ابھرتی محنت کش طبقے کی تحریک

نیا بھر کے محنت کشوں کو واضح ہو گیا ہے 2008 ؁ء کا مالیاتی بحران صرف ایک آغاز تھااورتاریخ کے بد ترین بحران کا ابھی صرف آغاز ہورہا ہے۔ جہاں کروڑہا محنت کشوں کی نوکریاں خطرے میں ہیں ۔ ریاست کی طرف سے اربوں ڈالرز کے بیل آؤٹ کے باوجود سرمایہ دارمطمئن نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس بحران کی قیمت محنت کش عوام ادا کریں۔
بڑے پیمانے پر نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں اور تنخواہوں میں کمی کی جا رہی ہے ۔ ILOنے خبردار کیا ہے کہ پانچ کروڑ سے زائد محنت کش اس سال بیروزگار ہو جائیں گے اور تنخواہوں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں ہو ں گی۔
محنت کش‘ حکمران طبقے کی تمام تر نیک خواہشات کے باوجود اس صورتحال کو برداشت نہیں کر رہا ، مزاحمت اور بغاوت کا یورپ میں ابھی آغاز ہو رہا ہے۔ 29جنوری کو فرانس میں ہونے والی عام ہڑتال میں 25 لاکھ سے زائد محنت کش فیکٹریوں اور دفتروں میں جانے کی بجائے سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے اور اس دن جو نعرہ ابھر کر آیا جس کے بارے میں پوری دنیا کے محنت کش یہ سوچ رہے ہیں کہ “ہم کیوں سرمایہ داروں کے بحران کی قیمت ادا کریں” ۔روس میں محنت کش عوام بیروزگاری اور اس بد ترین معاشی بحران کے اثرات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔مشرقی شہر Uladirostokمیں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا جس میں پوئن کے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
مشرقی یورپ کے ممالک میں جہاں سویت یونین کے خاتمے اور سرمایہ داری استوار کو ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔ اب اس عالمگیر بحران کی وحشت کا شکار ہو رہے ہیں لسٹویا، لیتھونیا، ہنگری، یوکران اور بلغاریہ میں شدید احتجاج ہو رہے ہیں کیونکہ محنت کش موجودہ بحران کی قیمت ادا کرنے سے انکار کر رہے ہیں‘ جس کی وجہ سرمایہ دار اور ان کا نظام ہے۔
گریس میں نوجوان ، طالب علم، محنت کش اور کسان بڑے احتجاج کر رہے ہیں اور پولیس سے شدید جھڑپیں کررہے ہیں۔
آئیرلینڈ میں محنت کشوں نے اپنی فیکٹری پر قبضہ کر لیا ہے تاکہ فیکٹری کو کسی اور جگہ منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔
آئس لینڈ میں معاشی بحران کی وجہ سے حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے جبکہ محنت کش اور نوجوان احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں اب تک کے جائزوں کے مطابق انتخابات میں بائیں بازو کی سرمایہ دار مخالف جماعت اکثریت حاصل کر رہی ہے ۔ جنوری کے آخر میں فرانس میں ہڑ تالوں کی لہر نے پورے ملک کا نظام فرانس میں نئی سرمایہ دار مخالف جماعت کو محنت کش عوام اور نوجوان اہم حمایت مل رہی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی عدم یقینی ، بے روزگاری، نوکریوں کے خاتمے اور کم تنخواہوں سے بیزار ہو چکے ہیں۔
عالمی سطح پر گہرا ہوتا ہوا معاشی بحران محنت کش عوام اور نوجوانوں کو بڑی تعدادکو مزاحمت کی طرف راغب کر رہا ہے جس کی وجہ سے یورپ اس وقت تحریکوں کی زد میں ہے اور حکمران طبقہ خوف محسوس کر رہا ہے اور یہ صورتحال مارکسٹوں کے لئے بڑے مواقع پیدا کر رہے ہیں اور میڈیا طبقاتی تضاد، سوشلزم ،مارکس ازم اور لینن کے الفاظ کثرت سے استعمال ہورہے ہیں۔وہاں حکمران طبقہ اس سے خوف میں مبتلا ہے۔محنت کشوں کے شعور میں تیزی کے ساتھ تبدیلیاں آرہی ہیں لیکن اسکے ساتھ بڑے خطرات بھی موجود ہیں۔حکمران طبقہ محنت کشوں کی تحریک کو قومی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتا ہے،ضرورت ا س امر کی ہے کہ شعوری جدوجہد سے محنت کشوں کی تحریک کو قومی بنیادوں پر تقسیم ہونے سے بچایا جائے تاکہ اس بحران کی قیمت قومی معیشت کے نام پر محنت کش ادا نہ کریں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: