مصر میں انقلاب کی فتح

تحریر:سائمن ہارڈی
۱۱ فروری 2011عرب بلکہ پوری دنیا کے لئے تاریخی دن تھا ۔دسیوں لاکھوں عوام کے مصر کے ہر شہر اور قصبے میں احتجاج کررہے تھے ۔ریاستی ٹی وی ،صدارتی محل اور پارلیمینٹ ہاؤس کا مظاہرین نے گھراؤ کر رکھا تھا ۔
جس کے نتیجے میں مشرق وسطی میں سب سے مستحکم سمجھے جانے آمر حسنی مبارک کی حکومت کا خاتمہ ہوگیاہے ۔
فتح کا جشن اور امید:
مصری عوام کے خوشی کے جذبات عروج پر تھے عوام کی طرف سے فتح کے جشن کے دلفریب مناظر کو دنیا بھر کے ٹی وی دیکھتے رہے یہ مناظر ہمیشہ دنیا بھر کے عوام کے لئے امید کا پیغام بنے رہیں گے ۔یہ ان لوگوں کے مناظر تھے جنہوں نے جدوجہد کی اور عظیم فتح حاصل کی یہ مناظر بھی دیوار برلن کے گرانے اور امریکہ میں سول رائیٹس کی تحریک کی طرح عوام کے ذہنوں میں تبدیلی کی جدوجہد کو ابھارتے رہیں گے ۔
جمعرات کو صدارتی تقریر سے ہر کوئی امید کر رہا تھا کہ مبارک مستعفی ہو جائے گا ۔لیکن جب اس نے اقتدار میں رہنے کا فیصلہ کیا تو ہر طرف مایوسی پھیل گئی ۔لیکن مایوسی جلد ہی عوام کے غصے اور نفرت میں بدل گی اور وہ مزید 24گھنٹے ہی نکال سکا اور مستعفی ہو گیا اس سے لوگوں کی خوشی دیدنی تھی اور وہ پر عظم ہو گئے کہ عوامی طاقت سے سب کچھ ممکن ہے ۔
وہ لوگ جن کا جدوجہد پر یقین ختم ہوا ہو یا انہوں نے محسوس کیا ہو کہ حکومتیں اور آمربہت طاقت ور اور مضبوط ہیں ان کو مصر کے عوام کی جدوجہد سے امید اور جدوجہد کی شکتی لینی چائیے ۔جیسا کہ ایک خاتون نے الجزیری ٹی وی کو بتایا ’’میں اپنی پوری زندگی اس لمحے کا انتظار کرتی رہی صرف مصری کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک عورت کے طور پراب سب کچھ ممکن ہے ،حتی کہ فلسطین کی آزادی بھی ممکن ہے ‘‘۔
ٓآزادی کی تمنا:
انقلاب کے دوران بہت دفعہ تحریک کی شدت میں کمزوری آئی شائد اس نے اپنی منزل بھی کھودی ۔لیکن عوام کی آزادی کی تمنا اور جدوجہد مصر کی سیاست میں سب سے طاقت ور قوت بن کر ابھری اس کے نتیجے میں حکمران طبقے میں اندرونی تضادات میں شدت آگی ۔فوج مفلوج ہوگئی اور قابل نفرت پولیس سڑکوں سے بھاگنے پر مجبور ہوگئی مصر کا انقلاب اس بات کا ثبوت ہے کہ عوامی جدوجہد کتنی طاقت ور ہے وہ حکومتوں کا خاتمہ کر سکتی اور حتی کہ امریکہ جیسی سامراجی طاقت بھی کچھ نہ کر سکی ۔
محنت کش طبقے کی تحریک میں شمولیت:
یہ واضح طور پر محنت کش طبقے کی تحریک میں منظم شمولیت تھی جس نے حکمران طبقے کے اندرونی ٹکراؤ میں اضافہ کر دیا اور اس کے نتیجے میں 10فروری کی تقریر سامنے آئی ۔یہ مبارک کی بے وقوفی تھی کہ اس نے اپنی حمایت کے
مکمل خاتمے حتی کہ فوج کی طرف سے بھی ،کہ باوجود مستعفی ہونے سے انکار کردیا اس کے نتیجے میں بہت بڑے پیمانے پر عوام جمعہ کی نماز کے بعد متحرک ہو گئے جس نے مبارک کا خاتمہ کر دیا �آؓ اب کون؟
مبارک کا خاتمہ ہوگیا ہے اب پورے مڈل ایسٹ میں دسیوں لاکھوں عوام مصر کے انقلاب سے امید اور جدوجہد کی شکتی حاصل کر رہے ہیں ۔اب کون عظیم جدوجہد کا سامنا کرے گا ؟کس کا خاتمہ ہو گا ؟
یقینی طور پر اردن ،سعودی عرب،لیبیا،بحرین،کویت اور مراکش کی بادشاہتیں اور آمریتیں بھی اس عظیم انقلاب سے بچا نہیں پائیں گی ۔ایرانی حکومت بھی آج خوف سے کانپ رہی ہو گی ۔
فوج اور جدوجہد:
مبارک کے مستعفی ہونے کے بعد اب اقتدار فوج کے پاس ہے اب سپریم کونسل فار دی ملٹری ملک میں حکمران ہے جمہوریت کے حامی مظاہرین کی بڑی تعداد فوج کو اپنا حمایتی سمجھتی ہے ۔ایک مقبول عام نعرہ ہے کہ ’’مصر کے عوام اور مصری فوج یکجان ہے ‘‘۔یہ نعرہ عام سپاہیوں کو جدوجہد میں جیتنے کے لئے درست ہے مگر جب یہ معاملہ ہائی کمانڈ کا ہو تو یہ سچ نہیں ہے فوج کے ایک ادارے کے طور پر وہ مفاد نہیں ہیں جو عوم کے ہیں ۔یقینی طور پر سپاہیوں اور نچلے افسر ،محنت کش طبقے شہری اور دیہی غریبوں کے بچے ہیں جو اکثر بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور فوج جوائن کرتے ہیں ۔لیکن جرنیل پچھلی حکومت کا حصہ تھے ۔فوج کا سیاست میں کردار دنیا بھر میں منفی ہی رہا ہے۔ پاکستان میں فوج اکثر سیاست میں مداخلت کرتی ہے تاکہ ’’استحکام‘‘ قائم کر سکے اور اس کے نتیجے میں فوجی حکومت قائم ہو جاتی ہے جوپھر اقتدار پر طویل عرصے قبضہ رہتی ہے ۔ترکی میں فوج ہمیشہ سیاست میں مداخلت کرتی ہے کبھی اقتدار میں براہ راست قبضے کے زریعے اور کبھی پس پردہ رہ کر ۔پرتگال میں 1974ء میں انقلاب کے بعد فوج اقتدار پر قبضہ ہو گئی اور عبوری حکومت تشکیل دی جو دو سال تک قائم رہی اور پھر آئین ساز اسمبلی کا پہلا الیکشن ہوا ۔فوج استحکام پیدا کرنا چاہتی ہے یہ بہت منظم جبر کی مشین ہے ۔یہ سرمایہ دارانہ ریاست کا بنیادی حصہ ہے فوج کو طبقاتی بنیادوں پر توڑنا ہوگا یہ وہ اگلا سوال ہے کہ جس کا انقلاب کو سامنا ہے ۔آمر چلا گیا لیکن فوج برقرار ہے ۔
مصر کا انقلاب جاری ہے
مبارک کی آمریت کے خاتمے کی وجہ انقلاب تھا ،جس نے حکمران طبقے کے ایک حصے کو مجبور کیا کہ وہ مبارک اور اس کے کچھ ساتھیوں کو قربان کر کے نظام کو بچالیں ،لیکن یہ اتنے ہی ظلم اور کرپٹ تھے جتنے پچھلی حکومت کے دیگر اراکین تھے سرمایہ دار طبقہ موجود ہے ۔سامراجی ممالک کے مفادات ابھی تک برقرار ہیں ۔دسیوں لاکھوں عوام ان کی قربانیاں اور عظیم جدوجہد بنیادی تبدیلیاں لاسکتے ہیں ۔محنت کش طبقے کو اپنی ہڑتالوں کو جاری رکھنا
ہو گا ،معاشی اور سماجی مطالبات کو جدوجہد کے زریعے پیش کرنا ہوگا اور اپنی طاقت کو منظم کرنا ہو گا
نئی آئین ساز اسمبلی جس کے اراکین عوام کو جواب دہ ہونگے کہ ان کے پاس وہ حق ہوگا کہ نیا آئین بنا سکیں محنت کشوں کو اپنی جدوجہد کی کو نسلوں میں منظم ہو کر طاقت اپنے ہاتھوں میں لینی ہو گی ۔فوج نے ریاستی ایمرجنسی کے خاتمے کا وعدہ کیا ہے، اس کو فوری طور پر ایمرجنسی کا خاتمہ کرنا ہوگا اور تمام جمہوری حقوق بحال کرنے چاہیں۔
لیگ فاردی فیفتھ انٹرنیشنل مصری لوگوں اور جبر کے خلاف جدوجہد کرنے والے عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتی ہیں ہم مصر کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں جو عظیم جدوجہد منظم کر رہے ہیں۔مشرق وسطیٰ اور دنیا بھر کی صورتحال محنت کش طبقے کی عالمی سوشلسٹ انقلاب کی پارٹی کی تعمیر کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔انسانیت کا مستقبل سرمایہ دارنہ جمہوریت اور سامراج سے نہیں ، بلکہ محنت کش عوام ، ان کی جدوجہد اور سوشلسٹ انقلاب سے وابستہ ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: