یونان میں نوجوانوں اور محنت کشوں کی بڑھتی ہوئی جدوجہد کاتناظر

پچھلے 48گھنٹے یورپی اور عالمی سرمایہ کے آقاؤں کی سانس روکی رہی، وہ ایک بار پھر سانس لیے سکتے ہیں چاہے یہ مختصر سا واقفہ ہی کیوں نہ ہو۔یونان کی پارلیمنٹ نے اس سال کے دوران محنت کشوں پرکٹوتیوں کا دوسرا بڑاحملہ کیا ہے۔ جس سے یونان کی معیشت دوالیہ پن سے بچ گی ہے اور اس کے اثرات،پرتگال،سپین،حتی کہ اٹلی اورعالمی سٹاک مارکیٹوں اوریورو پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔
خوشی سے جھومتی ہوئی انجیل مرکلر نے کہا کہ’’ یہ بہت اچھی خبر ہے‘‘ اچھی خبر یقعینی طور پر ارب پتیوں،بانڈہولڈرز اوسب سے بڑھ کر فرنچ اور جرمن بینکوں کے لیے ہے۔اب نئے قرضے دئیے جائیں گئیں ،تاکہ پرانے ادا کیے جاسکیں اور خون چوسنے کا عمل یوں ہی جاری رہ سکے،اس لیے وہ خوش اور پرامید ہیں۔
لیکن یہ عام یونانی محنت کشوں، چھوٹے تاجروں ،اور بڑی تعداد میں بیروزگار نوجوانوں کے لیے بدترین خبر ہے۔مزید 25ارب یورو2015تک بجٹ سے کاٹ لیے جائیں گئیں،جو بجٹ کے 12فیصد کے برابر ہے، مزید 50ارب ریاستی اداروں کی نجکاری سے حاصل ہوں گئیں۔لوئیر مڈل کلاس سخت متاثر ہوگی ، جس پر ٹیکس کی شرح 13فیصد سے بڑھ کر 23فیصد ہو جائے گی۔تنخواہوں میں 15فیصد کٹوتی اور کام کے اوقات کار 37.5سے بڑھ کر40ہوجائیں گے اور سرکاری شعبے میں ڈیڑھ لاکھ نوکریوں کا خاتمہ کردیا جائے گا۔
ہڑتال کے دوران اور اس سے پہلے نہ صرف پسوک حکومت کی شدید کمزوری ظاہر ہوئی،بلکہ تیزی سے اس کی سماجی بنیادیں بھی ختم ہو رہیں ہیں۔لیکن جب پارلیمنٹ میں ووٹ دینے کی باری آئی تو اس کے 155ممبروں میں سے154نے اس کو ووٹ دیے،جس سے 300ممبروں کی پارلیمنٹ میں اس کو اکثریت حاصل ہو گی،دائیں بازو کی اپوزیشن پارٹی NEA اور اس سے سپلیٹ کے نتیجے میں وجود میں آنے والی ڈیموکریٹک الائنس نے ووٹ نہ دے کراپنا مواقف واضح کردیا کہ وہ حقیقت میں ان اقدامات کو روکنا نہیں چاہتے تھے۔NEAکے ممبرز نے حکومت پر کم نجکاری کے حوالے سے تنقید کی ہے، جبکہ انہوں نے کہا ہے کہ کاروباروں پر مزید ٹیکس یونانی معیشت کو نقصان پہنچائے گا۔
بائیں بازو کی جماعتوںSYRIZA(9)اورKKE(21)اور فار رائیٹ کی جماعتLAOS(15)نے اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالے۔یہ سماج میں بڑھتی ہو تقسیم کو ظاہر کر رہی ہے۔
عام ہڑتال کے لیے عوامی حمایت:
عام ہڑتال کے لیے عوامی حمایت یونان میں انقلابی مزاحمت کے زندہ ہونے کو ظاہرکر رہی ہے۔محنت کشوں کی اکثریت نے ٹریڈیونینز اور سائنتگامہ اسکوئر کے جانب سے دی جانے کی والی ہڑتال کو کامیاب بنا یا ہے۔ADEDYسرکاری شعبے اورGSEEنجی شعبے کی ٹریڈیونینز کے مطابق80فیصد سے زائد کام کرنے والوں نے سکولوں ،سرکاری دفتروں،ہسپتالوں،بنکوں اور نجی کمپنیوں میں ہڑتال کی۔حتی کہ جہاں چھوٹی یونین جیسےPNEنے ہڑتال کی حمایت نہیں کی،جو جہاز رانی کی صنعت کو کنٹرول کرتی ہے، وہاں پر بھی دوسری یونینوں خاصکر PAMEکے سرگرم کارکنان محنت کشوں کو جدجہد میں لے آئے۔
سالوں پرمشتمل جدوجہد اور ہڑتالوں کے بعد اب ایک دفعہ پھر مزاحمت کی نئی لہر نے جنم لیا ہے سائنتگامہ اسکوئرکے قبضے نے تحریک کو نئی شکتی دی ہے،جو ایتھنز کے درمیان میں واقع ہے،جو دو سالوں کی طویل جدوجہد کے بعد کمزورہو رہی تھی،جس میں محنت کش طبقے کی بڑی تعداد اور مخلص بائیں بازو کے ورکرز کی امید یں بھی دم توڑرہی تھی کہ وہ حکومت کو روکا سکیں گئیں۔
سائنتگامہ اسکوئرپر قبضہ اورنئی امید:
عام ہڑتال،عوامی مظاہروں اور سنتاگما اسکوئر پر قبضے نے تحریک کے ایجنڈے میں ایک دفعہ پھر امید کی شمع روشن کردی ہے۔انہوں نے صرف لاکھوں غصے سے بھرئے ہوئے غریب ہی نہیں اکھٹے کیے،بلکہ کچی نوکریوں کے حامل محنت کش،بیروزگار، پیٹی بورژوا،نچلے پروفیشنل اور حتی کہ چھوٹے سرمایہ دار بھی شامل ہیں۔یہ مختلف طبقات متضاد مفادات اور تناظر رکھتے ہیں،لیکن ان کوخوف اورفورا کچھ کرنے کی ضرورت نے اکھٹا کر دیا ہے،تاکہ تباہی سے بچا جاسکے ’’ابھی یا کبھی بھی نہیں‘‘۔
سائنتگامہ اسکوئر پر قبضے نے محنت کشوں کی تحریک اورعام ہڑتال کو نئی شکتی عطا کی ہے۔اس دفعہ عام ہڑتال میں پہلے کے مقابلے میں شرکت زیادہ تھی اور ہڑتال بھی دو دن جاری رہی۔
اس نے ملک میں سیاسی بحران کو گہرا اور حکومت کو ہلا کر رکھا دیا ہے۔پسوک کے چند ممبرز نے دھمکی دی جو بڑی ٹریڈیونینزADEDYاورGESSسے منسلک تھیکہ وہ تین کے ٹولے (یورپی یونین،سنٹرل بینک اورآئی ایم ایف)کی مسلط کردہ شرائط کے خلاف ووٹ دئیں گئیں۔
لائحہ عمل کی کمزوریاں:
عوامی جدوجہد اور 48کی ہڑتال کے دوران جہاں ایک طرف عوام کا جذبہ اورشکتی ظاہر ہوئی ہے، اس کے ساتھ ہی سیاسی پیشبندی،قیادت اور تناظرکے حوالے سے تحریک کی کمزوری بھی سامنے آئی ہے۔ہڑتال کو بڑئے پیمانے پر حکومت سے منسلک ٹریڈیونین بیورکریٹس نے منظم کیا ہے، جو حکومت کے لگاتار حملوں کے باوجود حکمران جماعت پاسوک سے وابستہ ہیں۔
عام ہڑتال نے واضح کیا ہے کہ حالاں کے بڑے پیمانے پرrank and fileاورٹریڈیونین بیورکریسی مخالف قوت حاصل کر رہے ہیں،لیکن ابھی تک بڑی ٹریڈیونینز اورKKEکی ٹریڈیونینPAMEنے لاکھوں بلکہ حقیقت میں سارے منظم محنت کش طبقے کو متحرک کیاہے۔ان حالات میںیونینز سے علیحدہ کھڑے ہونابائیں بازو کی انتہا پسندی ہوگی۔لیفٹ کو ان حالات میں ٹریڈیونینز کے ساتھ متحدہ محاذ بنانے کی ضرورت ہے،تاکہ جدوجہد میں زیادہ سے زیادہ یکجہتی بنائی جاسکے اور اس کے ساتھ ہی ٹریڈیونینز کی اصلاح پسند قیادت کمزوریوں اور انکے حکمران طبقہ اور نظام سے جڑئے ہوے مفادات کوبے نقاب کیا جاسکے
سائنتگامہ اسکوئر کی اسمبلی طرف سے ہڑتال کی کال نے ٹریڈیونین لیڈرشپ پر دباؤ ڈالا ،دو دن کی ہڑتال میں منظم محنت کش طبقہ اورنوجوانوں کی غصے کی تحریک کے درمیان دوری کو واضح کردیا۔یونینز نے اپنے علیحدہ مظاہرے منظم کیا اور اکثر مختلف اوقات میں۔ADEDYاورGSEEنے کسی حد تک تحریک سے تعاون اور ملکرمظاہرے منظم کیے۔مگرKKEاوراس وابستہPAMEنے ایسا کرنے سے انکار کر دیا،کیوں کہ اسکوئر پرقبضہ کرنے والوں کے بڑئے حصے میں پارٹی مخالف اور یقعینی طورپر ٹریڈیونین مخالف شدید جذبات پائے جاتے تھے۔
ان پیٹی بورژوا اور لازمی طور پر دائیں بازو کے تعصبات کے خلاف جدوجہد کرنے کی بجائے KKEنے پوری عوامی تحریک کو ہی ہڑتال سے پہلے رجعتی قراردیدیا۔
KKEکا تحریک کے دوسرے حصوں کی طرف فرقہ وارنہ نقطہ نظر بار بار ظاہر ہو رہا ہے جو حکومت مخالف جدوجہد کر رہے ہیں اور یونانی قوم پرستی کے حامل کیمونسٹ صرف تحریک کو تقسیم کرنے اورملیٹنٹ ٹریڈیونینسٹوں کو تحریک سے علیحدگی کی طرف سے جارہے ہیں،اس سے وہ تحریک میں محنت کش اور پارٹی مخالف نقطہ نظر کے حامل عناصر کو مضبوط کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
عوامی مظاہروں کے تسلسل اور پارلیمنٹ کے گھیراو ،کے دوران تحریک کی اندرونی سیاسی کمزوریوں سامنے آئی ہیں۔حالاں کہ عوامی اسمبلیوں کا قیام ایک مثبت قدم ہے، جہاں سیاسی جماعتیں،کارکناں اور عام لوگ اپنے خیالات ظاہر کرتے اور بحث ہوتی ہے،لیکن اس کا غیرسیاسی اور بڑے حصے کاپاپولزم کی طرف جھکاؤ تحریک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
ریڈکل بائیں بازو کی طرف سے اس میں شرکت سے ٹریڈیونین مخالف رجحان میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔مرکزی اور دیگر مقامی اسمبلیاں جمہوری طریقے سے کس معاملے کو طے کرنے کی بجائے،مکمل اتفاق رائے کی بنیاد پر فیصلہ اور عدم تشدد پر مبنی جدوجہد کاطریقہ کار تحریک کو نقصان پہنچارہاہے۔
جب پارلیمنٹ کے گھیراو کا فیصلہ کیا گیا تو اس کی پولیس سے حفاظت کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا،حالانکہ یہ واضح تھا کہ پولیس حملہ کرئے گی تاکہ اسمبلی اجلاس اور کٹوتیوں کے بل پرووٹ ہو سکے۔
حکام نے فیصلہ کیا کہ سائنتگامہاسکوئرکو مظاہریں سے خالی کروایا جائے،اس لیے پولیس نے ان پرآنسو گیس کی شدید شیلنک کی،تاکہ مظاہرین پارلیمنٹ کی طرف نہ جاسکیں،اس صورتحال میں مظاہرین کی بڑی تعداد گلیوں میں منتشر ہوگی،جبکہ چندہزارنوجوانوں رہ گے جو، جن میں اکثریت انارکسٹوں اور اٹانومسٹوں کی تھی جو رات گے تک لڑتے رہے اور سینکڑوں زخمی اور بڑی تعداد میں گرفتار ہوئے۔
مظاہرین بجائے اس کے فیصلہ کن اہمیت کا کردار ادا کرتے تماشائی بنے پر مجبور ہوگے،یہ صورتحال جمہوری طور پر منتخب اور جوابدے عوامی لیڈر شپ کی عدم موجودگی کو ظاہر کررہی تھی،جو اس وقت فیصلہ کن کردار اداکرتے ہوئے نہ صرف گھیراو منظم کرتے بلکہ اس کی پولیس سے حفاظت کے لیے دفاعی دستے تشکیل دیتے، جن میں بہادر نوجوان اہم کردار ادا کرتے۔
کیا کیا جائے؟
یونانی لیفٹ اور اسمبلیوں کو بغور دیکھا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ سب سے اہم مسئلہ جدوجہد کے تناظر کی عدم موجودگی،منصوبہ بندی اورموجودہ حکومت کے متبادل کا نہ ہونا اور اسی طرحEUاور مقامی سرمایہ داروں کے مشترکہ حملے کا جواب کیا ہو گا۔تحریک اس حوالے سے متفق ہے کہ اس کو کیا نہیں چاہیے۔وہ عوام کے معیار زندگی پر حملوں اور قومی قرضے کو نہ تسلیم کرنے پر متفق ہیں۔لیکن سماجی زوال اور عوام کی ابتری کے ماحول میں یہ کافی نہیں ہے۔
بڑھتی ہوئی تقسیم اور انقلابی جذبہ:
انقلابی ابھار کے اس عہد میں جب حکمران طبقہ کے پاس اس بحران کا واحد حل محنت کش عوام پر تاریخی حملہ ہے اور عوام اس حملے کو برداشت کرنے سے انکار کر رہے ہوں،صرف حکومت کی مخالفت کافی نہیں ہے۔
عوام جو سڑکوں پر مظاہرے اور ہڑتال کررہے ہیں ان کو جدوجہدکے لیے انقلابی پروگرام کی ضرورت ہے،تاکہ موجودہ بحران کی قیمت دولت مند اور سرمایہ دار خاندان ادا کریں،جو پچھلی ایک صدی سے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔جو محنت کشوں کابحران کے خلاف کٹوتیوں پر مبنی پرواگرام نفاذکرنا چاہتے ہیں۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ تحریک کو جن مسئلہ کا سامنا ہے ان پر توجہ دی جائے۔پارلیمنٹ میں ووٹ اور بل کے پاس ہونا واضح کررہاہے کہ عوامی احتجاج چاہے اس میں سارے یونان کی عوام شامل ہوجائیں تب تک نا کافی ہے جب تک یہ24یا48گھنٹوں تک محدود رہے۔جیسا کہ یہ واضح ہے کہ گورنمنٹ کٹوتیوں کے پرواگرام کے نفاذکے لیے غیر جمہوری طریقہ کار،جبر اور بدترین تشدد کااستعمال کرئے گی،اس کے علاوہ حکومت نے عوام کو بدترین منظر نامہ پیش کیا ہے اگر یونان کو یورو سے نکال دیا جاتا ہے اوراسکوMA DRACHدوبارہ متعارف کروانا پڑا۔
ڈپٹی پرائم منسٹر نے سپین کے روزنامے کو انٹرویودیتے ہوئے کہااگرہمیںDRACHMAمتعارف کرنا پڑاتو اس دن بڑی تعداد میں خوف زدہ عوام اپنی رقوم کو نکلونے کے لیے بنکوں کے باہر جمع ہوں گے اور بنکوں کے تحفظ کے لیے ہمیں فوج کو بلابا پڑئے گا جو ٹینکوں پر آے گی کیونکہ ہمارے پاس پولیس کی نفری کم ہو جائے گی۔
اس بیان کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،یہ اس بات سے پردہ اٹھا رہا ہے کہ یونان کا حکمران طبقہ اور اس کی سوچ کیا ہے اور محنت کش طبقہ کواس صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔یونانی سرمایہ داری کا تاریخی بحران اور جو مسائل اس کودرپیش ہیں وہ یونان کے حکمران طبقے کو مزید جبر پر مشتمل نظام کی طرف لے جائیں گے۔اگر موجودہ پارلیمانی حکومت ان کٹوتیوں کے پرواگرام کو نفاذ نہ کر سکی۔
پچھلے چندماہ میں یونانی عوام کاکی نفرت عروج پر پہنچ گی ہے اس کا اظہار یونینز اور لیفٹ کی تنظیموں میں ہورہا ہے،لیکن اس کے ساتھ انتہا پسند دائیں بازو کی قوتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے جو قومی بنیادوں پر انتہائی شاونزم پر مبنی حل پیش کررہی ہیں۔پچھلے چندمہینوں میں مہاجر محنت کشوں اور ان کے خاندانوں پر نسل پرست اور فاشسٹ حملے کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ مڈل کلاس اور بے روزگار نوجوانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ان میں بیرونی سرمایہ دار اور کرپٹ حکمرانوں کے خلاف شدیدنفرت جنم لے سکتی، لیکن اس کے مہاجر محنت کشوں اورنکمے اورغلبے کے حامل ٹریڈیونینز کے خلاف بھی جن کی وجہ سے عام پیٹی بورژوابحران کے شدید حملوں کا سامنا کر رہا ہے۔
یونانی لیفٹ کی فرائض:
یونانی سماج میں شدیدپولرئیزیشن جنم رہی ہے،ہم ایسے حالات کا سامنا کررہے ہیں ،جہاں بڑی تعداد میں محنت کش اور عوام حکومت مخالف جدوجہد میں ہیں۔یونانی لیفٹ، ٹریڈیونینسٹوں،سوشلسٹوں اور کیمونسٹوں کو تحریک کی قیادت میں آنا ہوگا۔حکومت کے عوام پر حملے روکنے کے لیے 24گھنٹے،48گھنٹے یا72گھنٹے کی ہڑتال بھی ناکافی ہو گی۔غیر معینہ مدت کے لیے عام ہڑتال کی بھرپور مہم حکمران طبقے کے حملوں اور ان کی پالیسویں کے نفاذ میں اہم رکاوٹ ہو گی۔مختصر طور پر کیا چاہیے ہے، اس کے بارے میں ٹراٹسکی نے کہا ہے ہمیں عام مظاہرہ، ایک گھنٹے یا 24گھنٹے ہڑتال نہیں بلکہ جنگ کی تیاری کی ضرورت ہے جو ہمارے دشمن کو جھکنے پر مجبور کردے۔
ٓٓاس کے لیے ضروری ہے کہ کام کی جگہوں، عوامی اسمبلیوں میں بھرپور مہم چلائی جائے اور ٹریڈ یونین لیڈر شپ جیسے ADESY,GSEEاورPAME
ؑ ؑ ؒ کے علاوہSYRIZAاورKKE دیگر لیفٹ ونگز اور مزدور تحریکوں سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کے اپیل کرنی چاہے۔
یہ ہڑتال ہڑتالی کمیٹی کے تحت ہونی چاہیے،جو تمام کام کی جگہوں اور دفاتر سے منتخب ہوئی ہو۔اس کے علاوہ سائنتگامہ کی اسمبلیاں اورقریبی علاقوں اورچھوٹے شہروں کی اسمبلیاں اس کی حمایت کریں۔ کام کی جگہ سے علاقائی اور قومی سطح پر ڈیلگیٹ منتخب کیے جائیں جو اس تحریک کی جمہوری مگر فیصلہ کن انداز میں قیادت کرئیں۔
سکوئر میں موجود محنت کش مخالف پیٹی بورژوامواقف کے خلاف سیاسی جدوجہد کی ضرورت ہے،ان کے خلاف جو بائیں بازو کی جماعتوں،بڑی ٹریڈیونینز اور جمہوری طور پر قومی قیادت منتخب کرنے کے مخالف ہیں کہ اس قومی قیادت مقامی کمیٹیوں پر اپنی رائے مسلط کرئے گی۔
ایسے خیالات نہ صرف نئے نوجوان پیٹی بورژوا کی طرف سے آرہے ہیں ،بلکہ ان کو انارکسٹ، اٹانومسٹ اور لیبٹیرین بھی پیش کررہے ہیں،ان کی مکمل مخالفت اور ان کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔قومی سطح پر منظم ہوئے بغیر،جس کی بنیادیں عوامی اسمبلیوں اور منتخب ڈیلیگٹس پر ہو ں کے بغیرسرمایہ دارانہ ریاست کا مقابلہ ممکن نہیں جو انتہائی منظم طاقت ہے۔
اس طرح تحریک کودفاعی کمیٹیاں بھی منظم کرنے کی ضرورت ہے جو سیاسی طور پرقومی سطح کی کمیٹیوں کے تحت ہوں۔
عام ہڑتال جو ان اداروں کے تحت منظم ہوگی وہ یہ سوال پیدا کرئے گی کہ یونان میں حکمران کون ہوگا،کون ساطبقہ اپناپرواگرام نفاذکرے گا،کیا یونانی سرمایہ دار اور سامراجی ہوں گے یا محنت کش طبقہ کسانوں ،شہری و دیہی غریبوں اور پیٹی بورژوا کے ساتھ اتحاد کر کے۔
لیکن اس کے لیے محنت کش طبقے کو عوامی تحریک کی قیادت میں آناہو گا، محنت کش طبقہ کی حکمرانی کے لیے ایسے پرواگرام کی ضرورت ہے جس کی بنیاد عوامی اور محنت کشوں کی جنم لینے والی کمیٹیوں پر ہو۔
محنت کشوں کی یہ حکومت یونان میں سوشلسٹ سماج کی تعمیر کے لیے عبور کا کردار ادا کرئے گی اور یورپ میں سوشلسٹ انقلاب کے لیے چنگاری کا کردار ادا کرئے گی۔
اس کا بنیا دی فرض ہے کہ یہ قومی قرضہ دینے سے انکارکرئے ،حکومت،آئی ایم ایف اور EUکی طرف سے مسلط کردہ تمام تر کٹوتیوں کے پیکجز کا خاتمہ کرئے، بنکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو بغیر کسی ادائیگی کے قومی تحویل میں لے، سپیکولیٹرز اور سرمایہ داروں سے دولت چھین کرمالیاتی سیکٹر کو ایک قومی بنک میں منظم کریں جو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں ہو۔سامراجی اور بڑی قومی کمپنیوں کو ریاستی تحویل میں لے اور اس کو اس انداز میں منظم کیا جائے کہ نہ صرف لاکھوں کو دوبارہ روزگار دیا جائے بلکہ ان اداروں کومحنت کشوں اور کنزیومرز کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔پرائس کمٹیاں تشکیل دے جو مہنگائی اور سٹہ بازی کو کنٹرول کرئیں،یہ محنت کشوں کے کام کے اوقات 35گھنٹے ہفتہ کرئے تاکہ دیگر محنت کشوں کو نوکریاں مل سکیں اور کم ازکم تنخواہ کا اجراء کرئے،ایسی حکومت پولیس ،فوج اور ریاستی بیوروکریسی کے نظام کا خاتمہ کرکے سرمایہ دارانہ ریاست کی طاقت کا ختم کرتے ہوئے اس جگہ محنت کشوں اورعوامی کونسلز کو دئے۔
انقلابی پارٹی:
لیکن اسکوئر پر قابض عوام اور محنت کش طبقہ کو اس تناظر پر جیتنے کے ہمیں سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جوسوشلسٹ انقلاب کے لیے ناقابل مصالحت جدوجہد منظم کرئے۔ٹریڈیونین کی بیوروکریسی اوراصلاح پسندجماعتیںKKEاورSYRIZEبنیادی طور پر سرمایہ داری سے ہی منسلک ہیں،دہائیوں سے وہ یونانی سرمایہ داری میں اصلاح کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔SYRIZEکے ممبرز آف پارلیمنٹ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومتی پالیسی میں تبدیلی کے زریعے کے زریعے موجود نظام قابل عمل ہے۔KKE خیال ہے کہ یونان اپنی قومی آزادی واپس حاصل کرسکتا ہے اگر وہDRACHMAکو دوبارہ سے متعارف کروادے۔ اگر یونان میں پیدواری رشتے برقرار اور سرمایہ داری نظام قائم رہتا ہیں تو یہ یوٹوپیائی خیال ہوگا۔DRACHMAکو دوبارہ رائج کرنے سے قومی کرنسی میں بڑے پیمانے پر گرواٹ آئے گی،جو شایدْ قرضے کی مشکلات کو کم کر دے اور برآمدات میں اضافے کا باعث ہو،لیکن یہ محنت کشوں اور مڈل کلاس کی بچتوں میں بڑئے پیمانے پر کم کرئے گا اور بڑئے پیمانے پرقیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کا باعث ہوگا۔محنت کش اور غریب ایک اور انداز میں بحران کی قیمت ادا کریں گے۔انارکسزم اور اٹانومزم جو نوجوانوں اور غیر یقعنی صورتحال کے شکار محنت کشوں کے لیے دلکشی کا باعث بنتا ہے ان کے پاس بھی ان مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ان کو اپنے پارٹی مخالف رجحان کو ترک کرنا پڑئے گا،ان کایہ رویہ محنت کش طبقہ کی قیادت کے بحران کے حل میں بڑی رکاوٹ ہے۔
یونان میں ریڈیکل لیفٹ زیادہ تر ٹراٹسکی اور ماؤنوازوں پر مشتمل ہے،ان حالات میں ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ریڈیکل لیفٹ کی بہت ساری تنظیمیں انقلاب کے ذریعے موجود حکومت کے خاتمے کانعرہ بلند کر رہی ہیں۔ان میں سے کچھ درست عبوری نعرہ بھی پیش کررہی ہیں ،جیسے بڑی کمپنیوں اور صنعتوں کو ریاستی تحویل میں لے کرمحنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دینا۔
لیکن ان کے پاس محنت کش طبقے کے اقتدار پر قبضے کے لیے کوئی جامع پرواگرام نہیں ہے۔نہ ہی انقلابی بنیادوں پر سیاسی پارٹی کی تشکیل کا تناظر، اس وقت سرمایہ داری مخالف بائیں بازو کا اتحادجو دس سے زائد تنظیموں پر مشتمل ہیں میں تضاد پایا جاتا ہے۔اس میں بڑی تنظیم NARہے جو 90میںKKEکے یوتھ ونگ سے سپلٹ کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی جبKKEنے دائیں بازو کی رجعتی حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی،اس کے علاوہIST کاسیکشن جس کا مواقف ہے کہSYRIZAکو صرف اتحاد کے طورپر برقرار رکھا جائے۔OKDE-Spartacos جو فورتھ انٹرنیشنل کا سیکشن ہے وہ اس اتحاد کو پارٹی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے،اس کے علاوہSYRIZAمیں موجود بائیں دھڑے کا بھی یہی مواقف ہے۔
حالاں کہ ہمOKDEکے پرواگرام کے حامی نہیں جس بنیاد پر وہ نئی پارٹی کی تشکیل چاہتے ہیں،لیکن ہم متفق ہیں کہ Antarsyaاور وہ جو محنت کش طبقے کی قیادت بحران کو حل کرنا چاہتے ہیں ان کو سرمایہ داری مخالف لیفٹ کے درمیان اتحادسے آگے بڑھنا ہوگا۔اگر اتحادموجود انقلابی عہد میں اپنے آپ کو مشترکہ پارٹی میں تبدیل نہیں کرتااور منظم انداز میں لیڈر شپ کے حصول کے لیے جدوجہد نہیں کرتا تو ان کے درمیان اختلافات کم ہونے کی بجائے اس میں مزید اضافہ ہوگا،آخر کار یونان کے سرمایہ داری مخالف لیفٹ نے نئی سرمایہ داری مخالف پارٹی کی تعمیرکے لیے اہم قوتوں کو اکھٹا کیا ہے جس کو انقلابی پارٹی میں تبدیل ہونا ہے۔اب ان کو آگے بڑھنا ہو گا اور اس اہم فرائضے کو پوراکرنا ہوگاجس کا سامنا آج یونان کے محنت کشوں کے ہراول دستے، سوشلسٹوں اور کیمیونسٹوں کو ہے۔حقیقی انقلابی محنت کش طبقے کی پارٹی کی تشکیل جو بحران زد سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کر دے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: