قرضوں کی ادائیگی سے انکار۔۔۔۔۔۔۔سیلاب زدگان کی امداد

حکمران طبقے نے ڈیموں فیکٹریوں ،پاور پلانٹ اور جاگیریں بچانے کے لئے سیلاب کا رخ غریب آبادی کی طرف کر دیا تھا ۔جس کو اس علاقوں کے لوگ سہہ رہے ہیں ہیں عوام نے دیکھ لیا ہے کہ کس طرح قدرت نہیں یہ حکمران طبقہ ہے جو ان کی بربادی کا باعث بنا ہے۔
بندھوں کو توڑنے پر عوامی نفرت اور غصہ اتنا شدید ہے کہ حکمران مجبور ہیں کہ اپنے ہی ساتھیوں کے خلاف تحقیقات کا اعلان کریں ۔
مہنگائی کا سیلاب :
سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فصلیں اور معاشی ڈھانچہ تباہ ہوا ہے اس لئے مہنگائی 30فیصد سے زائد ہونے کا خدشہ ہے جبکہ شرح 4.5 ترقی فیصد سے کم 2.5فیصد رہ جائے گی یہ سرمایہ داروں کا شدید نقصان ہے اور وہ اس نقصان کو محنت کشوں پر حملہ کر کے پورا کر رہے ہیں مہنگائی ایک ایسا ہی حل ہے جس کے زریعے یہ اپنے نقصان کو پورا کرنا چاہتے ہیں ۔مہنگائی کا طوفان نہ صرف سیلاب متاثرین بلکہ وہ جو شہروں میں رہ رہے ہیں ان کو بھی ڈبو رہا ہے ۔اس ساری صورتحال میں جو طبقہ دولت سمیٹ رہا ہے وہ بڑے سرمایہ دار اور تاجر ہیں۔سیلاب کے نتیجے میں اب تک 43بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا اور اس کے نتیجے میں آنے والے کچھ ماہ میں قحط کا خطرہ پیدا ہو گیا ۔
بڑھتے ہوئے بیرونی قرضے :

ریاست سیلاب زدگان کی امداد سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے عالمی امداد کی اپیل کررہی ہے۔حالانکہ یہی ریاست اپنے لوگوں پر ریاستی جبروتشد اور آپریشن کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔ دنیا سے امداد تو آئی ہے لیکن یہ اتنی نہیں ہے کہ سیلاب زدگان کی مناسب حد تک امداد ہو سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ سرمایہ داروں کی جیب بھرنے کے لئے بھی ناکافی ہے اس لئے قرضوں کا مزید سیلاب آرہا ہے جو پاکستان پر پہلے سے 55ارب ڈالر کے قرض میں اضافے کا باعث بنے گا جب کہ پہلے ہی موجود قرض GDPکے 32فیصد کے برابر ہے ۔پچھلے مالی سال میں حکومت 3.4نے ارب ڈالر سود کی ادائیگی میں دیے ہیں۔2015ء تک بیرونی قرضوں کی تعداد تقریبا 174ارب ڈالر ہو جائے گی ۔

قرضے اور سرمایہ دار:
موجود قرض فوجی آمروں اور نام نہاد جمہوری عہد میں لیا گیا ہے ۔ان قرضوں سے حکمران طبقے نے اپنی جیبیں بھریں اور سرمایہ داروں کے مفادات کے لئے انفرسٹکچر تعمیر ہوا اورنیو لبرل ازم کی پالیسیاں بنائی گئیں ۔جس سے قومی اور عالمی سرمایہ دار کو تو فائدہ ہوا ۔مگر محنت کشوں کے زیادہ دولت پیدا کرنے کے باوجود ان کی زندگیاں دو بھر ہوگئیں جو ایک ڈالر تیسری دنیا کے ممالک نے حاصل کیا ہے اس پر سود کی صورت میں اب تک 15ڈالر ادا کیے جا چکے ہیں یہ محنت کش طبقے کی پیدا کردہ دولت کی وجہ سے ہے۔لیکن اس کے باوجود قرض کی رقم اپنی جگہ موجود ہے ۔
اس صورتحال کے باوجود حکمران طبقہ قرضوں کی ادائیگی سے انکار کی بجائے مزید قرضے مانگ رہا ہے اور ان کی ادائیگی کی یقین دہانی کروا رہا ہے ۔ان کاموقف ہے کہ قرض سے چھٹکارا پانے کے لئے پیداواریت بڑھانی ہوگی ۔اور جب تک قرض موجود رہیں گے ترقی ممکن نہیں ۔کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ قرض لینے کا مطلب ان کے لئے مہنگائی ہے جو ان کی پیداواری لاگت کو متاثر کر تی ہے بلکہ اس کے ساتھ عالمی سرمایہ کا راستہ ہموار کرتی ہے جس سے ان کے منافع میں تقسیم پیدا ہوتی ہے مگر یہ عالمی سرمایہ سے جھگڑا بھی نہیں چاہتے کیونکہ ان برآمدات سامراجی ممالک کو ہی ہیں اس کے علاوہ دیگر ممالک کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹیکنالوجی بھی چائیے ہے ۔یہ دفاعی اخراجات میں کمی کی بھی بات کرتے ہیں ۔لیکن فو ج کے ساتھ بھی کھڑے ہو جاتے ہیں ۔
قرضوں کی ادائیگی سے انکار:

ان حالات میں یہ ذمہ داری لیفٹ،ٹریڈیونینز ،کسان تنظیموں ،سٹوڈنس اور سماجی تحریکوں کی ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے حلاف تحریک چلائیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ اسے صرف چند مظاہروں یا کانفرنس پر محدود نہ رکھا جاے بلکہ اس کو عوامی تحریک بنایا جائے ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف اس کو تنظیمی طور پر وسیع کیا جائے ،بلکہ قرضوں کے خلاف اس مہم کو موجود سماجی نظام کی تبدیلی کے ساتھ منسلک کیا جائے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: