ادب اور مارکس ازم

مارکسزم بنیادی طور پر ایک سائنس ہے ۔جس میں سماجیات کو تاریخی مادیت اور جدلیت کے تناظر میں سمجھنے اور اس کو بدلنے کی صلاحیت مو جود ہے ۔دوسری طرف ادب کا تعلق بنیادی طور پر جذبات و محسوسات اور حسیات سے ہے ۔جو سوچ اور احساس کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور محسوس کرنے کی حس کو جلا بخشتا ہے ۔اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو مارکسزم اور ادب کا تعلق ایک انتہائی سطحی اور پست نوعیت کا ہوتا ہے بلکہ اگر زیادہ واضح انداز میں بات کی جائے تو مارکسزم جیسی سائنس کا ادب جیسے ایک جذباتی اور حسیاتی موضوع سے کوئی سروکار ہی نظر نہیں آتا ۔یہی وجہ ہے کہ کہی مارکسٹ تنقید نگار ایک ہی جملے میں گزشتہ دس ہزار سالوں سے بھی زائد عرصے میں تخلیق کئے جانے والے ادب کو ’’جمالیاتی‘‘’’جذباتی‘‘اور’’ غیر منطقی‘‘کہہ کر سرے سے ہی رد کر دیتے ہیں ۔
سوویت یونین اور ماواسٹ چین میں جب اسٹالن ازم کے تحت کلاسیکی ادبی شاہکار تحریروں اور کتابوں پر پابندی لگائی گئی تو اس کے ساتھ نہ صرف ان ممالک (خاص طور پر روس )میں ادب کا کلاسک ازم اور اعلی روس ادبی روایت سے ناطہ کٹ گیا بلکہ ریاستی سرپرستی میں ’’مزدور ادب ‘‘ کے نام جو تخلیق کیا گیا وہ کلاسیکی روسی ادب (جو بلاشبہ اپنی روایت میں دیگر ممالک کے ادب سے ایک مستشنی مقام رکھتا تھا صکہ روس میں ادب کا آغاز ہی حقیقت نگاری سے ہوا تھا کے عشر و عشیر کے برابر بھی نہیں تھا ۔
پشکن،دوستوفسکی ،ٹالسٹائی ،میخائل،بلگاکوف اور اکسا کوف کلاسیکی روس ادب کی مثالیں ہیں ادب کے ساتھ مارکسزم کے نام پر جو سلوک کیا گیا وہ درست تھا ؟یا کیا حقیقت میں دنیا میں اب تک تخلیق کیا گیا سارا ادب محض ’’جذباتی‘‘اور ’’غیر منطقی‘‘ہی ہے ؟ اس سوال کے جواب کے لئے ہمیں ادب پر ہونے والی بحثوں سے رجوع کرنا پڑے گا ۔
1496 میں جب فلورنس (اٹلی) میں نشاتہ ثانیہ یا احیائے علوم کی تحریک شروع ہوئی تو اس تحریک کا سب سے پہلا اثر ’’آرٹ‘‘پر ہی پڑا ۔ریاست کی مذہب سے آزادی کے بعد آرٹ کی تخلیق میں چرچ یا ریاست کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں تھی ۔اس لئے منطقی طور پر ریاستی جبر کے خلاف رد عمل میں ایسا آرٹ تخلیق ہونا شروع ہوا جس کے ’’ تخلیق کاروں‘‘ نے ایسے نعرے بلند کئے کہ آرٹ یا ادب کو ریاست یا مذہب کے کلیوں یا فارمولوں سے نہیں بلکہ خود آرٹ یا ادب کے اصولوں سے سمجھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے ۔اس سے خرد مندی کا نظریہ بھی ابھرا 16صدی یا 17ویں صدیوں میں جب نشاتہ ثانیہ کی یہ تحریک مغربی یورپ میں بھی اپنا اثر دکھانے لگی تو اس نے یقیناًانگریزی ،لاطینی،فرانسیسی اور جرمن ادیبوں کو بھی اس نظرئے سے متاثر کیا کہ آرٹ یا ادب کو آرٹ یا ادب کے ہی اصولوں اور کلیوں سے پرکھنے اور جاننے کی ضرورت ہے ۔اس سوچ نے یورپ میں ’’رومانیت ‘‘کی بنیاد رکھی ۔انقلاب فرانس (1789 91)میں رومانیت کے حامی ادیبوں ،دانشوروں،شاعروں کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل تھا ۔اس لئے انقلاب فرانس کے بعد ادب اور آرٹ میں بھی دیگر ثقافتی اور سیاسی رویوں کی طرح رومانیت کے نظرئے کی گہری چھاپ رہی ۔روسو ،کانٹ اور شلائر ماخر اس کی مثالیں ہیں ۔
اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایک ہزار سے زائد عرصے سے مذہب کے نام پر یورپ کی سوچ اور فکر پر جو پہرے بٹھائے تھے وہ ہٹنے شروع ہو گئے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ 15ویں صدی کے بعد آرٹ ،ادب فلسفہ سیاسیات اور سائنس کی جو اعلی تخلیقات آئیں وہ پوری عالم انسانیت کے لئے کسی انمول تحفے سے کم نہیں تھیں۔مگر جب ادب میں ایسی رومانیت اورر مزیت کے نام پر فن برائے فن (یہ نعرہ سب سے پہلے وکٹر زین نے لگایا تھا )کا نعرہ بلند ہوا تو اس یقیناًادب ’’جذباتی‘‘محض ’’جمالیاتی‘‘’’غیر منطقی نظر آنے لگا فن برائے فن کا مفہوم یہ ہے کہ حسن خود اپنا معیار ہے خود اپنی غایت ہے اسے کسی خارجی معیار پر جانچا نہیں جا سکتا ۔جمالیات اپنے ہی اصولوں کو مقصد بالزات سمجھتی ہے اور انہیں حسن ذوق کا واحد معیار مانتی ہے ’’فن برائے فن ‘‘ کے علمبرداروں کے مطابق ایسے مقاصد کے حصول کو وسیلہ نہیں بنایا جاسکتا جو جمالیات کے حلقہ تعارف سے باہر ہوں ان کے مطابق فن یا ادب کو سیاسیات اخلاق یا نظرئے کی حدود میں مقید نہیں کیا جاسکتا ۔اگر ’’فن برائے فن‘‘اور’’ادب برائے ادب ‘‘کے حامیوں کے ان تصورات کو دیکھا جائے تو بادشاہ نیرو نے روم کو جلا کر خاکستر کر دیا تھا تو اہل اخلاق بے شک اس کی مذمت کرتے رہے ان کے نزدیک سارے شہر کا رقص کرتے ہوئے فلک شیر شعلوں کی صورت میں بھڑکنا ایک حسین منظر پیش کرتا تھا۔رومانیت کا سب سے نمائیاں پہلو یہ ہے کہ اس میں پر جوش جذبات کے بے ساختہ اظہار کو اولین اہمیت دی جاتی ہے اس میں موضوع ہیت سے کہیں زیادہ اہم ہیں رومانوی ناول نگار ایسا ماحول پیش کرتے ہیں کہ جس میں ججوبگی اور مصنوعیت کا عمل دخل ہو ۔ان لوگوں نے عجیب و غریب مہمات ،بھوت پریت کے قصے ،شکستہ محلات ،ناکام عشق، برباد رئیس زادے کے حالات ہی پیش کئے ۔
انگریزی میں رومانیت کا آغاز 1798میں ورڈز ورتھ اور کولرج کی فطرت پر ستانہ نظموں سے ہوا ۔اس کے بعد شیل اور کیٹس نے اس کو جاری رکھا ۔فرانس نے اس رومانوی تحریک کو وکٹر ہیوگور اور الگزنڈرڈو ما نے 17ویں صدی میں بڑھاوا دیا رومانیت کے اس نظرئے کے خلاف 19ویں صدی کے وسط میں مغربی یورپ بالخصوص جرمن میں حقیقت پسندی کے خدو خال واضح ہونے لگے ۔ایجابیت،افادیت،نتائجیت اور جدل مادیت حقیقت پسندی کے اس رحجان ہی کی مختلف صورتیں سمجھی جاتی ہیں ۔91ویں صدی میں ہی عوام کی بیداری کے آثار محسوس ہونے لگے تھے۔ اس عہد کے اکثر اہل قلم زیریں متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے ۔جو دوسرے طبقے کے معاشرتی تفوق اور اقتصادی تسلط سے نالاں تھے ۔اس لئے ان ادیبوں کے عوامی زندگی سے دلچسپی اور ہمدردی پیدا ہونا شروع ہو گئی چنانچہ جرمن،فرانس،انگلستان اور روس کے شاعر اور ناول نگار روزمرہ کی شہری اور دیہاتی زندگی پیش کرنے لگے ۔اس طرح ادب میں حقیقت نگاری کی داغ بیل پڑی رفت رفتہ رفتہ یہ رحجان دنیائے ادب میں ایک مستقل تحریک کی صورت اختیا ر کر گیا ۔برطانیہ میں مریا جورتھ نے سب سے پہلے دیہاتی زندگی کے جیتے جاگتے نمونے پیش کئے۔ڈکنز کے ناول ایڈورڈکار پینٹر کے قصوں میں کسانوں کے مسائل تھیکرے اور برناڈ شاہ کے ڈراموں میں امراء کی منافقت اور فرانس میں بالزا کی ،فلائپر اورستان وال کے ناولوں میں حقیقت پسندی کا بھرپور استعمال اور اظہار کیا گیا ۔حقیقت نگاری ہی کے اس ادبی رویے نے بیسوی صدی کے اوائل میں ترقی پسندی کا نام پایا ۔
کنگ ڈیوڈو،کورٹس فورڈ،برناڈ شاہ ڈکنز،ہارڈی،برناڈی،والٹیر،ویگراں ہٹی ون، پریس،ٹریس شیلور،نٹرگار اس حقیقت پسند سوچ اور رویے کی واضح مثالیں ہیں۔
یورپ سے باہر نکل کر اگر ہم ان تحریکوں کے برصغیر میں ادب پر اثرات کا ایک طاہرانہ جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ20 ویں صدی کی تیسری دہائی میں ہندوستان کے سیاسی،سماجی اور معاشی حالات نے یہاں کے کئی ادیبوں پر اپنے اثرات ڈالنے شروع کردئے۔اور انہوں نے اپنے عہد کی کئی ادیبوں پر اپنے اثرات ڈالنے شروع کردئے اور انہوں نے اپنے عہد کی کئی صادقتوں کا گہرا ادراک حاصل کیا اور یہیں سے برصغیرمیں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا۔اگرچہ ادبی روایات کی داخلیت اور انفرادیت پر ایک بڑا حملہ سرسید کی تحریک سے بھی ہوامگر سرسید کی خارجیت کیونکہ انگریز سامراج سے مصالحت پر مبنی تھی اور دوسری طرف ترقی پسندوں کے ہاں بدلتے ہوئے حالات میں ان کی خارجیت اور اجتماعیت کی اساس طبقاتی شعور اور نوآبادیاتی نظام سے بیزاری پر تھی اور یوں اپنے دور کے مذہبی، سیاسی، سماجی اور معاشی تضادات کا نہ صرف بھرپور تجزیہ کیا بلکہ ان کی بنیاد پر ایک نئے شعور کو ادب میں فروغ دیا ۔ دوسری طرف برصغیر میں رومانیت کی تحریک سے متاثر ہو کر حلقہ ارباب ذوق کی تحریک کی بنیاد پڑی(میرا جی اس کا روح روں تھا)اس تحریک میں ہندوستان کی داخلیت پسندی وانفردیت کی روایت شامل تھی جس کا کوئی واضح نصب العین یا مقصد ہی نہیں تھا۔ اس حلقہ کے لوگوں نے اس لیے’’ادب برائے ادب‘‘کے نعرے کو بھی ہوا دی۔اور اپنے عہد اور اس کے سماجی رویوں، سیاسی اور معاشی تقاضوں سے ماروا ہوکرایسا ادب تخلیق کیاگیا کہ جو داخلیت، خارج سے بیزاری، انفرادیت، زوال پسندی اور رجعت پسندی کا مظہر تھا۔
(یورپی رومانیت کے زیر اثر ادب کی طرح) یہی وجہ ہے ان کے ہاں نظریاتی سطح پر آفاقی حقیقتوں اورلازول جمالیاتی صداقتوں ہی کواپنے موضوعات قرار دیا جاتارہاہے۔ اس سے مرادیہ ہے کہ موجودہ زوال ، بے بسی،غربت، جہالت، تشدد، بیماری اور بے یقینی کی صورتحال کو نظرانداز کر کے فقط فنی پارے ہی کو اہمیت دی جائے جب کہ حقیقت میں یہ جمالیاتی صداقتیں یا آفاقی قدریں ایک مخصوص معروض سے ماورا انہیں ہوتی اگر انسان کی سماجی زندگی کی تلخیوں سے انہیں ماورا کر دیا جائے تو یہ مخصوص رویہ زندگی کو تلخ تر کردیتا ہے۔اردو ادب میں رومانیت کا اظہار جن ادیبوں کی تخلیقات میں نمایاں ہے ان میں نصیر احمد جامعی حسن عسکری،ن م راشد انتظار حسین،قراتہ العین حیدر، علی اصغر حکمت،اشفاق علی،بانوقدسیہ ممتاز مفتی اور مجید امجد نمایاں ہیں ۔
درج بالا تجزئے سے ادب کے بڑے رحجانات سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ ادب کے معیار کو پرکھنے کی کسوٹی یہی ہے کہ اس کی تخلیق میں خارجیت نہ کہ داخلیت کے عنصر کو تلاش کیا جائے یہ زندگی کی تلخیوں کو کم کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہو اور سماجی زندگی کی جمالیاتی قدروں اور صداقتوں کو آفاقی جمالیاتی قدروں سے ہم آہنگ کرنے کی ذمہ داریوں سے عہدہ بر ہو رہا ہو یہی موثر اور پائیدار ادب ہوتاہے ایسا ادیب یا شاعر جو اپنی فکر کو سماجی سیاسی تقاضوں سے ہم آہنگ کرتا ہے اس کی تخلیقات میں امید حوصلہ اور جرات جیسے عناصر در آتے ہیں ۔پس ایسا ادب جو براہ راست سماج سے متاثر ہوتا ہے وہ سماج کو ان معنوں میں بھی متاثر کرتا ہے اور نئے نئے خواب ،امنگیں اور آرزوئیں بھی پیدا کرتا ہے ۔
اب اس کسوٹی (حقیقت پسندی)سے ہم باآسانی تعین کرنے میں ہم کامیاب ہو جاتے ہیں کہ معلوم تاریخ کی سب سے قدیم تہذیب سومیریا کا فطرت کی چرہ دستیوں سے مجبورا انسان کا کوئیدکھ بھرا گیت ہو یا فرعونوں کے عہد میں قدیم مصر میں لگان کے ہاتھوں مجبور کسان کا نوحہ ہو یا قدیم ہند میں یونانی فوج کے ظلموں کے خلاف کسی عام ہندوستانی کا مزاحمت نعرہ ہو یا یونان میں کسی غلام کا اپنے آقا کے خلاف شعر ہو جاگیرداری عہد کے یورپ کی کسی مجبور دیقان کی جاگیردار کے ظلم کے خلاف شاعری ہو یا صنعتی معاشرے میں مزدور یا زیریں طبقے کے گھرانے کے احوال کا ناول ہو یا سرمایہ داروں کی منافقت کا خوبصورت افسانہ ہو یہ سراسر مارکسز م کے فلسفے کی ہی ایک جمالیاتی شکل ہو گی ۔جس کا مارکسزم سے کوئی بھی تضاد نہیں بنتا ۔بلکہ اگر سچ پوچھا جائے تو ایسا ادب جو حقیقت پسندی پر مبنی ہوگا اور جس میں جمالیات کے تقاضے بھی پورے کئے جائیں گے تو ایسا ادب مارکسٹ تحریکون کے لئے بھی معاون ثابت ہو گا ۔یہاں جمالیاتی کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر حقیقت پسندی پر مبنی ادب میں جمالیاتی حس نہیں ہو گی تو اس سے جنم لینے والا ادب محض ’’پراپیگینڈہ ادب‘‘ہی بن جائے گا اور اس پراپیگینڈے ادب کی ایک مثال ہمارے سامنے سٹالسٹ روس کی صورت میں موجود ہے ۔اس لئے ادب کے نام پر ’’سیاسی پمفلٹ‘‘کو جنم لینے سے روکنے کے لئے جمالیاتی کی شرط بنیادی ہے ۔آخر میں اس سارے تجزئے کو تقویت دینے کے لئے مارکس کا یہ جملہ بالکل موضوع ہے جو اس نے 1854میں لکھا تھا ’’ٹھیکرے روڈ،ڈکنز،ہارڈی،گاسکل اور بروٹنی نے ایسا ادب تخلیق کیا کہ جس نے دنیا کو پیشہ ور سیاستدانوں ،اخلاقیات کے علمبرداروں اور مورخوں سے زیادہ حقیقت اور سچائی سے روشناس کرایا ۔‘‘

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: