مصر میں انقلاب زندہ باد

تیونس میں جنم لینے والے انقلاب نے سارے مشرق وسطی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔اردن،یمن،الجریا میں نوجوان اور محنت کش عوام احتجاج کر رہے ہیں ،دیگر عرب ممالک میں حکمران انقلاب کیتیش سے خوف زدہ ہیں ۔لیکن مصر اس انقلاب کا مرکزبن گیا ہے جہاں لاکھوں کی تعداد میں عوام آمریت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں مصر کے نوجوان اور محنت کش عوام حسنی مبارک کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئے ہیں ۔تحریر اسکوائر آمریت مخالف تحریک کا قلعہ بن گیا ہے ۔مصر میں انقلابی جدوجہد دنیا بھرمیں نوجوانوں اور محنت کش عوام کے لئے امید کا پیغام ہے ۔امریکی سامراج اورا سرائیل کے حکمران طبقہ کے ہوش اڑگئے ہیں۔ خطے میں آمریتوں اور صیہونیت کی موت کا آغاز ہو چکا ہے ۔غلامی کا عہد ختم ہو رہا ہے اور فلسطینوں کے لیے نئے سویرے کا آغازممکن ہے ۔انقلاب نوجوانوں اور محنت کشوں پر مشتمل نئے طاقت کے مراکز یعنی دفاعی کونسلوں کو تشکیل دے رہا ہے۔

پاکستان اور انقلاب
مصر کی طرح پاکستان میں بھی سرمایہ داروں کی آمریت قائم ہے ۔نوجوان ،محنت کش،اور غریب عوام کی زندگی ،مہنگائی،غربت اور بے روزگاری نے اجیرن کردی ہے مگر سرمایہ داروں کی دولت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔سرمایہ دار معیشت کے بحران کا واویلا کرتے ہوئے ،محنت کشوں کو حاصل چند اصلاحات پر بھی حملہ آور ہیں ۔ محنت کش ،مہنگائی،نجکاری اور تنخواہوں میں اضافے کے لیے باربار احتجاج کر رہے ہیں ۔حکمران طبقہ ترقی ، جمہوریت اور امن کے نام پر اپنے ہی عوام پرجنگ مسلط کیے ہوئے ہے ۔جبکہ حقیقت میںیہ سامراجی مفادات کی جنگ ہے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان تباہی کی تصویر پیش کررہا ہے۔لیکن حکمران طبقہ ڈالرز ضرور وصول کررہا ہے۔عوام اس صورتحال سے تنگ ہیں۔نام نہاد جمہوریت میں بھی ان کے لیے کچھ نہیں ہے اس لئے وہ تبدیلی چاہتے ہیں اور موجودہ نظام کے خلاف جدوجہد میں آرہے ہیں اس صورتحال میں حکمران طبقے کا ایک حصہ انقلاب کا نعرہ بلند کر رہا ہے ، تاکہ انقلاب کو روکاجاسکے۔
کیا کیا جائے ؟
مہنگائی،بیروزگاری،نجکاری،ڈاؤن سائزنگ کے خلاف محنت کشوں کی جدوجہد کو آپس میں منسلک کرنا ہوگا، جلسے جلوس کے زریعے نوجوانوں اور محنت کش عوام کو متحرک کرنا ہوگا ۔سامراجی جنگ،دہشت گردی اور فرقہ واریت کی سیاست کو بے نقاب کرنا ہوگا ۔یوں ہی یہ ممکن ہوگا کہ سامراج اور سرمایہ داری نظام کی حقیقت واضح کرتے ہوئے سوشلسٹ متبادل پیش کیاجاسکے۔مصر کے عوام کی طرح جدوجہد کرنا ہوگی ۔لیکن اس کے ساتھ ہمیں محنت کش عوام کی پارٹی بھی تعمیر کرنا ہوگی ۔ جو نہ صرف جمہوری تحریک میں نوجوانوں،شہری ودیہی غریبوں کو قیادت فراہم کر سکے بلکہ جمہوری انقلاب کو سوشلسٹ انقلاب میں بدل دے۔

سرمایہ داری نا منظور
مصلحت،موت اور مزاحمت زندگی سامراج مردہ باد
سوشلسٹ انقلاب زندہ باد

انقلابی سوشلسٹ تحریک

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: