سرمایہ داری کا بحران اور انقلابات کا عہد

تحریر:شہزاد ارشد
80کی دہائی میں عمومی طور پر مزدور تحریک زوال کا شکار تھی،بلند حوصلگی، جدوجہد،قربانی اور بہتر مستقبل کی امید دم توڑ رہی تھی۔سرمایہ فتح کے نشے میں سرشار ہوکر،محنت پر نئے حملوں کی تیاری کررہا تھا۔ان کونیولبرل ازم،ترقی اور گلوبلائیزیشن کا نام دیا گیاتھا۔سرمائے کی برتری کو حرف آخر تسلیم کرلیا گیا،فوکویاما کے نزدیک لبرل سرمایہ داری جیت گی،انسانیت نے اپنی منزل پالی،اب تمام تبدیلیاں سرمایہ داری کی حدود میں ہی ہوں گئیں۔مارگریٹ تھٹچرنے کہا سرمایہ داری کا کوئی متبادل نہیں ہے۔سرمایہ نے اعلان کیا وہ دنیا سے پسماندگی،جہالت،آمریت،غربت، بھوک اورجنگ کا خاتمہ کر کے،ترقی اور امن پر مبنی نئی دنیا تعمیر کرئے گا،جہاں انسانی حقوق کااحترام کیا جائے گا اور نجی ملکیت اس کی بنیادہوگی۔
مارکس ازم کو مہا بیانئے قرار دے کر مسترد کردیا گیااور اس کی جگہ تاریخ کے کوڑہ دان سے مختلف نظریات سامنے آگے،جو موجودہ نظام کی اصلاح کا علم بلند کیے ہوئے تھے۔سوویت یونین کے انہدام نے دنیا کی سیاست کو بدل دیا ، سرمایہ کا راج تھا، اس کے دانشوار مارکس ازم ہی نہیں تاریخ کے خاتمے کا اعلان کررہے تھے،اسی کے ساتھ تہذیبوں کے درمیان تصادم کا آغازعراق جنگ سے کر دیا گیا۔
بائیں بازو ان حالات میں گہری مایوسی کا شکار ہیں کیمونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیاں تیزی سے دائیں جانب گامزن تھیں،دانشواروں نے سرمایہ داری سے سمجھوتے شروع کرکے ،اس کے فضائل وبرکات بیان کرنے شروع کردئیں۔انقلاب،جدوجہداور مارکس ازم جیسے موضوعات کی بجائے شراکتی ترقی، گڈگورنس اورانتخابات پر سیمینار اور مذکراے شروع ہوگے۔
تاریخی طور پر عوامی پارٹیاں جیسے پیپلزپارٹی یہ نیولبرل ازم کی حامی بن کر ابھرئیں،سوشل ازم اور تبدیلی کے وعدے ختم ہوگے اور ان کی جگہ تلخ حقیقتوں نے لے لی اور نظریات کو پچھلی صفوں میں پھینک دیا گیا۔عوام سیاست سے بیزار اور لاتعلق ہوگے،جیسے مجموعی طور سماجی بہتری، ترقی کا پیمانہ بنا دیا گیا،جدوجہد اور تحریکوں کے ابھرنے سے انکار کردیا گیا کہا گیا کہ سرمایہ داری نے اپنے تضادات پر قابو پالیا۔
دودہائیوں کے دورانیہ میں پوری دنیا میں سرمایہ نے عالمگریت کے نام پر قبضہ جمالیا۔مزدور تحریک کی کمزوری کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نجکاری، نوکریوں کاخاتمہ،تعلیم،صحت اور غریبوں کو ملنے والی امداد میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی،روزگار کے تحفظ ختم ہوگیا۔محنت کشوں پر ٹیکسوں پر اضافہ ہواجبکہ سہولتوں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیں سامنے آئیں۔
ان حالات میں یورپ اور امریکہ میں عالمگریت اور سرمایہ داری مخالف تحریک ابھری،جوسرمایہ داری کے تضادات کو سامنے لائی۔سیائٹل اور پراگ اس کانقطہ عروج تھا۔سرمایہ کی مخالفت خود اس کے مرکز سے سامنے آئی،اس نے نہ صرف نیولبرل ازم کی مخالفت کی ،بلکہ تیسری دنیا کی لوٹ مار اور استحصال کو بھی بڑے پیمانے پر اٹھایااورمحنت کشوں کی عالمی تنظیم کی ضرورت کو ابھارا۔
سرمایہ داری نظام کے تضادات نے جلد ہی اپنا اظہار 9/11کی صورت میں کیا۔سرمایہ نے طاقت کے بھرپور اظہار کے لیے دنیا کے غریب ترین ملک افغانستان اور عراق پر حملہ کردیا۔
اس صورتحال کے خلاف سرمایہ داری مخالف تحریک کے بطن سے جنگ مخالف تحریک ابھری،اس کی کال پر دنیا کے تین سو شہروں میں 35ملین سے زائد لوگوں نے احتجاج کرکے نئی قوت اور بیداری کا اعلان کردیا۔
بڑے پیمانے پر عوام تبدیلی کے نظریات کے قریب آئے اور محنت کش عوام اور نوجوانوں نے موجودہ نظام پرعدم اطمنان کا اظہار کیا۔لیکن متبادل پر کنفیوژن برقرار رہا۔
سرمایہ اپنی خرمستیوں میں مصروف تھا،وہ چین اور انڈیا کو اپنی ترقی کے نئے ماڈل قرار دے رہا تھااور تیسری دنیا میں یہ باوار کروایا جارہا تھاکہ ترقی سرمایہ داری نظام سے منسلک ہے۔اس بات کو پاکستان میں بھی سرمایہ کے مختلف دھڑئے پیش کرتے رہے،پہلے اس کو ایشن ٹائیگر اور مشرف کے عہد کی ترقی کی صورت میں پیش کیا گیا۔حالاں کے ان ممالک کی ترقی عوام کے لیے کیا لارہی ہے اس پر ان ممالک میں جدوجہد میں آنے والے نئے لوگوں نے بہت کچھ لکھااور واضح کیا کہ کیسا آج کے عہد میں سرمایہ داری کے تحت ترقی کیسے لاکھوں اور کروڑوں کی تباہی اور بربادی کا باعث بن رہی ہے ۔سرمایہ نے دنیا کو اپنے تحت لانے کے لیے ان علاقوں پر جنگیں مسلط کردیں،جو اس کے تسلط کے خلاف تضاد میں آرہے تھے۔سرمایہ نے اعلان کیا کہ اس کو دائمی عروج حاصل ہوگیا ہے اور اس نے اپنے زوال کا خاتمہ کردیا۔
2007-08میں جنم لینے والے بحران نے سرمایہ داروں کی نیند حرام کردی،یہ پچھلے60سالوں میں بدترین بحران تھا،اس نے محنت کش عوام اور نوجوانوں کی نظروں میں سرمائے کی کاملیت کی حقیقت واضح کردی۔ریاست کھل کر سرمایہ کے تحفظ میں آگی ،اس نے محنت کشوں پر بڑے حملے شروع کردے،اس کے خلاف یورپ میں
بڑئے پیمانے پر محنت کشوں کی جدوجہد سامنے آئی ۔سرمایہ داروں نے اس بحران کی وجہ کچھ بنکروں کا لالچ بتایا، حالاں کہ اس لالچ کو ہی انسانی فطرت اور مقابلہ کی وجہ قرار دیا جارہا تھا،جو سرمایہ داری میں بنیا دی اہمیت کا حامل ہے۔
اس بحران نے ایک بار پھر مارکس کے سرمایہ داری کے بارے میں تجزیہ کو سچ ثابت کیا ، اس کے نظریات تیزی سے مقبول ہوئے اور بڑی تعداد میں نوجوان اور محنت کش ان نظریات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
نیو لبرل ازم اور سرمایہ داری کے بحران نے اپنا حقیقی اظہارمشرق وسطی کے جمہوری انقلابات میں کیا۔تیونس میں ایک ماہ سے کم عرصے میں بن علی اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہو گیا،جلد ہی یہ لہرمصر پہنچ گئی،جہاں اس نے مبارک آمریت کا خاتمہ کر دیا۔
تیونس اور مصر کے انقلاب کی خاص بات اس میں بڑئے پیمانے پر محنت کشوں کی شمولیت اور تحریکوں کے فیصلہ کن لمحات میں بنیا دی کردار ادا کیا۔وہاں ان انقلابات کے دوران محنت کشوں کے روایتی جدوجہد کے طریقے سامنے آئے،ہڑتال،دھرنا،عوامی موبلائزیشن اور جدوجہد کی کمٹیاں۔
تیونس اور مصر میں انقلاب کی فتح یاب لہرئیں بحرئین، شام، لیبیا،یمن دیگر عرب ممالک میں پہنچ گئیں۔اس کے ساتھ دنیا بھر کے آمروں کی نیندئیں حرام ہوگئیں۔چین نے مصر اور انقلاب کے لفظ پر گوگل پر سرچ پر پابندی لگا دی،اس جدوجہد نے امریکہ میں محنت کشوں کی بڑی جدوجہد کو جنم دیا۔سپین میں میڈرڈ میں پیورٹوڈی سول کے مقام پر دھرنے کا آغاز ہوا، جو تیزی کے ساتھ سارے سپین میں پھیل گی،یونان مسلسل جدوجہد کے ہچکولے لے رہاہے،آئیرلینڈ میں حکومت کاخاتمہ ہوگیا۔خود پاکستان میں PIA،,KESCَََِِِِِ ینگ ڈاکٹرز اور کئی دیگر تحریکیں نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں۔
سرمایہ داری اپنی تاریخ کے بدترین بحران کا شکار ہے،سرمایہ کے پاس محنت کشوں پر حملے کے علاوہ کئی حل نہیں ہے یعنی محنت کش موجودہ بحران کی قیمت ادا کریں،لیکن محنت کش اس بحران کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں،وہ اس کے خلاف جدوجہد میں آرہے ہیں۔وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ان کی جدوجہد کا رنگ نیا ہے وہ موجودہ نظام اور اس کی لاحاصل سیاست سے تنگ ہیں جو ان کو محرومیوں،دکھوں،خلفشار،جنگ،بھوک اور غربت کے سواکچھ نہیں دے رہی۔اس لیے عمومی طور پر ان کا روایہ سیاست اور سیاسی جماعتوں کی طرف مثبت نہیں،اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کی تحریکیں سیاست سے پاک رہیں۔ابھی تحریکوں کا آغاز ہے یہ لمبا عرصہ چلیں گیءں اس میں بہت ساری تبدیلیاں آئیں گئیں عوام اپنے تجربے سے سکھیں گے اور سیاسی تنظیم کی اہمیت سے آگاہ ہوں گئیں۔ اس لیے انقلابی سوشلسٹوں کو ان تحریکوں میں صبر کے ساتھ اپنے نظریات اور پروگرام پیش کرنا ہوگا۔
انقلاب کے ساتھ رد انقلاب بھی موجود ہے،جو اپنا اظہار لیبیا،شام اور بحرین میں کرہا ہے،اس انقلابی لہر کے دوران بہت سارے اتار چڑھاؤ آئیں گے،لیکن عمومی صورتحال جدوجہد کے حوالے سے امید افزاء ہیں۔ہم انقلابات کے عہد میں جی رہے ہیں،واقعات تیزی کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں،کوئی واقع بڑی تحریک اور انقلاب کو جنم دینے کا باعث بن سکتا ہے
ان حالات میں انقلابی سوشلسٹوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تحریکوں اور انقلابات کو اس کی لیڈرشپ کی4130نیاد پر مسترد نہ کریں بلکہ ان کا طبقاتی تجزیہ کیا جائے، ان طرف مثبت روایہ رکھتے ہوئے اپنے نظریات اور پرواگرام کے ساتھ ان میں شریک ہوا جائے۔
متحدہ محاذ بناتے ہوئے سوشلسٹ نظریات اور پروگرام کوتحریک میں مقبول بنائیں۔
انقلابات اور رد انقلابات کی موجود لہر ، محنت کشوں کی نئی عالمی تنظیم کی متقضی ہے،تاکہ جدوجہد اور انقلاب کے حوالے سے عالمی حکمت عملی اور لائحہ عمل تشکیل دیا جاسکے۔
یہ سب آسان نہیں ہے انقلابی سوشلسٹ قوتیں کمزور ہیں مگر یہ کرنا ہوگا یوں ہی ہم عالمی سوشلسٹ انقلاب کی پارٹی تعمیر کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: