لیبیا پر سامراجی حملے کی مخالفت کی پانچ وجوہات

جان بومین واضاحت کرتے ہیں کہ کیوں ’’انسانی ہمدردی‘‘کی بنیاد پر سامراج کی لیبیا میں مداخلت کی مخالفت کرنی چائیے ۔دو امریکی جنگی جہازوں کو لیبیاکی طرف جانے کاحکم دیا گیا ہے۔ بہت سارے ممالک یہ بحث کر رہے ہیں کہ لیبیا کو نو فلائی زون قرار دیا جائے ۔بیرونی ا فواج کے لیبیا میں مداخلت کے امکانات بڑھ رہے ہے ۔
جب کرنل قزافی اپنی عوام پر وحشت ناک جنگ مسلط کئے ہوئے ہے، تو پھر فوجی مداخلت مریکہ کی زیر قیادت، نیٹو فورس یا اقوام متحدہ کے تحت ہو۔ سوشلسٹ اس کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں ۔
سامراج:
سامراجی ممالک کالیڈروں کا دوہرا معیار ہے کہ وہ قذافی حکومت کی مذمت اور اس کے خا تمے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جب کہ امریکہ اور برطانیہ سالوں سے کرنل قذافی سے اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ لیبیا کے تیل سے منافع بنایا جائے اور اس کے ساتھ اسلحہ بیچنے کے معاہدے کئے جاسکیں۔
برطانیہ نے لیبیا کے حکام کو بھر پور کوشش کر کے اسلحہ کی نمائش پر مدعو کیا ۔تاکہ ان کو اسلحہ فروخت کر سکیں ۔جو اب لیبیا کے عوام کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں ۔
پچھلی لیبر حکومت کے لیڈروں نے قذافی کی پذیرائی عوام کے سامنے کی اور یو نیورسٹیز نے عطیات کی وصولی کے جواب میں اعلی حکام کو اعزازی اسناد دیں۔طلبہ نے اس کے خلاف یونیورسٹیز پر قبضے کر لئے ۔
برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں کی طرف سے یہ کہنا کہ وہ لیبیائی عوام کی مدد کرنا چاہتے ہیں، ایک دھوکہ ہے انہوں نے سالوں قذافی کی حمایت کی ہے اور دولت خرچ کی تاکہ وہ عوام کو کنٹرول میں کر سکے۔ان کے ایسی حکومت سے خوشگوار تعلق بر قرار رہ سکیں جو نہ صرف اعلی معیار کا تیل فراہم کر رہی ہے بلکہ عراق اور افغانستان میں جنگ اور مشرق وسطی میں اس مخالفت کو دبایا ہے اور اسرائیل کا فلسطینی عوام پر جبر بھی جاری ہے ۔
ان کی تشویش کی حقیقی وجہ لیبیا کی اپوزیشن کا تیل کی پیداوار کے 80فیصد حصے پر کنٹرول ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں یہ منافع بخش وسائل سالوں مغرب کے قبضے سے باہر رہ سکتے ہیں ۔حزب اختلاف کے زیر اہتمام علاقوں میں عام لوگوں نے ہسپتال ،اسکولز،فیکٹریوں اور کام کی جگہ کو اپنے کنٹرول میں لے رہے ہیں ملک کے مشرق میں آزاد ہونے شہروں کو آپس میں منسلک کیا جارہا ہے ۔
عام لوگ قذافی کی فوج اور نیم فوجی دستوں پر انحصار کی بجائے خود اپنے ڈھانچے تعمیر کر رہے ہیں اور قوانین مرتب کر رہے ہیں ۔
غیر ملکی زمینی فوج کو لیبیا پر قبضہ اور نظام کو بحال کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہے تو تب ایسا ممکن نہیں رہے گا۔
غیر ملکی فوجیں یہ برداشت نہیں کریں گیں کہ عام شہریوں کے پاس ہتھیار ہوں اور وہ اپنی سکیورٹی معاملات کو مشاورت سے طے کریں اور مقامی انفرسٹکچرر خود چلائیں ۔
قوانین لیبیا کی عوام کی جمہوری خواہش کے برعکس فوج کی ہائی کمان کی مرضی کے مطابق بنائے جائیں گے
عراق افغانستان اور فلسطین میں یہ صورتحال سالوں سے موجود ہے ،جہاں فوج کی چوکیاں ،ناکہ بندی اورتلاشی کے ذریعے عوام کی تذلیل کی جاتی ہے ۔
آزادی سے گھومنے پھرنے پر بھی پابندی عائد ہے مگر یہ بھی حقیقی تصویر نہیں ہے ۔اگر لیبیا کو مکمل بیرونی فوجی قبضے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ بیرونی طاقتیں جمہوریت کی بحالی بھی چاہیں گی ۔اس کا مطلب عراق اور افغانستان کے لئے تباہی تھا۔
عراق میں نجکاری کے منصوبے کے تحت سروسز اور صنعت کو بیرونی ملٹی نیشنلز کمپنیوں (زیادہ تر امریکن)کے حوالے کیا گیا۔جن کے رپبلکن صدر بش کے ساتھ اہم تعلقات تھے ،اربوں ڈالرز تعمیر نو میں خرچ ہوئے اور جنگ سیدھی امریکی کمپنیوں بلیک واٹر (جو ابxe)اور ہیلی بٹرن کے ہاتھوں چلے گی ۔
افغانستان میں سامراجی قوتوں نے کرزائی حکومت مسلط کی ۔جو الیکشن میں تمام تر دھندلی کے باوجود اقتدار میں ہے۔ وہ عوام کی معاشی ضروریات کو پورا کرنے میں مکمل طور پرناکام ہو گیا ہے اور خواتین پر جبر برقرار ہے کرزائی اس سب صورتحال کے باوجود امریکہ اور برطانیہ سے قریبی تعلقات رکھتا ہے ۔
فرقہ واریت:
قذافی نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں لیبیا کے عوام کو خبردار کیا کہ اس کی حکومت کا خاتمہ ، قبائل اور سیاسی قوتوں کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کردے گا ۔
حقیقت میں صورتحال اس کے برعکس ہے ۔عوامی تحریک نے لیبیا کے لاکھوں عوام کو پورے ملک میں حکومت کے خاتمے کی جدوجہد میں کو متحدہ کر دیا ہے ۔لیکن عراق اور افغانستان میں سامراج خود فرقہ واریت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تاکہ عوام تقسیم رہیں اور ان پر فوجی قبضہ آسانی سے برقرار رہے ۔
افغانستان میں امریکہ کی جانب سے پہلی کوشش تھی کہ قبائلی سرداروں کو رشوت دے کر حکومت کے خلاف استعمال کرے تاکہ طالبان کمزور ہوں۔ لیکن ’’طالبان‘‘کے خاتمے کے بعد امریکہ سے بڑی مقدار میں دولت مل رہی ہے اوراب علاقائی رہنماؤں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے ۔عراق میں منظم کوشش ہوئی کہ ملک کو تقسیم کر دیا جائے ۔صدام کے خاتمے کے بعد امریکہ کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کردوں،شیعوں اور سنی ڈیلیگیٹوں کے درمیان اس طرح منقسم تھی۔ تاکہ وہ قومی حکومت کے طور پر متحدہ ہو کر کام کرنے کی بجائےآپس میں لڑتے رہیں
بغداد میں نسلی اور مذہبی بنیادوں پر نفرت اور تعصب کو ہوا دے کر ،ان لوگوں کو جو پہلے مل جل کر رہتے تھے ،ان کو شہر کے مختلف حصوں میں مقید کر دیاگیا۔ اس فرقہ واریت اور ایک دوسرے پر حملوں میں اضافہ ہوا ۔اس صورتحال کو لیبیا میں روکنے کے لئے سامراج کی مداخلت کی مخالفت کرنی چائیے ۔
لیبیا میں بہت سارے لوگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں لیکن لیبیا کوئی غریب ملک نہیں ہے ۔اس کے پاس نہ صرف تیل کے وسیع ذخائر ہیں یہ دنیا میں بہترین معیار کا تیل بھی پیدا کرتا ہے ۔
ان وسائل کے استعمال سے لیبیا کے غریبوں اور محنت کشوں کو زیادہ تنخواہ بہترسروسز ،کام اور زندگی گزارنے کے بہترین حالات فراہم کئے جاسکتے ہیں۔ جب کہ قذفی کے لیبیا میں دولت،قذافی، اعلی حکام اور بیرونی تیل کی کمپنیوں کے بنکوں میں کی جاتی ہے ۔اس لئے لیبیا میں تحریک صرف جمہوریت کے لئے نہیں ہے یہ ملک کی معیشت پر کنٹرول کے لئے ہے اس سے نہ صرف لیبیا کے عوام ،بلکہ مشرق وسطی اور دنیا بھر میں محنت کشوں شہری اور دیہی غریبوں کی مدد کی جا سکے گی ۔
عالمی سرمایہ کویہ صورتحال خوف میں مبتلا کررہی ہے ۔اس لئے لیبیا کے انقلاب کو خطے میں اپنے منافع کے لئے خطرہ سمجھ رہے ہیں ۔
قتل و غارت گری:
بدترین کساد بازاری کے عہد میں سامراجی ممالک کے درمیان جدوجہد جاری ہے کہ کون دنیا پر حاوی ہوگا اور جو اس جنگ میں جیتا، اس کا سرمایہ بڑے منافعے کمائے گا اور یوں اس کا رتبہ بڑھ جائے۔لیبیا پر مداخلت بھی اسی تناظر میں ہوگی۔جو بھی لیبیا پر قبضہ کرئے گا بڑا منافع بنائے گا۔پوری جدید تاریخ گواہ ہے کے سامراجی ممالک کی لڑائی کے کے نتیجے میں بدترین تشدد ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں لیبیا میں بیرونی مداخلت اور سامراجیت کی پرزور مخالفت اور تمام ممکن وسائل سے اس کے خالاف لڑنا چاہیے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: