کشمیر میں نوجوانوں کی تحریک

ریاستی جبر و بربریت:
سرینگر کے علاقے راجوری میں 11جون کو مظاہرین کو منتشر کرتے ہوئے پولیس کا آنسو گیس کا گولا سترہ سالہ طفیل کے سر میں لگنے سے اس کی موت واقع ہوگئے ۔اس کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہرے تین ماہ کے باوجود آج بھی جاری ہیں ۔پولیس کے تمام تر کرفیو کے باوجود ان کی شدت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلاگیا اس صورتحال پر قابو پانے کے لئے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہوگئیں ۔ریاستی جبر اور بر بریت کے باوجود تحریک مسلسل مضبوط ہوتی جارہی ہے ۔تین ماہ کے عرصے میں تحریک کچلنے کی کوششوں میں کشمیری پولیس اور بھارتی فوج اب تک 90سے زائد کشمیریوں کو شہید اور بے شمارکو زخمی اور 2ہزار کے قریب گرفتار ہو چکے ہیں ۔
تحریک کی وجوہات :
کشمیر میں احتجاجات پولیس اور فوج کی زیادتیوں کے خلاف ہو رہے ہیں اس کی ایک وجہ کشمیربدترین غلامی ، بے انتہا غربت اوربے روزگاری ہے حالانکہ سرکاری میڈیا یہی بتا رہا ہے کہ اس صورتحال کے پیچھے لشکیر طیبہ ہے ۔لیکن پھر یہ مظاہرے بڑے پیمانے پر ہونے لگے اس میں عورتیں اور درمیانی عمر کے لوگ نوجوانوں کے ساتھ مل کر پولیس پر پتھراؤ کرتے بڑے پیمانے پر مظاہرے ہونے لگے تو لشکر طیبہ اور پاکستانی سازش کی تھیوری مذاق لگنے لگی ۔اور نڈیامیں اختلاف کی مختلف آوازیں آنے لگیں اور نوجوانوں کی سنگ بازی کی جدوجہد کی حمایت اور انڈین آرمی کی مخالفت ہونی شروع ہوئی اور صورتحال پر سنجیدہ گفتگو شروع ہوئی سنجے کک نے عورتوں کی سنگ بازی کو بڑے خوب صورت انداز میں پیش کیا ۔اس نے کہا کہ یہ ’’معمولی غم و غصہ ‘‘ نہیں ہے یہ سالوں کا دبا ہوا لاوا ہے جو اب جم کر ٹھوس چٹان بن گیا ہے ۔اور جمع شدہ انگار کو یہ پتھر کی شکل میں اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے ہیں ۔اس بات کو سمجھنے سے انکار کرنا یعنی معمالے کی جڑ تک پہنچنے سے بچنے کی کسی بھی کوشش کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ کشمیر کے ہنگاموں کی نوعیت بھی سمجھ نہ آسکے ۔
انڈین لیفٹ :
کشمیر میں جاری تحریک کے بارے میں انڈیا میں عمولی طور پر لاتعلقی پائی جاتی ہے لبرلز اور لیفٹ یا تواس پر خاموش ہیں یا واضح طور پر اسے ایک ابھرتے ہوئے اسلامی
بقیہ صفحہ نمبر:10

کشمیر میں نوجوانوں کی تحریک
خطرے کے طور پر پیش کرر ہا ہے ایسی ہی صورتحال پاکستان میں بھی ہیں جہاں لیفٹ ریاستی دہشت گردی کی مخالفت کو منظم کرنے کے بجائے ریاست کے ساتھ اس وجہ سے کھڑاہو جاتاہے کہ بلوچ سردار یا طالبان خطرہ ہے ۔
سوویت یونین کے زوال اور مزدور تحریک کے کمزور ہونے کی وجہ سے لیفٹ اور لبرلزسرمایہ درانہ نظام کو قبول کر چکے ہیں اور وہ اسی وجہ سے تحریکوں کی حمایت کی جگہ اب اس میں نقائص نکلتے ہیں اور اس کو ایک یا دوسری بنیاد پر مسترد کرتے ہوئے ریاست اور سامراج کی حمایت میں کھڑے ہو جاتے ہیں
سرمایہ داری کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں ۔کیوں کہ ان کہ بقول اب سماجی تبدیل ممکن نہیں ہے یا وہ ارتقائی عمل کو نتیجے میں آگی، اس لیے موجودہ نظام کا دفاع کرتے ہیں۔
کشمیر میں مظالم کے خلاف اور تحریک کی حمایت میں انقلابی لیفٹ کو ہندوستان اور پاکستان کے محنت کشوں کو کشمیر کی تحریک اورحق خودرایت کے لیے منظم کرنا پڑے گا اور یوں ہم استحصال پر مبنی نظام کی بجائے ، محنت کش طبقے کی تحریک کو منظم کر تے ہوسوشلسٹ نظریات کو مقبول بنا سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: