کارپوریٹ فارمنگ!نیا نوآبادی ڈھانچہ

آج کل پاکستان کے نیوز پیپرز میں کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر پنجاب اور ملک کے مختلف حصوں میں زرعی زمینیں مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں کو لیز فروخت کرنے کے منصووں کا چرچہ عام ہے اور اس کے حق اور مخالفت میں دلیلیں بھی دی جارہی ہیں۔ دراصل کارپوریٹ فارمنگ جدید زراعت کے اندر ایسی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ آپ زراعت کو جدید مشینری اور ان پٹ (Inputs) کے استعمال سے زیادہ پیداوار کے قابل بناتے ہیں اب کوئی بھی ذی شعور زراعت کو جدید تقاضوں پر منظم کرنے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کی مخالفت نہیں کر سکتا ہے۔
لیکن آج ڈبلیو ٹی او کے نفاذ کے بعد ساری دنیا کے اندر ملٹی نیشنل کمپنیوں اور مختلف ملکوں کی طرف سے مختلف خطوں کے اندر زرعی مقاصد کے لیے زمین کا خریدا جانا یا لیز پر لینا کس طرح اجتماعی کاشت کاری کے زمرے میں آتاہے۔
کیا یہ اقدام پسماندہ معیشت کے حامل ممالک کو خوراک کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ترقی یافتہ ممالک پر مزید انحصار پر مجبور نہیں کر پائے گا؟ کیا اس اقدام سے پسماندہ معیشت کے حامل ممالک فوڈ سکیورٹی رسک کا شکار نہیں ہو جائیں گے۔ مختلف ملکوں کی طرف سے لیز یا خریدی گئی زمینوں کی تفصیل اتنی گہری اور خوفناک نظر آتی ہے جس سے ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اصل عزائم بالکل عیاں ہو جاتے ہیں۔
آج کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے دوسرے ملکوں میں زرعی زمینوں کو خریدنے والے بیشتر ممالک وہ ہیں جنہوں نے پہلے بھی انیسویں اور بیسویں صدی میں اپنی کالونیوں کے ذرائع پر ترقی کی ہے۔ ان میں سے بیشتر ممالک کی معیشتیں نہایت مضبوط ہیں لیکن انہیں غذائی اجناس کی کمی کا سامنا ہے۔ اپنے آپ کو غذائی اجناس میں خود کفیل کرنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک نہایت غریب ممالک سے زمین حاصل کر رہے ہیں تاکہ زیادہ فصلیں حاصل کر کے خوراک کے بحران سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔ کارپوریٹ فارمنگ کے لیے زمین خریدنے والے ممالک میں چین، جنوبی کوریا، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چند ایک مغربی ممالک شامل ہیں۔
چینی فرموں نے افریقہ، وسطی ایشیاء، جنوبی امریکہ، جنوب مشرقی ایشیاء اور برما سے زرعی مقاصد کے لیے زمین حاصل کی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی نے زرعی پیداوار کے لیے اندرون سندھ میں 50ہزار ایکڑ زمین خریدنے کیلئے درخواست کی ہے کہ ایک ذرائع کے مطابق دنیا میں اب تک تقریباً زمین کی خریداری کی ایک سو ڈیلز ہو چکی ہیں۔ جنوبی کوریا کی فرم مڈگاسکرحکومت کے ساتھ زمین خریدنے کی ایک ڈیل پر بات چیت کر رہی ہے۔ اگر یہ ڈیل ہو جاتی ہے تو اس طرح سے وہ فرم مڈگاسکر کی نصف سے زائد زرعی زمین خریدلے گی۔ اس ڈیل کو فنانشل ٹائمز نے ایک ’’نیانوآبادیت‘‘ کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ ابو ظہبی کے ایک اخبار کے مطابق متحدہ عرب امارات کی کچھ کمپنیاں بلوچستان میں 40ملین ڈالر سے تقریباً 16187 ہیکٹرز زمین خرید چکی ہیں جہاں وہ غذائی اجناس پیدا کر کے اپنی آبادی کو مہیا کریں گے۔ ان 40ملین ڈالر میں سے بلوچستان کے عوام کو کتنا حصہ ملا ہے یا عوام پر کتنا خرچ ہو گا اس کا کوئی پتہ نہیں ہے؟
متحدہ عرب امارات کی حکومت نے حکومت پاکستان سے پنجاب اور سندھ میں 400سے 500 ملین ڈالر کی ایک سے دو لاکھ ایکڑ زمین خریدنے کے لیے دو طرفہ مذاکرات کیے ہیں جس کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔
اس طرح کی ڈیل اور اس بڑے پیمانے پر زمین خریدنے سے لگتا ہے کہ اب پھر دنیا کے پسماندہ ممالک کو کارپوریٹ فارمنگ کے دلکش نعرے کے ذریعے اپنی ’’نوآبادیت‘‘ بنانے کے پروگرام پر عمل درآمد ہورہا ہے۔
سعودی عرب کی طرف سے مختلف ملکوں میں زرعی زمین خریدنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ سعودی عرب اپنے زیرزمین محدود پانی کے وسائل کو محفوظ کرنا چاہتا ہے اور دوسرے ملکوں میں زمین خریدکر وہاں کے پانی کے وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے مستقبل میں اپنے ملک کو خوراک کے حوالے سے محفوظ بنانے کا پروگرام رکھتا ہے۔ جبکہ ہمارے حکمران اپنے ذاتی مفادات کے لیے ہر چیز داؤ پر لگانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ کیری لوگر بل اوربلیک واٹر کو اسلام آباد میں زمین دینے پر واویلا کرنے والے کیوں خاموش ہیں؟ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت اس منصوبے کو رد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اگر اس سلسلہ میں کوئی روکاوٹ اگر حکومت کو حائل ہے تو وہ صرف آئین کے اندر موجود قانون ہے۔
حالیہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں جس طرح اس مسئلہ سے غیر سنجیدگی کیساتھ پہلو تہی کی گئی ہے وہ سب سے زیادہ شرمناک ہے۔ بعض لوگوں کی طرف سے ناقابل کاشت اراضی کو اس وجہ سے کارپوریٹ فارمنگ کے لیے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: