چین میں محنت کشوں کی بڑھتی ہوئی جدوجہد تحریر:کامریڈ پیٹر

چین کے محنت کشوں کے احتجاجات اور ہڑتالیں عروج پر ہیں جو سرمایہ داروں کو تنخواہوں میں اضافے پر مجبور کررہی ہیں۔دارالحکومت بیجنگ hyundai plantکے محنت کش کم تنخواہ سے اتنا تنگ تھے کہ انہوں نے احتجاجی طور پر کام کرنے سے منع کردیا ۔مالکان نے محنت کشوں کی تحریک کے ابھار اور اعتماد کو دیکھتے ہوئے تنخواہ میں 15فیصد اضافہ کر دیا اور 10فیصد مزید اضافہ جولائی میں کرنے کو کہا ہے۔
Foshanمیں Hondaکے2000محنت کشوں نے 2ہفتوں تک غیر قانونی ہڑتال کی اور کمپنی کے چاروں پلانٹس کا گھیراؤ کرلیا جس کی وجہ سے ان کے بند ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا ۔اس سے گھبرا کر انتظامیہ نے
ان کی تنخواہ میں 24فیصد اضافہ کر دیا ۔ 20سالہ لڑکی Lixiaojunجو ہڑتالی محنت کشوں کی لیڈر رہے اس نے کھلے خط میں محنت کشوں سے اپیل کی ہے ’’کہ وہ اپنے درمیان مضبوط اتحاد قائم رکھیں تاکہ سرمایہ کے نمائندے ہمیں تقسیم نہ کرسکیں ‘‘۔اس فیکڑی کا منافع ہمارے استحصال کی وجہ سے ہے ،یہ جدوجہد صرف 1800محنت کشوں کے مفاد کے لئے نہیں ہے ۔ہمیں چین کے تمام محنت کشوں کے حقوق اور مفادات عزیز ہیں ‘‘۔
خبروں پر حکومتی پابندیوں کے باوجود ہڑتالوں کی خبریں تیزی سے پھیل گئیں مقامی انتظامیہ کو مجبورا کم سے کم تنخواہ میں 10فیصد اضافہ کرنا پڑا ۔
Foxconn’s plantپر حالی خود کشیوں اضافے کی رفتار سے محنت کشوں کے بدترین حالات کا اندازہ ہوتا ہے جہاں 420000محنت کش apple ،Hewlet-Packard،DellاورNokiaکے پرزہ جات بنتے ہیں۔ان پلانٹوں کے اندارمحنت کشوں کی فوج کے پاس کوئی حقوق نہیں ہیں ۔ہر حرکت اور منٹ پر انتظامیہ کا کنٹرول ہے ،محنت کشوں کی آپس میں بات چیت کرنے پر پابندی ہے ۔ایک محنت کش نے چین لیبر بلیٹن کو بتایا کہ وہ صرف Supervisiorسے بات کر سکتے ہیں اور انہیں صرف اتنی اجازت ہے کہ وہ ’’ہاں‘‘ کہہ سکیں یہ پروڈکشن لائین سے تھوڑا بہتر ہے ۔جہاں ہفتے میں 6روز اور12گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے محنت کشوں کی آپس میں میل جول کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے محنت کشوں میں
موجود ایجنٹ جلد ہی ان میں سے کسی ابھرتے ہوئے بے چینی کا پتہ چلالیتے ہیں ۔ان کی بنیادی تنخواہ 900یون ہے ۔عالمی کیمپین،جو خود کشیوں کی وجہ سے شروع ہوئی اس نے کمپنی کو شرمندہ کیا ۔جس نے پہلے کواٹر میں 560ملین پاؤنڈ کا منافع کما یا ۔اس نے تنخواہ میں 30فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے اور اکتوبر میں مزید 200یون اضافے کا کہا ہے ۔چین میں پچھلے چند سالوں میں بدترین کام کے حالات اور تنخواہ میں اضافے کے لئے ہزار ہا ہڑتالیں ہوئی ہیں جو میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوئیں، لیکن اب محنت کش جدید پلانٹس میں بھر پور اعتماد کے ساتھ تنخواہ میں اضافے کے لئے نئی ہڑتالوں کو جنم دے رہے ہیں ۔
اس کے دو اثرات ہونگے جو صرف چین پر ہی مرتب نہیں ہانگے ۔
پہلا یہ کہ چین کی کم تنخواہ والی معیشت زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہ سکے گی اور دوسرا یہ کہ نئی طاقت عالمی محنت کش طبقہ کا حصہ بن رہی ہے جو کروڑ ہا محنت کشوں پر مشتمل ہے اور دنیا کو بدلنے کی ہمت اور جرات رکھتی ہے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: