اہل تشیعوں کا قتل عام

لاہور میں اہل تشیع کے جلوس میں خود کش دھماکے ،کراچی میں اہل تشیع کے جلوس پر فائرنگ اور کوئٹہ میں یوم القدس کے موقع پر دھماکہ اور پھر ان مظلوم پر فائرنگ کر دی گئی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں ۔کوئٹہ کے معاملے پربہت حیران کن ہے کہ کیسے خود کش دھماکے کے بعد گھات لگا کران لوگوں کو مارا گیا۔یہ پچھلے ایک سال میں اہل تشیع پر لگاتار حملے ہیں ۔ان قتل و غارت گری کی ذمہ داری تو لشکر جھنگوی اور طالبان نے قبول کر لی ۔مگر یہ بہت واضح ہے کہ ریاستی پشت پناہی میں یہ قتل و عام ہو رہا ہے ۔اس سے نہ صرف خوف کی فضاء مستحکم ہوتی ہے ۔بلکہ حکمران طبقے کے خلاف تحریک کی بجائے عوام مذہبی اور لسانی طور پر تقسیم ہوجاتے ہیں ۔
سندھ میں پختونوں ،پاکستان بھر میں شیعہ ،پنجاب میں عیسائیوں و قادیانیوں ،بلوچستان میں ہزارہ اور پنجابیوں کے خلاف تعصب عروج ہے اس کی وجہ سے یہ لوگ قتل و عام کا نشانہ بھی بناتے ہیں ۔جہاں اس کی علاقائی وجوہات ہیں وہاں میں ان کچھ مشترکہ وجوہات بھی ہیں جیسے آج کے بحرانی عہد میں چھوٹے سرمایہ دار کا منافع کم ہوا ہے اور نوکریوں کا بھی مقابلہ ہے ۔ کراچی میں مہاجروں کو نظر آتا ہے کہ پختون کاروبار اور نوکریوں پر قابض ہو رہے ہیں یہ گڑ بڑ بھی کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے شہر میں امن نہیں یا جو سیلاب متاثرین جو کراچی آئے ہیں وہ یہاں قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔
اسی طرح پنجاب میں قادیانیوں اور عیسائیوں کو پیش کیا جاتا ہے کہ وہ اہم نوکریاں حاصل کر رہے ہیں اور کاروبار میں جگہ بنانے کے ساتھ اس ملک وفادار بھی نہیں ۔اور عام تصور کے مطابق اخلاقی طور پر گرے ہوئے ہیں اور ان کی وجہ سے برکت ختم ہوگئی ہے یعنی کاروبارہ نہیں ہے ۔
شیعوں کو بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے اور ان کے خلاف بھی تعصب پروان چڑھ رہا ہے کہ یہ اہم حکومتی عہدوں ۔اور کاروبار پر قابض ہیں حالانکہ ان کے مفادات اکثریت سے برعکس اور ایران سے منسلک ہیں ۔
یورپ میں ایشیا ئی اور خاص کر مسلمانوں کوتمام تر مسائل کی بنیا د بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور یوں واضح طور پر نظام اور طبقاتی مسئلے کو پیچھے دھکیل کر مذہب اور قوم کو آگے کر دیاجاتاہے ۔
یہ صورتحال خاص کر معاشی بحران کے عہدمیں شدت اختیار کر لیتی ہے اور پیٹی بورژوا طبقہ اپنے مفادات کے لئے شہروں اور دیہاتوں میں غریب ،بے روزگار ،کچے مزدور ،کم ہنر مند اور ایسے ہی دیگر لوگوں کو منظم اور متحرک بنا کر ایک طاقت بنا لیتے ہیں ۔اور یوں سماج میں دیگر لوگوں کو غیر بنا کر ان پر حملے کئے جاتے ہیں تاکہ ان کو پرے دھکیلا جاسکے اور یوں جوسرمایہ داری کی غیر مساوی ترقی کی وجہ سے جو لوگ دیہاتوں سے شہروں یا مختلف علاقوں کا رخ کرتے ہیں ان کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔بحران کے عہد میں جب چھوٹا کاروبار تباہ ہو رہا ہوتا ہے نوکریاں ختم ہو رہی ہوتی ہیں تو یہ صورتحال عروج پر ہوتی ہے عام طور پر یہ نظر آتا ہے کہ ان مسائل کی وجہ فلاں لوگ ہیں ۔اور یہ صورتحال یقینی طور پر بحران زرہ و حکمران طبقے کے مفاد میں جاتی ہے کہ اس سے نہ صرف جوحملہ کرتے ہیں وہ حقیقی جدوجہد جو اس نظام کے خلاف کرنے کی ضرورت ہے سے دور ہوجاتے ہیں ۔بلکہ وہ جن کو غیر بنایا جاتا ہے وہ بھی مذہبی ،لسانی،اور محدود تنگ نظر سوچ کا شکار ہو کر نظام اوراس کے بحران کے خلاف جدوجہد منظم کرنے کی بجائے علیحدہ ہو جاتے ہیں یہ صورتحال حکمران طبقے کے مفاد میں جاتی ۔
سوشلسٹوں کو اس صورتحال میں بہت واضح موقف رکھتے ہوئے نہ صرف محنت کشوں میں حقیقت کو واضح کرنا ہوگا بلکہ تشدد اور علیحدہ کرنے کے عمل کی مخالفت کرنا ہوگی چاہے وہ قرقے ،قومیت یا مذہب کی بنیا د پر ہوں اور اس کے خلاف احتجاجات منظم کرنے چائیے ۔یوں ہی یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ ہم اس نظام کی پیدا کردہ تقسیموں کے مخالف محنت کشوں کی تعمیر کر سکیں اور سوشلسٹ نظریات پیش کر سکیں ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: