے تو وہاں ایک بڑی ریلی کا منظر تھا ،بقول کامریڈ عمر ہم ایک شہر کو تبدیل ہوتا ہوا دیکھا رہے ہیں جوپہلے ن لیگ کا گڑھ ماناجاتا تھا۔نوجوانوں کی بڑی تعداد تھی جوانصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے تحت اور اذخود آرہے تھے،بڑی تعداد کاروں اور موٹر سائیکلوں پر سوار تھی، یہ شورمچا رہے تھے، خوش گپیوں میں مصروف تھے،کبھی کھبار نعرے بازی بھی ہو جاتی، اس کے ساتھ یہ ہارن بجا کر بھی اپنے جوش کا اظہار کر رہے تھے۔<br />
ترقی پسند دوستوں کے برعکس میرا پچھلے دو برس سے یہ خیال تھا کہ تحریک انصاف نوجوانوں اور مڈل کلاس میں تیزی سے مقبولیت حاصل کررہی ہے،کیونکہ سرمایہ داری نظام کی دونوں بڑی پارٹیاں تیزی سے عوام میں غیر مقبول ہو رہی ہیں،پچھلے کچھ عرصے میں عام لوگ بھی اس سے امیدئیں بند رہے تھے۔<br />
کامریڈ عمر نے بتایا کہ اس چھوٹا بھائی کہہ رہا ہے کہ شہر کے اپر مڈل کلاس علاقوں سے نوجوان بڑی تعداد میں جلسہ میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔یہ<br />
صورتحال ہمارے ایک دوست جو ن لیگ کے جلسے میں گیا تھا سے مختلف تھی جہاں لوگوں کو بسوں میں بھڑ کر لیا گیا تھا اور ان کی جلسے سے لاتعلقی واضح طور پر نظر آرہی تھی جب شہباز شریف تقریر کر رہا تھا۔<br />
بعدازں جب ہم اندرون شہر سے جلسہ گاہ کی طرف جارہے تھے تو ہمیں نسبتاُُ سناٹا نظر آیا۔مینار پاکستان کے اردگرد کا علاقہ ایک بڑئے جلسہ کی نوید سنا رہا تھا۔یہاں غریب لوگوں بھی تھے،لیکن اکثریت مڈل کلاس کی مختلف پرتوں کی ہی تھی،فیملیز بھی جلسہ میں آرہی تھیں ،نقاب والی عورتوں کی نسبت ماڈرن لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔جلسہ گاہ میں جانے کے لیے مختلف دروازے بنائے گئے تھے، ایک لیبر کا کیمپ لگا ہوا بھی نظر آیا،جو ظاہر کررہا تھا کہ تحریک انصاف لیبر میں بھی کام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔<br />
جلسہ گاہ میں مختلف بینروں پر کرپشن،لوڈشیڈنگ اور بے روزگاری کے خاتمے سے لے کر خواتین ،اقلیتوں اور مزدورں کے حقوق کے نعرے بھی درج تھے۔مینار پاکستان کے وسیع احاطے میں نوجوانوں کے ساتھ مختلف عمر کے لوگ بڑی تعداد میں تھے،یہ سٹیج سے ہو نے والی مختف تقریروں کو غور سے سن رہے تھے، اس کے ساتھ نعرے اور ہلڑبازی بھی جاری تھی۔مڈل کلاس کی مختلف پرتوں کی بڑ ی تعداد کی وجہ سے جابجا آئی فونز ،لیپ ٹاپ اور ڈیجٹل کیمروں کے ساتھ برنڈڈ پینٹ شرٹس بڑی تعداد میں نظر آرہی تھی۔<br />
سٹیج سے تقریباُُ ہر مقرر اس میدان میں پاکستان کے بنانے اور یہاں سے ہی پاکستان کو بچانے کی بات بار بار دھرا رہا تھا۔مطالعہ پاکستان کا شعور ان مقررین کی تقریروں میں نمایاں تھا۔<br />
جلسہ کے دوران بے شمار لوگوں سے ملاقات ہوئی،جن سے پچھلے تین چار سالوں میں وکلاء تحریک کے دوران انٹریکشن ہوا تھا۔اس ہی دوران عرفان حسن بھی نظر آئے،جو بڑئے پرجوش تھے کہ لاکھوں کا جلسہ ہے باہر طویل ٹریفک جام ہے اور لوگ داتادربار سے پیدل آرہے ہیں۔ہمارے لوگوں کو دوسرئے شہروں سے آنے کو روکا جارہا ہے،یہ تبدیلی کے نشان ہیں۔<br />
نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے جہاں زندگی کا پہلا جلسہ تھا،وہ تبدیلی چاہتے ہیں ،اس کااظہار ان کی گفتگو سے واضح ہو رہا تھا۔وہ ایک ’’ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان چاہتے ہیں،جہاں کرپشن نہ ہو،بیرونی سرمایہ کاری آئے اور گڈگورنس ہو۔<br />
عمران خان کی تقریر کا مفہوم بھی ’’ترقی یافتہ اور خوشحالی ،کرپشن کا خاتمہ (بیرونی سرمایہ کاری اور گڈگورنس ہو،اس کے ساتھ پاکستانی نیشنل ازم کا جھنڈا تھامے ہوئے سامراج کے ساتھ برابری بھی چاہتے ہیں اور اس کے لیے اسلامی فلاحی ریاست کا بھی نعرہ لگا یا جا رہا ہے۔<br />
آج کے عہد میں جب عالمی سرمایہ داری نظام اپنے شدید ترین بحران سے گزار رہا ہے اور پاکستان سامراج کے معاشی اور افپاک جنگ کی قیمت ادا کررہا ہے۔سرمایہ داری نظام کے استحصال ،اس کی نجکاری اور کارٹیلز پر کوئی بات نہیں کی،جو لاکھوں نوکریوں کے خاتمے ، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی ذمہ دار ہے۔یہ بھی سمجھ سے باہر ہے جب عالمی سرمایہ داری شدید بحران کا شکار ہے ان حالات میں پاکستان میں کیوں کر سرمایہ کاری کرئے گی۔<br />
یہ مڈل کلاس کا ابھراہے جو ایک طرف سرمایہ داری کے بحران اور جبر کا شکار ہے اورموجودہ صورتحال میں اپنے لیے مواقعوں کو تباہ ہوتے<br />
اور اشرفیہ کے ہاتھوں لٹتا ہوا دیکھا رہا ہے۔لیکن پھر بھی سرمایہ داری میں ہی حل دیکھتاہے۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/rsmpakistan.wordpress.com/325/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/rsmpakistan.wordpress.com/325/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/rsmpakistan.wordpress.com/325/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/rsmpakistan.wordpress.com/325/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/rsmpakistan.wordpress.com/325/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/rsmpakistan.wordpress.com/325/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/rsmpakistan.wordpress.com/325/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/rsmpakistan.wordpress.com/325/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/rsmpakistan.wordpress.com/325/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/rsmpakistan.wordpress.com/325/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/rsmpakistan.wordpress.com/325/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/rsmpakistan.wordpress.com/325/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/rsmpakistan.wordpress.com/325/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/rsmpakistan.wordpress.com/325/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=325&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/11/04/ptilahorerally/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
	
		<media:content url="http://1.gravatar.com/avatar/9f818012272ad6527c9def84df9c248a?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">rsmpakistan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>لاہور میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پرمال روڈ کے تاجروں کا حملہ</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/10/25/womenhealthworkerunderattack/</link>
		<comments>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/10/25/womenhealthworkerunderattack/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 25 Oct 2011 22:00:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>rsmpakistan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[health workers fight for their rights]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rsmpakistan.wordpress.com/?p=319</guid>
		<description><![CDATA[لیڈی ہیلتھ ورکرز پچھلے ایک سال سے زائد عرصے سے اپنے محکمے کے خاتمے،نوکریوں کو مستقل کرنے اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی اوراس میں کے احتجاج کررہیں۔ ریاست کے تمام تر جبر اور تشدد کے باوجود یہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئی ہیں،بلکہ یہ جدوجہد کی نئی روایت کو جنم دئے رہی ہیں۔پچھلے 4ماہ [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=319&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:right;">لیڈی ہیلتھ ورکرز پچھلے ایک سال سے زائد عرصے سے اپنے محکمے کے خاتمے،نوکریوں کو مستقل کرنے اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی اوراس میں کے احتجاج کررہیں۔ ریاست کے تمام تر جبر اور تشدد کے باوجود یہ اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئی ہیں<span id="more-319"></span>،بلکہ یہ جدوجہد کی نئی روایت کو جنم دئے رہی ہیں۔پچھلے 4ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف یہ پورے پنجاب میں سراپا احتجاج تھی،اسی حوالے سے ہزاروں لیڈی ہیلتھ ورکرز جو پورے پنجاب سے لاہور آئیں تھیں ،انہوں نے پرامن احتجاج کرتے ہوئے مال روڈلاہور کو بلاک کردیا۔تاکہ ان کی چار ماہ سے غیر ادا شدہ تنخواہیں ادا کی جائیں اور ان کی نوکریوں کو مستقل کیا جائے۔تو ان پر مال روڈ کے تاجروں نے حملہ کردیااور پولیس اس صورتحال کو کھڑی دیکھتی رہی اور وہ خواتین کی مد د کے لیے آگے نہیں بڑھی،بلکہ مظاہرین کے مطابق پولیس نے ان کا گھیراو کرکے غنڈوں کو حملہ کرنے کا مواقع فراہم کیا،جس سے دوڈرائیور بھی زخمی ہوگے ۔<br />
باہمت لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ان کے ساتھی مرد محنت کشوں نے،مال روڈکے تاجروں کے حملے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا،جن کو صوبائی حکومت کی مکمل حمایت حاصل تھی۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کا شعور بہت بلند تھا،وہ کہ رہیں تھی کہ صوبائی اور وفاقی حکومت نے ان کو مذاق بنا دیا اور وہ ہمارے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ہمیں اپنی قوتوں پر بھروسہ کرنا ہوگا اور ان کو تعمیر کرنا ہوگا،یوں ہی ہم حکمرانوں کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرسکتے ہیں۔اس مواقع پر انقلابی سوشلسٹ موومنٹ کے ساتھیوں نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ۔<br />
ہم مطالبہ کرتے ہیں<br />
وکلاء، ٹریڈیونینسٹو،سیاسی و سماجی کارکنان پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا جائے،جو نہ صرف لاہور کے واقعے بلکہ دیگر شہروں میں ہونے والے حملوں کی انکوائری کرئے۔<br />
لیڈی ہیلتھ ورکرز ،سپروازر اورباقی محنت کشوں کی تنخواہوں میں 200فیصد اضافہ کیا جائے۔<br />
ان کو کام کے لیے پیٹرول الاؤنس دیا جائے۔<br />
تمام محنت کشوں کو مستقل کیا جائے۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/rsmpakistan.wordpress.com/319/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/rsmpakistan.wordpress.com/319/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/rsmpakistan.wordpress.com/319/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/rsmpakistan.wordpress.com/319/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/rsmpakistan.wordpress.com/319/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/rsmpakistan.wordpress.com/319/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/rsmpakistan.wordpress.com/319/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/rsmpakistan.wordpress.com/319/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/rsmpakistan.wordpress.com/319/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/rsmpakistan.wordpress.com/319/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/rsmpakistan.wordpress.com/319/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/rsmpakistan.wordpress.com/319/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/rsmpakistan.wordpress.com/319/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/rsmpakistan.wordpress.com/319/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=319&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/10/25/womenhealthworkerunderattack/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
	
		<media:content url="http://1.gravatar.com/avatar/9f818012272ad6527c9def84df9c248a?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">rsmpakistan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>وال اسٹریٹ دھرنے کو سرخ سلام</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/10/17/occupation-lahor/</link>
		<comments>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/10/17/occupation-lahor/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 17 Oct 2011 20:15:12 +0000</pubDate>
		<dc:creator>rsmpakistan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[Anti Capitalist Camp]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rsmpakistan.wordpress.com/?p=316</guid>
		<description><![CDATA[وال اسٹریٹ پر قبضہ کی تحریک نے پوری دنیامیں بغاوت کی آگ کو پھیلا دیا، سرمایہ داری نظام کے خلاف 82 ممالک کے 720سے زائد شہروں میں احتجاج ہو ا،یہ احتجاج بے روزگاری،غربت،نج کاری،نوکریوں کے خاتمے اور عوامی سہولیت میں کٹوتیوں کے خلاف تھا،جدوجہدمیں شریک لوگوں کا نعرہ ہے کہ’’ ہم99%ہیں تم 1% ہو‘‘ یہ [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=316&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align:right;"><span id="more-316"></span>وال اسٹریٹ پر قبضہ کی تحریک نے پوری دنیامیں بغاوت کی آگ کو پھیلا دیا، سرمایہ داری نظام کے خلاف 82 ممالک کے 720سے زائد شہروں میں احتجاج ہو ا،یہ احتجاج بے روزگاری،غربت،نج کاری،نوکریوں کے خاتمے اور عوامی سہولیت میں کٹوتیوں کے خلاف تھا،جدوجہدمیں شریک لوگوں کا نعرہ ہے کہ’’ ہم99%ہیں تم 1% ہو‘‘ یہ عام لوگوں پر مشتمل اسمبلیاں منعقد کرتے ہیں ،جن میں ہر ایک اپنے مسائل کے حوالے سے بات کرتا،اس عمل کا مقصد سیاست کو حکمران طبقہ سے آزادکروانا اور عوام کی سیاست میں شمولیت ہے ۔<br />
پاکستان میں سرمایہ داری مخالف تحریک کے آغاز کا مقصدوال اسٹریٹ میں اور دنیا بھر میں سرمایہ کے خلاف بغاوت کے ساتھ اظہار یکجہتی اور پاکستان میں لوڈشیڈنگ،بے روزگاری، غربت ،نج کاری، نوکریوں سے نکالے جانے ،اداروں کی تباہی ،تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج ہے۔نوجوانوں، محنت کشو اور غریبوں آو ملکر جدوجہد کا آغاز کرئیں،ایک ایسے نظام کے لیے جہاں پیدوار کامقصد منافع کی بجائے انسان کی ضرریات کی تکمیل ہو،اس کے لیے ہمیں پورے پاکستان میں سرمایہ مخالف تحریک اور عوامی اسمبلیوں کو بنانا ہوگا۔تاکہ ہم سیاست میں اپنی شرکت کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکیں،اس کے ساتھ ہی ہمیں اس تحریک کی سیاسی جماعت کے لیے بھی جدوجہد کرنا ہوگی،جو سرمایہ داری مخالف اورسوشلسٹ پروگرام کے لیے جدوجہد کرئے۔<br />
سوشلسٹ انقلاب تک ناقابل مصلحت جدوجہد<br />
انقلابی سوشلسٹ موومنٹ</div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/rsmpakistan.wordpress.com/316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/rsmpakistan.wordpress.com/316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/rsmpakistan.wordpress.com/316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/rsmpakistan.wordpress.com/316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/rsmpakistan.wordpress.com/316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/rsmpakistan.wordpress.com/316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/rsmpakistan.wordpress.com/316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/rsmpakistan.wordpress.com/316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/rsmpakistan.wordpress.com/316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/rsmpakistan.wordpress.com/316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/rsmpakistan.wordpress.com/316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/rsmpakistan.wordpress.com/316/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/rsmpakistan.wordpress.com/316/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/rsmpakistan.wordpress.com/316/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=316&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/10/17/occupation-lahor/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
	
		<media:content url="http://1.gravatar.com/avatar/9f818012272ad6527c9def84df9c248a?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">rsmpakistan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>سرمایہ داری کے خلاف بغاوت</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/09/30/revolt-againist-capitalis/</link>
		<comments>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/09/30/revolt-againist-capitalis/#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 30 Sep 2011 20:08:00 +0000</pubDate>
		<dc:creator>rsmpakistan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[long live socialist revolution]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rsmpakistan.wordpress.com/?p=313</guid>
		<description><![CDATA[سوشلسٹ انقلاب تک ناقابل مصالحت جدوجہد جدوجہد کا آغاز: بجلی کی طویل لودشیڈنگ کی وجہ سے پنجاب کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہورہے ہیں۔جس میں جلاؤ گھیراؤ کے ساتھ مختلف سڑکوں کو بھی احتجاجیوں نے بند کردیا.لاہور،فیصل آباد،گجرانوالہ،ملتان،اوکاڑہ ، اور راولپنڈی میں شدید احتجاجات برپا ہوئے۔جن پر پولیس نے وحشیانہ تشدد،گرفتاریاں،مقدمات بھی [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=313&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:right;">سوشلسٹ انقلاب تک ناقابل مصالحت جدوجہد</p>
<p>جدوجہد کا آغاز:<br />
بجلی کی طویل لودشیڈنگ کی وجہ سے پنجاب کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہورہے ہیں۔جس میں جلاؤ گھیراؤ کے ساتھ مختلف سڑکوں کو بھی احتجاجیوں نے بند کردیا.لاہور،فیصل آباد،گجرانوالہ،ملتان،اوکاڑہ ، اور راولپنڈی میں شدید احتجاجات برپا ہوئے۔جن پر پولیس نے وحشیانہ تشدد،گرفتاریاں،مقدمات بھی درج کیے،لیکن احتجاج کم ہونے کی بجائے <span id="more-313"></span>شدت اختیار کرتاجارہاہے۔<br />
حکمران طبقہ میں تقسیم:<br />
حکمران طبقہ اس وقت تقسیم ہے۔عوامی احتجاجات کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے،اس میں تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر دائیں بازو کی جماعتیں شامل ہوگئیں۔نواز لیگ نے بھی پنجاب کے ساتھ زیادتی کے نام پر احتجاج میں شمولیت کا اعلان کردیااور اپنے کارکنان کو اس میں شمولیت اور اس کو منظم کرنے کا کہا۔احتجاج کامرکز مرکزی پنجاب ہے۔دائیں بازو کی پارٹیوں کی اس تحریک میں شمولیت کی ایک وجہ کاروباری طبقے میں بے چینی اور احتجاج ہے ۔اس کے ساتھ وہ عوامی تحریک کے ذریعے موجودہ حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں،تاکہ وہ اقتدار میں آسکیں۔ان تمام جماعتوں کی طرف سے کرپشن کے خاتمے اور اداروں کے استحکام کا مطلب موجود نظام کا تحفظ اور عوام کا اس پر اعتماد بحال کرناہے۔<br />
سرمایہ داری کی ناکامی:<br />
سرمایہ داری نظام طبقاتی نظام ہے جس میں معیشت کے مرکزپردو بنیادی طبقات ہیں ایک طرف سرمایہ دار اور دوسری طرف محنت کش اس نظام میں تمام دولت محنت کش پیدا کرتے ہیں اور سرمایہ دار ان کی محنت کا استحصال کر کے’’ منافع ‘‘حاصل کرتے ہیں ۔یہ منڈی کا نظام ہے جہاں تعلیم،صحت،بجلی ،گیس پانی سمیت بنیادی ضروریات کی تمام چیزیں خریدنی پڑتی ہیں یہ ایسا نظام ہے جہاں محنت کش تمام تر پیداوار کرتے ہیں ۔لیکن وہی بنیادی ضروریات سے محروم رہتے ہیں یہ سرمایہ دار طبقے کا نظام ہے ،موجودہ حکومت اور ریاست اسی طبقے کی نمائندہ ہے ۔بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ سے جنم لینے والا احتجاج اس نظام کا پر عدم اعتماد ہے ۔جدوجہد میں وہ تمام لوگ آرہے ہیں جن کو یہ نظام محروم کرتا ہے اور جو اس میں اپنا مستقبل نہیں دیکھتے ۔مہنگائی،بیروزگاری،غربت،کراچی میں سیاسی جماعتوں کا قتل عام بلوچستان اور پختونخواہ میں آپریشن اور رجعت پسندی سیلاب کی تباہی اور اس سے حکمران طبقہ کا منافع اور دولت میں اضافہ عوام میں شدید نفرت اور غصے کو جنم دے رہا ہے یہ نظام مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے ۔<br />
حکمران طبقے کی جماعتیں:<br />
حکمران طبقہ موجودہ نظام کو بچانا چاہتا ہے کہ اس میں ان سب کا فائدہ ہے لیکن نوجوان محنت کش ،شہری اور دیہی غریب احتجاج میں آرہے ہیں یہ پولیس اور دیگر اداروں سے ٹکراؤ میں آرہے ہیں ۔حکمران طبقہ خوفزدہ ہے اور جبر اور اصلاحات کے زریعے تحریک کا خاتمہ یا اس پر کنٹرول چاہتا ہے۔جبکہ دائیں بازو کی رجعت پسند جماعتیں اس کو سماج میں رجعت کے ابھارکے لیے استعمال کرناچاہتی ہیں۔ ان تمام کا حل عوام کے لئے نہیں بلکہ سرمایہ دار اقلیت کے لئے ہیں۔<br />
تبدیلی کی جدوجہد:<br />
عوامی تحریک کو منظم اور وسیع کرنے کی ضرورت ہے ،عوام نے سڑکوں پر آکر جدوجہد اور لڑنے کی گہری خواہش کو ظاہر کیا ہے ۔موجود تحریک کو پرتشدد بنانے،جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کر نے والوں کو روکنا ہوگا۔مگرتحریک پر حکمران طبقہ کے حملوں کو روکنے کے لیے دفاعی کمٹیں بنانا ہوں گئیں۔عوام لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور سماجی انصاف چاہتے ہیں یعنی روزگار،تعلیم ،صحت،روٹی کپڑا،مکان اور صاف ماحول ، اس کے لئے سرمایہ داری نظام اور حکمران طبقے کے خلاف جدوجہد کی ضرورت ہے ۔مشرق وسطی میں جاری انقلاب نے ثابت کیا ہے کہ جدوجہد سے حکمران طبقے کو شکست دی جا سکتی ہے عوام متحد ہوں تو جیت سکتے ہیں ٹریڈ یونینز اور کسان تنظیموں اور ان کے ارکان کوانقلابی جدوجہد پر مبنی محنت کش عوام کی پارٹی تعمیر کرناہوگی جو نا صرف حکمران طبقے کے جبر کا مقابلہ کرے بلکہ اس کی اصلاح پسندی کو بھی واضح کرتے ہوئے سوشلسٹ سماج کے قیام تک جدوجہد جاری رکھے۔</p>
<p>مطالبات<br />
بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا فوری خاتمہ<br />
پاور کمپنیوں کی نجکاری نامنظور<br />
تیل،بجلی،اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نامنظور<br />
کے ای ایس ی ، پی ٹی سی ایل اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکے برطرف ملازمین کو بحال کیا جائے۔<br />
ملٹی نیشنل کمپنیز،رئیل اسٹیٹ،اسٹاک بروکر اور سرمایہ داروں پر ٹیکس عائد کئے جائیں ,تاکہ ریلوے،واپڈا،پی آئی اے کے بجٹ میں اضافہ کیا جاسکے ،اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر پبلک ورکس پروگرام شروع کیا جائے جس میں بے روزگاروں کو نوکریاں فراہم کی جائیں۔<br />
حکمرانوں،سول و ملٹری بیروکریٹس کی تنخواہوں اور مراعات میں کٹوتیاں کی جائیں ۔<br />
مفت،تعلیم ،صحت ،روزگار فراہم کیا جائے ۔<br />
سامراجی جنگ اور ریاستی آپریشنز بند کئے جائے ۔</p>
<p>انقلابی سوشلسٹ موومنٹ</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/rsmpakistan.wordpress.com/313/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/rsmpakistan.wordpress.com/313/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/rsmpakistan.wordpress.com/313/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/rsmpakistan.wordpress.com/313/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/rsmpakistan.wordpress.com/313/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/rsmpakistan.wordpress.com/313/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/rsmpakistan.wordpress.com/313/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/rsmpakistan.wordpress.com/313/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/rsmpakistan.wordpress.com/313/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/rsmpakistan.wordpress.com/313/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/rsmpakistan.wordpress.com/313/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/rsmpakistan.wordpress.com/313/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/rsmpakistan.wordpress.com/313/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/rsmpakistan.wordpress.com/313/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=313&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/09/30/revolt-againist-capitalis/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
	
		<media:content url="http://1.gravatar.com/avatar/9f818012272ad6527c9def84df9c248a?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">rsmpakistan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>ناروے میں قتل عام اور یورپ میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/massacreinnorway/</link>
		<comments>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/massacreinnorway/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Aug 2011 18:00:43 +0000</pubDate>
		<dc:creator>rsmpakistan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[Massacre in Norway: the threat of Islamophobia and violent]]></category>
		<category><![CDATA[right wing politics]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rsmpakistan.wordpress.com/?p=302</guid>
		<description><![CDATA[ا وسلو میں خوفناک قتل عام کے مجرم آندرے بیرنگ بریوک کے بارے میں یہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ اقدام اس نے اکیلے کیا ہے ۔اس کے وکیل نے یہ انکشاف کیا ہے وہ لیبر پارٹی اور اس کی یوتھ تنظیم سے نفرت کرتا ہے جسے وہ (غلط طور پر )مارکسسٹ سمجھتا ہے [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=302&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<div style="text-align:right;">ا وسلو میں خوفناک قتل عام کے مجرم آندرے بیرنگ بریوک کے بارے میں یہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ اقدام اس نے اکیلے کیا ہے ۔اس کے وکیل نے یہ انکشاف کیا ہے وہ لیبر پارٹی اور اس کی یوتھ تنظیم سے نفرت کرتا ہے جسے وہ (غلط طور پر )مارکسسٹ سمجھتا ہے ۔رپورٹس کے مطابق وہ عیسائی بنیاد پرست ہے جو ملٹی کلچر ازم،بائیں بازو اور مسلمانوں سے شدید نفرت کرتا ہے<br />
مختصر طور پر اس کی مزدور تحریک کے ساتھ نفرت کی وجہ طبقاتی ہے ۔لیکن قاتلانہ غیض و غضب کی وجہ یورپ پر <span id="more-302"></span>مسلم قبضے کا خوف تھا ۔اس کے خیال مطابق لیبر پارٹی اسلام کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہے ۔<br />
یہ کسی ایک دائیں بازو کے شخص یا EDLجیسی کافاشسٹ تنظیم کا پاگل پن نہیں (جن سے وہ رابطے میں تھا اور ان کا احترام کرتا تھا )۔حقیقت میں اسلامو فوبیا سامراج کی نسل پرستی کا تحفہ ہے ۔اس کو میڈیا کے ذریعے یورپ میں مسلسل فروغ دیا جارہا ہے ۔جسے دسیوں لاکھوں لوگ پڑھتے اور سنتے ہیں ۔<br />
دی میل،ایکسپریس،دی سن،سٹار سب باقاعدگی سے اس کی خبریں اور ادارئیہ شائع کرتے ہیں ۔جن مسلمانوں کی یورپ آمد کو عیسائی برداشت اور جمہوری روایات حملہ تصور کیا جاتاہے ۔ایک دہائی سے جاری پروپیگینڈے کا منطقی نتیجہ EDLاور اس کی کمپین ہیں کہ شدت پسند اسلام برطانیہ پر قبضہ کر سکتا ہے ۔<br />
یہ کوئی تعجب کہ اگر سرمایہ دارانہ میڈیا ۔ایسے غلط خیالات دسیوں لاکھوں کو پیش کرے تو چند ہزار لوگ ان کو صحیح مان کر سڑکوں پر آجائیں اور مسلمانوں کو دھمکیاں دیں یا (جن لوگوں کو وہ سمجھیں کہ وہ مسلمان ہیں ۔)نہ ہی اس میں کوئی حیرانی کی بات ہے کہ بیروک جیسے افراد یا چھوٹے گروپ ان حالات میں اندھادھند دہشت گردی کریں جیسا ناروے میں ہوا۔<br />
انجیلا مرکل جیسے عالمی رہنماء جب ملٹی کلچر ازم پر حملے کریں اور پوپ اصرار کرے کہ ترکی کو یورپی یونین میں نہ شامل کر کے عیسائی ورثہ کا دفاع کریں۔ یہ حالات مسلمان کے یورپ پر قبضے کے پاگل پن کے تصور کو مضبوط کرتے ہیں ۔اور ان کا منطقی نتیجہ نسل پرستی اور ناروے کا پاگل پن ہے۔<br />
لیکن دہشت گردی کے خلاف غصہ اور متاثرین سے ہمدردی ،حکمران طبقے کے سیاست دانوں کی منافقت ہے ۔لیبیا،افغانستان اور پاکستان میں ان کی مسلح فوج اتنی ہی وحشیانہ مگر تسلسل سے معصوم نوجوانوں،ماؤں اور بچوں پر حملے کرتے ہیں ۔ان کے جنگی جہاز اور ڈراؤن حملے کسی طرح ناروے میں ہونے والے واقعات سے کم دہشت ناک نہیں اور نہ ہی ان کے متاثرین کی تکالیف ان کے خاندانوں کا دکھ کسی طرح کم ہے ۔زیادہ سے زیادہ ان سے سنگدل ’’معافی ‘‘مانگی جاتی ہے ۔اگر وہ چھپا نہ پائیں کہ متاثرین ’’دہشت گرد‘‘نہیں عام لوگ ہیں ۔افغانستان میں امریکی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے سولین پر امریکہ معافی مانگنے سے مکمل انکار دیتا ہے ۔<br />
برطانیہ اور ناروے نیٹو فورسزکا حصہ، اور جوان حملوں میں براہ راست شامل ہیں یا اس کے لئے امداد فراہم کرتے ہیں۔یہ سامراجی کلچرل کا حصہ ہے کہ ہم یورپین تکالیفوں کو انفرادی اور انسانیت پر مصیبت کی شکل میں پیش کرتے ہیں ۔جب کہ مسلمانوں کے بارے میں ہمارا یہ رویہ نہیں ہے ۔اس کے ساتھ ہم یورپین سماج کی اقدار برداشت ،کھلے معاشرے اور انسانیت کی ہمدردی کی تعریف کرتے ہیں یہ یقینی طور پر بیمار رویہ ہے ۔حتی کے غزہ 1400لوگوں کے اسرائیل کے ہاتھوں وحشت ناک قتل عام کوہم راکٹوں میں11اسرائیلیوں کے مارے جانے سے برابرتصور کرتے ہیں ۔<br />
حملوں کو اس تناظر سے دیکھنے کا قطعی مطلب نہیں کہ ہم ناروے میں سرکاری ملازمین اور نوجوانوں پر ہونے والے حملوں اور اس کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔<br />
یہ قتل و غارت گری محنت کشوں اور انٹر نیشلسٹوں پر حملہ ہے ۔جیسا کہ اوٹایا میں نوجوان پر حملہ جو فلسطین سے یکجہتی کے حوالے سے بحث کر رہے تھے ۔لیکن جن اقدار پر حملہ ہوا ہے اور جن اقدار کا ہم لازمی دفاع کرتے ہیں ۔یقینی طور نیٹو حکومتیں یا ناروے اور برطانیہ کی لیبر پارٹیوں میں کچھ مشترک نہیں ،جو افغانستان اور دیگر ممالک میں وحشتناک حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔<br />
یہ عالمی یکجہتی کی اقدار ہیں ،مسلم کمیونییزکے ساتھ جو یورپ میں نسل پرستی کا سامنا کر رہی ہیں، مڈل ایسٹ کے ممالک جو تیل کی دولت کی وجہ سے سامراجی جارحیت کا شکار ہیں ،فلسطینیوں کے ساتھ جو صہونی ریاست اور اس کی پشت پر موجود امریکن اور یورپین سامراج کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کے واپس اپنے علاقوں میں بسنے کے حق میں، اس ساتھ مزدور تحریک اور جمہوری حق کا انتہا پسند دائیں بازو کے خلاف ،اس کے ساتھ میڈیا اور یورپ کی سیاسی جماعتوں میں نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کو بے نقاب کرنا ۔<br />
اس کے لیے ہمیں سٹیورڈز منظم کرنے ہونگے ،اپنی حفاظت،اپنا دفاع انتہا پسند دائیں بازو کے خلاف جو موجود بحرانی صورتحال میں غصے کے شکار مزید لوگوں کو اپنی تنظیم میں لاسکتا ہے ۔آج مزدور تحریک کو یورپ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کا سامنا ہے ،آج کے عہد کا Antisemitismجب سرمایہ داری بحران کا شکار ہے ،اس سے ہر قدم پر مقابلے کی ضرورت ہے ۔</div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/rsmpakistan.wordpress.com/302/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/rsmpakistan.wordpress.com/302/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/rsmpakistan.wordpress.com/302/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/rsmpakistan.wordpress.com/302/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/rsmpakistan.wordpress.com/302/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/rsmpakistan.wordpress.com/302/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/rsmpakistan.wordpress.com/302/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/rsmpakistan.wordpress.com/302/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/rsmpakistan.wordpress.com/302/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/rsmpakistan.wordpress.com/302/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/rsmpakistan.wordpress.com/302/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/rsmpakistan.wordpress.com/302/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/rsmpakistan.wordpress.com/302/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/rsmpakistan.wordpress.com/302/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=302&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/massacreinnorway/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
	
		<media:content url="http://1.gravatar.com/avatar/9f818012272ad6527c9def84df9c248a?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">rsmpakistan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>کے ای ایس سی کے محنت کشوں کی فتح</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/kescworkersstruggl/</link>
		<comments>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/kescworkersstruggl/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Aug 2011 17:51:05 +0000</pubDate>
		<dc:creator>rsmpakistan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[GREAT VICTORY FOR KESC WORKERS]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rsmpakistan.wordpress.com/?p=299</guid>
		<description><![CDATA[&#160; ) رپورٹ) کے ای ایس سی کی انتظامیہ نے اپریل کے مہینے میں 4500سے زائد محنت کشوں کو برطرف کردیا گیا۔جس کے خلاف سی بی اے اور دیگر یونینز نے ایک اتحاد تشکیل دے دیا اور اس فیصلے کے خلاف پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگا یا،ان کا مطالبہ تھاکہ محنت کشوں [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=299&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>&nbsp;</p>
<div style="text-align:right;">) رپورٹ) کے ای ایس سی کی انتظامیہ نے اپریل کے مہینے میں 4500سے زائد محنت کشوں کو برطرف کردیا گیا۔جس کے خلاف سی بی اے اور دیگر یونینز نے ایک اتحاد تشکیل دے دیا اور اس فیصلے کے خلاف پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگا یا،ان کا مطالبہ تھاکہ محنت کشوں کی برطرفی کو واپس لیا جائے۔ہر روز ہزاروں محنت کش جمع ہوتے اور جدوجہد کا علم بلند کرتے۔<br />
یہ جدوجہد 89روز تک مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔محنت کشوں کی حمایت میں شہر میں ایک روز ہڑتال بھی کی گی،مختلف مواقعوں پر ہزاروں افراد پر مشتمل ریلیاں بھی نکالی گئیں<span id="more-299"></span>۔اس کے علاوہ گورنر ہاوس کے باہر بھی دھرنا دیا گیا۔ایم کیوایم نے صرف مختلف علاقوں میں زبردستی کے ای ایس سی کے سنٹرز کھلوئے،بلکہ ہڑتالی محنت کشوں پر حملے بھی کئے۔<br />
آخر فیصلہ کن لمحہ تب آیا ،جب محنت کشوں نے کے ای ایس سی کے مرکزی دفاتر کا گھیراو کر لیا،جس کے بعد گورنر اور حکومت سندھ نے مداخلت کرتے ہوئے ،چند روز کا وقت مانگا لیا اور یوں26جولائی کو طویل مذاکرات کے بعد انتظامیہ نے محنت کشوں کو بحال کرنے اور ان کے تمام واجبات ادا کرنے کا اعلان کردیا۔<br />
یہ کے ای ایس سی کے محنت کشوں کی ہمت،جرات اور استقامت کے ساتھ تیں مہینے کی جدوجہد کا نتیجہ ہے،جو ان کی فتح کی صورت میں سامنے آیا۔یہ پاکستان کے محنت کشوں اور تبدیلی کی جدوجہد کرنے والوں کے لیے اہم فتح ہے۔ جو ان کو جدوجہد اور مزاحمت کا حوصلہ دیتی ہے</div>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/rsmpakistan.wordpress.com/299/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/rsmpakistan.wordpress.com/299/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/rsmpakistan.wordpress.com/299/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/rsmpakistan.wordpress.com/299/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/rsmpakistan.wordpress.com/299/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/rsmpakistan.wordpress.com/299/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/rsmpakistan.wordpress.com/299/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/rsmpakistan.wordpress.com/299/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/rsmpakistan.wordpress.com/299/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/rsmpakistan.wordpress.com/299/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/rsmpakistan.wordpress.com/299/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/rsmpakistan.wordpress.com/299/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/rsmpakistan.wordpress.com/299/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/rsmpakistan.wordpress.com/299/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=299&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/kescworkersstruggl/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
	
		<media:content url="http://1.gravatar.com/avatar/9f818012272ad6527c9def84df9c248a?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">rsmpakistan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>برطانیہ میں فسادات اور سرمایہ داری کا بحران</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/roitsinlondon/</link>
		<comments>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/roitsinlondon/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Aug 2011 17:45:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>rsmpakistan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[RAGE AGAINST CAPITALIST CRISIS IN LONDON]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rsmpakistan.wordpress.com/?p=296</guid>
		<description><![CDATA[تحریر:کامریڈ:رمضان 2011فسادات، جدوجہد اور انقلابات کا سال ہے اور اب کی بار یہ برطانیہ میں ہوا جہاں پچھلے ایک سال سے جدوجہد منظم ہو رہی تھی ۔وہاں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام مارک ڈگن کے مارے جانے کے بعد فسادات نے ٹوٹنہم میں جنم لیا۔ میڈیا میں دانشور،سیاست دان اور پولیس والے ان مظاہرین کو [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=296&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:right;">تحریر:کامریڈ:رمضان<br />
2011فسادات، جدوجہد اور انقلابات کا سال ہے اور اب کی بار یہ برطانیہ میں ہوا جہاں پچھلے ایک سال سے جدوجہد منظم ہو <span id="more-296"></span>رہی تھی ۔وہاں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام مارک ڈگن کے مارے جانے کے بعد فسادات نے ٹوٹنہم میں جنم لیا۔<br />
میڈیا میں دانشور،سیاست دان اور پولیس والے ان مظاہرین کو مجرم بتاتے رہے ہیں کیمرون نے ان سے سختی سے نمٹنے کا اعلان کیا حقیقت میں یہ عوامی ابھار نفرت کا اظہار ہے ،نسل پرست پولیس کی ہلاکتوں ،روزانہ کی بد سلوکیوں کے خلاف ،اس کے علاوہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بڑے پیمانے پر مراعات،اور مقامی سروسز میں کٹوتیوں کے خلاف،جن میں نوجوانوں کی سروسز کی بڑی تعداد شامل ہیں۔<br />
مارک ڈکن کا ٹوٹنہم پولیس کے ہاتھوں قتل اوراس کے خاندان اور پر امن مظاہرین کی طرف پولیس رویے نے چنگاری کو شعلے میں بدل دیا ۔Brixtonفسادات کی 30ویں سال لوگ بھولے نہیں کہ اس محروم ترین علاقے میں 80کی دہائی میں بڑی تحریک نے جنم لیا تھا ۔<br />
پولیس کی نسل پرستی کالے لوگوں کے خلاف ایک وجہ تھی مگر صرف یہی وجہ نہیں ہے مختلف رپورٹس کے مطابق سفید فام اور یہودیوں نے بھی مظاہروں کے دفاع کی حمایت کی، جب پولیس نے پر امن مظاہرے میں 16سال کی لڑکی پر حملہ کیا ۔اس رپورٹ کو سوموار کو بی بی سی کی کوریج میں شامل نہیں کیا گیا۔<br />
ٹوٹنہم کی لڑائی میں مظاہرین نے پولیس کو پیچھے دھکیل دیا اور کچھ وقت کے لئے غریب مقامی نوجوانو ں کو یہ مواقع فراہم کیاکہ وہ دکانوں پر حملہ کرسکیں اور چیزیں چرائیں ۔<br />
برطانیہ میں دس لاکھ سے زائد نو جوان بے روزگار ہیں جن میں 50فیصد سیاہ فام ہیں،یونیورسٹی کی تعلیم پہنچ سے باہر ،کالج بہت مہنگے ہو گئے ہیں ۔مراعات کا بڑے پیمانے پر خاتمہ ہوا ہے مقامی کونسلزنے تقریبا 75%یوتھ سروسز کا خاتمہ کر دیا ہے ۔ٹوٹنہم کی ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا ’’اس طرح یہاں ہم تبدیل ہوئے ہیں ،ابھار کے بعد ہمیں ایک نیا سوئمنگ پول ملا ہے ۔ایسا اس سے پہلے یہاں نہیں ہوا۔‘‘<br />
ہمارا نقطہ نظر بہت واضح ہے ۔ہم سو فیصد مظاہرین کے ساتھ اور پولیس کے مخالف ہیں اس ساری صورتحال کے پیچھے بنیادی وجہ سرمایہ داری نظام کا عالمی معاشی بحران ہے جس کے نتیجے میں سرمایہ دار محنت کشوں اور غریبوں پر بڑے پیمانے پر حملے کر رہا ہے ۔<br />
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نفرت اور غصے کو محنت کشوں کی تحریک کے ساتھ ایسے منظم کیا جائے کہ سرمایہ داری نظام کے استحصال ،غربت اور بھوک کا خاتمہ کر دیا جائے</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/rsmpakistan.wordpress.com/296/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/rsmpakistan.wordpress.com/296/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/rsmpakistan.wordpress.com/296/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/rsmpakistan.wordpress.com/296/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/rsmpakistan.wordpress.com/296/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/rsmpakistan.wordpress.com/296/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/rsmpakistan.wordpress.com/296/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/rsmpakistan.wordpress.com/296/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/rsmpakistan.wordpress.com/296/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/rsmpakistan.wordpress.com/296/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/rsmpakistan.wordpress.com/296/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/rsmpakistan.wordpress.com/296/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/rsmpakistan.wordpress.com/296/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/rsmpakistan.wordpress.com/296/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=296&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/roitsinlondon/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
	
		<media:content url="http://1.gravatar.com/avatar/9f818012272ad6527c9def84df9c248a?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">rsmpakistan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>پی ٹی سی ایل کے برطرف محنت کشوں کو بحال کرو</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/ptclworkersstruggle/</link>
		<comments>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/ptclworkersstruggle/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Aug 2011 17:37:38 +0000</pubDate>
		<dc:creator>rsmpakistan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[PTCL WORKER STRUGGLES AGAINST SACKING]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rsmpakistan.wordpress.com/?p=294</guid>
		<description><![CDATA[2005میں پی ٹی سی ایل کی پرائیویٹائزیشن کے وقت گورنمنٹ کے اعلی حکمرانوں کی ورکرز حقوق اور نوکریوں کے تحفظ کے لئے تحریری ضمانت دی گئی تھی اور ایتلاصات نے ورکرز کی تنخواہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔ایتصلات انتظامیہ یو اے ایUAEکا پی ٹی سی ایل کو خریدتے وقت ملازمین [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=294&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:right;">
2005میں پی ٹی سی ایل کی پرائیویٹائزیشن کے وقت گورنمنٹ کے اعلی حکمرانوں کی ورکرز حقوق اور نوکریوں کے تحفظ کے لئے تحریری ضمانت دی گئی تھی اور ایتلاصات نے ورکرز کی تنخواہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔ایتصلات انتظامیہ یو اے ایUAEکا پی ٹی سی ایل کو خریدتے وقت ملازمین کی شرائط ملازمت اور مراعات <span id="more-294"></span>کے حقوق کو کم نہ کرنے کے لئے گورنمنٹ آف پاکستان کے ساتھ تحریری معاہدہ ہوا ۔<br />
2006 میں ایتصلات نے پی ٹی سی ایل کا چارج لینے کے بعد گورنمنٹ کی مراعات سے جس سے چھوٹے ملازمین با مشکل روز مرہ زندگی گزارتے ہیں وہ بھی بند کردیں۔مجبورا2008میں گورنمنٹ کی طرف سے دی گئی مراعات کی بحالی کے لئے ورکرز کے احتجاج کے بعد ایتصلات انتظامیہ کا گورنمنٹ کی تمام مراعات بحال کرنے کا معاہدہ اور اعلان کیا گیا۔<br />
2009میں مہنگائی کے مطابق گورنمنٹ کا اعلان کردہ 15فیصد تنخواہوں میں اضافہ بڑھانے سے ایتصلات انتظامیہ نے انکار کر دیا ۔ورکرز نے پر امن احتجاج کیا ۔مگر ایتصلات انتظامیہ نے پولیس سے ساز باز کر کے سینکڑوں غریب ورکروں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے پھر ماہ رمضان میں مزدور رہنماؤں کو جیل بھجوادیا ۔اور تب 15فیصد تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا ۔2010.11میں گورنمنٹ نے 50فیصد موجودہ بنیادی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا ۔ایتصلات انتظامیہ پھر انکاری ہوگئی ۔ورکرز نے پر امن احتجاج کیا ۔ایتصلات انتظامیہ نے پولیس سے ساز باز کر کے سینکڑوں غریب ورکروں اور مزدور رہنماؤں کے خلاف جھوٹے دہشت گردی اور دیگر مقدمات کی بارش کردی ۔تھانوں کے اندر معصوم ورکرز پر بد ترین تشدد کیا گیا روزے اور عید جیلوں کے اندر گزری 19000ورکرز نے تنخواہوں کے بغیر عید گزاری ۔<br />
سینکڑوں ورکرز و نمائندے سیاسی و غیر قانونی بر طرف ۔ہزاروں ورکرز ایک سال سے جبری مشقت کے تحت آدھی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور:<br />
یہ ہے ملٹی نیشنل ایتصلات کی غنڈہ گردی اور مزدور دشمنی یہ ہے پرائیویٹازشن</p>
<p>پرائیویٹائزشن کے بد ترین پانچ سالہ لمحہ فکریہ 2006.2011ء<br />
66ہزار ملازمین کی تنخواہ کم ہو کر 25ہزار کر دی گئی اور 41ہزار ملازمین کو نوکریوں سے فارغ اور بر طرف کردیا گیا ۔<br />
29ارب روپے خالص منافع اب 9ارب روپے ظاہر کیا جارہا ہے اور باقی کرپشن کی نظر ۔ملک کو سالانہ 20ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔<br />
PTCLپرائیویٹائزشن چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بقول ایشیاء کا سب سے بڑا مالی اسکینڈل ہے۔<br />
وزیر پرائیویٹائزشن کمیشن کے مطابق پی ٹی سی ایل پرائیوٹئزشن میں بڑے گھپلے اور ملکی مفاد کے خلاف ہے ۔<br />
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے مطابق پرائیویٹائزشن غیر قانونی اور اس سے قوم کو 84ارب روپے کا نقصان ہوا ہے ۔</p>
<p>کھربوں روپے کا پی ٹی سی ایل ایتصلات کے فورا حوالے کردیا گیا اور وہ بھی صرف 26فیصد کی ادائیگی پر اور 5سال کی آسان اقساط میں۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/rsmpakistan.wordpress.com/294/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/rsmpakistan.wordpress.com/294/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/rsmpakistan.wordpress.com/294/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/rsmpakistan.wordpress.com/294/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/rsmpakistan.wordpress.com/294/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/rsmpakistan.wordpress.com/294/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/rsmpakistan.wordpress.com/294/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/rsmpakistan.wordpress.com/294/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/rsmpakistan.wordpress.com/294/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/rsmpakistan.wordpress.com/294/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/rsmpakistan.wordpress.com/294/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/rsmpakistan.wordpress.com/294/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/rsmpakistan.wordpress.com/294/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/rsmpakistan.wordpress.com/294/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=294&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/08/16/ptclworkersstruggle/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
	
		<media:content url="http://1.gravatar.com/avatar/9f818012272ad6527c9def84df9c248a?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">rsmpakistan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>کراچی میں محنت کشوں کا قتلِ عام</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/07/23/karachikillings/</link>
		<comments>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/07/23/karachikillings/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 23 Jul 2011 17:20:11 +0000</pubDate>
		<dc:creator>rsmpakistan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[MASSACRES IN KARACHI]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rsmpakistan.wordpress.com/?p=287</guid>
		<description><![CDATA[کراچی میں 5جولائی سے جاری قتلِ عام میں300سے زائد افراد ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہوئے،اس کے ساتھ بیشمار بسوں اور دکانوں کو نذر آتش کیا گیا اور حد تو یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں مکانوں پر فائرنگ ،راکٹوں اور بمبوں سے حملے کیے گے ،جس نے خوف اور نفرت کی فضاء میں [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=287&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کراچی میں 5جولائی سے جاری قتلِ عام میں300سے زائد افراد ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہوئے،اس کے ساتھ بیشمار بسوں اور دکانوں کو نذر آتش کیا گیا اور حد تو یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں مکانوں پر فائرنگ ،راکٹوں اور بمبوں سے حملے کیے گے ،جس نے خوف اور نفرت کی فضاء میں شدت سے اضافہ کردیا۔فوج اور رینجرز کی تعیناتی اور عشرت العباد کی <span id="more-287"></span>گورنر کی ’’نوکری‘‘میں واپسی کے باوجود تصادم کی فضاء برقرار ہے۔<br />
حکومت سے علیحدگی کے بعد کراچی کے حالات کے خراب ہونے کے خدشات موجود تھے،بظاہر تو علیحدگی کی وجہ کشمیر کے الیکشن بنے،لیکن حقیقت میں اس کی وجہ سندھ میں کمشنری نظام کی بحالی ہے، جس سے سابق حیدرآباد اور کراچی کے پانچ اضلاع کی بحالی سے ایم کیو ایم کی قوت شدید متاثر ہوگی۔پرویز مشرف کی آمریت میں کمشنری نظام، کراچی اور حیدرآبادکے اضلاع کے خاتمے سے ایم کیو ایم کی طاقت میں بڑا اضافہ ہوا تھا۔<br />
پچھلے عرصے میں کراچی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی آئی اور مہاجر آبادی کا 42فیصد رہ گے ۔ان حالات میں اضلاع کی بحالی اور کمشنری نظام کی واپسی پر ایم کیو ایم کی قیادت شدید غصے میں ہے ۔<br />
اس لئے ایم کیو ایم نے ایک بار پھر قتل عام شروع کردیا،تاکہ قوت کا مظاہرہ کیا جاسکے۔اس بار بھی پختون ہی اس غارت گری کانشانہ بنے۔<br />
لیکن اس کے ساتھ طالبان کا شور مچا کر بدامنی کا سارا الزام پختونوں پر لگا دیا حالانکہ مختلف رپورٹوں کے مطابق اس قتل عام میں پختون ہی بڑی تعداد میں مارے گئے لیکن مہاجر اور دیگر قومیتوں کے افراد بھی اس ساری غارت گری کا نشانہ بنے ۔<br />
ایم کیو ایم پچھلی دو دہائیوں سے زائد عرصے سے کراچی کو کنڑول کر رہی ہے 90کی دہائی میں یہ ریاست سے تضاد میں بھی آئی جس کے نتیجے میں اس کو فوجی آپریشنوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔لیکن 10,12سالوں میں ایم کیو ایم سامراج اور ریاست سے مکمل طور پر وابستہ رہی اور یوں نہ صرف سامراجی جنگ کی حامی بن کر ابھری اور جاگیرداری کی مخالفت کرتے ہوئے ،سرمائے کی نمائندہ بن کر ابھری<br />
KESCکی موجودہ ہڑتال کے دوران محنت کشوں پر حملے اور زبردستی kescکے سنٹرز کو ہتھیار کے زور پر کھلونا یہ واضح کر رہا ہے ۔<br />
یوں ایم کیو ایم کا فاسٹ کردار کھل کر سامنے آگیا کراچی میں ایم کیو ایم کی مسلح دستوں کی موجودگی کو اس لئے بھی برداشت کیا جاتا ہے۔تاکہ کراچی قومیت کی بنیاد پر تقسیم رہے اور محنت کشوں پر جڑت نہ بن پائے اور اگر کوئی بڑی تحریک پیدا ہو جائے تو ایم کیو ایم سرمایہ داری کے مفاد میں اسے جبر اور قومیت کی بنیاد پر توڑ دے ۔<br />
لیکن پچھلے کچھ عرسے میں ایم کیو ایم ہی صرف واحد قوت نہیں رہ گئی بلکہ پختون تاجر ٹرانسپورٹ،ٹھیکیدار اور لینڈسے وابستہ پرت ای این پی میں منظم ہوئی ہے جو پختون محنت کشوں کی جدوجہد،قومیت اور ایم کیو ایم کے جبر کے خلاف اپنے ساتھ ملاتی ہوئی اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے پچھلے الیکشن میں اے این پی کی طرف سے سندہ اسمبلی میں دو نشستیں جیتنا اس کا ایک بڑا اظہار ہے یوں یہ جہاں ایک طرف ایم کیو ایم کی طرف سے یہ قتل عام جہاں کراچی میں اپنے آپ کو واحد قوت کے طور پر ظاہر کرنے کی کوشش ہے وہاں ای این پی کا رد عمل بالائی<br />
ڈاھانچے میں مزید قوت و اختیار کا مطالبہ ہے جو ان کی معاشی مفادات کے لئے ضروری ہے یوں ایم کیو ایم اور اے این پی دونوں ہی محنت کشوں کی تحریکوں کو توڑنے یا پیچھے دھکیلنے کا باعث بنتے ہیں ۔<br />
ان حالات میں انقلابی سوشلسٹوں کومحنت کشوں کی قومیت کی بنیاد پر تقسیم اور قتل عام کی طبقاتی بنیادوں کوواضح کرنا پڑے گا۔اس کے ساتھ ہمیں فاشسٹ حملوں کے خلاف دفاعی کمیٹوں کے قیام کے مظالبے کو بھی اٹھانے کی ضرورت ہے۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/rsmpakistan.wordpress.com/287/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/rsmpakistan.wordpress.com/287/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/rsmpakistan.wordpress.com/287/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/rsmpakistan.wordpress.com/287/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/rsmpakistan.wordpress.com/287/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/rsmpakistan.wordpress.com/287/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/rsmpakistan.wordpress.com/287/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/rsmpakistan.wordpress.com/287/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/rsmpakistan.wordpress.com/287/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/rsmpakistan.wordpress.com/287/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/rsmpakistan.wordpress.com/287/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/rsmpakistan.wordpress.com/287/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/rsmpakistan.wordpress.com/287/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/rsmpakistan.wordpress.com/287/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=287&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/07/23/karachikillings/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
	
		<media:content url="http://1.gravatar.com/avatar/9f818012272ad6527c9def84df9c248a?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">rsmpakistan</media:title>
		</media:content>
	</item>
		<item>
		<title>نظریہ مسلسل انقلاب کیا ہے؟</title>
		<link>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/07/13/permanent-revolution/</link>
		<comments>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/07/13/permanent-revolution/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 13 Jul 2011 08:24:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>rsmpakistan</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>
		<category><![CDATA[WHAT IS PERMANENT REVOLUTION? BASIC POSTULATES]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rsmpakistan.wordpress.com/?p=283</guid>
		<description><![CDATA[تحریر:لیون ٹراٹسکی مجھے امید ہے کہ قاری اس بات پر اعتراض نہیں کرے گا۔اگر میں اس کتاب کا اختتام اپنے وضع کردہ جامع اور اصولی نتائج پر کرنے کی کوشش کروں ،اس خوف کے بغیر کہ کچھ باتیں دوبارہ دہرائیں جائیں۔ 1.نظریہ مسلسل انقلاب ہر مارکسسٹ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسے بہت زیادہ [...]<img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=283&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align:right;">
تحریر:لیون ٹراٹسکی<br />
مجھے امید ہے کہ قاری اس بات پر اعتراض نہیں کرے گا۔اگر میں اس کتاب کا اختتام اپنے وضع کردہ جامع اور اصولی نتائج پر کرنے کی کوشش کروں ،اس خوف کے بغیر کہ کچھ باتیں دوبارہ دہرائیں جائیں۔<br />
1.نظریہ مسلسل انقلاب ہر مارکسسٹ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسے بہت زیادہ توجہ دی جائے ۔،طبقاتی اور نظریاتی جدوجہد کے سفر میں مکمل اور حتمی طور پر اس سوال کو روسی مارکسسٹوں کے درمیان پرانے اختلاف رائے تذکرے کی حدود سے اوپر اٹھادے ،اور اسے عالمی انقلاب کے عمومی طریقہ کار،کردار اور داخلی رشتوں کے سوال میں بدل دے ۔<br />
2.ایسے ممالک کے حوالے سے جہاں سرمایہ دارانہ ترقی تاخیر سے ہوئی ،خاص طور پر نو آبادیاتی اور نیم نو آبادیاتی ممالک ،نظریہ مسلسل انقلاب واضح کرتا ہے کہ قومی نجات اور <span id="more-283"></span><a href="http://rsmpakistan.files.wordpress.com/2011/07/trotsky.jpg"><img class="alignleft size-thumbnail wp-image-284" title="trotsky" src="http://rsmpakistan.files.wordpress.com/2011/07/trotsky.jpg?w=150&#038;h=140" alt="" width="150" height="140" /></a>جمہوریت کے فرائض کا حل صرف مزدور آمریت کے زریعے ہی ممکن ہے جو کہ مغلوب قوم کی قیادت کرے گی ،سب سے بڑھ کر کسان عوام کی ۔<br />
3.نہ صرف زرعی بلکہ قومی سوال بھی کسانوں کو ،جو کہ پسماندہ ممالک میں آبادی کی واضح اکثریت ہیں ۔جمہوری انقلاب میں ایک بے مثال مقام عطا کرتا ہے ۔کسانوں کے مزدوروں کے ساتھ اتحاد کے بغیر نہ تو جمہوری انقلاب کے فرائض ادا ہو سکتے ہیں اور نہ ہی سنجیدگی سے پیش ہو سکتے ہیں ۔مگر ان دو کا اتحاد اسی صورت میں مکمل ہوسکتا ہے جب یہ قومی لبرل سرمایہ داروں کے اثرو رسوخ کے خلاف ناقابل مصالحت جدوجہد کازریعے ہو۔<br />
4.اس سے قطع نظر کے ہر انفرادی ملک میں انقلاب کے مراحل کس ترتیب سے وقوع پذیر ہوں گے ،اور کسانوں کے درمیان انقلابی اتحاد صرف مزدور ہراول کی سیاسی قیادت میں ممکن ہوگا ،جو کہ کمیونسٹ پارٹی میں ممکن ہو گا ۔اس کا مطلب ہے کہ جمہوری انقلاب کی فتح صرف مزدور آمریت کے زریعے ممکن ہوگی جو کہ کسانوں کے ساتھ اتحاد پر انحصار کرے گا اور جمہوری انقلاب کے تمام فرائض کو سب سے پہلے ادا کرے گا۔<br />
5.تاریخی جائزے میں بالشوازم کا مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت کا پرانا نعرہ ،محض لبرل سرمایہ داروں ،کسانوں اور مزدوروں کے اوپر بیان کئے گئے تعلقات کے خواص کو بیان کرتا ہے اکتوبر کے تجربے نے اس کی توثیق کر دی لیکن لینن کا پرانا فارمولہ پہلے سے انقلابی اکٹھ میں مزدوروں اور کسانوں کے باہمی تعلقات کے مسئلے کو حل نہیں کر سکا۔<br />
دوسرے لفظوں مین یہ کلیہ جان بوجھ کر ایک مخصوص الجبراتی خصوصیت رکھتا تھا ،جس نے تاریخی تجربے کے عمل میں زیادہ ریاضیاتی مقداروں کے لئے راستہ ہموار کرنا تھا ۔البتہ،آخرالذکر نے یہ دکھایا کہ کسی بھی حالت میں اس کی غلط تشریح خارج از امکان ہے ،اس سے قطع نظر کے کسان کتنا بڑا انقلابی کردار ادا کریں مگر یہ آزادانہ کردار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی قائدانہ ،کسان یا تو مزدوروں کی پیروی کریں گے یا پھر سرمایہ داروں کی ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت صرف مزدور آمریت کے طور پر ممکن ہے جس میں وہ کسان عوام کو اپنے پیچھے جمع کریں اور ان کی قیادت کریں ۔<br />
6.مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت ،ایک حکومت کے طور پر مزدور آمریت سے اپنے طبقاتی مواد کے حوالے سے مختلف ہے اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے ۔جہاں آزادانہ انقلابی پارٹی قائم ہو جو کسانوں کے مفادات کو بیان کرے اور عمومی طور پر درمیانے طبقے کی جمہوریت کے مفادات کا بھی اظہار کرے ۔ایک پارٹی جو مزدوروں کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ،اور جو اپنے انقلابی پروگرام پر مستقل مزاجی سے قائم ہو ۔جیسا کہ جدید تاریخ تصدیق کرتی ہے ۔خاص طور پر پچھلے 25سالوں کا روسی تجربہ ۔کسانوں کی پارٹی کی تخلیق کے راستے میں ناقابل تسخیر رکاوٹ درمیانے طبقے کی معاشی اور سیاسی آزادی کی کمی اور اس کی گہری داخلی تفریق ہے ۔اس وجہ سے کسانوں کے درمیانے طبقے کے بالائی حصے ،فیصلہ کن مواقعوں پر بڑے سرمایہ داروں کا ساتھ دیتے ہیں ۔،خاص طور پر جنگ اور انقلاب میں :نچلے حصے مزدوروں کا ساتھ دیتے ہیں ،درمیانے حصے کو مجبورا دو انتہائی متحارب گروہوں میں سے ایک کا چناؤ کرنا پڑتا ہے ۔بالشویک اقتدار اور کیرانسکی ازم کے درمیان،مزدور آمریت اور کو منتانگ کے درمیان،ان کے درمیان کوئی درمیانہ مرحلہ نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے یہ مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت نہیں ۔<br />
7.مزدور طبقے کی آمریت جو کہ جمہوری مشرقی ممالک پر مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت کے نعرے کو تھونپنے کی کمنٹرن کی شدید خواہش ،تاریخ نے حتمی طور پر طویل عرصہ پہلے ختم کر دی،اور اس کا رجعتی اثر ہو سکتا ہے ۔جب بھی اس نعرے کو مزدور آمریت کے نعرے کے مقابلے میں پیش کیا گیا ،اس نے مزدور طبقے کو سیاسی طور پر درمیانے طبقے میں تحلیل کر دیا اور اس کے نتیجے قومی سرمایہ داری کی بالا دستی کے لئے سازگار حالات پیدا ہوئے اور اس کا نتیجہ جمہوری انقلاب کی تباہی کی صورت میں نکلا ۔کمنٹرن کے پروگرام میں اس نعرہ کا شامل کیا جانا برائے راست مارکسزم اور بالشوازم کی اکتوبر روایت سے غداری ہے ۔<br />
8. مزدور طبقے کی آمریت جو کہ جمہوری انقلاب کے قائد کے طور پر اقتدار میں آیا۔بہت جلد اور ناگزیر طور پر ان فرائض سے نبرد آزما ہوتا ہے جو کہ سرمایہ دارانہ ملکیت کے حقوق کے ساتھ گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں ۔جمہوری انقلاب برائے راست بڑھ کر سوشلسٹ انقلاب میں داخل ہو جاتا ہے اور اس طرح مسلسل انقلاب بن جاتا ہے ۔<br />
9.مزدوروں کا اقتدار پر قابض ہونا انقلاب کو مکمل نہیں کرتا بلکہ اس کے راستے کھولتا ہے ۔سوشلسٹ تعمیر صرف طبقاتی جدوجہد کی بنیادوں پر قومی اور عالمی سطح پر ممکن ہے ۔عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ تعلقات کے وسیع غلبے کے حالات میں یہ جدوجہد ،ناگزیر طور پر دھماکوں کو جنم دے گی ۔اسی سوشلسٹ انقلاب کا مسلسل کردار پنہوں ہے اس سے قطع نظر کہ ایسا ایک پسماندہ ملک میں ہو رہا ہے جہاں ابھی کل ہی جمہوری انقلاب تکمیل تک پہنچا ہے یا ایک پرانا سرمایہ دار ملک ہے جس کے پیچھے پہلے ہی سے جمہوریت اور پارلیمانیت کا ایک لمبا عہد ہے ۔<br />
10.قومی حدود میں سوشلسٹ انقلاب کی تکمیل نا قابل تصور ہے ۔سرمایہ دارانہ سماج میں بحران کی بنیادی وجوہوت میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ وہ کہ وہ پیداواری قوتیں جن کو اس نے تخلیق کیا ۔اب قومی ریاست کے ڈھانچے کے ساتھ مصلحت کے لئے تیار نہیں ۔اسی سے ایک طرف تو سامراجی جنگیں اور دوسری طرف سرمایہ داروں کے ا داروں کا ریاست متحدہ ہائے یورپ کا خیال پھوٹتا ہے ۔سوشلسٹ انقلاب کا آغاز قومی سطح سے ہوتا ہے یہ بین الاقوامی سطح پر پھیلتا ہے اور عالمی سطح پر مکمل ہوتا ہے ۔اس طرح سوشلسٹ انقلاب اپنے نئے اور وسیع تر لفظی معنوں میں مسلسل انقلاب بن جاتا ہے،یہ مکمل ہوتا ہے کرۂ ارض پر نئے سماج کی مکمل فتح سے۔<br />
11.عالمی انقلاب کی نشونما کے اوپر دئیے گئے خاکے سے اس سوال کا خاتمہ ہو جاتا ہے کہ کون سے ملک سوشلزم کے لئے تیار ہیں اور کون سے نہیں ؟علمیت کی شیخی بھگارنے پر مبنی کمنٹرن کے موجودہ بے جان پروگرام کی یہی روح ہے جب کہ سرمایہ داری نے ایک عالمی منڈی ،عالمی تقسیم محنت اور عالمی پیداواری قوتوں کو تخلیق کیا ہے ،اس نے عالمی معیشت کو بھی بحثیت مجموعی سوشلسٹ تبدیلی کے لئے تیار کای ہے ۔مختلف ممالک اس عمل سے مختلف رفتار سے گزریں گے ۔پسماندہ ممالک مخصوص حالات میں مزدور آمریت کو ترقی یافتہ ممالک سے پہلے حاصل کر سکتے ہیں لیکن وہ سوشلزم کو ترقی یافتہ ممالک کی نسبت تاخیر سے حاصل کر پائیں گے ۔ایک پسماندہ نو آبادیاتی یا نیم نو آبادیاتی ملک کا محنت کش طبقہ اگر کسانوں کو متحد نہ کر سکے اور اقتدار کے حصول کے لئے بہت زیادہ تیار نہ ہو تو اس صورت میں اس کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہوگی کہ وہ جمہوری انقلاب کو اس کے منطقی انجام کو پہنچا سکے ۔اس کے برعکس ایک ایسا ملک جہاں اقتدار جمہوری انقلاب کے نتیجے میں مزدوروں کے ہاتھ میں ہو تو سوشلزم اور آمریت کی قسمت کا فیصلہ آخری تجزئے میں صرف قومی پیداواری قوتوں پر نہیں بلکہ عالمی سوشلسٹ انقلاب کی نشونما پر بھی ہو گا ۔<br />
12.ایک ملک میں سوشلزم کا نظریہ ،جو کہ اکتوبر انقلاب کے خلاف رجعت کے خمیر سے اٹھا ہے ۔نظریہ مسلسل انقلاب کے آخری حد تک مسلسل مخالفت کرنے والا صرف یہی نظریہ ہے :<br />
ہماری تنقید کے چابق کی وجہ سے ،رکھوالے یہ کوشش کرتے ہیں کہ ایک ملک میں سوشلزم کے نظرئیے کا اطلاق صرف خصوصی طور پر روس تک محدود رکھا جائے ،کیونکہ اس کے مخصوص خواص ہیں (اس کی وسعت اور اس کے قدرتی وسائل)،اس سے معاملہ بہتر نہیں ہوتا بلکہ بگڑتا ہے ۔بین الاقوامیت کے مؤقف سے ناطہ توڑنا ہمیشہ قومی (Messianism)کی طرف لے جاتا ہے یہ اپنے ملک کے حوالے سے خاص کمالات،اچھائیاں اور فضیلتوں کو منسوب کرتا ہے جو کہ مبینہ طور پر ایسا کردار ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے جو کہ دوسرے ملک ادا نہیں کر سکتے ۔<br />
محنت کی عالمی تقسیم سوویت،صنعت کا غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار ،یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کی پیداواری قوتوں کی خام مال پر انحصار وغیرہ وغیرہ دنیا کے کسی ایک ملک میں آزادانہ سوشلسٹ معاشرے کی تعمیر کا ناممکن بنا دیتا ہے ۔<br />
13.سٹالن اور بخارن کا نظریہ روسی انقلاب کے تجربے کے مکمل طور پر خلاف ہے ،نا صرف جمہوری انقلاب کو میکانکی طور پر سوشلسٹ انقلاب سے الگ کرتا ہے ۔مگر اس کے علاوہ قومی انقلاب اور بین الاقوامی انقلاب میں بھی رخنہ ڈالتا ہے ۔<br />
یہ نظریہ پسماندہ ممالک کے انقلابات پر ناقابل حصول جمہوری آمریت کی حکومت قائم کرنے کا فریضہ بھی تھوپنا ہے ،جو کہ مزدور آمریت کی ضد ہے اس طرح یہ نظریہ سیاست میں خوش فہمیاں اور خیال پرستی کو متعارف کرتا ہے مشرق میں مزدور طبقے کی اقتدار کے حصول کی جدوجہد کو مفلوج کرتا ہے،اور نوآبادیاتی انقلاب کی فتح کو روکتا ہے۔<br />
’’رکھوالوں ‘‘کے نظریہ کے نقطہ نظر سے مزدوروں کا اقتدار پر قابض ہونا انقلاب کی تکمیل کر دیتا ہے(سٹالن کے کلیہ کے مطابق،دس میں سے نو حصے کی حد تک) اور قومی اصلاحات کے عہد کا آغاز کردیتا ہے۔کولاک(بڑا زمیندار) کا سوشلزم میں داخل ہونے کا نظریہ اور عالمی سرمایہ داروں کی غیرجانبداری کا نظریہ، بنیادی طور ایک ملک میں سوشلزم کے نظریہ سے کسی طور پرالگ نہیں،وہ اکھٹے کھڑے یا گرے ہیں۔<br />
قومی سوشلزم کے نظریہ کی وجہ سے، کیمونسٹ انٹرنیشنل گر کرفوجی مداخلت کے خلاف جدوجہد کا مفید امدادی ہتھیار بن کر رہ گی ہے۔کمنٹرن کی موجودہ پالیسی، اس کا طرز حکومت اور اس کے نمایاں افراد کا انتخاب اس بات کا مکمل اظہار کرتا ہے کہ کیمونسٹ انٹرنیشنل کو تنزلی کے ذریعے ایک ایسے امدادی یونٹ کا کردار دے دیا گیا کہ جس میں وہ آزدانہ فرائض ادا نہیں کرسکتی۔<br />
14۔بخارن کا تخلیق کردہ کمنٹرن کا پروگرام مکمل طور پر انتخابیت ہے۔یہ ایک ملک میں سوشلزم کے نظریے کو بین الاقوامیت سے جوڑنے کی مایوس کن کوشش ہے،حالانکہ اس کو عالمی انقلاب کے مسلسل کردارسے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کیمونسٹ حزب اختلاف کمنٹرن میں درست پالیسی اور ایک صحت مند قیادت کے لیے جدوجہد مکمل طور پر مارکسٹ پروگرام کیلئے جدوجہد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔پروگرام کاسوال دو باہمی طوپر الگ نظر آنے والے دو نظریوں کے سوال سے جد ا نہیں ہے۔<br />
جو کہ نظریہ مسلسل انقلاب ، اور ایک ملک میں سوشلزم کا نظریہ ہے۔مسلسل انقلاب کے مسئلے نے بہت پہلے لینن اور ٹراٹسکی کے دمیان موجودہ اختلاف رائے کو ختم کردیا تھا،جبکہ تاریخ نے ان کو مکمل طور مٹادیا۔اصل جدوجہد مارکس اور لینن کے نظریات جو کہ ایک طرف ہے اور سنٹرسٹوں کے منتخب کردہ مختلف نظریات کے درمیان ہے جو کہ دوسری طرف ہے۔</p>
<br />  <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gocomments/rsmpakistan.wordpress.com/283/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/comments/rsmpakistan.wordpress.com/283/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godelicious/rsmpakistan.wordpress.com/283/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/delicious/rsmpakistan.wordpress.com/283/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gofacebook/rsmpakistan.wordpress.com/283/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/facebook/rsmpakistan.wordpress.com/283/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gotwitter/rsmpakistan.wordpress.com/283/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/twitter/rsmpakistan.wordpress.com/283/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/gostumble/rsmpakistan.wordpress.com/283/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/stumble/rsmpakistan.wordpress.com/283/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/godigg/rsmpakistan.wordpress.com/283/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/digg/rsmpakistan.wordpress.com/283/" /></a> <a rel="nofollow" href="http://feeds.wordpress.com/1.0/goreddit/rsmpakistan.wordpress.com/283/"><img alt="" border="0" src="http://feeds.wordpress.com/1.0/reddit/rsmpakistan.wordpress.com/283/" /></a> <img alt="" border="0" src="http://stats.wordpress.com/b.gif?host=rsmpakistan.wordpress.com&amp;blog=13928318&amp;post=283&amp;subd=rsmpakistan&amp;ref=&amp;feed=1" width="1" height="1" />]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rsmpakistan.wordpress.com/2011/07/13/permanent-revolution/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
	
		<media:content url="http://1.gravatar.com/avatar/9f818012272ad6527c9def84df9c248a?s=96&#38;d=identicon&#38;r=G" medium="image">
			<media:title type="html">rsmpakistan</media:title>
		</media:content>

		<media:content url="http://rsmpakistan.files.wordpress.com/2011/07/trotsky.jpg?w=150" medium="image">
			<media:title type="html">trotsky</media:title>
		</media:content>
	</item>
	</channel>
</rss>
