ریڈ شرٹس کی جدوجہد اور سوشلزم

تھائی لینڈ میں حکومت اور ریڈ شرٹس کے درمیان جدوجہد کا خاتمہ ریڈ شرٹس کی خونی شکست کی صورت میں سامنے آیا ہے ۔
19مئی کو تھائی آرمی نے ریڈ شرٹس کے کیمپوں میں داخل ہوکر فائرنگ شروع کردی تھائی آرمی نے اعلان کیا کہ باہر آؤ اور مزاحمت چھوڑ دو ورنہ تم مار دیے جاؤ گے ۔
جیسے ہی حملے کا آغاز ہوا تو ریڈ شرتس کے لیڈروں نے جو مظاہرین کو ریاست کے خلاف پر تشدد تصادم میں لے آئے تھے ۔انہوں نے حملے کا مقابلہ کرنے کے بجائے تحریک کے خاتمے کا اعلان کر دیا ریڈ شرٹس کے لیڈر jatuporprompanنے تھائی فوج کے حملے کے بعد اسٹیج پرآکر چیختے ہوئے کہا کہ میں’’ آپ تمام لوگوں سے معافی مانگنا چاہتا ہوں مگر میں مزید انسانی جانوں کا نقصان نہیں چاہتا میں تباہ ہو چکا ہوں ہم شکست تسلیم کرتے ہیں‘‘
ہفتوں طویل جدوجہد جس میں بڑی تعدادمیں احتجاجی مارے گئے اور زخمی ہوئے جب فیصلہ کن لمحات آئے تو ریڈ شرٹس کی جرت مند جدوجہد کے باوجود لیڈر شپ نے اپنی نااہلیت واضح کر دی ۔اس حملے میں 16سے زائد احتجاجی مارے گئے اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ایک مغربی صحافی بھی اسی حملے میں مارا گیا ۔
جو احتجاجی بچانے میں کامیاب ہوئے انہوں نے اہم عمارتوں جسے اسٹاک ایکسچینج کو آگ لگادی۔ میڈیا میں ان واقعات کو ریڈ شرٹس کے پر تشدد رویے کے طورپرپیش کیا گیا ۔جبکہ حقیقت میں یہ تھائی فوج کے ظلم اور ہارتی ہوئی تحریک کی جانب سے غصے کا اظہار تھا ۔جو تھائی حکومت اور دنیا کو بتا رہے تھے کہ ہمارا موقف سنجیدہ ہے اور ہم جدوجہد جاری رکھیں گے
حکومت نے بنکاک اور 23صوبوں میں کرفیو نافذ کردیا یہ ریڈ شرٹس کی عوامی مقبولیت کو ظاہر کر رہا تھا ۔لیکن اس وقت ریڈ شرٹس کو اہم شکست ہوئی ہے ۔
اب یقینی طور پر جرت مند کارکن جو آخر تک جدوجہد کرتے رہے دہشت گردی،اور بغاوت کے مقدمات کا سامنا کریں گے اور اس کا نتیجہ ان کی موت کی صورت میں بھی سامنے آسکتا ہے ۔
ریڈ شرٹس والے غریب کسان ،اور مزدور ہیں جو بنکاک اور دیگر صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں یہ جمہوریت کی بحالی اور فوری انتخابات کا مطالبہ کر رہے تھے ۔یہ کہتے ہیں کہ ان کی جدوجہد اشرافیہ کے خلاف ہے ۔
ان میں بڑی اکثریت سابقہ وزیر اعظم تھاک شناواترا کی تھائی رک تھائی پارٹی کی حمایتوں کی تھی ۔یہ کوئی سرمایہ داری مخالف شخص نہیں تھا بلکہ تھائی لینڈ کا امیر ترین آدمی تھا لیکن اس نے کچھ ایسے اقدامات کئے جو غریب پرور تھے ایسی پالیسیاں جو تھائی لینڈمیں کسی حکومت نے نافذ نہیں کی تھیں اس صورتحال سے تھائی حکمران طبقہ خوف زدہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں فوج نے 2006میں تھاک شناواترا کی حکومت کا تخت الٹ دیا لیکن ایک دفعہ پھر تھاک شناواترا کے حماتیوں کی حکومت قائم ہوگی ۔
2008میں پیلی شرٹس کے نام سے گروپ سامنے آیا جو تھاک شناواترا کی حمایتوں کی حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کردیا ۔یہ فوج اور بادشاہت کے حامی تھے اور بندوق،چاقو اور بمبوں مسلح تھے ۔انہوں نے 2008میں بڑی تعداد میں تشدد کیا اور انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر قبضہ کر لیا تھا ۔ان کے اقدامات پر ان کو فوج کی حمایت حاصل تھی ۔اس طرح فوج نے تھاک شناواترا کیحمایتوں کی حکومت کے خاتمے کا راستہ استوار کیا اور عدالت نے اس کی مکمل حمایت کی ابھیشت دیجاجیو کی حکومت فوج کے کندھوں پر اقتدار میں آئی ہے یہ برطانیہ کے اعلی تعلیمی اداروں میں پڑا ہوا ہے۔ اس کی ڈیموکریٹ پارٹی نے انتخابات میں کبھی اکثریت حاصل نہیں کی ۔اس لئے یہ پارٹی ریاست کی جانب سے ویلفئیر پالیسیوں کے خلاف ہے ۔
نام نہاد جمہوری حکومت فوج کے سہارے قائم ہے گزشتہ 40سالوں میں فوج نے متعدد بار اپنے شہریوں کا قتل عام کیا ہے ۔جو اپنے جمہوری حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے موجود تحریک میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے والوں کا قتل عام کیا گیا اس وقت تھائی لینڈ میں میڈیا اور انٹرنیٹ پر بدترین سنسر نافذ ہے
ریڈ شرٹس کی تحریک پر حملہ تھائی آرمی نے اس وقت کیا۔ جب ریڈ شرتس کی لیڈر شپ نے کہا کہ وہ تصادم مزید نہیں بڑھنے نہیں دیں گے اور انہوں نے مسلح حملے کے خلاف جدوجہدکی کوئی حکمت عملی واضح نہیں کی۔حکومت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ریڈ شرٹس کی تحریک میں جوش مدہم پڑرہا ہے ۔اور لیڈر شپ کے پاس اس وقت اقتدار قبضے کا کوئی لائحہ عمل موجود نہیں ہے یہی وہ نکتہ تھا جس نے ریڈ شرٹس کی جرات مندجدوجہدکی کمزوری کو ظاہر کر دیا ۔
لائحہ عمل کی عدم موجودگی تحریک کی ناکامی کی اہم وجہ تھی ۔حالانکہ تحریک نے بڑے جرآت مندطریقہ کا ر کااستعمال کیااور شہر کومرکز سے بند کردیایہ بہت جرات آمیز قدم تھا لیکن ریڈیکل لائحہ عمل کی عدم موجود کی تحریک کی ناکامی کا باعث بنی ۔
ریڈشرٹس حالانکہ اپنی حمایت شہری غریبوں اور کسانوں سے حاصل کرتے ہیں ۔لیکن انہوں نے کسانوں کو اور شہری محنت کشوں کی جدوجہدکوآزادنہ منظم کیا جس کی وجہ سے عام ہڑتال یا صنعتوں اور اداروں میں عام ہڑتال کی کال نہ دے سکے جو ریڈ شرٹس کی طاقت میں اضافے کا باعث ہوتیں۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ایسی کسی بھی کال کو خطرناک سمجھتے تھے اس سے یہ ممکن ہوسکتا تھا کہ تحریک پر ان کا کنٹرول ختم ہوجائے جو بحرحال ایک طبقاتی سوال تھا۔
مارکس نے یورپ میں 1848میں جمہوری تحریکوں کی ناکامی کے بعد کہا تھا کہ سرمایہ دار طبقہ غیر انقلابی طبقہ بن چکا ہے جو بادشاہت اور غیر جمہوری حکومتوں کے خلاف انقلابی جدوجہد کو پروان چڑھنے کی اہلیت کھوچکا ہے کیونکہ وہ محنت کش طبقے سے خوفزدہ ہے ۔اور صرف محنت کش عوام ہی واحد انقلابی طاقت ہے جو انقلابی تحریک کو اس کی فتح تک لے جا سکتی ہے ۔کیونکہ محنت کش عوام صرف جمہوریت کی ہی جدوجہدنہیں کریں گے بلکہ وہ اس سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد میں تبدیلی کردیں گے۔
اپاپوازم انقلابی تحریک کے لئے خطرناک ہے ۔پاپو ازم میں مختلف طبقاتی مفادات کو باہم منسلک کیا جاتا ہے اور مختلف طبقات کو پارٹی کے پیچھے متحدہ رکھنے کا اصل مقصد آخری تجزیہ سرمایہ دارانہ ریاست کو بچانا ہوتا
ریڈ شرٹس کے لیڈروں نے بھی یہی کیا اور کسانوں اور شہری غریبوں کو حکومت کے خلاف جدوجہد میں استعمال کیا ۔
سوشلسٹوں کے لئے ہمیشہ محنت کشوں ،غریبوں کی اپنی جدوجہد کے ذریعے سے آزادی اہم سوال رہا ہے کیا وہ طبقاتی بنیادوں پر منظم ہیں اور اپنے مفادات کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں تھاکس اور دیگر تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ پر تشدد حملے تحریک کو گوریلا جنگ کی طرف لے جاسکتے ہیں اور یقینی طور پر ایسا ممکن ہے ۔لیکن ریڈشرٹس کی تحریک کو کامیاب ہونے کے لئے نہ صرف موجودہ لیڈر شپ سے آزاد ہونا ہوگا بلکہ طبقاتی بنیا دوں پر خود کو منظم کرنا ہوگا یہ جمہوری جدوجہد کی کامیابی کے لئے بھی ضروری ہے ۔تھائی لینڈ کے محنت کشوں ،کسانوں اور غریبوں کے مسائل کا حل ان کی اپنی جدوجہد جو سرمایہ داروں سے آزاد ہواور ایسی پارٹی سے منسلک ہو جونظریہ مسلسل انقلاب کے لائحہ عمل پر یقین رکھتی ہو ۔یوں ہی یہ ممکن ہوسکتاایسانظام قائم ہو جہاں پیداوار کا مقصد منافع کی بجائے انسانی ضروریات پیدا کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: