پاکستان اور انقلاب

تحریر:کامریڈ شہزاد
تیونس اور مصر میں عوامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ،اب لیبیا،بحرین،اردن،یمن میں بھی انقلابی ابھار تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے ۔انقلابی تحریکوں کا اثر پوری دنیا میں ہو رہا ہے اور حکمران طبقہ اس وقت خوف کی کیفیت میں ہے ۔
حکمران طبقہ اور بحران: پاکستان میں بھی غربت،مہنگائی،بیروزگاری،امریکی سامراج،نجکاری،سرکاری اور نجی اداروں نوکریوں کے خاتمے کے خلاف عوامی نفرت عروج پر ہے۔ حکمران طبقہ یہ چاہتا ہے کہ محنت کش عوام بحران کی قیمت ادا کریں ۔مگر محنت کش اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔خوف ختم ہو رہا ہے محنت کش فتوحات حاصل کر رہے ہیں ۔اس سے محنت کشوں کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
محنت کش طبقے کی جدوجہد میں اضافہ:
2011ء کے پہلے دو ماہ میں محنت کشوں کی طرف سے حکمران طبقہ کے حملوں کے خلاف شاندارجدوجہد سامنے آئی ہے۔
KESCکے4500مزدوروں کی برطرفی کے خلاف 4دن تک KESCکے محنت کشوں نے مرکزی دفتر کا گھیراؤ اور ہڑتال کی جس سے خو فزدہ ہو کر انتظامیہ نے 4500محنت کشوں کو ان کی نوکریوں پر بحال کر دیا پاکستان پوسٹ کے ہزاروں محنت کش مجوزہ نجکاری کے خلاف تین ماہ سے احتجاج پر ہیں۔ پورٹ قاسم کے محنت کش تنخواہوں میں اضافہ کے لئے طویل عرصہ سے مطالبہ کر رہے تھے ۔لیکن جدوجہد کے چندہی گھنٹوں میں انھوں نے عظیم کامیابی حاصل کرلی۔ریلوے کی انتظامیہ نے ۲۰ ہزار نوکریوں کے خاتمے کا اعلان کیا تو ریلوے کے محنت کشوں نے زبردست جدوجہد کی جس کے نتیجے میں وہ یہ فیصلہ لینے پر مجبور ہوئے ۔
پی آئی اے کے محنت کشوں کی ہڑتال کے نتیجے میں نہ صرف تمام سروسز روک دی گئیں۔بلکہ پی آئی اے کے ایم ڈی کو مستعفی ہونا پڑا ۔طالب علم،اساتذہ،کلرک اور نرسیں بھی مختلف معاشی مسائل پر جدوجہد میں آرہے ہیں پی ٹی سی ایل میں بھی جبری برطرفیوں کے خلاف جدوجہد جاری ہے ۔
انقلاب اور حکمران طبقہ:
ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں تین افراد کے قتل کے خلاف عوام میں امریکہ سے شدید نفرت پائی جاتی ہے ۔
ان حالات میں عوام حکومت سے شدید نفرت کر رہے ہیں ۔حکمران طبقہ خوف زدہ ہے اس لئے ان کا ایک حصہ بھی انقلاب کا نعرہ لگا رہا ہے ان حالات میں بڑی عوامی تحریک ابھر سکتی ہے ۔
بائیں بازو اور موجودہ صورتحال:
سوال پیدہ ہوتا ہے کہ انقلابی بائیں بازو کا اس تحریک کی طرف کیا رویہ ہونا چائیے؟
وکلاء تحریک کے مواقع پر بھی اور اب بھی بائیں بازو کے بہت سارے کارکناں کا خیال ہے کہ یہ جو انقلابی ابھار پیدا ہو رہے ہیں یاں تو یہ حکمران طبقہ کی اپنی لڑائی ہے یاں امریکی سامراج کی سازش ہے اور تیونس اور مصر میں آنے والی تبدیلیاں سطحی ہیں کیونکہ اشخاص کی تبدیلی انقلاب نہیں ہوتی۔ اگر ضرورت ہے تو انقلابی پارٹی کی تعمیر کی ۔
ان باتوں کو مکمل طور پر غلط نہیں کہا جاسکتا۔
مگر اہم بات یہ ہے کہ ان تبدیلیوں کی طرف کیا رویہ اختیارکیا جائے ؟
مشرق وسطی میں بڑی تبدیلی جنم لے رہی ہے ۔سامراج کی حمایت یافتہ دو

اہم آمریتوں کا خاتمہ ہو گیا اور انقلاب خطے کے دیگر ممالک میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے جو سامراج اسرائیل اور خطے میں اس کے حامیوں کو شدید خوف میں مبتلا کر رہا ہے ۔
عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اورخوف کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔یہ یقین بڑھا رہا ہے کہ جدوجہد کریں گے تو جیت ممکن ہے۔اسی وجہ سے مصر میں بڑے پیمانے پر محنت کشوں جدوجہد سامنے آرہی ہے اور وہ تنظیمی طور پر حکومت کے حامی ٹریڈ یونینز سے آزاد اپنی تنظیمیں بنا رہے ہیں ۔ان حالات میں انقلابی سوشلسٹوں کو ان تحریکوں کا مکمل ساتھ دینا چائیے ۔کیونکہ اس سے جمود کا خاتمہ ہو گا اور تحریکوں کی کامیابی کے ساتھ انقلابی نظریات بھی پروان چڑھیں گے ۔اس صورتحال میں متحدہ محاذ بنانے کی ضرورت ہے ۔ہمیں سوشلسٹ نظریات کو تحریک میں پیش کرنا کاموقع مل سکے اور تحریکوں میں متبادل مطالبات اور پروگرام کے ذریعے اصلاح پسندی کے خلاف جدوجہد منظم کی جاسکتی ہے اور یوں ہی ممکن ہوسکتا ہے کہ محنت کش عوام تحریک کی قیادت میں آسکیں۔
پاکستان میں محنت کشوں کے شعور میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے ۔وہ جدوجہد کے دوران اہم اسباق حاصل کر رہے ہیں ۔عوامی شعور تبدیلی کا چاہتا ہے ۔حکومت اور اپوزیشن عوام میں بے نقاب ہو رہی ہے ۔ انقلاب کا لفظ ہر شخص زبان پر ہے۔پاکستان میں انقلاب ممکن ہے، یہ ایک طبقاتی سوال ہے۔اس کا جواب طبقاتی جدوجہد اور محنت کش طبقہ کی انقلابی پارٹی سے وابستہ ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: