مارکسزم بنیادی طور پر ایک سائنس ہے ۔جس میں سماجیات کو تاریخی مادیت اور جدلیت کے تناظر میں سمجھنے اور اس کو بدلنے کی صلاحیت مو جود ہے ۔دوسری طرف ادب کا تعلق بنیادی طور پر جذبات و محسوسات اور حسیات سے ہے ۔جو سوچ اور احساس کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور محسوس کرنے کی حس کو جلا بخشتا ہے ۔اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو مارکسزم اور ادب کا تعلق ایک انتہائی سطحی اور پست نوعیت کا ہوتا ہے بلکہ اگر زیادہ واضح انداز میں بات کی جائے تو مارکسزم جیسی سائنس کا ادب جیسے ایک جذباتی اور حسیاتی موضوع سے کوئی سروکار ہی نظر نہیں آتا ۔یہی وجہ ہے کہ کہی مارکسٹ تنقید نگار ایک ہی جملے میں گزشتہ دس ہزار سالوں سے بھی زائد عرصے میں تخلیق کئے جانے والے ادب کو ’’جمالیاتی‘‘’’جذباتی‘‘اور’’ غیر منطقی‘‘کہہ کر سرے سے ہی رد کر دیتے ہیں ۔
June 8, 2010
ادب اور مارکس ازم
read more »