پیپلز پارٹی کی حکومت یا محنت کش طبقے کا مفاد

پیپلز پارٹی کے ایک سالہ دور کے دوران عوام کے بنیادی مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔حکومت امریکی سامراج کی خدمت گزاری میں مصروف ہے اور پختونخواہ میں اپنے ہی عوام پر طالبان کے نام پر بمباری کر رہی ہے۔عالمی معاشی بحران کے باوجود حکمران طبقہ انہی پالیسیوں کا نفاذ کر رہا ہے‘جس کی وجہ سے دنیا موجودہ معاشی بحران کا شکار ہے۔پاکستان میں یہ پالیسیاں محنت کش عوام کی زندگیاں اذیت ناک بنا رہے ہیں جو پہلے ہی مہنگائی ، غربت اور بے روزگاری سے تنگ تھے۔دوسری طرف پچھلے ایک سال میں محنت کش طبقے نے مختلف شہروں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔چاہے یہ فیصل آباد کے پاور لومز کے محنت کش ہوں یا ملتان کے اور مختلف چھوٹی بڑی تحریکیں پورے ملک میں ابھر رہی ہیں۔کبھی ان میں شدت آجاتی ہے اور کبھی یہ دھیمی پڑ جاتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حکمران طبقہ کمزور ہے ۔لہٰذا محنت کشوں کو چھوٹ دینے پر مجبور ہیں اور ایک کے بعد دوسرے سیکٹر میں احتجاج ہو رہا ہے۔حکمران طبقے کی کمزوری18فروری کے انتخابات سے واضح ہو گئی تھی۔اسکے بعد انہوں نے یونین حقوق بحال کرنے کا اعلان اور مزدوروں کے لئے مراعات کے اعلانات کر کے ان کے اعتماد میں اضافہ کردیا تھا۔جو پہلے احتجاج کر چکے تھے وہ دوبارہ سوچ رہے ہیں اور باقی احتجاج کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مختلف اداروں میں جو احتجاجات ہو رہے ہیں۔ ان کو آپس میں منسلک کر کے ایک دن کی ہڑتال کی کال دی جائے تاکہ حکمرانوں کو مجبور کیا جاسکے کہ وہ مہنگائی کے مطابق ہی محنت کشوں کی تنخواہوں میں اضافہ کریں اور نجکاری کو روکا جا سکے۔
پی ٹی سی ایل، واپڈا ،کے ای ایس سی،سٹیل ملز،پاور لومز ،ٹیچرز اور جن اداروں کی حکومت نجکاری کرنا چاہتی ہے‘ اب ان محنت کشوں کی جانب سے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔
لیکن اس جدوجہد کو کامیاب کرنے کے لئے سیاسی جدوجہد کی ضرورت ہے یعنی محنت کشوں کو وکلاء تحریک سے منسلک کرنے کی ا س وقت اشد ضرورت ہے تاکہ جمہوری تحریک میں محنت کشوں کی قیادت قائم کی جائے۔
مختلف مواقعوں پرپیپلز پارٹی کے حمایتی ٹریڈ یونین قیادت کی کوشش ہوتی ہے کہ احتجاج نہ بڑھے اور دیگر تحریکوں سے منسلک نہ ہونے دیا جائے اور بہت ساری دیگر بائیں بازو کے ٹریڈ یونین کے سربراہان بھی پیپلز پارٹی کے ماضی کے ادوار کو مدِّ نظر رکھ کر سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ٹریڈ یونین تحریک پر اپنا ہاتھ ہلکا رکھے گی ۔مگر یہ لوگ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ پیپلز پارٹی کا دور ہی اس لئے شروع ہوا تھا کہ حکمران طبقہ کمزور ہیں۔اور روایتی طریقوں سے حکومت نہیں کر پا رہے ۔
پچھلے دور میں یونینوں پر پابندیاں تھیں اور اب آمریت ہار چکی ہے۔اب دہشت گردی کے خلاف جنگ اور نجکاری کی پالیسیوں پر حکمران طبقہ تقسیم ہے۔اس لئے اس نے پیپلز پارٹی کو حکومت دی تاکہ پیپلز پارٹی ریاست کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔
اس مواقع پر احتجاج خوف کی وجہ سے ٹالتے جانا اور اسے دیگر محنت کشوں اور جمہوری تحریکوں سے وابستہ نہ کرنا اس سے حکومت ختم ہو جائے۔حقیقت میں محنت کشوں میں موجود غم و غصّہ کو زائل کرنا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے۔مہنگائی ، غربت اور بے روزگاری جیسے مسئلے بھی سرمایہ دار یا پیٹی بورژوا سیاسی جماعتیں اٹھا لیتی ہیں۔یہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے محنت کشوں کو مختلف ایشوز پر الجھاکر ان کی تحریک کو پیچھے کردیتے ہیں۔
جو کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو چلنے دو‘تنخواہوں میں اضافے کی جدوجہد نہ کرو‘احتجاج نہ کرو‘تحریکوں کو منسلک نہ کرو‘جمہوری تحریکوں کا حصہ نہ بنو۔وہ اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ موجودہ حکومت سرمایہ دار طبقے کی نمائندہ ہے ،نہ کہ محنت کشوں کے مفادات کی ترجمان ہو۔
ایسی حکومت جو عالمی سرمایہ داری کے حکم پر نجکاری کے لئے نئے منصوبے بنا رہی ہو۔تیل ،گیس اور بجلی سرکاری چھوٹ کے خاتمے کی پالیسیاں لاگو کرکے محنت کشوں کی زندگیاں اجیرن بنا رہی ہو اور سرمایہ داروں کو لوٹ مار کی کھلی چھٹی دیتی ہو۔محنت کش عوام اس کی کیوں حمایت کریں؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کے خلاف محنت کشوں میں مہنگائی،غربت،بے روزگاری اور ججوں کی بحالی نہ ہونے کے خلاف جو غصّہ ہے۔اس کو باہم منسلک کر تے ہوئے تحریک تعمیر نہ کی گئی تو اس طبقاتی نفرت کو اس نظام کی پروردا جماعتیں استعمال کرکے سماج میں مختلف تقسیمیں ڈالیں گی۔جس کا سب سے زیادہ نقصان محنت کش عوام کو ہی ہوگا۔
بھٹو کے دورِ حکومت سے یہی سبق ملتا ہے کہ اگر مہنگائی،تنخواہوں میں اضافے ،یونین حقوق اور جمہوری جدوجہد کے لئے محنت کشوں کواس وجہ سے منظم نہ کیا گیا کہ دائیں بازو اقتدار میں آجائے گا۔تو پھر یہی محنت کش طبقہ ہوگا۔جو رجعت پسندوں کی حکومتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔اس لئے محنت عوام کی جدوجہد کو تیز کرکے ہی محنت کشوں کا اعتماد اور ان کی تحریک تعمیر کی جاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: