لاہور: احمدیوں پر خونی حملہ

قتل عام
28 مئی کولاہور ایک بارپھر دھماکوں سے لرز گیا جب دو احمدی عبادت گاہوں گڑھی شاہواور ماڈل ٹاؤن میں دہشت گردوں نے 97افراد کو بموں اورگولیوں کا نشانہ بناکر ہلاک کر دیا۔ یہ نہایت ہی افسوس ناک اورقابل مذمت حادثہ تھا۔جس میں بڑی تعداد میں انسان مارے گئے ۔جس میں پولیس اور دیگر ادارو ں کے لوگ بھی شامل تھے۔ان واقعات نے عوام کو جھنجوڑ دیا لیکن اعلی انتظامیہ نے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔احمدیوں کے نشانہ بننے کی وجہ ان کا اقلیت ہونا تھا دہشت گردی کا مقصد خوف و دہشت کا ماحول قائم کر کے عوام کو عدم تحفظ کا شکار بننا تھا
’’ حکومتی ہمدردی‘‘
حکومتی اراکین نے حسب معمول روایتی بیانات دئے،دہشت گردی کی مخالفت کی گئی ۔ہمیشہ کی طرح پہلے اس واقعے میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے اور بعد ازاں طالبان پر الزام عائد کردیا گیا اور یوں اس المیہ کے رونما ہونے کی بنیادی وجوہات پر پردہ ڈالا گیاریاستی ااپریشن کو پختونخواسے جنوبی پنجاب تک پھیلنے کی مہم کا آغاز کر دیا گیا ۔وزیر اعظم گیلانی ،صدر آصف علی زرداری ،شہباز شریف کوئی بھی مظلوم احمدیوں کی دلجوئی کرنے نہ گیا اس سے اندازہوتا ہے کہ انہیں اقلیتوں کا کس قدر خیال ہے البتہ جب زرداری کے دوست لال جی اغواء ہوئے تو زرداری کراچی پہنچ جاتے ہیں اور لال جی کو بازیاب کروالیا جاتا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ قادیانی ہمارے بھائی ہیں ۔لیکن وہ بھی ان کو ملنے نہیں گئے جب کہ یہ حادثہ ان کے ہوم ٹاؤن میں ہوا۔
احمدیوں کا اقلیت بنانا اور مذہبی شدت پسندی میں اضافہ
احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے عمل کا آغا ز50کی دہائی سے ہوا ۔یہ وہی عہد تھاجب قرار داد مقاصد کے تحت پاکستان کواسلامی بنانے کی کوششوں کا آغاز تھا جس کا مقصدعوام کو اپنے حقوق کی جدوجہدکو علیحدہ کرنا ،نفرت کی سیاست کو پھیلانا ، قومی جبر کے خلاف جدوجہد کو مسلم قومیت کے نام پر کچلانااور اقلیتوں کودوسرے درجے کے شہری بنانے کاعمل کا آغاز ہوا،تاکہ نااہل حکمران طبقہ اپنی حاکمیت برقرار رکھ سکے۔ جب بھٹو کے دور حکومت میں احمدیوں کو اقلیت قراردیا گیا تو بھٹو نے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کو یہ حل برا لگے لیکن اس سے احمدیوں کو تحفظ مل جائے گا ۔لیکن ہوا اس کے برعکس وہ مضبوط ہوئے جو مذہبی سیاست کے علمبردار تھے اور اپنی مرضی سماج پر مسلط کرنا چاہتے تھے ۔احمدیوں اور دیگر اقلیتوں کے اوپر مذہب کے نام پر حملے تیز ہوگئے ۔مذہبی عدم رواداری میں شدید اضافہ ہوا۔
حکومت ،درسی کتابوں،اخبارات میں اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنادیا گیا یوں اقلیتیں مرکزی دھارے سے علیحدہ ہو کر تنگ نظر مذہبی سوچ کی حامی بن گئیں یہ صورت حال فرقہ واریت کے علم برداروں کے لئے بہترین تھی البتہ اس تبدیلی کی جدوجہد متاثرہوئی کہ محنت کش طبقاتی جدوجہد کی مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوگے
احتجاج ، محنت کش عوام اور سوشلسٹ
انسانی قتل عام جس سے ہر کوئی دکھی تھا لیکن اس کے خلاف وہ رد عمل سامنے نہ آیا جو آنا چائیے تھا ۔اسے صرف دہشت گردی کے ایک اور عمل کے طور پر پیش کیا گیا ۔ریاست نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ ان حملوں کی وجہ وہ سوچ ہے جو ریاست نے مخصو ص مقاصد کے تحت پروان چڑھائی ہے اور اب اس واقعے کو بھی ریاستی آپریشنوں کو جاری اور مزیدپھیلنے کے لئے استعمال کیا جارہاہے۔حد تو یہ ہوئی کہ اس حادثہ کا ذمہ داربھی احمدیوں کوقرار دیا گیاکہ ان واقعات کا مقصد احمدیوں پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ہے اخبارات میں بھی نفرت پھیلنے کے عمل کوروکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اور کہانیاں گھڑ کر احمدیوں کو ہی قصوروار قراردیا گیا۔
محنت کش عوام کی ایسے واقعات پر خاموشی نقصان دہ ہے ۔حکمران طبقہ اقلیتوں،قومی آزادی کے علمبرداروں ،اور جنگ مخالفوں پر تشدد کرتا ہے ۔محنت کش جبر کی مخالفت نہیں کرتے تو حکمران طبقہ مضبوط ہوتاہے محنت کشوں میں مذہبی،قومی اورلسانی تقسیمیں مضبوط ہوتی ہیں ۔یوں محنت کشوں کی تحریک نہ صرف کمزورہوتی ہے بلکہ ان کوحکمرانوں کے شدیدحملوں کا سامنابھی ہوتا ہے ۔
ان حالات میں ترقی پسندوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ احمدیوں ،بلکہ شیعوں اور دیگر اقلیتوں پر ہونے والے حملوں ،بلوچستان اورپختونخواہ پر ریاستی جبر کے خلاف جدوجہد منظم کریں۔
اس لیے سوشلسٹ مذہبی جبر اور فرقہ واریت کیخلاف ہیں ۔حکمران محنت کشوں میں تقسیم چاہتے ہیں ۔اس لئے وہمذہبی فرقہ واریت کی سر پرستی کرتے ہیں محنت کشوں کے پاس ایک ہی حل ہے کہ وہ مل کر مذہبی جبر،فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد کریں ۔یوں ہی ممکن ہے کہ سرمایہ داری نظام کے خلاف منظم تحریک تعمیر کی جاسکے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: