وکلاء تحریک: لانگ مارچ کو کامیاب بناؤ

وکلاء تحریک کی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہونے والی ’’جمہوری حکومت‘‘ نے اپنے تمام تر وعدوں کے باوجود نہ تو چیف جسٹس افتخار چوہدری کوبحال کیا ہے اور نہ ہی روٹی ،کپڑا اور مکان کا وعدہ پورا کیا ہے البتہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ،نجکاری،مہنگائی اور بے روز گاری پرحکومت ہر معاملے میں مشرف آمریت کا تسلسل ہی ثابت ہو رہی ہے۔
وکلاء تحریک کو جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دیاجارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اس میں لانگ مارچ اور دھرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ’’قومی اتفاقِ رائے‘‘ سے مسائل کو حل کر لیاجائے اور ججوں کی بحالی عوام کامسئلہ نہیں ہے۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی اور اسکے تمام اتحادی،اے این پی،ایم کیو ایم،جے یو آئی بھی مشرف آمریت کے 3نومبر کے اقدامات کو تحفظ دے رہے ہیں اور امریکہ کی بکھرتی ہوئی سامراجیت کے سامنے سرنگوں ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کے ناکام ہونے کے باوجودیہ انہی نیو لبرل اکنامک پالیسیز کو جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں لوگ شدید مہنگائی ،غربت اور بے روزگاری کا شکار ہیں اور تقریباً 21سے زائد اداروں کی آئی ایم ایف کے حکم کے تحت نجکاری کرنے جا رہے ہیں۔جس سے بڑے پیمانے پر محنت کش بے روزگار ہو جائیں گے۔
ان حالات میں حکمران عوام کو بتا رہے کہ ملک اس وقت نازک صورتحال سے دوچار ہے اور انکا مسئلہ مہنگائی اور بے روز گاری ہے۔یہ تو خود ان مشکلات کے ذمّہ دار ہیں۔
لانگ مارچ ایسے ہی حکمرانوں کو خوف زدہ کر رہا ہے۔پچھلے لانگ مارچ نے ایک تاریخ رقم کر دی تھی ۔جس میں لاکھوں کی تعداد میں عوام نے کراچی سے لے کر اسلام آباد تک مارچ کیا۔مارچ میں وکلاء سے کہیں بڑی تعداد میں طلباء،مزدور ،مڈل کلاس،قوم پرستوں،سوشلسٹوں،اسلام پسند سیاسی کارکنوں نے شرکت کی اوردھرنا نہ دئیے جانے پر بڑے پیمانے پر مایوسی پھیلی۔اس لحاظ سے جون کے لانگ مارچ کا تجزیہ اہمیت کا حامل ہے کہ اس دفعہ پنجاب میں گورنر راج کے بعد معاملات بہت حد تک نواز لیگ کے کنٹرول میں آگئے ہیں۔یہ صورتحال وکلاء تحریک کے لئے نقصان دہ ہو گی۔
جون میں ہونے والا لانگ مارچ کا اختتام غیر جمہوری انداز میں کیا گیا۔قانون کی حاکمیت اور جمہوریت کی علم بردار وکلاء قیادت نے جہاں تسلسل کے ساتھ وکلاء اور عوام کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے‘وہاں پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھے ہوئے عوام اور وکلاء سے آئندہ کے لائحہ عمل پر رائے لئے بغیر ازخود دھرنا نہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔
لانگ مارچ ایک تاریخ سازواقعہ تھا اسکے نتیجے سے اسکی کامیابی اور ناکامی کی جانچ نہیں ہو سکتی ہے۔میڈیا جس طرح اسکو پروجیکشن دے رہا تھاکہ عوام کا سمندر آمریت کو بہا لے جائے گا۔اس میں یہ بات پسِ منظر سے چلی گئی کہ ملکی تاریخ کی اتنی بڑی موبیلائزیشن سیاسی جماعتوں کے تحت نہیں ہوئی۔وکلاء اور آمریت مخالف طلباء و مزدور ،کسان اور چھوٹے چھوٹے گروپ اہم کردار اداکر رہے تھے۔سیاسی پارٹیاں‘مشرف آمریت کے تحت تمام اعلانات کے باوجود علامتی مظاہروں تک ہی محدودہیں ۔اور پھر وہ یاتو آمریت کے ساتھ ڈیل کرگئے ۔یا پھر وکلاء قیادت میں چلنے والی تحریک کی پیروی کر رہے تھے۔
موجودہ لانگ مارچ یقینی طور پر پچھلے لانگ مارچ کی نسبت بہت مختلف ہے ۔اب اس میں گورنر راج کے بعد اب نواز لیگ لیڈ کر رہی ہے۔یقینی طور پر گورنر راج قابل مذمت ہے اور اسکی کسی طور پر بھی حمایت نہیں کی جاسکتی۔لیکن نوا زلیگ کی تمام تر تاریخ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ ان جمہوریت اور قانون کی حکمرانی مذاق کے علاوہ کچھ نہیں۔پچھلے لانگ مارچ کی ناکامی میں نواز شریف کا کردار سب پر واضح ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ لانگ مارچ کو نواز لیگ کی قیادت میں دئیے جانے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ بار کونسلز کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں ‘جس میں وکلاء کے ساتھ طلباء،مزدوروں،سماجی اور سیاسی کارکنان کو شامل کیا جائے۔تاکہ لانگ مارچ اور تحریک کے تمام فیصلے کو جمہوری انداز میں طے کئے جا سکیں۔اس سے ناصرف تحریک آزادانہ فیصلے کر سکے گی بلکہ بہت سے لوگوں کااس پر اعتماد بھی بحال ہوگا‘اور یہ ایک بڑی موبیلائزیشن کرنے میں بھی کامیاب ہو سکتی ہیں۔
وکلاء اور عوام اس تحریک میں چیف جسٹس کی بحالی کی غرض سے شامل ہو رہے ہیں اور وہ قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔
البتہ انقلابی سوشلسٹوں کا نقطہ نظر مختلف ہے وہ یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس کی بحالی یا قانون کی حکمرانی سے کوئی بنیادی تبدیلی آسکتی ہے۔وہ تحریک کے ساتھ اس وجہ سے ہیں کہ اس عمل سے طلباء ،محنت کش عوام اور مڈل کلاس پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔پچھلے دو سالوں میں محنت کشوں ،طلباء اور مڈل کلاس کی مختلف پرتیں احتجاج کی طرف آرہی ہیں۔اس تحریک کی وجہ لوگوں کو بولنا،احتجاج کرنا ،حقوق کی بات کرنا اور نعرے لگاناآگیا ہے۔اس نے جنرل ضیاء اور بعد ازاں ’’جمہوری‘‘ دور کی پیدا کردہ عوام کی سیاسی علیحدگی ختم کردی ہے۔ان میں ریاست کا خوف ختم ہوتا جارہا ہے۔اس تحریک نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔لہٰذا وکلاء تحریک اور لانگ مارچ اہم ہیں ۔ہ دیکھ رہے ہیں جدوجہد کی جاسکتی ہے اور جیتا جاسکتا ہے۔یہ بنیادی سماجی تبدیلی کے لئے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: