تاریخ کابدترین سیلاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو کڑور سے زائد عوام بے گھر کڑوروں کوڈیم، بیراج، پاور پلانٹ اور زرعی زمینیں بچاتے ہوئے ڈبودیا گیا

تاریخ کے بدترین سیلاب سے دو کروڑ سے زائد افراد بے گھر اور 1800سے زائد لوگ مارے جاچکے ہیں ۔سیلاب نے پاکستان 79اضلاع کو شدید متاثر کیا ہے 138ملین ایکٹر رقبے پر فصلوں کو تباہ کیا جو30فیصد کے قریب زرعی زمین ہے ۔خوراک و زراعت کے محکمہ کے مطابق پنجاب میں 44896ٹن گندم ،80823 ٹن خیبر پختونخواہ میں ،سندھ میں 541696ٹن گندم برباد ہو گئی ہے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فصل برباد ہوئی۔
اقوام متحدہ کے مطابق نقصان اندازوں سے بہت زائد ہے ۔صرف 25لاکھ متاثرین کو شیلٹر،خوراک اور صحت کے حوالے کسی سے امداد ملی ہے 75فیصد افراد تاحال امداد سے محروم ہیں 86لاکھ بچوں کو شدید خطرات ہیں ، پانچ لاکھ سے زائد حاملہ خواتین شدید متاثر ہیں ۔
قدرتی آفت:
حکمران طبقے موجودہ بدترین تباہی کوقدرتی آفت کے طور پر پیش کرہا ہے جس کے سامنے وہ بے بس ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان علاقوں میں زراعت کو بنیادی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے برعکس سرمایہ دارنہ پیداور سے منسلک کیا گیا تو اس وجہ سے جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی کی گئی ۔1947میں پاکستان وجود میں آیا تھا تو اس کا 28فیصد رقبہ سر سبز جنگلات پر مبنی تھا ۔آج یہ صرف 23فیصد رہ گیا ہے اور مشترکہ زمین پر بھی قبضہ کرلیاگیا اس سے نہ صرف دیہی رہن سہن متاثر ہوا ہے بلکہ اس سے خطے میں ماحول بھی شدید متاثر ہوا ہے پاکستان میں سیلابوں کے بار بار آنے کے باوجود جدید انفرسٹرکچر تعمیر نہ کیا گیا بلکہ پہلے سے تعمیر انفرسٹرکچر پر بھی توجہ نہ دی گئی جس سے موجود سیلاب بدترین تباہی کا باعث بنا ۔
ڈیم اور تباہی :
ڈیموں اور بیراجوں کو بچانے کے لئے حکمرانوں نے مختلف علاقوں کو ڈبو دیا ۔جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی ۔یوں یہ واضح ہے کہ ڈیم بنانا مسئلے کا حل نہیں ہے لیکن اس کے باوجود تباہی کے اس اہم موقعے پر ڈیموں کی تعمیر کو شروع کر دیا ۔ڈیموں اور بیراجوں کا مقصد پانی پر کنٹرول ہے موجودہ سیلاب سے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ اس حکمران اس قابل ہو جاتے ہیں کہ ایسے علاقوں کو بھی سیلاب کے منتظر کر دئے جائیں جہاں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔
حکومت کی ناکامی :
اتنے بڑی تباہی اور بربادی کے باوجود صدر پاکستان بیرونی دوروں میں مصروف تھے جب کہ وزیر اعظم تھیری پیس پہن کر جعلی کیمپوں کا دورہ کر رہے تھے اور دیگر فوٹو سیشن میں مصروف رہے ،حکمران جو عوام استحصال کرنے آئی،ایم،ایف کے حکم پر مہنگائی اور اپنے ہی عوام پر جنگ مسلط کرنے میں متحرک ہیں لیکن موجودہ بربادی جس کی اہم وجہ خود سرمایہ داری اور اس کے نمائندے ہیں ہاتھ کھڑے کر دے کہ یہ صورتحال ان کے بس سے باہر ہے کیونکہ حکمران جانتے ہیں کہ اگر عوام تباہ ہونگے تو امداد آئے گی ۔
حکمرانوں نے عوام کو ڈبودیا :
حکمران طبقے کے مختلف افراد نے اپنی زرعی زمینوں کو بچاتے ہوئے کڑور ہا عوام کو ڈبودیا ۔کوٹ ادو میں پاور پلانٹ کو بچاتے ہوئے حفاظتی بند تڑوادیا گیا تاکہ کوٹ ادو پاور پلانٹ میں کی گئی سرمایہ کاری کو بچایا جاسکے ایک پاور پلانٹ کو بچانے کے لئے لاکھوں کو ڈبودیا گیا ۔
پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے وزراء اور بڑے زمینداروں نے اپنی زرعی زمینوں کو بچانے کے لئے لاکھوں ہاریوں اور کسانوں کو ڈبودیا اور حکومت خااس معاملے میں معاون رہی، جیکب آباد میں شہباز ائیربیس کو بچاتے ہوئے بلوچستان کے لاکھوں لوگوں کو ڈبودیا گیا۔
چوری اور لوٹ مار :
سیلاب زدہ علاقوں میں بڑے علاقوں میں تباہی آئی اس کی بحالی میں سالوں لگ جائیں گے عام لوگ متاثرین کی امداد کر رہے ہیں لیکن یہ بہت کم ہے اس کی وجہ سے چوری اور لوٹ مار میں اضافہ ہو رہا ہے ، ظاہری سی بات ہے جب لوگوں کو امداد نہیں ملے گی تو اس صورتحال مزید بدتر ہوگی حکومت امداد ی کام کرنے کے بجائے پریشان ہے کہ عالمی امداد کا 80فیصد این ،جی ، اوز کے پاس چلا جائے گا جو خوب پیسہ بنائے گی اور یہ محروم رہ جائیں گے عام لوگوں کا سیاسی جماعتوں اور ریاست پر اعتبار ختم ہو چکا ہے وہ ایک ہی بات کرتے ہیں کہ ہم کو ڈبونے والے وڈیرے اور سیاستدان ہیں۔
ریلیف سرگرمیاں :
میڈیا کا دعوی ہے کہ فوج عوام کی مدد کر رہے ہیں حلانکہ یہ بہت واضح ہے کہ فوج ایسے وقت میں اپنے فوجیوں اور انفرسٹرکچر کو بچاتی ہے ۔اس لئے ان علاقوں میں عام لوگ پریشان تھے کہ ہیلی کاپٹر پرواز تو کرتے ہیں اور بوٹس ان علاقوں میں گھوم تو رہی ہیں لیکن امداد نہیں کر رہی تھیں اور بعد ازاں کام کا آغاز ہوا تو ان علاقوں کو مکمل طور پر کنٹرول کر کے سول انتظامیہ کو آزادانہ کردار ادا کرنے سے منع کر دیا گیا اور اب اس کام کو بنیاد بناکر مارشل کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔
کیمپوں کی صورتحال:
اس وقت تک صرف 25فیصد لوگوں کو ہی کیمپ میسر آسکے ہیں لیکن ان کی صورتحال بہت بری ہے اکثر لوگوں کو خوراک اور ادویات موجود ہی نہیں ہے اور وبائی امراض پھیل رہے ہیں جس سے بڑی تعداد میں بچے اور عورتیں متاثر ہو رہے ہیں ۔
سیلاب اور مہنگائی:
سیلاب کی وجہ سے پورے ملک مین خوراک کی کمی ہوگئی ہے اور بڑی آبادی کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 7کروڑ 70لاکھ افراد بھوک کا سامنا کر رہے ہیں سیلاب کی وجہ سے سوات اور پختونخوا کے دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں فصلیں تباہ ہوئیں ہیں ، جو ملک بھر میں سبزیوں کی فراہمی میں اہم کردار اداکرتے اور جنوبی پنجاب جہاں سے دالیں پورے ملک میں جاتی تھیں وہ بربادہوگیا ہیں اس کے ساتھ ہی زخیرہ اندوزون نے قیمتون میں مصنوعی اضافہ کر کے محنت کش عوام کی زندگیاں اجیرن کر دی ہے ۔
سیلاب کے نتائج:
سیلاب نے بڑی خوفناک تباہی مچائی ہے کروڑہا عوام بے گھر اور بد ترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں ان کے نام پر امداد تو مانگی جارہی ہے مگر جب متاثرین احتجاج کرتے ہیں تو ان کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے ۔شہباز شریف اور الطاف حسین انقلاب کے نام پر حقیقت موجودہ نظام کو بچانے کے لئے طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
ان حالات میں جب سیلاب ، مہنگائی،بے روزگاری،بھوک نے محنت کشوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ا محنت کشوں کی تنظیموں اور مختلف علاقوں قائم امدای مہموں کے ساتھ ملکر کام کیا جائے اور وہاں محنت کش عوام میں ڈیموں ،براجوں اور حکمران طبقے کی ترقی کی حقیقت واضح کرتے ہوئے سوشلسٹ متبادل پیش کیا جائے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: