مالیاتی بحران

مالیاتی بحران نے سرمایہ دارانہ نظام کی ناکامی ظاہر کر دی امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے ہزاروں ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پلان کے باوجود پچھلے عرصے میں222 40 سے زائدسرمایہ برباد ہو چکا ہے ۔
معیشت دان جو فری مارکیٹ اکنامی کے گن گار ہے تھے ‘ بحران کے متعلق بات کرنا پسند نہیں کرتے تھے اور پچھلے ڈیڑھ سال سے جاری بحران کے باوجود پر امید تھے کہ مارکیٹ اپنی اصلاح خود کرے گی۔ اب نا امیدی اور خوف میں مبتلا ہیں ایلین گرین سپین جو امریکن فیڈرل ریڈرو کا سابق چیئرمین تھا وہ اب اس بحران کے بعد اس نظام بنیاد پر شکوک ظاہر کر رہا ہے اور فرانس کے صدر سرکوزی جو نیو لبرل اکانومی کا چیمپئین تھا کہ بقول فری مارکیٹ اکانومی کا عہدختم ہو گیا ہے۔
سب پرائم مارگیج کا بحران
سب پرائم کا مطلب ان لوگوں سے لیا جاتاہے جن کی آمدن کم یا غیر محفوظ ہو اور جنہیں ماضی میں قرض ادا کرنے سے انکار کیا گیا ہوا۔
لیکن پھر ان ہی کو قرض دے کر ان سے بڑے منافع کمانے کے لئے سٹہ باز سر گرم تھے اور غریبوں کو ان اشیا کے لیے قرضے فراہم کیے جانے لگے جن کی ان کو ضرورت تھی۔ ان میں امکانات سرفہرست تھے۔ آغاز میں ان کو کم شرح سود پر مکان اور دیگر اشیاء کے حصول کے لئے قرض کی طرف راغب کیاگیا، دو تین سالوں میں شرح سود اتنی زیادہ کر دی جاتی کہ اس پر سٹہ بازوں کو بڑے فائدے ہونے لگتے۔ مارگیج کمپنیوں نے اس طرح بڑے منافع بنائے اوراس میں نقصان کی کوئی وجہ نہ تھی۔ سب پرائم قرض دار جب تک زیادہ شرح سود پر قسطیں ادا کرتے رہے۔ اس سے زبردست منافع ہوتے اور اگر یہ قسطیں ادا کرنے میں ناکام ہو جاتے تو ان کے مکانات کو قبضے میں لے کر کہیں زیادہ منافع پر بیچ دیا جاتا اور مکانات کی قیمتیں ویسے بھی بڑھتی جا رہی تھیں۔ اتنے زبردست منافع نے سرمایہ داروں کو مدہوش کردیاتھا، مارگیج کمپنیاں قرض داروں کے انہیں حلف ناموں کو بنکوں کو بھیج دیتی ، بینک ان حلف ناموں کو‘ جنہیں پرچیاں کہا جاتاکو یکجا کر کے فنانشیل انسٹرومنٹس کے نام سے دیگر بنکوں کو فروخت کر دیتے اور یوں یہ خرید و فروخت جاری رہتی اور سٹے باز جو ا کھیلتے ، انشورنس کمپنیاں اس عمل کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ایک نشہ طاری تھا اور کوئی بھی عقل مند نہیں دیکھ رہا تھا کہ یہ ڈرامہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ۔مکانات کی قیمتیں اس لیے بڑھ رہی تھیں کیونکہ غریبوں کو قرض دینے کیلئے مارگیج کمپنیاں پاگل پن کی حد تک مقابلے میں مصروف تھیں۔ جہاں لوگ مارگیج کی قسطیں ادا کرنے کے قابل نہ رہتے ‘وہیں مکانات تیزی کے بنکوں کی تحویل میں چلے جاتے۔ مکانات کا یوں چھینا جانا ایک حد کے بعد مکانات کی قیمتوں کو بھی کم کر دیتا ، لوگ قسطیں نہیں دے پاتے تو مکانات بنکوں کی تحویل میں جانا شروع ہوگئے اور اس عمل کے بڑھنے سے مکانات کی قیمتیں گرنا شروع ہو گئیں اور یوں بنکوں کے منافع میں تیزی سے کمی آئی اور سب پرائم مارگیج کے کاروبار میں نقصان ہونے لگا اور اگست 2007ء ؁میں یہ واضح ہو گیا کہ سب پرائم قرضے منافع کی بجائے بڑے نقصان میں جا رہے ہیں۔
اب بنک خوفزدہ ہو گئے کہ ان کا سرمایہ ڈوب گیا ہے اور قرض دینے لینے کا یہ کاروبار ایکدم ختم ہو گیا۔ اس سے مارگیج پر قرض دینے کا عمل رک گیا اور قرض دینے کی مد میں بے پناہ کمی ریکارڈ کی گئی اور جو قرض دیئے جا رہے تھے ان پر شرح سود میں اضافہ کر دیا گیا اس لیے مکانات کی فروخت میں بڑی کمی آئی۔ لہذا مکانات کی قیمتیں مزید گرنا شروع ہو گئیں اور شرح سود کے بڑھنے سے مزید لوگ قسطیں دینے سے قاصر ہو گئے۔ جو پہلے ادا کر رہے تھے اس سے بنکوں کے لیے قرضوں کی واپسی مزید مشکل ہو گئی اور بحران نے مالیاتی نظام کو اپنی جکڑ میں لے لیا۔
اسی طرز پر ہونے والی ترقی پر عالمی سطح پر میڈیا میں تعریفوں کے پل باندھے جا رہے تھے اور اس طریقہ کار کو پوری دنیا میں سرمایہ دار “ترقی” کی مثال بنا کر پیش کر رہے تھے اور اب ہر طرف بحران کی وجہ لالچ اور ریگولیشن کو بتایا جا رہا ہے یعنی موجودہ بحران کی وجہ سے چند افراد کا لالچ اور قوانین کی عدم موجودگی نہ کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کا بحران ہے۔ اس کا حل مالیاتی شعبے میں قانون سازی بتا رہے ہیں۔
کیا بحران کی وجہ لالچ ہے؟
ہاں !
لیکن لالچ تو سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد ہے اور ہمیشہ یہی بتایا جاتا رہا ہے کہ لالچ ہی تمام تر ترقی کی وجہ ہے اور لالچ کا خاتمہ انسانی ترقی کا راستہ مسددو کر دے گا۔ سوشلزم پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ لالچ کے خلاف ہے اور اب اسی کو تمام بحران کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے یعنی تمام تر بحران چند لالچی بنکاروں اور سرمایہ داروں کی وجہ سے ہے۔سرمایہ داری نظام بالکل ٹھیک ہے اگر اس کالالچ کنٹرول کر دیا جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن جیسے کہ سب جانتے ہیں کہ لالچ، فریب اور لوٹ مار اس نظام کی بنیاد ہیں۔ سرمایہ داری نظام کی موجودگی میں لالچ کا خاتمہ نا ممکن ہے۔
کیا بحران کی وجہ ڈی ریگولیشن ہے؟
ہاں!
اس میں کوئی شک نہیں کہ مناسب قانون سازی کی عدم موجودگی نے بھی بحران میں کردار ادا کیا ہے۔جس کی وجہ سے مالیاتی نظام کی حدود نہیں لگائی گئیں ۔ لیکن تقریباً پچھلی تین دہائیوں سے سیاست اور معیشت دان اس کے بر عکس دلیل دیتے تھے کہ مالیاتی نظام پر تمام پابندیاں غلط ہیں اور انہیں ختم ہونا چاہیے۔فری مارکیٹ ہونی چاہیے، معیشت کو ریاست سے آزاد رکھو‘ کہا جاتا تھا منڈی کا میکینزم خود ہی معیشت کو منظم کرنے کی قوت رکھتی ہے۔ ماہرین معیشت فخر سے کہتے ہیں کہ سرمایہ داری سے معاشی چکر کا خاتمہ ہو گیا۔ اور اب سرمایہ داری میں کوئی زوال نہیں آئے گا اور ترقی کا ایک شور تھا۔
اس لیے وہ ہر قسم کی ریگولیشن کی مخالفت کرتے تاکہ منڈی کا میکنزم درست طور پر کام کر سکے۔ لہذا ریگولیشن کا خاتمہ کر دیا گیا اور منڈی کی قوتوں کو بے لگام چھوڑ دیا گیا اور اب اس کے نتائج دنیا کے سامنے آ رہے اور اب قانون سازی کی بات کی جا رہی ہے تاکہ افرا تفری اور بے چینی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
منافع کا بحران کیا ہے ؟
ڈی ریگولیشنز اور لالچ نے صورتحال میں شدید بگار تو ضرور پیدا کیا لیکن بحران کی بنیادی وجہ طویل عرصے سے جاری شرح منافعہ میں کمی ہے جس کا سرمایہ داری 60 19 ؁ء کی دہائی کے آخر سے سامنا کر رہی ہے اور ڈی ریگولیشنز کا مقصد منافع کی گرتی ہوئی شرح کو روکنا تھا۔ 1980 ؁ء کی دہائی کے آخر اور1990 ؁ء کے آغاز میں نیولبرل اکنامک پالیسز کے تحت ریگولیشنز کے خاتمے اور محنت کشوں کے شدید استعمال کی وجہ سے شرح منافع میں کمی تک بحالی ممکن ہو سکی‘21ویں صدی کے آغاز پرفیڈرل ریزورو بنک نے کم شرح سود پر قرضوں سے امریکہ اور دنیا کو بحران سے بچایا‘لیکن شرح منافع کا بحران اب پھر ایک بڑی تباہی مچا رہا ہے۔
مارکس اور سرمایہ دارانہ بحران
مارکس کے۹ مطابق منافع محنت کش کے استحصال سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ مزدور کے پاس اپنی محنت بیچنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا اور وہ محنت کی طاقت کو بطور جنس فروخت کرتا ہے لیکن اس محنت کی طاقت جتنی “قدر”پیدا کرتی ہے اس مطابق اسے تنخواہ نہیں ملتی بلکہ تقریباً آدھا حصہ سرمایہ دار ہڑپ کر لیتاہے اور یہی منافع ہے۔
منافع میں اضافے اور مقابلے کے دباؤ کی وجہ سے سرمایہ دار مجبور ہوتا ہے کہ اپنے ذرائع پیداوار میں جدت لاتا رہے تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو۔ اس لیے وہ اپنے سرمائے کا زیادہ سے زیادہ حصہ مشینری اور خام مال پر لگائے اور قوت محنت پر کم سے کم ۔ اس سے سرمائے کی تکنیکی ترکیب تبدیل ہو جاتی ہے کیونکہ قوت محنت ہی ہے جو قدر زائد کا سر چشمہ ہے۔ مستقل سرمائے میں بڑی بڑی رقوم لگانے کے نتیجے میں شرح منافع کے گرنے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔ اگرچہ نئی سرمایہ کاری سے منافع بڑھ جاتا ہے مگر یہ لگائے گئے سرمائے کے تناسب سے نہیں بڑھتے۔ آخر کار منافعوں کی کمی پیدا ہو جاتی ہے ۔ سرمایہ دارانہ نظام میں شرح منافع ہر معاشی چکر کے آخر میں گر جاتاہے۔جس میں “سرمائے دار”کے لئے سرمایہ کاری کے مواقع نہیں ہوتے کہ اس سے’’ مناسب‘‘ منافع حاصل کرسکے۔جسے مارکسسٹ
Over Accumaltion of Capitalکہتے ہیں۔یہ بحران کو جنم دیتی ہے جس طرح کے بحران کا آج دنیا کو سامنا ہے۔
مالیاتی مارکیٹیں جس کے سرمایہ کو مارکس نے مصنوعی سرمایہ کہا ہے ۔ یہ مارکیٹ کوئی نئی دولت نہیں پیدا کرتی ہے ۔ وہ محنت کشوں کے کمائے ہوئے منافع پرجوا کھیلتے ہیں ‘ان کا تمام تر انحصار حقیقی معیشت کی صحت پر ہوتا ہے۔بحران کے آغاز میں معیشت دانوں کی تمام تر خوش فہمیوں کے باوجود کہ حقیقی معیشت مضبوط ہے ۔ یہ مالیاتی شعبے کا بحران ہے اور جتنا برا ہونا تھا ہو چکاہے اور چین اور انڈیا عالمی سرمایہ داری کو زوال سے محفوظ رکھیں گے اوربائیں بازو کے تمام دانشور حضرات جو ہر وقت عالمی سرمایے کی جگالی کررہے ہیں اور اس کی عظمت کے گیت گا رہے ہیں کیونکہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعدیا تو وہ تبدیلی کے تناظر سے ہی منکر ہو گئے ہیں یا اسے مستقبل بعید کا کوئی عمل سمجھ رہے تھے ۔ ایسے جاہلوں سے ہٹ کر اب تمام تر سرمایہ دارانہ معیشت دان حقیقی خوف محسوس کر رہے ہیں اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ2008 ؁ء کا بحران سرمایہ داری کا بد ترین زوال ہے اوراکثرمعیشت دان اسکو اب 1929 ؁ء سے بھی بدترین بحران کہہ رہے ہیں۔اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق 1945 ؁ء کے بعد 2009 ؁ء پہلا سال ہو گا جب عالمی سطح پر گروتھ صفر ہو گی ۔ ILO کے مطابق اس سال تقریباً 5کروڑ دس لاکھ سے زائد محنت کش بے روز گار ہو جائیں گے۔ سال کے آخر تک بے روز گاروں کی تعداد24کروڑ سے زائد ہو جائے گی اور ILOکے ڈائریکٹر Juan Somaviaنے کہا تنخواہوں میں بڑے پیمانے پر کٹوتی ہو گی۔خاص کر کم تنخواہوں کے حامل محنت کشوں کے لیے حقیقتاً تو تنخواہوں کا خاتمہ ہی ہو جائے گا۔
امریکہ جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ وہاں پیداوار میں شدید کمیآئی ہے اور 2008 ؁ء کی آخری سہ ماہی کے اعدادو شمار کے مطابق امریکی 6.2%,GDPفیصد کم ہوئی ہے اور پچھلی دہائیوں میں یہ بد ترین گراوٹ ہے۔
2008 ؁ء میں تقریباً 26لاکھ سے زائد امریکی محنت کش بے روز گار ہو گئے ہیں۔ اس سے نہ صرف محنت کشوں اور ان خاندانوں کی زندگیاں بد ترین حالت کا شکار ہیں ۔ اس سے بحران میں مزید اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ان میں اشیاء کو خریدنے کی سکت کم ہونے سے مزید محنت کش بے روزگار ہو رہے ہیں ۔ یورپ میں Beutsche Bank کے مطابق یور زون کی پیدا وار میں 2.8فیصد کمی ہو گئی۔
صنعتی شعبہ میں صورتحال مزید بد تر ہے یورپی یونین میں نومبر میں صنعتی پیداوار میں پچھلے سال کے مقابلے میں 7.7فیصد کمی ہوئی ، یہ بد ترین ریکارڈ ہے۔ یورپی یونین کی 27ریاستوں میں اس سال بے روزگاری کی شرح8.7اور اگلے سال 9.5سے زائد ہو جائے گی۔
جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے 2008 ؁ء کے آخری کواٹر2 فیصدسکڑوکا شکار ہوئی۔ تمام اہم معیشت دان 2009 ؁ء ،GDP میں 2.8 فیصد کمی کا کہہ رہے ہیں‘ جو دوسری جنگ عظیم کے بعد بد ترین گراوٹ ہو گی ۔ اٹلی میں صنعتی پیداوار میں 10فیصد تک کی کمی ہوئی ہے ۔ اٹیلین کار مینو فیکچرنگ میں 46فیصد کی گراوٹ ہوئی ہے۔
بنک آف سپین کے مطابق 2008 ؁ء کی آخری سہ ماہی میںGDPمیں 1.1فیصدگراوٹ آئی ہے اور حکومت کہہ رہی ہے کہ موجودہ گراوٹ 1.6فیصد سے زائد ہو گی۔
ایشیا میں بھی صورتحال ایسی ہی تباہ کن ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت جاپان میں صنعتی پیداوار میں دسمبر9.6فیصد کمی آئی ۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا سکڑاو ہے ۔ جاپان کے وزیر خزانہ نے صورتحال کو مایوس ترین کہا ہے اور صنعتی پیداوار میں مزید کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔ محنت کش بڑی تیزی کے ساتھ بے روز گار ہو رہے ہیں۔ 27 لاکھ سے زائد بے روز گار ہو چکے ہیں جبکہ 4,00000 افرادکچھ عرصے میں ان اعداد و شمار میں اضافہ کا باعث بن جائیں گے۔
کچھ عرصہ پہلے تک تیزی کے ساتھ ترقی کرتی ہوئی معیشتیں چین اور انڈیا جن کو سرمایہ دارانہ میڈیا اور معیشت دان سرمایہ داری کی ترقی کے ماڈل قرار دے رہے تھے۔ وہاں پیداوار میں شدید کمی آئی ۔
2007 ؁ء میں جب مغرب کی معیشت قرضوں کے نشے میں مد ہوش تھی ۔ چین مغرب میں بڑے پیمانے پر سستی برآمدات کر رہا تھا اورGDPگروتھ 13فیصد تھی اور پچھلے 5 سالوں سے گروتھ10فیصد اور اس سے زائد تھا۔ پچھلے سال یہ 9فیصد ہو گی ۔ لیکن 2008 ؁ء کی آخری سہ ماہی کے مطابق یہ شرح 6.7 فیصد تھی۔ چین کی برآمدات اور درآمدات میں حقیقی کمی نومبر2008میں آئی ہے ور درآمدات میں 17فیصد کمی ہوئی ہے۔
سرمایہ داروں کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں صورتحال بد ترین ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق ابھرتی اور ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں پیداوار 6.25 فیصدسے کم ہو کر2009 ؁ء میں3.25 فیصد رہ جائے گی اور اس نے آخر کار نام نہاد decouplingکے نظریے کا خاتمہ کر دیا ۔ جس کے مطابق تیزی سے ترقی کرتے ہوئے چین اور انڈیا دنیا کو شدید معاشی بحران سے بچا لیں گے۔
کیا سرمایہ دار جلد ہی اس گہرے عالمی بحران سے باہر آ جائیں گے۔ ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔ قرضوں پر مبنی ترقی کے دور یعنی2004 ؁ء سے2007 ؁ء کے دوران بھی صنعتی پیداوار میں کمی ہوئی تھی ۔ جس سے بڑی تعداد میں محنت کشوں کی حقیقی تنخواہوں میں کمی آئی جس کی وجہ سے وہ قرضہ ادا کرنے کے قابل نہ رہے۔ قرضے کی مارکیٹ کے بحران نے فنانشل مارکیٹ کو بدترین افراتفری کا شکار بنا دیا۔ جس سے بینک جمود کا شکار ہو گئے اور انہوں نے کاروباروں سے سرمایہ نکال لیا‘ جس سے بڑی تعداد میں کمپنیوں کے لیے سرمایہ کا حصول ناممکن ہو گیا اور محنت کشوں کو بنیادی ضروریات کی اشیاء خرید نے میں دشواری آئی مغربی حکومتوں کی طرف بحران کے خاتمے کے لئے شرح میں مسلسل کمی کی گئی اور یہ تقریباً صفر تک آ گئی اور ڈالر اور پونڈ کی قدر میں کمی ہونے دی تاکہ بحران کو برآمد قی معیشتوں میں منتقل کیا جا سکے عالمی سطح پر تجارت میں شدید کمی آئی جس سے کمپنیوں نے اپنی پیداوار میں مزید کمی کی اور اس سے دیوالیہ پن میں اضافہ ہوا ۔بنکوں نے ان کمپنیوں اور لوگوں کو قرضے دینے سے انکار کر دیا جو مستقل اورغیر یقینی تھا۔ اربوں ڈالر ملنے کے باوجود بنک ایسی کمپنیوں اور افراد کو قرضے نہیں دے رہے تھے جو ان کے اندازے کے مطابق اس کو واپس نہیں کر سکتے۔ اس لیے بنکوں کو بیل آؤٹ کرنے کے تمام تر منصوبے ناکام ہو گئے ہیں کہ جس کے نتیجے میں معیشت دوبارہ سے ترقی کر سکے۔لہٰذا بحران کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جدوجہد شروع ہو گئی ہے اس بحران کی قیمت کو ن ادا کرے گا؟ محنت کش یا سرمایہ دار ، یہ تو واضح ہے کہ موجودہ بحران جلد ختم ہونے والا نہیں ہے اور اسے سالوں لگ جائیں گے اور کوئی بھی ریکوری کمزور اور غیر مستحکم بنیادوں پر ہو گی۔
صرف ایک ہی بنیا دپر سرمایہ داری نسبتاً استحکام حاصل کر سکتی ہے کہ اگر محنت کش اس تباہی کی قیمت ادا کرنے پر تیار ہو جائیں جس میں ان کا کوئی حصہ نہیں اصلاح پسندی ، ٹریڈ یونین ، بیوکریسی ، سوشل ڈیموکریسی، پاپولزم اور سٹالن ازم ، محنت کشوں کی تحریک ناکام کر سکتی ہے یا اسے قومی بنیادوں پر تقسیم کر سکتی ہے۔
سرمایہ داری کی ناکامی سوشلسٹوں کے لیے دنیا بھر میں بڑے مواقع پیدا کر رہی ہے لیکن اگر ہم اپنے آپ کو صرف سرمایہ داری کی ناکامی کے پروپیگنڈے تک محدود رکھیں گے تو یہ مواقع بھی ضائع ہو جائے گا۔ ۔کیوں؟اس لیے کہ کروڑہا لوگ بحران کی قیمت ادا کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور جدوجہدکر رہے ہیں۔ وہ منظم قوت کی طرف دیکھ رہے ہیں‘ جو جدوجہد کا یقین دلائے ۔ لہٰذا ہمیں نظریہ اور سرمایہ داری مخالف پروپیگنڈے سے آگے بڑھتے ہوئے حقیقی جدوجہد کرتے ہوئے مضبوط سیاسی تنظیمیں بنانی ہو ں گی جو محنت کشوں کی جدوجہد کوآگے بڑھائیں اور اپنی طاقت کا اظہارجدوجہدمیں کریں اورتحریک کو اس طور منظم کریں کہ محنت کشوں کی بجائے سرمایہ دار اس کی قیمت ادا کریں یعنی سوشلسٹ انقلاب ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: