مصر میں انقلاب کی پہلی فتح۔۔۔۔۔۔۔محنت کشوں کی جدوجہد جاری ہے

محنت کشوں کی جدوجہد میں اضافہ:
مصر میں فوج کی ہائی کمانڈ کی طرف سے انقلاب کو حسنی مبارک کی آمریت کے خاتمے سے آگے بڑھنے کو رو کنیکے خلاف پورے مصر میں محنت کشوں کی جدوجہد اور ہڑتالیں جاری ہیں ۔
اس جمعہ کو ان ہڑتالوں کے تسلسل میں قائرہ کے تحریر اسکوائر میں ایک شاندار مظاہرہ ہوا جس میں تمام قوتیں شامل ہوئیں جنہوں نے انقلاب میں حصہ لیا تھا یہ مظاہرہ ان شہیدوں کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا جس کو سیکورٹی فورسز اور مبارک کے غنڈوں نے شہید کیا تھا ۔اس کے علاوہ اس میں فوج سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر ایمرجنسی قوانین کا خاتمہ کیا جائے سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اور جمہوری اصلاحات کیں جائیں ۔
مبارک کے مستعفی ہونے کے ایک ہفتہ بعد بھی مصر میں نظام و نسق بحال نہیں کیا جاسکا جیسا کہ فوجی حکمران اور سامراج امید کر رہے تھے ۔ بدھ اور جمعرات کو مثال کے طور پر فوج کی حمایت یافتہ کابینہ جو کہ مبارک نے اپنے آخری دنوں میں8 بنائی تھی نے تمام بنکوں کو بند کردیا کیونکہ ان کو یہ خطرہ تھا کہ بینکوں کے محنت کش تنخواہوں میں اضافے اور کریٹ انتظامیہ کے خلاف ہڑتال نہ کردیں ۔
طبقاتی تقسیم
فوج کی اعلی اتھارٹی نے ہڑتالی محنت کشوں کو کہا ہے کہ وہ دوبارہ کام پر جائیں کیونکہ مظاہروں کا تسلسل معیشت کو تباہ کر دے گا ۔
حکومتی اخبارات جنہوں نے مبارک کی آخر تک حمایت کی تھی وہ اب محنت کشوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے ’’قومی مفاد ‘‘کو معاشی مطالبات سے آگے رکھیں ۔
مبارک مخالف تحریک کا اعتدال پسند حصہ بھی ہڑتالیوں سے خانہ جنگی کے خدشہ کی وجہ سے ہڑتالوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ طبقاتی صف بندی اور طبقاتی جدوجہد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
انقلاب اور خوف پر فتح:
محنت کش طبقہ جس کی پچھلے چھ سال کی جدوجہد کے تسلسل میں موجودہ انقلاب برپا ہوا اور اب اس کا بڑا حصہ ہڑتال پر ہے اور یہ حکمران طبقہ کو خوف میں مبتلا کرنے کے لئے کافی ہے ۔محنت کشوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وقت آگیا ہے کے کرپٹ سرمایہ داروں اور نظام کے خلاف جدوجہد کی جائے ۔جس کے طاقت ور نمائندہ کو انہوں نے مستعفی ہونے پر مجبور کردیا ہے ۔
مبارک کے مستعفی ہونے کے بعد سے شروع ہونے والی عظیم جدوجہد متاثرہ کن ہے ۔یہ اس بات کا اظہار ہے کیسے جب عوام کا خوف ختم ہوتا ہے اور وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ دیکھ لیں ۔تو پھر ان کو یقین ہو جاتا ہے کہ وہ اکھٹے ہو ں تو سب کچھ ممکن ہے۔
محنت کشوں کی تحریکیں مطالبات
یہ نا ممکن ہے کہ اس مضمون میں ان سینکڑوں ہڑتالوں اور مظاہروں کا ذکر کیا جاسکے جو اس وقت مصر میں جاری ہیں ۔
تحریکیں معیشت کے تمام سیکٹر سے جنم لے رہی ہیں ۔نہر سویز کے محنت کش، پیٹرولیم،،ٹیکسٹائیل،سیمنٹ کے محنت کش ،آئرن اور اسٹیل، بس ڈرائیور، ریلوے کے محنت کش ،بینک کے ورکرز،نرسیں ،اور ہاسپٹل کا اسٹاف،اساتذہ ،ائیرپورٹ اور کسٹم کے ورکرز اور مختلف حکومتی اداروں کے محنت کش ،حتی کہ امن قائم کرنے والی فورسز کے کیمپ کے محنت کش بھی سنائی شہر میں ہڑتال پر ہیں ۔
محنت کش نے اپنے کام کے حوالے سے مخصوص مطالبات کررہے ہیں۔ اس وجہ سے کچھ تجزیہ نگار میڈیا میں کہہ رہے ہیں کہ یہ سیاسی مطالبات نہیں ۔لیکن اگر آپ قریب سے جائیزہ لیں تو آپ کو ان ہڑتالوں اور ان کے نعروں میں مماثلت نظر آئے گی ۔
زیادہ تر ہڑتالیں حکومتی سیکٹر اور نئی نج کاری والے اداروں میں ہیں ان میں کئی مطالبات اہم ہیں ۔
اول محنت کش کم از کم 1200پاؤنڈ یا0 1700پاکستانی روپے تنخواہ کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔دوم وہ چاہتے ہیں کہ کرپٹ CEOsکو ہٹایا جائے ۔جن میں اکثریت کا تعلق مبارک کی قومی جمہوری پارٹی سے ہے ۔سوم ہڑتالی جن میں اکثر کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں ان کا مطالبہ ہے کہ ان کو مستقل کیا جائے ۔چہارم محنت کش یہ مطالبہ کر رہے ہیں نجکاری کئے ہوئے اداروں کو دوبارہ سرکاری تحویل میں لیا جائے ۔پنجم محنت کش چاہتے ہیں حکومتی حامی ٹریڈ یونینز آفیشلز سے چھٹکارا ملے اور نئی یونینزتشکیل دے رہے ہیں ۔
محنت کشوں کی کچھ تحریکوں کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں ہیں خاص کر سے مستقل نوکریوں کے مطالبآ اور چنددیگر، واک آؤٹس سے مجبور ہو کر کچھ مینجرز اور آفیشلز کو بر خاست بھی کیا گیا ہے ۔
30جنوری کو 14اینڈیپینڈنٹ ٹریڈ یونینز ،جن کی قیادت پراپرٹی ٹیکس کولیکٹرز کی ٹریڈ یو نین کر رہی تھی نے مل کر نئی مصری فیڈریشن آف انڈیپینڈنٹ ٹریڈ یونینز تشکیل دی ،فیڈریشن کو تیزی سے حمایت مل رہی ہے ۔
بدھ کو MisrspinninngاورWeavingکے رات کی شفٹ کے محنت کشوں کے ہڑتال پر چلے گی اور ہڑتال دیگر شفٹوں میں بھی پھیلے گی ۔ان محنت کشوں نے نئی فیڈریشن کو جوائن کرنے کا ووٹ دیا ہے ۔مصر کے دو بڑے قاہرہ اور اسکندریہ میں مختلف ہڑتالیں روزانہ کا معمول بن گئی ہیں ۔جنوب کے کچھ حصوں پر بھی جدوجہد عروج پر ہے۔ مثال کے طور پر جنوب کے شہر Asyutمیں تمام سیکٹرز کے محنت کش ہڑتال پر ہیں اور ان کے مظاہروں سے ایسا لگتا ہے کہ سارے شہر میں عام ہڑتال جاری ہے ۔
نوجوان اور انقلاب :
مغربی میڈیا میں نوجوانوں کے کردار کو بہت ابھارا جا رہا ہے خاص کر جن کی فیس بک اور ٹولیٹر تک رسائی ہے ،لیکن یہ محنت کشوں کی موبلائزیشن کی اہمیت کو کم کر رہے ہیں جس میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے ۔
نوجونوں میں جن کا تعلق مختلف سماجی پرتوں سے تھا، انہوں نے حکومت کے خلاف اپنی محرومیوں کی وجہ سے انقلاب کا آغاز کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا لیکن محنت کشوں کا ابتداء سے انقلاب میں بنیادی کردار تھا۔پہلے انفرادی طور پر اورپھر منظم انداز میں ۔
محنت کش اور انقلاب مسلسل:
محنت کش قاہرہ،اسکندرے اور مانسرا میں آغاز سے ہی انقلاب میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ،مصر کے محنت کشوں نے حکمران طبقے کے بحران کی قیمت ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔وہ موجودہ تبدیلیوں کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں،اور دیگر جمہوری مطالبات کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اپنی جدوجہد کو نہ صرف خود کو منظم کر رہے ہیں ۔جوسرمایہ داری کی حدود سے باہر جا رہی ہے۔
دوسری طرف فوجی لیڈر اور ان کے لبرل حمایتی چاہتے ہیں کہ انقلاب حسنی مبارک کے خاتمے کے بعد روک جائے تاکہ سرمایہ داری اور خطے میں سامراج کے مفادات برقرار رہیں اور مصر کی طبقاتی ہیت میں کوئی فرق برقرار رہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: