پاکستان میں انقلاب کے امکانات

تحریر:حسن رضا، کامریڈ شہزاد
میڈیا میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ کیا پاکستان میں انقلاب ممکن ہے ؟
اس پر مختلف طرح کی آراء آرہی ہے ۔
وزیر اعظم،وزراء دیگر حکومتی ارکان اور ،پیپلز پارٹی کے حامی دانشور (جن میں اکثریت لبرل اور لیفٹ لبرلز کی ہے )مشرق وسطی اور پاکستان کے سماج کے موازنے کو مسترد کر رہے ہیں ۔ان کے بقول،تیونس،مصر اور دیگر مشرق وسطی میںآمریتیں قائم ہے ۔جب کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے اس میں عدلیہ اور میڈیا آزاد ہے ،لحاظہ پاکستان میں انقلاب ممکن نہیں ہے یاں پھر وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ اس سے بلوچستان میں بغاوت شدت اختیار کر سکتی ہے اور پختونخواہ پر طالبان کا قبضہ ہوسکتا ہے،یہاں جمہوریت کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری طرف حمید گل،عمران خان،نواز شریف،اور جماعت اسلامی کہہ رہی ہے کہ انقلاب ممکن ہے ان کے مطابق اس کی وجہ امریکہ کی جنگ میں ہمارے حکمرانوں کا کردار مہنگائی،کرپشن اور گڈ گورنس کی عدم موجودگی ہے ۔
نواز شریف توانقلابی پارٹی اور پروگرام کی بھی بات کررہے ہیں ۔لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو حقیقت میں نظام بچانا چاہتے ہیں۔ اس لئے یہ حکمرانوں کو کہتے ہیں کہ بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھو اور عوام کا اعتماد نظام پربحال کرو۔
جب کہ حمید گل،عمران خان اور جماعت اسلامی زیادہ ریڈیکل تنقید کرتے ہیں ۔ان میں سے کچھ سرمایہ داری کی مخالفت اور طبقاتی نظام پر بات بھی کرتے ہیں ۔اور نعرہ بازی کے ذریعے خود کو متبادل بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ۔
لیکن اس کے ساتھ یہ فوج کی آشیرباد بھی چاہتے ہیں ۔یہ امریکہ کے ڈروان حملوں،ریمنڈ ڈیوس ایشواء اور ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ تو اٹھاتے ہیں ،لیکن پختونخواہ اور بلوچستان پر آپریشن کی کھل کر مخالفت نہیں کرتے اقلیتوں اور خواتین کے خلاف قوانین اور نجکاری کے حامی ہیں۔محنت کشوں کی منظم تنظیموں کے مخالف ہیں۔حالانکہ کبھی امر مجبوری میں یہ نجکاری کی مخالفت اور محنت کشوں کے حقوق کی بات کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں ۔
سلمان تاثیر کے قتل اور ریمنڈ ڈیوس ایشواء اور اب موجود وفاقی وزیر کے قتل کے واقعات اور مذہبی پارٹیوں کے منظم مظاہروں کی وجہ سے لیفٹ میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا ان حالات میں دائیں بازو کا انقلاب برپاء ہونے جارہا ہے ۔
جب کہ حقیقت تو یہی ہے کہ حکمران طبقے کی ایک حصے کی طرف سے انقلاب کی نعرہ بازی کے باوجود ،وہ انقلاب سے خوف زدہ ہیں اور ان میں اصلاح پسندی سے لے کر رد انقلاب تک کی قوتیں شامل ہیں۔
جہاں سلمان تاثیر اور اب وفاقی وزیر کا قتل ہے یہ حکمران طبقے کی اندرونی کشمکش کا نتیجہ ہے ۔
ایسے اقدامات عوام خوف زدہ کرنے اور ان میں مختلف طرز تعصبات ابھارنے کے لئے کئے جاتے ہیں تاکہ وہ ایک واضح جدوجہد بجائے مختلف ایشواء پر آپس میں تقسیم رہیں اور پاکستان میں یہ سب نیا نہیں ہے حکمران طبقے نے ہمیشہ مذہب جنس اور قومیت کی تقسیم کی بنیاد پر محنت کش عوام میں جڑٹ کو پیدا ہونے سے روکا ہے۔
پاکستان کے عوام کا دشمن حکمران طبقہ ہے ۔جو کبھی مذہب کو کبھی روشن حیالی کو استعمال کرتا ہے ،اصلاح پسندی کے مختلف مظاہر اور رجعتی جماعتیں حکمران طبقے کے مختلف دھڑوں کی ہی نمائندہ ہیں ۔وہ تمام لوگ جو بنیادی تبدیلی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں ان کو اس حقیقت سے نظر نہیں چرانی چائیے اور ہمیں اپنی جدوجہد کو منظم کرنے کی ضرورت ہے اور حکمران طبقے کے کسی حصے کی حمایت اس بنیاد پر نہیں کرنی چائیے کہ وہ لبرل اوسیکولر خیالات کا دفاع کر سکتا ہے۔ یہ مشرف اور زرداری کی حکومتیں ہیں جو رجعت کے فروغ کا باعث بن رہی ہے۔
مشرق وسطیٗ کے جن ممالک میں انقلاب کی شدت بہت زیادہ ہے ۔وہ ممالک ہیں ،جن میں پچھلے عرصے میں پوری شدت کے ساتھ نیولبرل ازم کی پالیساں نفاذ کی گئیں، جس سے ان ممالک میں غربت، مہنگائی اور بیروزگاری میں بڑی شدت کے ساتھ اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ سرمایہ داری کے موجودہ بحران کے دوران خوراک کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو۔یہ عوامل پاکستان میں بھی موجودہ ہیں۔جو حکمران طبقہ کو خو ف زدہ کررہاہے۔
ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ انقلاب کا مطلب پیداواری رشتوں میں تبدیلی ہے ۔یعنی آج کے عہد میں سرمایہ داری کا خاتمہ اور سوشلسٹ انقلاب صرف محنت کشوں،مظلوم قومیتوں مڈل کلاس اور نوجوانوں کی مشترکہ جدوجہد میں سے ہی ا س نظام کا خاتمہ ممکن ہے ۔
تیونس،مصر اور دیگر ممالک میں جاری جدوجہد واضح کر رہی ہیں کہ کیسے کامیابیاں ممکن ہیں پاکستان میں پچھلے دو ماہ میں پیدا ہونے والی تحریکیں محنت کشوں میں تبدیل ہوتے ہوئے شعور کی غمازی ہیں اور پاکستان میں سماجی تبدیلی کا راستہ ان ہی تحریکوں اور ان کی کامیابیوں اور انقلاب سے وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: