حکمرانوں کا بجٹ۔۔۔۔۔۔۔۔محنت کش عوام کی بدحالی

تحریرکامریڈ:شہزاد
3259کھرب روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا جو پچھلے سال سے گیارہ فیصد زائد ہے بجٹ خسارہ 685ارب روپے ہے ۔پہلے سے پریشان محنت کش عوام کے لئے موجود بجٹ مہنگائی کا طوفان بن کر آیاہے جو ان کی زندگیوں کو مزید اجیرن بنا دے گا ۔حکمران طبقے نے بحران سے نکلنے کے لئے تمام بوجھ محنت کشوں پر ڈال دیا ہے سرمایہ داروں کو ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے اور فوجی بجٹ میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
بنیادی اشیاء کی سبسڈی کا خاتمہ :
فوجی بجٹ میں ایک کھرب کا اضافہ ہوا ہے۔ لیکن بنیادی اشیاء استعمال پر دی جانے والی سبسڈیز کا خاتمہ کر دیا ہے یوٹیلیٹی اسٹور زمیں دستیاب اشیاء اب رعایتی قیمتوں پر دستیاب نہیں دی گئیں ۔حکومت نے اس مد میں 103ارب روپے کی امداد ختم کر دی ہے محنت کشوں کو آٹا،گھی،چینی،دالیں اور چاول جیسی اشیاء مہنگے داموں ملیں گی ۔زرعی اجناس پر بھی سبسڈیز ختم کر دی گئی ہے جنرل سیل ٹیکس کی شرح میں ایک فیصد اضافے کا بوجھ بھی محنت کشوں پر پڑے گا ۔اس کے ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان لائے گا ۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ:
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں50 فیصد اضافے کو بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ مہنگائی کے مقابلے میں یہ اضافہ نہیں کمی ہے کیونکہ پچھلے عرصے میں سو فیصد سے زائد مہنگائی ہوئی ہے ۔لیکن اس کے ساتھ محنت کشوں کی تاریخی حاصلات پر بھی حملہ ہورہا ہے یعنی ان کا پے اسکیل جو 1973میں بڑی جدوجہد کے بعد حاصل کیا گیا تھاختم کیا جارہا ہیں جس سے میڈیکل ،ٹرانسپورٹ اور پینشن ختم ہو جائے گی سرکاری محکموں میں کام کرنے والوں کی ترقی کو ناممکن بنایا جارہا ہے، تمام الاونسز کو بنیادی تنخواہ میں جمع کر دیا جائے گا ۔اس سے تنخواہ تو زیادہ لگے گی مگر حقیقت میں اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا تین سال بعد یہ تمام الاوئنسز سے محروم ہو جائیں گے یہ پینشن بھی ختم کر رہے ہیں بجٹ سرکاری ملازمین کے لئے دھوکا ہے اور اس میں ان کی ملازمت کے تحفظ پر بھی حملہ کیا گیا ہے ۔
بھوک کا شکار:
سویئزرلینڈ کے ایک اہم ادارے کی 2جون2010کے رپورٹ کے مطابق پاکستان کی نصف آبادی (48.61)کو غذائی قلت کا سامنا ہے یعنی یہ بھوک کا شکار ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غریبوں کی قوت خرید کم ہوتی جارہی ہے ۔چنانچہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق آٹا خریدنے کے قابل بھی نہیں رہے گزشتہ ایک سال میں پاکستان میں گیہوں کی کھپت 10فیصد کی زبردست کمی ہوئی ہے اس وقت 7کروڑ کے قریب لوگ انتہائی غربت کا شکار ہیں اور ان کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں آرہی ہے ۔
قرضوں کا بڑھتا ہوا حجم:
پاکستانی معیشت غیر ملکی قرضوں کے سہارے چل رہی ہے لیکن جن شرائط اور شرح سود پر قر ضے حاصل کئے جارہے ہیں ۔اس سے معیشت تو مستحکم نہیں ہو سکتی البتہ دیوالیہ پن کا خطرہ مستقل رہے گا ۔موجودہ مالی سال میں پاکستان نے پہلی دفعہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد قرضے حاصل کئے ہیں ۔اس وقت مجموعی قرضے 8.922کھرب روپے ہیں ۔یہG D P کے 59.3فیصد کے برابرہیں موجودہ صورتحال میں جب معیشت کا دارومدار قرضوں پر ہے تو اس میں شرح مزید اضافہ ہوگا اور یہ G D Pکے60فیصد سے تجاوز کر جائے گی ۔یہ خطرناک صورتحال ہے کیونکہ قرضوں کا سود بھی ہوگا جو یقینی طور پر بڑھے گا
حقیقت تو یہ ہے کہ ان قرضوں کی بڑی مقدار پہلے سے لئے ہوئے قرضوں کے سود میں چلی جاتی ہے پھر جو باقی رہ جاتا ہے وہ دفاع کے سازوسامان کی خریداری میں نکل جاتا ہے ۔
مہنگائی کا طوفان:
پٹرول کے نرخوں میں 30فیصد ،مٹی کے تیل کے نرخوں میں 86فیصد اور ڈیزل کے نرخوں میں 100فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیابجلی کے نرخوں میں دو سالوں میں 60فیصد اضافہ ہوا ہے ۔
جب کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 25فیصد کمی کی گئی ہے۔معیشت کی شرح ترقی2.6فیصد سالانہ رہی ۔موجودہ مالی سال میں بیرونی سرمایہ کاری 2ارب ڈالر تک رہ جائے گی یہ تشویشناک کمی ہے۔
حکمران طبقہ کا بجٹ:
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مختص رقوم میں بھی تسلسل کے ساتھ کٹوتی کی جارہی ہے ۔بجٹ کا بنیادی مقصد ترقیاتی پروگراموں میں کٹوتی ،حکومتی سبسڈی کے خاتمے اور تنخواہ میں اضافے کے نام پر سرکاری ملازمین پر حملہ اس کے لئے مشرف دور بد نام وزیر حفیظ شیخ کو لایا گیا ہے ۔
موجودہ بجٹ کا مقصد آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک مقامی بینکوں کے قرضوں پر سود کو یقینی بنانا ہے ۔
لیکن اس کے ساتھ فوج کے بجٹ میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک کھرب کا اضافہ کر دیا ہے۔جب کہ تین سالوں میں پاکستان پر 94ڈراؤن حملے ہو چکے ہیں ،مقامی سرمایہ داروں جیسے ٹیکسٹائیل کو جو چھوٹیں دی گئی ہیں وہ محنت کشوں پر ٹیکس کی صورت میں ڈالی جارہی ہیں جو آئی ایم ایف کے مطابق 173کھرب روپے کی مزیددولت پیدا کریں گے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 4.3فیصد زیادہ ہوگی لیکن اس کے باوجود محنت کشوں کے لئے مہنگائی میں 15فیصد اضافہ ہوگا یوں محنت کش نہ صرف زیادہ دولت پیدا کریں گے بلکہ مزید غریب بھی ہو جائیں گے ۔ہر سال یہ جتنی زیادہ دولت پیدا کرتے ہیں اتنا ہی یہ غربت میں دھنستے جاتے ہیں۔البتہ صنعت اور تجارتی سرمایہ داروں کے بجلی کے بلوں پر عائدٹیکس میں 5فیصد کمی کردی گی ہے ،حکومتی آمدنی میں پانچ فیصد کمی کو گیس پر ایکسائز ڈیوٹی میں پانچ فیصد اضافہ کر کے پورا کیا جائیگا ۔یہاں بھی فائدہ سرمایہ داروں کے لئے اور بوجھ محنت کش عوام پر ڈال دیا گیا۔
قومی معیشت کے لیے قربانی کا تقاضا
معاشی بحران کے اس دور میں عوام سے صبر اور قومی مفاد کے لئے قربانی کی بات کی جارہی ہے تاکہ اس مشکل دور سے نکلا جاسکے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بحران سے نکلنا اس متروک نظام کے لئے ممکن ہی نہیں ہے اس لئے حکمران طبقات اپنے مفادات کے لئے لوٹ کھسوٹ اور عیاشیوں میں مصروف ہیں ۔حکمران طبقے کی زندگی کو دیکھیں تو وہ کسی اور ہی جزیرے کی مخلوق معلوم ہوتے ہیں سرمایہ درانہ ترقی کے جو نسخے حکمران پیش کر رہے ہیں جس سے ان کی معیشت اور عوام کی زندگی بہتر ہوگی۔ وہ سوائے جھوٹ اور فریب کے کچھ بھی نہیں ابھی چند سال پہلے جب معیشت نسبتا ترقی کر رہی تھی تو بھی اس ترقی کا عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ۔بلکہ اس وقت مہنگائی کے لئے عوام سے قربانی کا تقاضہ کیا جا رہا تھاکہ سرمایہ داری میں ترقی مہنگائی کے ساتھ آتی ہے اور ایک دفعہ پھر ایسی ہی ترقی کے لئے انتظار کرنے کے لئے کہا جارہا ہے۔یہ صورتحال اس نظام میں ترقی کی صلاحیت ظاہرکرنے کے لئے کافی ہے حکمران طبقات جس میں سرمایہ دار ، جاگیردار،جرنیل و سول بیو کریسی شامل ہے 90فیصد سے زائد دولت پر قابض ہیں اور ٹیکسوں کی مد میں صرف 5فیصد ادا کر رہے ہیں ۔باقی ٹیکس بالواسطہ طور پر عام آدمی سے وصول کیا جا رہا ہے یہ سب کچھ قومی صنعت اور معیشت کے نام پر کیا جارہا ہے ۔جبکہ حقیقت میںیہ سرمایہ دار طبقے کی ہے جو اس کے منافع سے مستفید ہو تا ہے محنت کش عوام کے لئے اس صنعت میں محنت اور تمام تر دولت پیدا کرنے کے باوجود سوائے استحصال ،جبر،غربت اور بھو ک کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
بجٹ واضح طور پر اس بات کا اظہار ہے کہ معیشت کے موجود بحران کا
حکمران طبقے کے پاس اس کے سواکوئی حل نہیں کہ اس بحران کی قیمت محنت کش عوام ادا کریں۔ سرمایہ درانہ نظام کے پاس اس عہد میں عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں ۔اس لئے ہر طرف جہاں وہ لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں اور دوسری طرف نظام کا بحران جنگ اور تباہیوں کو جنم دے رہا ہے ۔اس نظام4129ور اس کے بحرانوں سے نجات کا واحد حل پیدوار کو منافعے کی بجاے انسانی ضروریات سے منسلک کی جاے۔یعنی سرمایہ داری کا خاتمہ اور منصوبہ بند معیشت کا قیام جو محنت کش عوام کے جمہوری کنٹرول میں ہو۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: