نسل پرستی کیا ہے؟

پاکستان میں جاری سامراجی جنگ کے نتیجے میں لاکھوں پختون بے گھر ہورہے ہیں۔طالبان کے نام پر کی جانے والی بمباری سے ہزاروں مارے جارہے ہیں۔اور بڑی تعداد میں لوگ دوسرے شہروں میں جارہے ہیں۔جہاں ان کو نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
نسل پرستی کا جذبہ معاشرے میں نہ تو فطری ہے اور نہ ہی مستقل یہ ایک غیر فطری تخلیق ہے۔ اس کا مقصد طبقاتی تقسیم کو مستقل طور پر قائم کرناہے۔اس وجہ سے نسل پرستی اور پسماندگی کا ایک دوسرے سے گہرا تعلق ہے ۔
نسل پرستی کو فروغ تب ملا جب سرمایہ داروں کو سستے مزدور وں کی ضرورت تھی اس لئے افریقہ کے لوگ غلاموں کی شکل میں لائے جاتے۔سامراجی ممالک نو آبادت میں سیاہ فام مزدور بڑی تعداد میں لائے ایسا کرنے سے سرمایہ داروں کو نہ صرف سستے مزدور میسر آئے بلکہ وہ مزدور کو کام کی جگہ پر تقسیم کرنے پر بھی کامیاب ہو ئے۔نسل پرستی کے فروغ سے محنت کش تقسیم ہوجاتے ہیں۔جس سے سرمایہ داری کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو نقصان پہنچتا ہے۔
نسل پرستی کا رحجان نو آبادیاتی قبضے کے لئے بھی جواز فراہم کرتا ہے ۔کہ یہ لوگ غیرتہذیب یافتہ ہیں ۔ اور ہمیں ان کو تہذیب یافتہ بنانا ہے۔اس لئے آج مغرب کے لوگوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ تیسری دنیا کے لوگ جاہل اور گنوار ہیں ۔ اور آپ تہذیب یافتہ اور برتر ہیں ۔
حکمران طالبان کے نام پر پختونوں کو مار رہے ہیں۔ پختون کلچر کو ہی دہشت گردی کی وجہ قرار دے کر ان پر جاری جنگ کو دانشور جواز فراہم کر رہے ہیں ۔حکمرانو ں کی بہت ساری سیاسی پارٹیاں پختونوں کو دہشت گرد کہ کہہ کر نشانہ بنا رہی ہیں ۔اور دوسری طرف پولیس ان کو ہراساں کر رہی ہے۔ایک طرف یہ لوگ سامراجیجنگ کی حما یت کر رہے ہیں ۔اور دوسری طرف جنگ کے متاثرین کو اپنے علاقوں میں آنے سے روک رہے ہیں ۔ان پر حملے کرتے ہیں یہ لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں ۔کہ جنگ بند ہوگی تو متاثرین آنا ختم ہونگے۔ نسل پرستی کی بنیاد پر تعصب اور جبر نیا نہیں ۔سرمایہ درانہ ریاستوں میں مختلف اقلیتوں کو نسل پرستی کا ہمیشہ سامنارہاہے۔
یورپ اور امریکہ میں کام اور سیاسی وجوہات کی بناء پر جانے والوں کے خلاف دلائل دے جاتے ہیں ۔اوران کو تعصب اور نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عرب ممالک میں غیر عرب مسلمان ہر قسم کے شہری حقوق سے محروم ہیں۔ امیر ممالک میں تیسری دنیا کے لوگ علیحدہ ،گندے اور سہولت سے محروم علاقوں میں رہائش پر مجبور ہیں ۔
مہاجرین کے خلاف یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ ان کی وجہ سے بیروزگاری بڑھے گی۔لوگ پہلے ہی بے روزگاری کی اذیت کا شکا ر ہیں یوں مزدور طبقے میں یہ سوچ پروان چڑھی جاتی ہے کہ اس کی غربت کی وجہ مہاجرین ہیں،نہ کہ موجود سرمایہ درانہ نظام یہ بات فراموش کر دی جاتی ہے ۔کہ کیا مہاجرین کے آنے سے پہلے بے روزگاری اور غربت نہ تھی ۔
نسل پرستی کا پراپیگنڈہ سرمایہ درانہ نظام کی مخالفت کو کمزور کر دیتا ہے ۔اور عوام اپنے مسائل کا ذمہ دار نظام کے بجائے مہاجرین کو قرار دینا شروع کر دیتے ہیں ۔ یوں نسل پرستی حکمران طبقہ کے مفاد میں جاتی ہے ۔سوشلسٹ ویسے توخود کو انٹرنشلسٹ قرار دیتے نہیں تھکتے لیکن ایسے ہر موقع پر وہ کنفیوز ہو جاتے ہیں ۔اور نسل پرستی کی حمایت کرنے لگتے ہیں سوشلسٹوں کو چائیے کہ وہ نسل پرستی کی بھر پور مخالفت کریں۔کیونکہ اس کی وجہ سے دنیا بھر میں مزدور طبقہ تقسیم ہوتا رہتا ہے۔اور یہ مزدوروں کے استحصال کو آسان بناتا ہے۔
سوشلسٹوں کو واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں بھوک، غربت اور بے روزگاری کی وجہ سرمایہ داری نظام ہے۔جس میں سرمایہ دار طبقہ وسائل پر قابض ہے انقلابیوں کو مظلوم نسل و قوم کے ساتھ مکمل یک جہتی کرنی چائیے تاکہ مزدور طبقہ کی تقسیم کو روکا جا سکے۔اور جبر کرنے والی قوم کے مزدور طبقے کو بتانا چایئے کہ وہ اپنے حکمران طبقے کا ساتھ دینے کے بجائے مظلوم قوم کے محنت کشوں کے ساتھ ملکر اس نظام کے خلاف جدوجہد منظم کرے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: