سوشلسٹ انقلا ب جب محنت کشوں نے سرمایہ داری کا خاتمہ کیا

Lenin

Lenin leader of the Russian revolution

تحریر:نعمان احمد)
سماجوں میں انقلا بات غیر معمولی لمحات اور واقعات ہوتے ہیں ۔’’ٹراٹسکی کے مطابق ‘‘انقلاب کا سب سے ناقابل شک روپ تاریخ کے واقعات میں عوام الناس کی براہ راست مداخلت ہوتا ہے ۔عام حالات میں ریاست چاہے وہ بادشاہت ،آمرانہ یا جمہوری ہو وہ اپنے آپ کو قوم پر حاوی کر لیتی ہے اور تاریخ کو اس کے مخصوص شعبے کے ماہرین بادشاہ ،وزیر ،بیوروکریٹ ،ممبر پارلیمنٹ ،صحافی وغیرہ مرتب کرتے ہیں لیکن ان اہم فیصلہ کن اور نازک لمحات میں جب پرانہ نظام عوام کے لئے مزید قابل برداشت نہیں رہتا تو وہ ان تمام رکاوٹوں کو توڑ دیتے ہیں ،انکو سیاسی اکھاڑے سے باہر پھینک دیتے ہیں اور اپنے روایتی نمائندوں کو جھاڑ کر صاف کر دیتے ہیں اور پھر وہ اپنی مداخلت سے ایک نئے نظام کے بنیادی خدوخال تخلیق کرتے ہیں ۔ہمارے لئے انقلاب کی تاریخ سب سے پہلے عوام الناس کی اپنے مقدر پر اصل حکمرانی حاصل کرنے کے لئے تاریخ کے میدان میں زور اور مداخلت کی تاریخ ہے ۔
1917کا سوشلسٹ انقلاب انسانی تاریخ کا عظیم ترین واقع ہے جب محنت کش طبقے نے پہلی دفعہ شعوری شراکت کے ذریعے سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کر کے محنت کش عوام کے جمہوری کنٹرول میں سوشلسٹ ریاست تشکیل دی اور یوں پہلی د فعہ سماج کی اکثریت نے اپنی حکمرانی قائم کی ۔

پہلی جنگ عظیم کے خاتمے نے دنیا کے اکثر حصوں کی معاشی و سماجی بنیادیں ہلادیں ۔ان حالات میں غربت ،بھوک اور استحصال کا شکار محنت کش عوام تھے ۔پورے یورپ میں مزدور پنچایتوں کا جنم ہورہا تھا معاشی زبوں حالی اور جنگ کے اثرات اذیت ناک شکل اختیار کرگے تھے ان کے خلاف بغاوت میں محنت کش طبقے کی تحریک کو مرکزی حیثیت حاصل تھی ۔جنہوں نے 1917کا روسی انقلاب برپاکیا اس سال فروری میں مزدوروں نے زار روس کی آمریت کا تختہ الٹا اور اکتوبر کے مہینے میں اقتدار اپنے ہاتھوں میں لے لیا اکتوبر انقلاب کی سب سے اہم بات اس کی عالمگیریت تھی مزدور پنچایتوں (سوویتوں )کی فتح نے دنیا کے لاکھوں افراد کی جدوجہدکو بامقصد بنادیا اس وقت روس میں سوشلسٹ انقلاب ایک انکشاف تھا عوام کی بڑی تعداد کے لئے اس کا مطلب جنگ کے خاتمے اور بہتر زندگی کا حصول تھا۔مارکسی تحریک سے وابستہ افراد کے لئے یہ مزدور جمہوریت کا آغاز تھا ۔

’’تمام طاقت سوویت کو ‘‘کا مطلب تھاکہ مزدور طبقے نے اپنے جمہوری کنٹرول میں نظام حکومت چلانا دریافت کر لیا ہے جس کے ذریعے پرانا نظام مکمل طور پر برباد کیا جاسکتا تھا ۔‘‘
پہلی سوویت کا آغاز 1905 ء کے روسی انقلاب میں ہڑتال کمیٹی سے ہوا ۔
جنوری 1905ء میں معصوم مظاہرین کے قتل عام کو خونی اتوار کے نام سے یہ واقعہ منسوب ہوا ۔اس سے بھڑک اٹھنے والی انقلابی تحریک کی رہنمائی روسی مزدور طبقے نے کی ،اگرچہ وہ کل آبادی میں چھوٹی سی اقلیت تھے ۔خونی اتوار کے واقعے نے ہڑتالوں کی لہر پیدا کی ۔پرنٹنگ کے کام میں ٹائپ سیٹ کرنے والے مزدوروں کی ستمبر میں ہڑتال نے پھیل کر پورے ملک کو لپیٹ میں لے کر پہیہ جام کر دیا ۔سینٹ پیٹرز برگ میں فیکٹری کے مزدوروں کے اجلاس میں مزدوروں سے ہڑتال کرنے کی اپیل کی گئی اور ان سے کہا گیا کہ وہ نمائندوں کی ایک کونسل کے لئے اپنے نمائندے چن کر بھیجیں ۔

نومبر کے اختتام تک سوویت (مزدورپنچائیت)180کارخانوں اور 16ٹریڈ یونینوں کی نمائندگی کرتی تھی ۔یہی عمل دوسرے شہر ماسکو میں بھی دہرایا گیا مزدوروں کی اس نئی تنظیم نے دوہرئے اقتدار کی صورت اختیار کر لی۔بالاآخر فوج نے بغاوت کچل دی ۔

لیکن شکست کا مطلب خاتمہ نہیں تھا ۔یہ پہلی جنگ عظیم کے دوران مزدوروں کے حالات تھے ۔جنہوں نے انہیں دوبارہ جدوجہدپر مجبور کر دیا ۔فروری 1917ء میں خواتین کی طرف سے ہڑتال اور غذا کے لئے احتجاج کا عام ہڑتال میں مدغم ہوجانے نے فوج کوبھی بغاوت پر اکسایا ۔جب مزدوروں اور سپاہیوں نے سینٹ پیٹرز برگز میں زار شاہی کا تختہ الٹا تو ان کا پہلا ایکشن مزدوروں اور سپاہیوں پر مشتمل کونسلوں یعنی سوویت کا قیام تھا ۔جس میں نمائندے چن کر انہوں نے اس جدوجہدکو ایک منظم اظہار کی شکل دے دی ۔اسی دوران اعتدال پسند اپوزیشن جماعتوں نے اس کی نظم و نسق سنبھالا اور طاقت حاصل کر لی ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: