سامراج،اسامہ بن لادن اور محنت کش طبقے

اوبامہ نے خوشی سے جھومتے ہوئے،اوسامہ بن لادن کی موت اور امریکہ کی کامیابی کا اعلان کیا۔امریکہ میں فتح کا جشن جاری ہے۔مجاہد دہشت گرد بن گیا اور امریکہ سے تضاد میں آگیاتھا،اس کی موت سے یقینی طور پر اس تضاد کا خاتمہ نہیں ہے جس کی وجہ افغانستان اور عراق کے عوام بربریت کی زندگی گزار رہے ہیں۔پاکستان تیزی سے اس بربریت کی طرف دھکیلا جارہا ہے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عرب ممالک میں جنم لینے والے انقلاب نے اسامہ اور اس کے نظریات کو موت دے دی تھی اور واضح کیا تھا کہ سامراج اور اس خطے میں اس کے حامیوں کے خلاف جدوجہدکاکیا طریقہ کار ہوسکتا ہے ایبٹ آباد آپریشن اور ڈراؤن حملوں کے زریعے امریکہ افغانستان میں شکست کے باوجود دنیا میں اپنی فوجی برتری کے زریعے معاشی کنٹرول اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتا ہے جبکہ سرمایہ داری کے موجودہ بحران نے نئی قوتوں کو ابھرنے کا موقع فراہم کر دیا ہے ۔
آیبٹ آباد آپریشن:
امریکہ کی طرف سے ایبٹ آباد آپریشن ریاست کے لئے ایک شرمناک شکست ہے کہ یہ کچھ بھی نہ کر سکی ،خاص کر فوج کے لئے جو بے شمار بار اپنے ہی عوام کو فتح کر چکی ہے ۔اس پر سوالات اٹھا رہے ہیں ،جن کا حکومتی مدد سے جواب دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔دہشت مخالف جنگ میں پاکستان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے ،امداد اور قرضوں پر پابندی کی باتیں سامنے آرہی ہیں حکمران طبقے میں موجود صورتحال سے نکالنے پر تضاد پایا جاتا ہے ۔میڈیا میں بحث جاری ہے کہ ملک کا دفاع کیوں نہ ہو سکا ۔امریکی اتنے اندر کیسے آگئے۔smsاور انٹرنیٹ پر پاکستانی خود مختاری اور ریاستی اداروں کے بارے میں مختلف مذاق جاری ہیں ۔
پاکستانی قوم :
امریکہ کے پاکستان میں اس آپریشن کے نتیجے میں عوام کی نظروں میں ریاستی اداروں کی ساکھ ختم ہوگی۔ریاست اور اس کے ادارے حکمران طبقہ کے نمائندہ ہیں،جن کے ذریعے حکمران طبقہ محنت کش طبقے اور اس کی جدوجہد کو کنٹرول کرتا ہے، تاکہ سرمایہ داری اور اس کا استحصال جاری ہے اور اس کے منافع اور طاقت میں اضافہ ہوتا رہے۔اس لیے حکمران طبقہ ہر حال میں ریاست کی بحالی چاہتا ہے۔ اس کے لیے پاکستان کی خودمختیاری اورپاکستانی قوم کی خاطر قربانی کی بات کی جارہی ہے،تاکہ قوم پرستی کے جذبات کی وجہ سے طبقاتی تضادات کو پیچھے چلے جائیں اور موجودہ نظام قائم رہے
حکمران طبقہ اور سوشلسٹ:
پاکستان اس وقت بحرانی کفیت سے دوچار ہے، حکمران طبقہ کے مختلف حصوں میں برتری کی کشمکش جاری ہے۔ مگر حکمران طبقہ کے کسی حصے کے پاس محنت کش عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔حکمران اپنے بحران کا بوجھ موجودہ بجٹ میں محنت کش عوام پر ڈالنا چاہتے ہیں۔
جس کے خلاف محنت کشوں میں غصہ موجود ہے پچھلے عرصے میں نوکریوں کے خاتمے ،کٹوتیوں،فیسوں میں اضافے ،لوڈ شیڈنگ کے خلاف بڑی جدوجہد میں سامنے آئیں ہیں۔Kescلیڈی ہیلتھ ورکر ز،ینگ ڈاکٹرز،اساتذہ پورٹ قاسم اور واپڈا کے محنت کشوں کی جدوجہد محنت کشوں میں اعتماد پیدا کر رہی ہے کہ جدوجہد سے فتح ممکن ہے اس کے ساتھ یہ محنت کشوں کی دیگر پرتوں میں بھی جدوجہد کا حوصلہ پیدا کر رہی ہے عرب ممالک کے عوام جدوجہد واضح کر رہی ہے کہ کیسے جدوجہد سے جیت ممکن ہے سامراج کے پٹھو حکمرانوں کا خاتمہ ممکن ہے ان حالات میں ضرورت اس امر کہ ہے کہ انقلابی سوشلسٹ ,سامراج ،اس کی معاشی جکڑ بندیوں جنگ کی حقیقت اور اس کے ساتھ اسامہ القاعدہ اور اس جیسے گروپوں طریقہ کار اور جعتی مقاصد کو بھی واضح کرنا ہوگا یونہی یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ انفرادی دہشت گردی کے بجائے اجتماعی عوامی جدوجہد سے سامراج اور ریاست کے خلاف بڑی جدوجہد منظم کی جا سکے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: