عوام میں ریاستی اداروں کے جبر کے خلاف ابھرتی ہوئی جدوجہد

سلیم شہزاد کی کاقتل ہو، خروٹ آباد کاواقع یا کراچی میں سرفراز نامی نوجوان کا رینجرز کے ہاتھوں گولیوں کا نشانہ بنانا اور ہسپتال جانے کی التجا کے جواب میں تڑپ کر مرنا،اس نے ہر جگہ بحث کو جنم دیا ،جیسے میڈیا، فیس بک،یوٹیوب،ٹویٹر اور بلاگ وغیرہ پر ان واقعات پر شدید تنقید سامنے آئی۔ایک رائے واضح ہوئی کہ یہ ریاستی ادارے اپنے ہی شہریوں کو کیوں مارہی ہے۔
مسلم لیگ ن کی طرف سے فوج اوران واقعات پر ہونے والی تنقید حکمران طبقات کے شدید اندرونی تضادات کو سامنے لے آئی،فوج ایبٹ آباد والے واقع کے بعد شدید دباؤ میں تھی، اس کے ساتھ ہی مہران بیس والے حملے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔اس سے فوج کی دفاعی صلاحیت اور اس کے عوام پر اثرات میں بڑئے پیمانے پر کمی آئی۔یوں عوام کے اندار ان اداروں پر شدید تنقید سامنے آئی۔
اسی دوران جب سلیم شہزاد کی مہران بیس کے حوالے روپورٹ شائع ہوئی ، تو سلیم شہزاد کو اغواء کرلیا گیا،شروع سے ہی اس کا شک آئی ایس آئی پر گیا ،بعدازں اس حوالے سے ای میل سامنے آگی جس نے حقیقت کو واضح کردیا،اور اس کے بعد دو واقعات تسلسل کے ساتھ سامنے آئے،پہلے خروٹ آباد اور پھر کراچی میں سرفراز جو صحافی کا بھائی تھا اور اس کی ویڈیو ایک ٹی وی کیمر مین نے بنا ئی اور اس کو ٹی وی پر چلا دیا۔ اس واقع نے تو آگ لگادی اور پورے ملک میں فوج پر شدید تنقید سامنے آئی۔
فوج کی صلاحیت اور اس کا اصل کردار عوام کے سامنے آیا۔اس نہ صرف فوج کا کردار زیر بحث آیا، بلکہ مسلم لیگ ن نے اس کو مقدس گائے منانے سے انکار کرتے ہوئے، اس کے احتساب اور فوجی بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا مطالبہ کردیا۔اس نے ترقی پسند قوتوں کو بھی مواقع باہم پہنچایا جو ہمیشہ ہی سے ریاستی اداروں کی بربریت کو بے نقاب اور ان کے بلوچوں، پختونوں، سندھیوں اور محنت کشوں پر مظالم کو بیان کرتے رہے تھے کہ وہ اب اپنے موقف کو زیادہ بہتر طور پر بیان کر سکتے تھے۔
فوجی بجٹ میں کٹوتی کے حوالے اور اس کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے اور فوج پر سویلین کنٹرول کو مضبوط کرنے کے حوالے سے، ان کی جدوجہد عوام میں تیزی کے ساتھ مقبولیت حاصل کر سکتی ہے، اس حوالے سے لاہور اور اسلام آباد میں مظاہرے بھی ہوئے جو بڑئے اہم تھے،خاصکر اس لیے بھی کہ اس وقت حکمران طبقہ کی گرفت کمزور ہے۔
لیکن اس حوالے سے بائیں بازوکواپنی سامراج مخالف حکمت پر قائم رہنا ہوگا اور محنت کشوں میں جنم لیتی ہوئی بغاوت کو ایک موثر سیاسی آواز بنتے ہوئے ان ایشوازء پر اپنے مواقف کو آگے برھانا ہوگا۔
یوں ہی یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ بائیں بازو محنت کش عوام میں ایک موئثر طاقت بنا سکے اور یہ سب کسی لبرل یا اصلاح پسند جمہوریت میں ممکن نہیں ہے۔ یہ نظام کی مکمل تبدیلی یعنی سوشلسٹ تبدیلی کا سوال ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: