حکمران طبقہ کا انقلاب۔۔۔۔نظام کا دفاع

مہنگائی،بیروزگاری،غربت،بھوک،بم دھماکوں،قتل عام اور ریاستی دہشت گردی نے عوام کی زندگی اجیرن بنادی ہے پچھلے چند سالوں میں ان کی شدت میں شدید اضافہ ہوا ہے اور اب سیلاب نے صورتحال کو اپنی انتہا پر پہنچا دیا ہے ۔عوام حکمرانوں سے شدید نفرت کا اظہار کر رہے ہیں اور یہ موجودہ نظام حکومت سے بھی مایوس ہیں حالانکہ 2007سے لے کر 2009تک وکلاء، سٹوڈنٹس ،سیاسی کارکناں نے آمریت کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیا اور محنت کش عوام کے بڑے حصے کو بھی موجود نظام خاص کر ’’آزاد عدلیہ‘‘کے متعلق کافی خوش فہمیاں تھیں لیکن اب یہ بڑی حد تک ختم ہو رہی ہیں ۔
اس صورتحال میں حکمران طبقہ شہری اور دیہی غریبوں اور اب خاص کر سیلاب کے بعد کروڑ ہا بد حال عوام کی شہروں میں آمد سے ٖخوفزدہ ہیں کہ محنت کش عوام کی تحریک موجود حکومت ہی نہیں کہیں اس نظام زر کا ہی خاتمہ نہ کردے جو ان کے دکھوں ،عذابوں اور المیوں کا ذمہ دار ہے ۔
ان حالات میں حکمران طبقے نے آغاز میں مل کر اس کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے تضاد ات ان کو مختلف آپشنز کی طرف لے جارہے ہیں جو ان کے طبقاتی مفادات کے کا دفاع کر سکیں۔
پیپلزپارٹی کی حکومت:
پیپلز پارٹی موجودہ حالات میں آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک اور سامراجی ممالک کے قرضوں کی طرف دیکھ رہی ہے تا کہ کرپشن کا ماحول برقرار رہے ،جس سے سرمایہ دار دولت مند ہوتے رہیں ،لیکن اس کے لئے سامراجی جنگ کو جاری رکھنا پڑ رہا ہے جس سے پورے ملک میں قتل و غارت جاری ہے ان حالات میں حکمران طبقہ اور ریاست کی اتھارٹی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اس لئے سارا حکمران طبقہ اس صورتحال پر خوش نہیں اور ان کے درمیان لڑائی جاری ہے۔
انقلاب کی اپیلیں:
ان حالات میں الطاف حسین نے فوجی جرنیلوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اقتدار پر قابض ہو کر جاگیرداروں اور ملک دولت لوٹنے والوں کا خاتمہ کریں مسلم لیگ نون کے لیڈر شہباز شریف بھی پچھلے چند ماہ سے انقلاب کی بات کر رہے ہیں کبھی کبھی وہ انقلابی شاعری بھی پڑھتے ہیں اس حوالے سے ہمارے دانشور اور کالم نگار پریشان ہیں خاص کر بائیں طرف رحجان رکھنے والے وہ ان کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انقلاب کیا ہے اور وہ کیوں کر بر پاء ہو تا ہے اور یہ کیوں یہ ان کے بس سے باہر ہے ۔اور اکثر تو انقلاب سے خوفزدہ بھی ہیں ۔کیونکہ یہ اب سرمایہداری کو ہی حل سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک تحریک مزید انتشار کا باعث بن گی اور طالبان اس کا فائدہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں
نواز لیگ کا انقلاب:
حقیقت تو یہی ہے کہ شہباز شریف کی تمام خونی انقلاب کے نعروں کے باوجود وہ موجود پارلیمانی نظام کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ان کی نعرے بازی کا مقصد حکمران طبقے کو موجودہ نظام کی تناہی کا احساس دلانا ہے کہ اگرکرپشن،مہنگائی اور بے روزگاری جاری رہیتو محنت کش حکمرانوں کا گریبان پکڑ رہیں گے۔ اس لئے یہ کہتا ہے کہ مہنگائی میں کمی ہو ،عوام کو کچھ ریلیف ملے اور نظام کچھ بہتر کام کرے تاکہ عوام کا نظام پر اعتماد بحال ہو ۔اس کے لئے کبھی تو کوئی آفسر معطل کیا جاتا ہے ۔اور کبھی روٹی اسکیم چلائی جاتی ہے جو جلد ہی ختم ہو جاتی یہ حکمران طبقے کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر زرداری حکومت جاری رہی جوصعوام کو ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی،بے روزگاری اور بھوک دے رہی ہے اور سامراجی جنگ پورے ملک میں پھیلاچکی ہے اور بد ترین کرپشن کی وجہ سے عوام کا نظام پرعدم اعتمادتیزی سے بڑھ رہا ہے اور وہ ہی ہیں جو اقتدار میں آکرموجودہ نظام کو استحکام دے سکتے ہیں
جاگیرداری کا خاتمہ اور ایم کیو ایم:
الطاف حسین کے جاگیرداری کے خاتمے کا نعرہ ترقی پسندوں کا بھی پسندیدہ نعرہ ہے اس لئے وہ جو شہباز شریف کے انقلاب کے نعروں کا مذاق اڑاتے تھے ۔اب کہتے ہیں کہ ہاں اصل مسئلہ جاگیرداری ہی ہے اور اس کا خاتمہ ہی ترقی کا راستہ کھولے گا یعنی سرمایہ درانہ ترقی ہوگی ملک میں بنیادی انفرسٹرکچر تعمیر ہو گا ،رجعت پسندی کا خاتمہ ہوگا اور ایک فلاحی ریاست قائم ہوگی ان میں سے کچھ جو زیادہ ’’جمہوریت پسند‘‘ہیں ان کو فوجی حل پر کچھ اعتراضات ضرور ہیں مگر دیگر کے نزدیک فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جو کچھ کر سکتا ہے اور اس لئے انہوں نے فوجی آپریشنوں کے دوران فوج کی حمایت کی تھی ان کے لئیفوجی حل کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ الطاف حسین کا انقلاب بھی موجودہ نظام کے تحفظ کے لئے ہے اس لئے وہ موجودہ نظام کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں ان کو البتہ سامراجی جنگ پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ اسی کے سب سے بڑے حمایتی ہیں اور کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں پختون کو بھی نشانہ بناتے ہیں ان کے نزدیک ابھرنے والی محنت کش عوام کی تحریک اور خاص کر اس دیہی غریبوں کے لئے بھی طاقت استعمال ضروری ہے اس لئے وہ مارشل لاء کی بات کرتے ہیں ۔کیونکہ وہ نہیں سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں عوام کو کچھ یا جاسکتا ہے اور پنجاب میں شہباز شریف کا تجربہ یہ واضح بھی کرتا ہے ۔
جاگیرداری نظام :
سماجی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان میں جب بھی بحث ہوتی ہے تو تان جاگیرداری نظام اس کی فرسودگی اور ظلم و ستم پر ٹوٹتی ہے جو پاکستان کو جدید دنیا کا حصہ بننے سے روک رہی ہے اور اس کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ جاگیردار ا ہماری سیاست حکومت پر حاوی ہیں البتہ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہے کہ ہماری سیاست پر حاوی بڑے زمیندار تو ضرور ہیں البتہ ان کی دولت کا بڑا حصہ اب زمین کے بجائے شوگر ملوں، گھی ،آٹا،اور چاول کی ملوں پولٹری اورکیٹل فارمنگ،رئیل اسٹیٹ،اور کنٹرکشن کمپنیوں اور ٹھیکیداری سے آتا ہے۔ویسے بھی اگر پاکستان قومی آمدنی میں زراعت کو دیکھا جائے تو یہ 21فیصد ہے ۔جب کہ سروسز کا پیداوار میں حصہ 56فیصد اور صنعت کا 24فیصد ہے تو اس سے بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پاکستان میں غالب نظام سرمایہ درانہ ہے اور زراعت میں بھی پیداواری میکنیزم سرمایہ درانہ ہے نہ کہ جاگیرداری
یوں جن کو جاگیردار کہا جا رہا ہے وہ حقیقت میں سرمایہ داری سے ہی منسلک ہیں البتہ دیہی علاقوں میں ان کا ووٹ بینک کافی مضبوط ہے تو اس کی وجہ پاکستان کا نیم نو آبادیاتی سرمایہ داری نظام ہے ۔ایم،کیو،ایم یا دیگر مڈل کلاس کے نمائندے یہ دیکھتے ہیں کہ یہ دیہی غریبوں کے ووٹ سے منتخب ہو کر اقتدار میں آتے ہیں تو اس لئے جاگیرداری کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن یہ صرف ایک نعرہ ہی ہے نہ تو یہ زرعی اصلاحات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ ہی جاگیردار کی دولت کی وجہ زمین ہی ہے۔
یہ صرف موجودہ نظام میں کچھ اصلاحات چاہتے ہیں تاکہ یہ نظام چلتا رہے اس میں ان کا حصہ بھی بڑھے اسلئے یہ ملک میں جاری کرپشن ،غربت،بے روزگاری،اور قتل وغارت گری کا ذمہ دار جاگیرداروں کو قرار دیتی ہے اور سرمایہ داری کو بہتر بنانے کی بات کرتی ہیں
ایم،کیو،ایم سامراج کی حمایت بہت واضح ہے اور وہ مارشل کی بات اس لئے کرتی ہے کہ وہ اپنے تجربے سے سمجھتی ہے کہ محنت کشوں کی تحریک کو ڈنڈے کے زور پر روکا جاسکتا ہے جو شہبازشریف کے بس میں نہیں ہے حالانکہ مظاہرین پر تشدد کے معاملے میں نواز لیگ بھی کسی سے کم نہیں چاہے پھر یہ ینگ ڈاکٹر کی تحریک پر تشدد ہو یا بہاولپور میں سٹوڈنٹس پر لیکن وہ اس وقت وہ موجودہ نظام میں چند اصلاحات چاہتے ہیں تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے لیکن یہ واضح ہے کہ موجودہ نظام اصلاحات جلد ہی رد اصلاحات میں تبدیل ہوجاتی ہیں اور پھر ان کو جلد ہی بند بھی کردیا جاتا ہے ۔
عمران خان اور جماعت اسلامی بھی موجودہ نظام پر تنقید ہوئے اسی کو بہتر کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور عوام کو متحرک کرنے میں ناکامی پر فوج کے ساتھ کھڑے ہوکراس کا امیج بنانے میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔اس لئے چاہے شہباز شریف ہوجوموجودہ نظام میں عوام کو کچھ ریلیف دے کر اس کو چلانا چاہتا یا ایم،کیو،ایم جو جاگیرداری اور کرپشن کے خاتمے ،سامراج کی جنگ کو پاکستان کی جنگ بنانے اور لسانی قتل و عام کو فروغ دے کر موجودہ بحران کا انتہائی جابرانہ حل پیش کر رہی ہیں۔
سرمایہ داری کا بحران اور سوشلزم:
پاکستان پچھلے 20سالوں میں عالمی سرمایہ سے زیادہ مضبوطی سے منسلک ہواہے اسی عرصے میں ریاست نے صحت، تعلیم اور عوامی فلاح وبہبود میں تیزی سے کمی کی ہے اور پیداوار عالمی منڈی کے لئے ہورہی ہے اور ریاست عوام کی نمائندگی کے بجائے مکمل طور پر سرمایہ کی نمائندہ بن کر سامنے آئی اس سے عوامی سہولیت مکمل طور پر ختم ہوگئیں ہیں سماجی استحکام نہ ہونے کی وجہ سے پولیس اور عدلیہ عوام کے لئے مدد اور انصاف کے اداروں کے بجائے ،دہشت کے ادارے بن چکے ہیں ۔اس کے ساتھ جنگ بم دھماکے کے،مہنگائی،غربت نے عوام کو موجودہ نظام سے بیزار کر دیا ہے حکمران طبقہ شدید خوف اور پریشانی کا شکار ہے اس کے پاس موجودہ صورتحال میں یہی آپشن ہے کہ لسانی اور فرقہ ورانہ کشیدگی کو بڑھا کر موجودہ صورتحال پر کنٹرول کی جائے اور اس میں فوجی حل ایک پسندیدآپشن ہے ۔
سرمایہ داری نظام اپنے شدید بحران پر قابو پائے منافع اور اقتصاد کو برقرار رکھنے کے لئے جہاں جنگ کو پھیلا رہا ہے ۔۔دوسری طرف مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ کر رہا ہے ۔تنخواہوں کے بڑھانے کے تمام تر اعلانات کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ یہ بڑی تعداد میں محنت کشوں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ان حالات میں ضرورت اس امر کی محنت کش طبقہ تحریکیں جسے پی ٹی سی ایل اور دیگر کے ساتھ مل کر ملک گیر ہڑتال کی کال دی جائے ۔ یوں ہی ممکن ہوسکتا ہے تا کہ ہم نہ صر ف حکمران طبقہ کے حملوں کا مقابلہ کرسکیں اور محنت کشوں میں لسانی اور فرقہ واریت کو پروان چڑھانے کی حکمرانوں کی سازش کاناکام بنایا جائے اس کے زریعے محنت کشوں کو آنے والے حالات کے لیے منظم کیا جائے اور سرمایہ داری کی بربریت کی بجائے ایسا نظام پیش کیا جائے یعنی سوشلزم جہان ان کا اپنی زندگیوں پر کنٹرول ہو۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: