مزدور طبقہ اور سوشلسٹ انقلاب

Workers on strike

مارکس اور اینگلز نے جب سے مزدور طبقہ کے زریعے سرمایہ داری کے خاتمے کی بات کی ہے یہ کہا جارہا ہے کہ مزدور طبقہ ختم ہوگیا ہے ۔فرسٹ ورلڈ میں کہا جاتا ہے کہ اب تو مینوفیکچر ینگ انڈسٹری کا خاتمہ ہو رہا ہے اور وائٹ کالر ورکرز کی تعداد میں اضافے کو لے کر کہا جاتا ہے کہ مڈل کلاس بڑھ گئی ہے ۔اور محنت کش طبقہ انقلابی صلاحیت کا حامل نہیں رہا۔
اس کے برعکس تیسری دنیا میں یہ دلیل دی جاتی ہے آبادی کی بڑی اکثریت کسانوں پر مشتمل ہے اس بنیاد پر محنت کش طبقے جدوجہد کو مسترد کردیا جاتا ہے ۔
کارل مارکس نے کہا تھا کہ’’ کسی بھی سماج میں حاوی خیالات حکمرا ن طبقے کے ہوتے ہیں‘‘ ۔
طبقہ سے متعلق غالب خیالات کے پیچھے بھی یہی وجہ ہے۔ حکمران طبقے کے ماہرین سماجیات اور سیاسیات طبقہ کے متعلق سوشلسٹوں کے خیالات کو مسترد کرتے ہوئے محنت کش طبقہ کے وجود کو مسترد کرتے ہیں ۔لیکن طبقاتی تقسیم ہمارے سماجوں میں اتنی واضح نظر آتی ہے کہ وہ اس کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں وہ طبقہ کو مانتے ہیں لیکن مارکسی انداز سے مختلف ۔
پاکستان میں دلیل دی جاتی ہے کہ ابھی تو ہمیں جاگیرداری و قبائلی نظام کے خلاف جدوجہد کرنی ہوگی سرمایہ درانہ ریاست تشکیل دینی ہو گی ،ترقی کرنی ہو گی، تعلیم عام کرنی ہوگی ،جس سے مزدور طبقہ پیدا ہوگا پھر کہیں جاکر سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد ممکن ہو سکے گی یہ تاریخ کو یورپ کے تناظر میں دیکھنا ہوگا جہاں پہلے سرمایہ درانہ نظام قائم ہوا اور اس کے بعد سوشلسٹ خیالات نے جنم لیا تب جاکرمزدور طبقہ اور اس کی تحریک نے زور پکڑا ۔
روس میں ان خیالات کو منشویک پارٹی نے اپنایا ان کی دلیل یہ تھی کہ روسی بادشاہت اور جاگیرداری نظام سے نجات کے لئے سرمایہ داروں کے اقتدار کے لئے ان کے تحت جدوجہد کرنا ہوگی تاکہ سرمایہ داری نظام قائم ہو سکے جس میں صنعتی ترقی ہو ،جمہوریت آئے ،تعلیم عام ہو، ان اقدامات سے سرمایہ داری کے تحت مزدور طبقہ پیدا ہوگا جو اکثریت میں آنے کے بعد انقلاب کریں گے۔
روسی انقلابی ٹراٹسکی اور اس سے پہلے مارکس نے سرمایہ دار طبقے کے انقلابی کردار کے خاتمے کا اعلان کیا تھا ٹراٹسکی کی دلیل یہ تھی کہ روس کتنا ہی پسماندہ کیوں نہ ہو یہ ایک عالمی سرمایہ درانہ نظام کا حصہ ہے ۔یہاں حقیقی انقلابی طبقہ مزدور ہیں جو سرمایہ درانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتے ہیں ۔
اگر ہم اعدادوشمار کے حوالے سے بھی دیکھیں تو پاکستان میں 44فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے۔18فیصد مزدورہیں جب کہ باقی ماندہ 28فیصد سروس سیکٹر سے وابستہ ہیں اس طرح 46فیصد آبادی مزدور ہیں sociologist اکبر زیدی کہتے ہیں کہ پاکستان کبھی زرعی معاشرہ رہا ہوگالیکن آج یہ ایک سرمایہ درانہ ریاست ہے ۔پاکستان میں زرعی آبادی میں تیزی سے کمی آرہی ہے اور یہ 80فیصد سے کم ہو کر آج 60فیصد کے قریب رہ گئی ہے اور اندازہ ہے کہ 2015تک دنیا کے دیگر ترقی پزیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی نصف آبادی شہری ہو گی ۔
کسان سماج کا مکمل انحصار سرمایہ داری پر ہے کسان مارکیٹ کے لئے پیدا کرتے ہیں اورعالمی معاشی بحران ،جنگوں اور دنیا میں آنے والی تبدیلیوں کا کسانوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ ریاست سرمایہ داری کے تحت اقدامات اٹھاتی ہے ۔
پاکستان میں مرکزی ،صوبائی، ضلعی اور بلدیاتی مشینری کو مزدور چلاتے ہیں اس کے ساتھ صنعت کا پورا شعبہ بھی مزدور طبقے کی بدولت ہے پاکستان کی ریاست اور اس کا پورا ڈھانچہ سرمایہ داررانہ بنیادوں پر قائم ہے ۔
80کی دہائی سے مزدور تحریک زوال کا شکار ہے اس کی کئی وجوہات ہیں ۔
1۔روس اور مشرقی یورپ میں سٹالن ازم کا خاتمہ
2۔چین کا سرمایہ درانہ راستہ اختیار کر لینا
3۔سرمایہ داری کے ڈھانچے میں تبدیلی اور نیو لبرل ازم
4۔سوشل ڈیموکریسی اور اصلاحات کی ناکامی
5۔کیمونسٹ پارٹیوں کا انقلاب اور انقلابی تصور سے مایوسی
ان وجوہات اور خاص کر سرمایہ داری کے اندر آنے والی تبدیلیوں نے مزدور طبقے کی تحریک کو ہی نہیں بلکہ مزدور طبقے کے تصور کو بری طرح متاثر کیا اس مایوسی کے عمل میں دانشوروں میں یہ تصور پروان چڑھا کہ کوئی بڑی تبدیلی ممکن نہیں ان حالات نے پوسٹ ماڈرن ازم کے تصور کو فروغ دیا جو تھیوری اوبنیادی ر تبدیلی کی سوچ کو مسترد کرتی ہے ۔
ایسی صو رتحال میں جب پاکستان اور ساری دنیا میں مزدورمیں طبقہ اضافہ ہورہا ہے اس کے وجود سے انکار بڑا عجیب ہے لیکن یہ خیالات سٹالن ازم کی ناکامی اور عالمی سطح پرمزدور تحریک کے پیچھے جانے کی وجہ سے ہے۔ جس کے نتیجے میں دانشوروں کا بڑا حصہ یا تو تبدیلی سے ہی منکر ہو گیا ہے یا اسے مستقبل بعید کاکوئی عمل سمجھتا ہے۔مزدور تحریک کی ناکامی نے گہر ی مایوسی کو جنم دیا ہے اور یہ تاریخ میں پہلی دفعہ نہیں۔مزدور تاریخ میں ایسے ادور آتے رہے ہیں۔
لیکن سرمایہ داری کے موجودہ بحران نے’’سرمایہ داری کا کوئی متبادل نہیں‘‘کے تصور کا خاتمہ کر دیا ہے۔عالمی سطح پر مزدور تحریک ایک نئے جذبے کے ساتھ ابھر رہی ہے۔یہ تمام تر مایوسی کا خاتمہ کر دے گی۔آج جدوجہد کا بحران نہیں،ٹراٹسکی کے مطابق انسانیت کا تمام تر بحران سمٹ کرمحنت کش طبقہ کی قیادت کا بحران رہا گیا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: