مارکس اور اکیسویں صدی

تحریر: کامریڈ قیصرہ شوکت
میرے مضمون کا عنوان ہے ’’مارکس اور اکیسویں صدی ‘‘زندگی جو اس وقت گوں نا گوں مسائل کا شکار ہے ان مسائل کو سمجھنے کے لئے گردوپیش کے حالات اور واقعات پر نظر رکھنا ضروری ہے معاشرتی مسائل پر نظر ڈالیں تو ان لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کی فوج میرے روبرو ہوتی ہیں جنہوں نے ڈگریاں حاصل کرنے کے لئے نجانے کتنے مصائب اٹھائے ۔ان کے غریب والدین نے اپنا پیٹ کاٹ کے ان کے تعلیمی اخراجات کو محض اس امید پر پورا کیا کہ ہمارے بچے مستقبل میں بر سر روزگار ہونگے تو ہمارے حالات بہتر ہونگے ان تمام تر کاوشوں اور کامیابی کے باوجود جب ان کو روزگار نہیں ملتا تو ہمارے یہ ہو نہار نوجوان جرائم کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔یہ ایک بڑا المیہ ہے ہمارے طبقاتی معاشرے کا اس طرح غربت جو پاکستان کے 80%طبقے کا مقدر بن چکی ہے اس مقدر کا سکندر اور کوئی نہیں سرمایہ درانہ نظام ہے جس کی لوٹ کھسوٹ نے غربت اور امارت کی تفریق کو بڑھادیا ہے اس پر ہمارے نا اہل حکمرانوں کی غلط پالیسیاں جو آئے دن ٹیکسوں میں اضافہ اور مہنگائی کا تحفہ دیتی ہے یہ ان پالیسیوں کے ثمرات ہیں جس نے غریب عوام سے تیل ،گیس،بجلی کے علاوہ روٹی تک چھین لی ہے نوبت یہاں آپہنچی ہے کہ غریب لوگ غربت سے تنگ آکر اپنی اولاد کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں آجکل اخبار ات کی شہ سرخیوں پر ایسی خبروں کی برمار ملتی ہے کہ فلاں شخص نے غربت سے تنگ آکر اپنے بیوی بچوں کاگلہ کاٹ کر خود کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا ۔حالات کا جبر انسان کو اس موڑ پر لے گیا ہے جہاں اس نے خود پر زندگی کے دروازے بند کر دئے ہیں یہ لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لئے اگر صحت کی صورتحال پر نظر ڈالو تو ہسپتالوں میں غریب مریضوں کی لمبی لمبی قطاریں ہاتھ میں نسخے پکڑے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے نظر آتے ہیں ۔یہ بے بس اور مرتے ہوئے لوگ کہاں جائیں اور کسے اپنا مسیحا جانیں ؟یہ وہ حالات اور واقعات ہیں جس کے باعث ہماری عوام تنگ دستی کی زندگی بسرکرتے ہیں ان حالات کی پیداوار ہمارے ملک کا سرمایہ دار طبقہ ہے ۔
ان سب مسائل نے ہمیں کہاں پر لاکھڑا کیا ہے جہاں پر لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہو جس نے صنعتی پہیے کو جام کر دیا اور معیشت تباہ ہو گئی ۔دوسری طرف ہمارے حکمران خود تو جرنیٹر،یو پی ایس اور ڈبل لائٹ سسٹم سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن لوڈ شیڈنگ کا یہ عذاب صرف غریب عوام پر نازل ہو رہا ہے ایک طرف کاروبار بند تو دوسری طرف گھرکے چولہے بند ان سب باتوں کا ذکر کرنا اس لئے ضروری سمجھا کہ یہ مضمون جس عظیم ہستی سے وابستہ ہے اس نے تمام عمر ان سب مسائل کو حل کرنے کا درس دیا ۔یہ شخص5ء مئی 1818کو جرمنی میں پیدا ہوا ۔قانون اور فلسفے کی تعلیم کی تعلیم حاصل کی ۔
اس شخص نے ہمارے دکھ اور درد کو محسوس کرتے ہوئے انسانوں کو راحتیں دینے کے لئے اپنے اپنی زندگی کو انسانیت کے لئے وقف کر دیا۔مارکس نے اپنے لئے زندگی کا جو راستہ منتخب کیا اس میں آسانیاں کم اور مشکلات بہت زیادہ تھیں ۔
مارکس کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ جو اس نے اپنے دوست اینگلز کی مدد سے سر انجام دیا اس کی شہرہ آفاق تصنیف داس کیپیٹل ہے یہ کوئی عام کتاب نہیں بلکہ وہ زمینی صحیفہ ہے جو سماج کے دبے اور کچلے انسانوں کو ان کی زندگی بدلنے کا فن سکھاتا ہے انسانیت سے محبت اور قربانی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس عظیم انسان نے اس کتاب کی تکمیل میں اپنی زندگی کے چالیس برس مصیبتوں اور پریشانیوں کی نظر کر دئے ۔
جمہور نواز خیالات نے اس کو اور پورے خاندان کی زندگی کو قید و بند ،جلا وطنی اور فاقہ کشی جیسی اذیتوں میں مبتلا کر دیا ۔اپنے مقصد کی تکمیل میں مارکس نے اپنی بیوی بچوں کی خوشیوں کو قربان کر دیا ۔مارکس کی قربانی کا ایک یاد گار واقعہ آپ کے ساتھ شئیر کرنا چاہوں گی ۔مارکس کا بیٹا غربت کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا افسوس !غریبوں کے اس مسیحا کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ اپنے بیٹے کے لئے دوا لے آتے چنانچہ مارکس اپنا کوٹ بیچ کر دوا لینے جارہے تھے کہ راستے میں انقلابی صحافی ملے اور انہوں نے کہا کہ پمفلٹ کے لئے پیسے چائیے اس عظیم انسان نے وہی پیسے جن سے اپنے بیٹے کے لئے دوا خریدنی تھی اس جذبے کے ساتھ ان کو دے دیئے کہ مجھے اپنے بیٹے سے زیادہ لاکھوں محنت کشوں کا مستقبل عزیز ہے میں مارکس کی عظمت کو سلام پیش کرتی ہوں جس نے اپنے بچوں پر دکھی انسانیت کو ترجیح دی کاش! یہ جذبہ ہم سب میں بیدار ہو جائے تاریخ کو سائنسی بنیادوں پر جانچنے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انسانی تاریخ صدیوں سے ایک ہی ڈگر میں چل رہی ہے خواہ معاشرہ قدیم ہو یا جدید ان میں دو طبقات کا ٹکراوء ایک حتمی حقیقت ہے مارکس نے تاریخی مادیت کے اصول کے تحت واضح کیا ۔ایک طرف حکمران طبقہ جو کام نہیں کرتا اور دوسروں سے کام لیتا ہے ان کی محنت کے استحصال سے اقتدار کے مزے لوٹتا ہے ۔یہ 5%پیرا سائیٹ نما اشرافیہ جن میں جاگیردار،سرمایہ دار اور بیورکریٹس شامل ہیں مدتوں سے وسائل پر قابض ہو کر محنت کش طبقے کا استحصال کر دیتے ہیں ۔خواہ مشرقی تہذیب ہو یا مغربی کوئی بھی معاشرہ ان جبری اقدامات کی زد سے آزاد نہیں لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ آج بھی جاری ہے دوسرا طبقہ وہ ہے جو انتھک محنت کرتا ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ اتنی محنت کے باوجود وہ طبقہ غربت کی چکی میں پس رہا ہے جو اس کے لئے حکمران طبقے کی دین ہے اس ظلم کے خلاف مارکس نے (Surplus value) نظریہ زائد قدر پیش کیا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ کس طرح سرمایہ دار مزدور کی محنت کو خرید کر تین گناء منافع اپنی تجوری میں بھر لیتا ہے غور کیجئیے غربت کی اصل وجہ یہی ہے کہ سرمایہ دار مزدور کی محنت کا ثمر اس تک پہنچنے نہیں دیتا ۔یوں طبقاتی کشمکش کا آغاز ہوتا ہے جو سماج میں تضادات کو جنم دیتا ہے ۔
طبقاتی جنگ نے فکر کی دنیا میں مادہ پرستی اور خیال پرستی کی شکل اختیار کی ۔ایک طرف مادہ پرست جو ذمینی حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں اور عقلی بنیادوں پر مسائل کو حل کرنے کی ترغیب دیتے ہین جب کہ دوسری طرف تصوراتی دنیا میں رہنے والے وہ لوگ جو مذہب کو اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کی خاطر بطور ہتھیار استعمال کرتے رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جذبات عقل کو کھا جاتے ہیں ہمارے مذہبی پیشواؤں جن میں ملاء،پنڈت اور پادری شامل ہیں یہ سرمایہ کے ایجنٹ ہیں یہ وہ مہرے ہیں جو حکمران طبقے کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں ان کا کام ذہن اور فکر کو زوال پذیر کرنا انہیں سرمایہ دار سماج کا حامی وطرفدار بنانا اور ایسی سو سائٹی متعارف کروانا ہے جو فکری طور پر بانجھ اور آگے بڑھنے کی صلاحیت سے عاری ہو ۔
1991میں سوویت یونین کے ٹوٹنے پر عالمی سیاسی بساط پر ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی یوں طاقت کا توازن ختم ہوا اور بائی پولر سسٹم کی جگہ یونی پولر سسٹم نے لے لی ۔بائی پولر سسٹم میں دنیا دو سیاسی دھڑوں میں بٹی ہوئی تھی ایک طرف روس جو اشتراقی نظام کا پر چار کر رہا تھا اور دوسری طرف امریکہ جو سرمایہ داری نظام کا حامی تھا ۔
1979میں ہونے والی افغان جنگ جو در حقیقت پاکستان کی بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی ۔ان طاقتون کی باہمی کش مکش کا نتیجہ تھی ۔اس پرائی جنگ نے پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکہ لگایا۔یہ بات مضحکہ خیز نہیں کہ پاکستان کی معاشی اور سیاسی ابتری کا آغاز یہی سے ہوتا ہے ۔اس وقت سے لے لر اب تک امریکہ پاکستان کو اپنے مفادات کی تحفظ کی خاطر ایک آلہ کاری کی طرح استعمال کیا ۔
اکیسویں صدی میں سامراج کا ایک بڑا ڈرامہ جس کا آغاز 9/11کے بعد ہوتا ہے اس میں امریکہ کی جارجہ پالیسیوں نے شدت اختیار کر لی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی جو آگ سامراج نے لگا رکھی ہے اس نے پوری دنیا کے امن کو جلا کر راکھ کر دیا ہے ۔ہر طرف خوف کے سائے منڈلا رہے ہیں عراق اور افغانستان کی المناک صورتحال اس کی زندہ مثال ہے اس عالمی جنگ میں سامراج پاکستان کو اپنے مفاد کی خاطر فرنٹ لائن اسٹیٹ کے نام پر ایک مہرے کی طرح استعمال کر رہا ہے چند دالروں کے عوض ہمارے بکاوء حکمرانون نے نہ صرف پاکستان کی سالمیت کو امریکہ کے ہاتھوں گروی رکھ ریا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کو 35ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے ملک میں بھوک،جنگ اور غربت ناچ رہی ہے اور ہر طرف دہشت گردی کی وباء پھیل چکی ہے ہم کہہ سکتے ہین کہ اس پرانی جنگ نے ہمارے ملک کے سیاسی،سماجی اور معاشی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ و بربادکر دیا ہے۔
تمام داخلی اور خارجی حالات وواقعات کو سامنے رکھتے ہوئے میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ مارکس اور اکیسویں صدی کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے ۔
موجودہ صدی میں سرمایہ درانہ نظام کی لوٹ کھسوٹ نے جس طرح محنت کشوں کو اپنے شکنجے میں لپیٹ رکھا ہے وہ کونسا راستہ ہے جو ان کو استحصالی پنجرے سے آزاد کرواسکتا ہے ۔وہ راستہ مارکسزم ہے یہ وہ سماجی سائنس ہے جس نے نوع انسانی کی تقدیر بدل ڈالی اور انسان کو اس کی تقدیر کا مالک بنا دیا ۔مارکس کے انقلابی فلسفے کا بنیادی اصول جدلیاتی مادیت ہے جو مادے کی حرکت کے اصول کو بیان کرتا ہے اور ہمیں بتاتا ہے کہ سماج کی تاریخ طبقاتی ٹکراؤ سے بنتی اور آگے بڑھتی ہے واضح رہے جب تک سماج میں یہ شعور اجاگر نہیں ہوتا ۔کہ دنیا مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے اور ان تبدیلیوں میں انسان کا اپنا ارادہ اور کوشش شامل ہے تب تک معاشرہ جامد رہے گا اس پر ،سرمایہ دار ، جاگیرداربیورکریٹس اور فوج کا راج رہے گا ۔
لہذا مارکس اور اکیسویں صدی کے تقاضے یہ ہیں کہ تبدیلی کے لئے حالات سازگار بنائے جائیں اس کے لئے ضروری ہے کہ انہیں مادی حالات میں سے کوئی قوت ابھرے ۔جو انقلاب کی راہ ہموار کر دے ۔وہ مادی قوت ہے محنت کش عوام جس میں اور آپ سب بھی شامل ہیں ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: