این سی ایچ ڈی کے محنت کشوں کی محکمے کے خاتمے کے خلاف جدوجہد

این سی ایچ ڈی کے محنت کشوں میں اس وقت غصے کی لہر پیدا ہوئی ،جب سینٹ نے فیصلہ کیا کہ 30جون تک این سی ایچ ڈی کا خاتمہ کرکے16000سے زائد ملازمین کو ان کے واجبات ادا کر دئے جائیں۔کیونکہ 18ویں ترمیم کے تحت وفاقی حکومت نے اس ادارے کو صوبائی حکومتوں کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا لیکن صوبائی حکومتوں نے اس محکمے کو لینے سے انکار کردیا

۔جس سے 16ہزار سے زائد محنت کشوں کی نوکریاں خطرے میں ہیں
اس کے خلاف این سی ایچ ڈی کے محنت کشوں نے 144سے زائد اضلاح میں مظاہرے کیے۔اور 21جون سے محنت کشوں نے اسلام آباد میں کیمپ لگارکھا ہے۔ 24جون کو جب محنت کش پارلیمنٹ کی طرف جارہے تھے تو پولیس نے ان پر شدید لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے جب وہ اپنے محکمے اور نوکریوں کے خاتمے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی طرف جارہے تھے۔
دس سے زائد محنت کش، جن میں پانچ خواتین بھی شامل تھیں ، پولیس کے تشدد سے شدید زخمی ہوگئیں اور 47محنت کش گرفتار ہوئے۔
محنت کش شدید غصے میں تھے،انہوں نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جن پر محکمے اور ان کی نوکریوں کے خاتمے کے خلاف نعرے درج تھے۔اس مواقع پر محکمے کے خاتمے اور حکومت مخالف شدید نعرے بازی کی گی۔
عبدالفتح ممبر ایکشن کمیٹی این سی ایچ ڈی نے کہا محکمے کی بندش ان 16ہزار ملازمین کے ساتھ شدید ناانصافی ہے، جو پچھلے 10سال سے اس پرواگرام میں کام کر رہے تھے،7ہزار سے زائد سکول بند ہو جائیں گے اور 5لاکھ سے زائد بچوں کا تعلیم سے محروم ہوجائیں گئیں۔مظاہرے میں شامل ایک محنت کش نے مزاحمت سے گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ ہم اپنی نوکریوں اور 5لاکھ سے زائد بچوں کے مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔اس نے کہا حکومت کے پاس سرمایہ داروں کو ٹیکس چھوٹ دینے اور فوج کے بجٹ میں اضافے کے لیے پیسے ہیں مگر محنت کشوں کی تعلیم کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: