Archive for June, 2011

June 28, 2011

این سی ایچ ڈی کے محنت کشوں کی محکمے کے خاتمے کے خلاف جدوجہد

این سی ایچ ڈی کے محنت کشوں میں اس وقت غصے کی لہر پیدا ہوئی ،جب سینٹ نے فیصلہ کیا کہ 30جون تک این سی ایچ ڈی کا خاتمہ کرکے16000سے زائد ملازمین کو ان کے واجبات ادا کر دئے جائیں۔کیونکہ 18ویں ترمیم کے تحت وفاقی حکومت نے اس ادارے کو صوبائی حکومتوں کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا لیکن صوبائی حکومتوں نے اس

read more »

June 26, 2011

رستم و سہراب کے محنت کشوں کا اپنے مطالبات حق میں ریلی

رستم سہراب فیکٹری کے محنت کشوں نے شاہدرہ سے پریس کلب تک تنخواہوں میں اضافے ،نوکریوں میں برطرفیوں کے خلاف اور یونین ریفرینڈم کے لیے ایمپلائیزاور لیبر یونین کے زیر اہتمام ریلی نکالی،جس میں بڑی تعداد میں محنت کش شریک ہوئے،جو سرخ پرچم لہراتے ہوئے انتظامیہ اور حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
ایمپلائز یونین کے صدر سجاد حسین نے ریلی کے خاتمے پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا،مہنگائی روز برروز بڑھ رہی ہے ان حالات میں محنت کشوں کی زندگی اجیرن ہوگی ہے ،وہ اپنی زندگی کی بنیادی ضروریات پورا کرنے سے قاصرہیں ، غریب لوگ خودکشی کر رہے ہیں۔ جبکہ سرمایہ دار وں کی دولت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور وہ عیاشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، انتظامیہ محنت کشوں کی مراعات چھین رہی ہے اور یونین کے الیکشن پچھلے ڈیڑھ سال سے نہیں ہونے دے رہی۔یہ مسئلہ کورٹ میں ہے لیکن وہ اس پر کوئی فیصلہ نہیں دیرہی،ہم نے کورٹ سے برطرفیوں کے خلاف سٹے آڈر لے رکھا، لیکن اس کے باوجود انتظامیہ آڈر کی دھجیاں بکھیر رہے ہے۔محنت کش کورٹ میں ہیں لیکن کورٹ اس مسئلہ پر کوئی فیصلہ نہیں دئے رہی۔
انہوں نے کہہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا گیالیکن صنعتی مزدور شاید انسان نہیں ہیں اس لیے ان کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ہم مطالبہ کرتے ہیں محنت کشوں کی تنخواہوں میں 50%اضافہ کیا جائے۔
ہم اپنے مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔محنت کش حکومت اور انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کررہے تھے۔مزاحمت سے بات کرتے ہوئے بھٹی نے کہا’’مالکان ہماری محنت سے بڑے منافعے بنا رہے ہیں،یہ صرف ان کے کاروبار کی ترقی کی صورت میں ہی نظر نہیں آرہی،بلکہ ان کی زندگی کی آسائشوں سے بھرپور ہوگی ہے۔وہ روز نئی گاریاں خرید رہے ہیں ،جبکہ ہم بھوک کا شکار ہیں،اس نے مزید کہہ کہ ہم محنت کش شدید غصے میں ہیں اور وہ اپنے مطالبات کی منظور تک جدوجہد جاری رکھیں گیص

June 17, 2011

سرمایہ داری کا بحران اور انقلابات کا عہد

تحریر:شہزاد ارشد
80کی دہائی میں عمومی طور پر مزدور تحریک زوال کا شکار تھی،بلند حوصلگی، جدوجہد،قربانی اور بہتر مستقبل کی امید دم توڑ رہی تھی۔سرمایہ فتح کے نشے میں سرشار ہوکر،محنت پر نئے حملوں کی تیاری کررہا تھا۔ان کونیولبرل ازم،ترقی اور گلوبلائیزیشن کا نام دیا گیاتھا۔سرمائے کی برتری کو حرف آخر تسلیم کرلیا گیا،فوکویاما کے نزدیک لبرل سرمایہ داری جیت گی،انسانیت نے اپنی منزل پالی،اب تمام تبدیلیاں سرمایہ داری کی حدود میں ہی ہوں گئیں۔مارگریٹ تھٹچرنے کہا سرمایہ داری کا کوئی متبادل نہیں ہے۔سرمایہ نے اعلان کیا وہ دنیا سے پسماندگی،جہالت،آمریت،غربت، بھوک اورجنگ کا خاتمہ کر کے،ترقی اور امن پر مبنی نئی دنیا تعمیر کرئے گا،جہاں انسانی حقوق کااحترام کیا جائے گا

read more »

June 4, 2011

کے ای ایس سی کے محنت کشوں کی جدوجہدکی حمایت میں کراچی میں مکمل ہڑتال

3جون کو کے ای ایس سی کے محنت کشوں کی جدوجہد کی حمایت میں ہڑتال کی کال دی گی۔جس کے نتیجے میں

read more »

June 3, 2011

واپڈ کے محنت کشوں کا تنخواہوں میں اضافے کے لیے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے

واپڈ کے ہزاروں محنت کشوں نے جمعرات کو پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مہنگائی، بیروزگاری اور لوڈشیڈنگ کے خلاف بڑے مظاہرے کیے۔لاہور، سکھر، کوئٹہ،ساہیوال،گوجرانوالہ،حیدرآباد،ملتان،پشاور،بہاولپور،کراچی اور

read more »

June 2, 2011

پنجاب کے ینگ ڈاکٹرز کی طرف سے بلوچستان کے ڈاکٹرز کی تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی

ینگ ڈاکٹرز کی جدوجہد پنجاب سے شروع ہوئی تھی۔اس نے پنجاب حکومت کے تمام جبر،قیدوبند اور گرفتاریوں کے باوجود جدوجہد جاری رکھی اور اہم کامیابی حاصل کی ۔اس سے دیگر صوبوں کے ینگ ڈاکٹر میں جدوجہد کاحوصلہ پیدا ہوا، سندھ میں ڈاکٹرز منظم ہوئے اور انہوں نے تحریک کاآغاز کردیا، اسی طرح پختونخواہ اور بلوچستان میں بھی ینگ ڈاکٹرز متحرک ہوگے

read more »

June 1, 2011

ریلوئے کے محنت کشوں کا2جون سے احتجاج اور ہڑتال کا فیصلہ

ریل مزدور اتحادشیڈسٹاف کامئی کے آخری ہفتے میںآل پاکستان اجلاس منعقدہوا،جس میں محنت کشوں کے مطالبات کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔

read more »