مارکس ازم اور ریاست

اس وقت ریاست کا سوال نظریے اور عملی سیاست میں خاص اہمیت حاصل کر رہا ہے ۔سامراجی جنگ اور ریاستی جبر اس کے خلاف جدوجہد پیدا کر رہا ہے ۔لیکن اسٹالن ازم اور اصلاح پسندی کے اثر کی وجہ سے یہ غلط تصور پیدا ہو گیا ہے کہ مارکسٹ ریاست کے حامی ہوتے ہیں اور ریاست کی مخالفت کے نظریات انار کزم سے وابستہ ہیں ۔لحاظہ ریاست کے بغیر معاشرے کے تصور کو انار کزم سے جوڑا جاتا ہے ۔اور مارکسزم کو ریاستی ملکیت میں معیشت اور یوں ریاست کو مظبوط بنانے والے نظریے کے طور پر جانا جاتا ہے یعنی آج چین ،شمالی کوریا،اور کیوبا میں رائج ہے یا جو سوویت یونین میں نافذ تھا ۔
سیکنڈ انٹرنیشنل اور اصلاح پسندی:
مارکس اور اینگلز کی وفات کے بعد سیکنڈ انٹرنیشنل میں اصلاح پسندی کے تحت یہ خیال فروغ پاگیا کہ مارکسزم ریاست کا حامی نظریہ ہے اور سوشلزم موجود ریاستی ڈھانچے میں ممکن ہے ۔سوشل ڈیموکریٹس کی اکثریت کا خیال تھا کہ پارلیمان میں اکثریت حاصل کر کے ہی سوشلزم لایا جا سکتا ہے یعنی انقلاب کے بجائے ارتقائی عمل سے اصلاحات کے زریعے پیداوار سماجی بن جائے گی ۔حقیقت میں مارکسزم کا ایسے خیالات سے کوئی تعلق نہیں تھا اور یہ اصلاح پسندی کے نظریات تھے ۔جن کو غلط طور پر مارکسزم سے وابستہ کر دیا گیا ۔ایسے نظریات سرمایہ داری نظام کے خاتمے کے بجائے اس سے مطابقت کے نظریات ہیں۔مارکسزم کے تصور ریاست کو لینن نے اپنی کتاب ریاست اور انقلاب میں تفصیل سے بیان کیاہے کہ مزدور طبقہ ریاست کو معاشرہ بدلنے کے لئے استعمال نہیں کر سکتا اور موجود ریاست کا خاتمہ کر کے ہی پرولتاری ریاست قائم کر سکتا ہے ۔جو اپنے آغاز میں ہی نیم ریاست ہو گی جب لینن نے یہ کہا تو اس کے اپنے ساتھیوں نے اس پر انار کسٹ ہونے کا الزام عائد کردیا ۔
اسٹالن ازم کا ابھار:
اکتوبر انقلاب کے بعد جب عالمی سطح پر محنت کش طبقے کو شکستیں ہوئیں اور انقلاب ایک ملک میں مقید ہوگیا اور سامراجی طاقتوں کے ساتھ مقابلے میں آگیا اور یوں عالمی سطح پر انقلاب کی ناکامی سے اسٹالن ازم سامنے آیا اس نے ایک ملک میں سوشلزم کی سوچ کو مارکسزم قرار دے دیا اور اس کے ساتھ مرحلہ وار تبدیلی کے نظریات کے تحت چونکہ قومی جمہوری ریاست یا عوامی جمہوری ریاست چاہتے تھے ۔
اس سے یہ تصور گہرا ہو کہ مارکس ازم ریاست کو مضبوط کرنے والا نظریہ ہے

مارکسزم کا تصور ریاست:
مارکسزم اور انارکزم دونوں ہی ریاست کا خاتمہ چاہتے ہیں اور غیر طبقاتی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن دونوں کا ریاست کے بارے میں موئقف مختلف ہے ۔مارکسٹ ریاست کو طبقاتی تضاد اور کشمکش کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اس کو طبقاتی حکمرانی قائم رکھنے کا اوزار سمجھتے ہیں اس لئے مارکسی موقف ہے کہ جب طبقاتی نظام ختم ہوگا تو ریاست بھی ختم ہو جائے گی ۔
انار کسٹوں کا موقف ہے کہ سرمایہ داری نظام کے برعکس طاقت کا وجود اور اتھارٹی طبقاتی تقسیم پیدا کرتی ہے اور ہر قسم کی نابرابری اور جبر کی ذمہ دار ہے۔ اس لئے یہ کسی قسم کی بھی ریاست اصولی طور پر مسترد کرتے ہیں ۔
مزدور طبقے کی جدوجہد یا اقلیت کی سازش:
انقلاب کے بارے میں دائیں بازو کا تصور ہے کہ یہ سازش کے نتیجے میں برپا ہوتا ہے جو انقلابیوں کا پیدا کردا ہوتا ہے ۔جس میں عوام کا بڑا حصہ خاموش تماشائی ہوتا ہے ۔لیکن بعض انقلابی یہ بھی موقف رکھتے ہیں کہ انقلاب محنت کش طبقہ کے بجائے انقلابیوں کا کام ہے ۔یہ انقلابیوں کو ایسے بہادر افراد سمجھتے جو محنت کش عوام کی جدوجہد کے بجائے انہیں کسی منصوبے کے زریعے آزاد کروانا چاہتے ہیں ۔اس لئے کچھ دہشت گردی پر بھی اتر آتے ہیں ،اس کی ایک لمبی تاریخ ہے ۔مارکس کے دور میں بھی ایسے تصورات عام تھے ۔لیکن وہ ایسی سیاست سے متفق نہ تھے ۔مارکس کا موقف تھا کہ مزدور طبقے کی نجات مزدور طبقے کے اپنے عمل سے ہی ممکن ہے ۔
انقلاب اور ریاست کا رفتہ رفتہ مٹنا :
ماکسیووں کے مطابق ایک ایسا سماج ہوگا جہاں طبقاتی تضاد کا خاتمہ ہو جائے گا اور کسی قسم کا کوئی استحصال اور جبر نہیں ہوگا ۔اس سماج میں سب برابر ہونگے ۔لحاظہ ریاست کی ضرورت نہیں ہو گی لیکن ریاست کا خاتمہ کیسے ہوگا اس پر بہت زیادہ الجھاؤ ہے ۔آج بہت سارے ترقی پسندوں کا موقف ہے کہ ہماری لڑائی تو سرمایہ داری نظام کے خلاف ہے ریاست کیخلاف نہیں یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند اکثر قومی مفاد یا پسماندگی کہ خلاف لڑی کے نام پر ریاست کے حامی بن جاتے ہیں کیونکہ بقول ان کے کہ سرمایہ داری کے خاتمے کے بعد موجودہ ریاست کا خاتمہ ارتقائی طور پر ہوگا اس کے برعکس مارکسی موقف جیسے لینن نے اپنی کتاب ’’ریاست اور انقلاب ‘‘ میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ سرمایہ درانہ ریاست رفتہ رفتہ ختم نہیں ہوتی بلکہ مزدور طبقہ اس کو انقلاب کے دوران ختم کردیتا ہے ۔انقلاب کے بعد جو رفتہ رفتہ مٹتی ہے ۔وہ مزدور ریاست ہوتی ہے جو اپنے آغاز سے ہی نیم ریاست ہوتی ہے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: