انقلابی انٹرنیشنل کے قیام کے لئے جدوجہد

ہم ان تمام تنظیموں سے ایک مشترکہ کانفرنس کومنعقدکرنے کی اپیل کرتے ہیں ۔جو سمجھتی ہیں کہ محنت کش طبقے کی انٹرنیشنل تعمیراس عہد کی ضرورت ہے۔
ڈئیر کامریڈز:
لیگ فاردی فیفتھ انٹرنیشنل ،ان تمام تنظیموں کو بحث کی دعوت دیتی ہے ۔جنھوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ محنت کش طبقے کی نئی عالمی تنظیم کے قیام کی حمایت کرتے ہیں ،ایک نئی انٹرنیشنل جو سرمایہ دار طبقے کے محنت کشوں کی سماجی حاصلات ،جمہوری حقوق اورقدرتی ماحول پر حملوں کے خلاف عالمی سطح پر محنت کشوں کی مزاحمت منظم کرے ۔
ہو گو شاویر نے نئی پانچویں انٹرنیشنل کی تعمیر کی کال دی ہے اورانقلابی سوشلسٹ تنظیموں کی ایک بڑی تعداد نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔جو سمجھتی ہیں کہ نئی انٹرنیشنل کی تعمیر ایک فوری تقاضاہے نہ کہ دور دراز مستقبل کا کوئی نظریاتی منصوبہ ہے ۔
نئی انٹرنیشنل کی اہمیت آج بہت زیادہ ہے جب سرمایہ دار محنت کش طبقے کی نوکریوں ،تنخواہوں،سماجی فلاح وبہبود ،صحت ،تعلیم ،اور جمہوری حقوق پرشدید حملے کر رہاہے ۔
عالمی سرمایہ دار طبقے دوسری جنگ عظیم کے بعد کے سب سے بد تر معاشی بحران کے ابتدائی جھٹکوں کے باوجود محنت کش طبقے کی روایتی لیڈر شپ کی کمزوری کی وجہ سے بچ گیا ہے اور اب وہ پر یقین ہیں کہ موجودہ بحران کی تمام قیمت تنخواہ داروں ،پینشنز، بے روزگاراور نوجوان ادا کریں گے۔
اس کے خلاف عظیم جدوجہد جنم لے رہی ہے مزاحمت کی قوتوں کو قومی اور براعظمی محدودیت متاثر کر رہی ہے ۔یورپ میں یورپی یونین کی حکومتیں جرمنی کی قیادت میں گریس کے محنت کشوں،کسانوں اور لوئر مڈل کلاس کے خلاف مربوط کیمپین چلارہے ہیں کہ وہ کاہل ہیں اور اپنے وسائل کی نسبت بلند معیار زندگی گزار رہے ہیں ان کے صحافیوں نے براعظم کے جنوبی قوموں کے خلاف نفرت بڑھا رہے ہیں اور ان کو پر تگال،اٹلی،یونان اور اسپین کونفرت کے مخفف سواروں کے طور پیش کر رہے ہیں ۔
جب گریس کابحران اپنی انتہا پر تھا ہمیں ایسی تنظیم کی ضرورت تھی جو جرمنی ،فرانس ،برطانیہ بلکہ پورے یورپ کے محنت کشوں کو اس تعصب کے خلاف متحرک کرتی اور انہیں واضح کرتی کہ یہ گریس کے محنت کش نہیں بلکہ شہر لندن ،فرنکفٹ،زیورخ اور بانڈ مارکیٹ کے ارب پتی ہیں جو اس بحران کے ذمہ دار ہیں اور عوامی غصہ و نفرت کو ان کی طرف کرتی۔ایسی کوئی تنظیم موجود نہیں ہے اس لئے یہ حکومتیں سارے براعظم میں عوامی سہولیت پر شدید حملوں کے پروگرام بنا رہی ہیں اور زور دے رہے ہیں کہ محنت کش سماجی اخراجات میں بڑی کٹوتیاں برداشت کریں ،نہیں تو گریس جیسے حالات کا شکار ہو جائیں گے ۔
وہ نیٹ ورک ،تنظیم اور لیڈر شپ جو محنت کش طبقے کی مزاحمت کومتحرک کر سکے وہ انٹرنیشنل ہوگی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ عالمی سرمایہ درانہ بحران نے وہ حالات پیدا کر دیئے ہیں جس میں نئی انٹرنیشنل کی تعمیرکے تقاضے کو ملتوی نہیں کیا جاسکتا یہ آج کا تقاضاہے ہر ملک میں انقلابی پارٹیوں کی تعمیر کے ساتھ۔
ہم یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ بحران کوئی عام چکری بحران نہیں بلکہ یہ نئے عہد کی شروعات ہے جس نے عمومی طور پر سرمایہ دارانہ ترقی میں زوال پیدا کر دیا ہے ۔جس میں مجموعی طور پر سرمایہ درانہ طبقہ محنت کشوں پر مستقل حملے کر رہا ہے ،عمومی طور پر چکری ابھار طاقت ور ہوتا ہے اور زوال گہرا اور لمبا ہوتا ہے ان حالات میں مختلف طاقتوں کے درمیان جھگڑوں کی شدت میں اضافہ ہوگا انقلاب سے پہلے کے حالات اور انقلابی صورتحال جنم لے گئی رجعتی قوتوں میں بر ھتوڑی ہوگی ،جنگین اور موحولیاتی تباہیاں بنیادی طور پر محنت کش طبقے کی قیادت کے بحران کے حل اور سماج سوشلسٹ تبدیلی کا تقاضہ کر رہی ہے ۔
پرانے سامراجی ممالک اور نئی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے درمیان عظیم غیر ہمواریت موجود ہے، ایک طرف ترقی پذیر نیم نو آبادیاتی معیشتیں دوسری طرف کچھ ممالک ترقی کر رہے ہیں جبکہ دیگر شدید مشکلات ،قرضہ جات اور تباہی کا شکار ہورہے ہیں ۔حالانکہ ہم موجود بحران کے تاریخی کردار کو تسلیم کرتے ہیں اس کے باوجود ہم چکری بحالی اور پر تضاد ابھار سے انکار نہیں کرتے ۔سرمایہ دارانہ ترقی کا چکری ابھار جاری ہے لیکن یہ پر تضاد اور تکلیف دہ ہے ایک ملک یا خطے میں ابھار دیگر میں شدید بحران پیدا کرتاہے جب نظام پر زوال پذیر ہو تو پھر لوٹ مار کے لئے مقابلہ تیز ہو جاتا ہے ۔
بحران کی بڑی وجہ وہ تضادات جن کو عالمگیریت نے پچھلے عرصے میں تیز کر دیا ہے یورپ میں ہم جنگ کے بعد کی حاصلات پر شدیدحملے ہو رہے ہیں (ویلفیر ریاست کا خاتمہ )اور تیسری دنیا میں قرضوں کے بحران اور معیار زندگی پر شدید حملوں کے خلاف جدوجہد کر جاری ہے ہیں ۔دنیا کے وسائل کی تقسیم کے لئے ابھرتی اور زوال پذیر سامراجی قوتوں کے درمیان علاقائی اور پراکسی جنگ اقتصادی اور سفارتی تناعازت میں تیزی آرہی ہیں ماحولیاتی تباہیاں مزید عدم و استحکام پیدا کر رہی ہے ۔
ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ بحران کی خاص اہمیت ہے کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام کے تاریخی تضادات کو سامنے لا رہا ہے اور یہ انقلابی کامنٹرنے لینن اور ٹراٹسکی کے دنوں میں واضح کیا تھاکہ سامراجی عہد انقلابی عہد ہے یہ سرمایہ داری کے زوال پذیر ہونے کا عہد ہے اور سوشلزم کے لئے جدوجہد کے امکانات ہر طبقاتی جدوجہد میں موجود ہیں۔
اس عہد میں طبقاتی جدوجہد کی ضرورت لازمی طور پر انقلاب یا رد انقلاب کی صورت میں سامنے آتی ہے ۔جہاں طاقت کا سوال پیدا وہاں محنت کش طبقے کی فتح یقینی طور پر ایسا مسئلہ نہیں جسے معروضی عمل حرکیات کے پر چھوڑا جائے ۔کامیابی کے لئے محنت کش طبقے کو واضح پروگرام محنت کشوں کی ایڈوانس پرت پر مشتمل لڑاکا تنظیم اور طبقاتی جدوجہدجو نئی تنظیمیں کو جنم دئے ۔آخر میں ان میں سے کوئی بھی کام قومی بنیادوں پر مکمل نہیں کیا جاسکتا محنت کش طبقے کی تحریک کو عالمی سطح پر بڑے چیلنجز کا سامنا ہے سب سے بڑھ کر اس عوامی تنظیموں ،پارٹیوں،اور ٹریڈ یونینز کو جو انقلابی لیڈر شپ کے فقدان کا شکار ہیںیہ ممکن نہیں کہ سماج میں موجود خلاء ان کا انتظار کرے ۔موجودہ ٹریڈ یونینز کی لیڈر شپ ،کیمونسٹ،سوشلسٹ اور لیبر پارٹیاں سرمایہ کی ایجنٹ ہیں بہترین طور پر ان کے نزدیک سرمایہ داری کے بحران کا کوئی متبادل نہیں ہے اور بد تر یہ ہے کہابھرتی ہوئی جدوجہدکوکمزور اور ناکام بنا دیں۔
جس عہد کا آغاز ہو رہا ہے اس میں یقینی طور پر اہم مواقع موجود ہیں لیکن اس میں عظیم خطرات بھی ہیں ۔
موجودہ صورتحال میںیہ ممکن ہے کہ سوشلسٹ نظریات اور سیاست پھر بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل کر لے، محنت کش طبقے اور دیگر مظلوم اور استحصال زدہ طبقات اور پرتو کو جد پرولتاریہ کے قدرتی حریف ہیں ۔
یہ امکانات تاہم تب ہی حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں اگر انقلابی ان کو تنظیمی اور سیاسی طور پر متحرک کرنے میں عالمی سطح پر کردار ادا کریں جیسا کہ مارکس،اینگلز،لگسمبرگ،لینن،اور ٹراٹسکی نے پچھلی چار انٹرنیشنلوں میں کردار ادا کیا تھا ۔
ہم کو ابتداء سے آغاز نہیں کرنا پڑے گا ،ہمارے پاس تاریخی افراد کا ورثہ موجود ہے جو ہمارے لئے رہنمائی کا کردار ادا کرے گا ۔اس حوالے سے ہم انٹرنیشنل کے انقلابی عہد کے کام کو جاری رکھیں گے ۔
تاہم ہمیں پچھلے دس سالوں میں در آنے والی تبدیلیوں پر بھی مؤثر حکمت عملی بنانا ہو گی عالمگیریت کے پھیلاؤ کے عہد میں انٹرنیشنل ازم کی قوتیں بھی تیزی کے ساتھ اور بڑے پیمانے پر فروغ پارہی ہیں ۔
اس کی شاندار مثال سرمایہ داری مخالف تحریک جس کا آغازسیاٹل سے ہوا ،وینزویلا،ارجنٹائن،میکسیکو،بولویا میں عوامی تحرک،اور عالمی جنگ مخالف تحریک 2003جو جنگ اور قبضے کو روکنے میں ناکام رہی لیکن جنگ کرنے والے ممالک کے عوام میں جنگ کی حمایت میں کمی کا باعث بنی اور مزید حملوں کو روک سکی ۔یورپ اور لاطینی امریکہ کی طرح جو ممالک سرمایہ دارانہ اور سامراجی حملوں،معاشی اور ملٹری کا سامنا کررہے ہیں،وہاں بڑے پیمانے پر عوام متحرک ہو ے ہیں ۔
ان پیش قدمیوں نے اپنا اظہار بہت سارے اجتماعات میں کیا جیسے عالمی اور بر اعظمی سوشل فورمز میں اور اب پانچویں انٹرنیشنل کی اپیل میں جو وینزویلا کے صدر ہو گو شاویز نے نومبر میں دی ہے ۔
سیاسی گروپ یا پارٹیاں جو عمومی طور پر سرمایہ داری ،سامراج،اور جنگ مخالف میں متحرک تھے ۔ان میں سے بڑی تعداد کی طرف سے اس اپیل کا مثبت جواب آیا ہے ۔جس میں مختلف ٹراٹسکی اسٹ گروپ اس کے ساتھ غیر ٹراٹسکی اسٹ اور مارکسٹ لینیٹ تنظیمیں شامل ہیں ۔
شاویز کی اپیل کی حمایت کے ساتھ تنقید بھی آئی ہے ۔ان میں سب سے اہم خطرہ یہ ہے کہ کہیں انٹرنیشنل سرمایہ درانہ ریاست (حتی کہ اگر وہ سامراج مخالف بھی ہے )کی خارجہ پالیسز کی نمائندہ نہ بن جائے کیونکہ بولورین انقلاب کی بنیاد میں طبقاتی تضادات موجود ہیں ۔
ہم بھی یقینی طور پر اس تنقید سے متفق ہیں ۔وینزویلا میں طبقاتی تضادات بہت حقیقی ہیں یہ ایک بار پھر سادہ حقیقت کو واضح کر رہے ہیں کہ سوشلزم کبھی حقیقت کا روپ نہیں دھارسکتا جب تک کہ سرمایہ دار طبقے کے خاتمہ نہیں کیا جاتا اورپرانے ریاستی اداروں کو تباہ کر کے ان پر محنت کش طبقے کی نئی ریاست کی بنیاد نہیں ڈالی جاتی ۔PSUVمیں جمہوریت کا فقدان ،مشینز کا زوال اور بیورکرٹیزیشن اور شاویز کی محنت کشوں کی طرف سے تنخواہوں میں اضافے کی تحریک کی مذمت کہ اس کا مقصد مہنگائی میں اضافہ ہے جو کہ رد انقلابی اقدام ہے ۔یہ اس خطرے کو واضح کرتا ہے کہ انٹرنیشنل کیسی ہوگی اگر وہ اس کے اصلاح پسند سوشلزم اور قیادت کے تحت بنائی جائیگی ۔
اگر نئی انٹرنیشنل سرمایہ دار غیر وابستہ تحریک جیسی ہو ئی ،جسے کہ شاویز نے بہت سارے مواقعوں پر کہا ہے جس میں اس نے ایرانی حکومت اور چینی کمیونسٹ پارٹی سے اپیل کی ہے تو یہ انٹرنیشنل کا خاتمہ ہو گا ،اس کے برعکس محنت کش طبقے کی حقیقی انٹرنیشنل کی ضرورت ہے جو سوشلزم کی جدوجہد کرے اور سرمایہ داری کا خاتمہ کرکے انقلاب برپاکرے ۔
کیا اس کا مطلب ہے کہ جو مکمل طور پر شاویز کی اپیل کو مسترد کر رہے ہیں، اکثر جائزہ تنقید جو انہوں نے اس کی سیاست اور اقدامات کے حوالے سے کی کیا وہ ایسا کرنے میں درست ہیں یقینی طور پر نہیں ۔اول وہ اس سادہ حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ محنت کش طبقے کو ایک انٹرنیشنل کی ضرورت ہے مستقبل کے دور میں نہیں بلکہ ابھی ۔کیونکہ موجودہ بحران کے نتیجے میں محنت کشوں پر جو شدید حملے ہورہے ہیں اس کے خلاف لڑائی آغازکرناہوگا ۔ اگر محنت کشوں کی تنظیمیں اس اپیل کی طرف مثبت رحجان ظاہر کریں تو پھر یہ شدید فرقہ واریت ہوگی کہ اس سے منسلک نہ ہوا جائے ۔
دوم اگر انقلابیوں نے ایسے عمل میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تو اس کا نتیجہ وہی ہوگا جس سے وہ بچنا چاہتے ہیںیعنی بورژوا انٹرنیشنل کا قیام۔ اس طرح کا نتیجہ محنت کش طبقے کے خلاف جرم ہوگا خاص کر اگر یہ لینن اور ٹراٹسکی کے سرخ جھنڈے تلے ہو ۔لیکن اس کو وقوع پذیر ہونے سے روکنے کے لئے انقلابیوں کو سرگرم مداخلت ہوگی۔
اس کا مطلب ہوگا کہ ہمیں خاموش تماشائی بن کر کناروں پر کھڑے نہیں رہنا اس سے شاویز اور اس کے اصلاح پسند ساتھی انٹرنیشنل کو اپنی مرضی کی شکل دے سکتے ہیں ۔جیسا وہ چاہیں ،ہم کواس کی تعمیر کے عمل میں مداخلت کرنا ہوگی اور انقلابی پروگرام اورپالیسی کے لئے ہر جگہ اور مواقع پر جدوجہد کرنا ہوگی ۔اس وجہ سے ہم شاویز کی اپیل کو خوش آمدید کہتے ہیں مگر اس پروجیکٹ کی حمایت کہ بغیر، اس ہی وجہ سے ہم انٹرنیشنل کانفرنس میں شریک ہونگے جو شاویز منعقد کرے گا ۔کیا یہ کانفرنس مثبت کردارادا کرے گی یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اس میں کتنی تنظیمیں شریک ہوں ،ان کا مؤقف ہوگا ؟ اور وہ اس موقع پر کیا نقط نظر اپنائیں گے ؟پانچویں انٹرنیشنل کو ضرور تعمیر ہونا چائیں لیکن اس کی بنیاد انقلابی نظریات پرہو، پہلے سے موجود تنظیموں کے درمیان سے اشتراک اور ان کو معروضی حالات کے مطابق طبقاتی جدوجہد کو پروان چڑھنا ہوگا ۔اس لئے ہم تمام انقلابی اور محنت کشوں کی تنظیموں کو دعوت دیتے کہ وہ نئی انٹرنیشنل جس کی بنیاد انقلابی سوشلسٹ نظریات پر ہواسی کو بنانے کی جدوجہد میں ہمارے ساتھ شامل ہوں ۔
محنت کش طبقے کا ہر اول موجود عہد میں بورژوا حکومتوں کے شدید حملوں کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے ، قومی اور عالمی سطح پر ایسے نیٹ ورک کی ضرورت ہے جو ان کی جدوجہد کو منظم کرئے ،اور جوابی حملوں کے لئے لائحہ عمل مرتب کرے جو اقتدار پر قبضے کی راہ ہموار کرے یعنی عالمی سوشلسٹ انقلاب ۔
لیگ فاردی فیفتھ انٹرنیشنل یہ سمجھتی ہے کہ اگر شاویز ان تمام کو جو سرمایہ داری اورسامراج مخالف ہیں شرکت کی کھلی دعوت دیتا ہے تو تمام انقلابی رحجانوں اور تنظیموں کو اس میں شرکت کرنی چائیے ۔ان کو انقلابی مداخلت کرنے کے لئے آپس میں اشتراک کرنا چائیے تاکہ وہ انقلابی پروگرام اور ایکشن کی حمایت میں دلائل دیں محنت کش طبقے کو تمام ریاستوں سے آزاد کروائے انقلابی مقصد اور لائحہ عمل کے لئے بحث کا آغاز کرے ۔
مگر اس کے لئے یہ صحیح یا لازمی نہیں کہ ہم ایسی کسی کانفرنس کا انتظار کریں جو کبھی وقوع پذیر ہی نہ ہو یا ایسی حالت میں جو انٹرنیشنل کے تمام تصور کو ہی مجروح کر دے ۔یہ اہم موقع ہے ان تمام قوتوں کے لئے جو انٹرنیشنل کی تعمیر کو اس وقت ضروری اور لازمی سمجھتے ہیں کہ وہ خود اس کا آغاز کریں اور ان طاقتوں سے اپیل کریں جو انٹرنیشنل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اس وجہ سے ہم تجویزکرتے ہیں کہ ایسی تمام قوتیں ایک کانفرنس منعقد کریں جو آزادانہ طور محنت کشوں پر جاری حملوں کے خلاف عالمی سطح پر بحران کے خلاف مربوط مزاحمت منظم کرنے پر بحث کرے اور نئی (پانچویں)انٹرنیشنل کی تعمیر کے سوال کو ہر ملک میں محنت کشوں کی جدوجہد والی تنظیموں میں ڈسکس کیا جائے ۔
ہم اپنی تجویز پر آپ کے رسپانس کے متمنی ہیں ۔
انقلابی جذبات کے ساتھ
ڈیوسٹوکنک،لیگ فاردی فیفتھ انٹرنیشنل

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: