فلو ٹیلا پراسرائیلی حملہ

غزہ کی طرف امدادی سامان لے کر جانے والے فلو ٹیلا پر کھلے سمندر میں اسرائیل نے وحشیانہ حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں 19سے زائد کارکن ہلاک ہوئے اور تین زخمی ہوئے ۔جب اسرائیلی کمانڈو نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی ۔ پاکستان میں یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہوگیا کہ فلو ٹیلا میں تین پاکستانی بھی جارہے تھے خاصکرمشہور ٹی وی اینکر طلعت حسین بھی شامل تھے
آزاد غزہ تحریک جس نے فلو ٹیلاکو آرگنائز کیا تھا کہا کہ اسرائیلی کمانڈوز نے کارکنان پر فائرنگ کر دی اور یہ کہنا کہ کارکنان پہلے نے حملہ کیا ہے سفید جھوٹ ہے ۔حالانکہ یہ کارکنان کا حق ہے کہ وہ وحشیانہ اقدام کے خلاف اپنا دفاع کرتے ۔لیکن آرگنائزرز نے یہ واضح کردیا کہ انہوں نے حملہ نہیں کیا تھا ۔
فلو ٹیلا پر حملے کی واحد وجہ یہ تھی یہ اسرائیل کی تین سالہ غیر قانونی محاصرے کو چیلنج کر رہے تھے اور غزہ کے باشندوں کے لئے بنیادی ضروریات ،خوراک ادویات اور تعمیراتی سامان لے کر جارہے تھے تاکہ ان گھروں اور انفرسٹرکچر کی تعمیر کی جا سکے جو اسرائیل کے وحشیانہ حملوں میں تباہ ہو چکے تھے۔فلوئیلا پر دس ہزار ٹن کا امدادی سامان جارہا تھا جس میں ادویات،تعمیراتی سامان،کیمپ ان فلسطینیوں کے لئے تھے جو 2008,09کی بمباری کے دوران اپنے گھرکھو چکے تھے اور پانچ سو electric chairs wheelان فلسطینیوں کے لئے تھے ۔جو
بمباری میں معزور ہوگئے تھے ۔
بین الاقوامی قانون کے منافعی وحشیانہ حملہ تھا جو غزہ سے 150کلومیٹر دور اور اسرائیلی سرحد سے باہر کیا گیا ۔
اگر ایسا حملہ کسی اور ریاست کی طرف سے ہوتا جیسے ایران تو اس کی فوری طور پر مذمت ہوتی اور اس پر پابندیاں لگا دی جاتی۔
دنیا بھر میں لوگوں نے اسرائیلی جارحیت کا ایک بار پھر مظاہرہ دیکھا ہے جوخطے میں امریکہ کابنیادی اتحادی نے کیا۔ اس واقع کی ترکی اور دیگر مسلم ممالک کی طرف سے مذمت ہوئی ہے یہ مذمت صرف زبانی جمع خرچ ہے اگر وہ اس قتل عام کو روکنا چاہیں تو سامراجی طاقتوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں ،مثال کے طور تیل کے ذریعے لیکن وہ ایسا اس لئے نہیں کرتے کہ اسرائیل ایک ایٹمی طاقت ہے اور وہ ان پر حملہ کر سکتا ہے ۔بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک کے حکمران طبقے کے مفادات سامراجی سرمایہ سے جڑے ہوئے ہیں ۔ یورپ کی طرف سے صرف افسوس ظاہر کیا گیا جبکہ امریکہ نے اس کی مذمت کرنے سے انکار کردیا ہے
ان حالات میں ذمہ داری دنیا بھر کے محنت کش عوام پر آتیہے کہ وہ فلسطین عوام کے دفاع اور اسرائیل کی وحشت کی مخالفت کریں ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: