نظریہ مسلسل انقلاب کیا ہے؟

تحریر:لیون ٹراٹسکی
مجھے امید ہے کہ قاری اس بات پر اعتراض نہیں کرے گا۔اگر میں اس کتاب کا اختتام اپنے وضع کردہ جامع اور اصولی نتائج پر کرنے کی کوشش کروں ،اس خوف کے بغیر کہ کچھ باتیں دوبارہ دہرائیں جائیں۔
1.نظریہ مسلسل انقلاب ہر مارکسسٹ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسے بہت زیادہ توجہ دی جائے ۔،طبقاتی اور نظریاتی جدوجہد کے سفر میں مکمل اور حتمی طور پر اس سوال کو روسی مارکسسٹوں کے درمیان پرانے اختلاف رائے تذکرے کی حدود سے اوپر اٹھادے ،اور اسے عالمی انقلاب کے عمومی طریقہ کار،کردار اور داخلی رشتوں کے سوال میں بدل دے ۔
2.ایسے ممالک کے حوالے سے جہاں سرمایہ دارانہ ترقی تاخیر سے ہوئی ،خاص طور پر نو آبادیاتی اور نیم نو آبادیاتی ممالک ،نظریہ مسلسل انقلاب واضح کرتا ہے کہ قومی نجات اور جمہوریت کے فرائض کا حل صرف مزدور آمریت کے زریعے ہی ممکن ہے جو کہ مغلوب قوم کی قیادت کرے گی ،سب سے بڑھ کر کسان عوام کی ۔
3.نہ صرف زرعی بلکہ قومی سوال بھی کسانوں کو ،جو کہ پسماندہ ممالک میں آبادی کی واضح اکثریت ہیں ۔جمہوری انقلاب میں ایک بے مثال مقام عطا کرتا ہے ۔کسانوں کے مزدوروں کے ساتھ اتحاد کے بغیر نہ تو جمہوری انقلاب کے فرائض ادا ہو سکتے ہیں اور نہ ہی سنجیدگی سے پیش ہو سکتے ہیں ۔مگر ان دو کا اتحاد اسی صورت میں مکمل ہوسکتا ہے جب یہ قومی لبرل سرمایہ داروں کے اثرو رسوخ کے خلاف ناقابل مصالحت جدوجہد کازریعے ہو۔
4.اس سے قطع نظر کے ہر انفرادی ملک میں انقلاب کے مراحل کس ترتیب سے وقوع پذیر ہوں گے ،اور کسانوں کے درمیان انقلابی اتحاد صرف مزدور ہراول کی سیاسی قیادت میں ممکن ہوگا ،جو کہ کمیونسٹ پارٹی میں ممکن ہو گا ۔اس کا مطلب ہے کہ جمہوری انقلاب کی فتح صرف مزدور آمریت کے زریعے ممکن ہوگی جو کہ کسانوں کے ساتھ اتحاد پر انحصار کرے گا اور جمہوری انقلاب کے تمام فرائض کو سب سے پہلے ادا کرے گا۔
5.تاریخی جائزے میں بالشوازم کا مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت کا پرانا نعرہ ،محض لبرل سرمایہ داروں ،کسانوں اور مزدوروں کے اوپر بیان کئے گئے تعلقات کے خواص کو بیان کرتا ہے اکتوبر کے تجربے نے اس کی توثیق کر دی لیکن لینن کا پرانا فارمولہ پہلے سے انقلابی اکٹھ میں مزدوروں اور کسانوں کے باہمی تعلقات کے مسئلے کو حل نہیں کر سکا۔
دوسرے لفظوں مین یہ کلیہ جان بوجھ کر ایک مخصوص الجبراتی خصوصیت رکھتا تھا ،جس نے تاریخی تجربے کے عمل میں زیادہ ریاضیاتی مقداروں کے لئے راستہ ہموار کرنا تھا ۔البتہ،آخرالذکر نے یہ دکھایا کہ کسی بھی حالت میں اس کی غلط تشریح خارج از امکان ہے ،اس سے قطع نظر کے کسان کتنا بڑا انقلابی کردار ادا کریں مگر یہ آزادانہ کردار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی قائدانہ ،کسان یا تو مزدوروں کی پیروی کریں گے یا پھر سرمایہ داروں کی ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت صرف مزدور آمریت کے طور پر ممکن ہے جس میں وہ کسان عوام کو اپنے پیچھے جمع کریں اور ان کی قیادت کریں ۔
6.مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت ،ایک حکومت کے طور پر مزدور آمریت سے اپنے طبقاتی مواد کے حوالے سے مختلف ہے اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے ۔جہاں آزادانہ انقلابی پارٹی قائم ہو جو کسانوں کے مفادات کو بیان کرے اور عمومی طور پر درمیانے طبقے کی جمہوریت کے مفادات کا بھی اظہار کرے ۔ایک پارٹی جو مزدوروں کی مدد سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو ،اور جو اپنے انقلابی پروگرام پر مستقل مزاجی سے قائم ہو ۔جیسا کہ جدید تاریخ تصدیق کرتی ہے ۔خاص طور پر پچھلے 25سالوں کا روسی تجربہ ۔کسانوں کی پارٹی کی تخلیق کے راستے میں ناقابل تسخیر رکاوٹ درمیانے طبقے کی معاشی اور سیاسی آزادی کی کمی اور اس کی گہری داخلی تفریق ہے ۔اس وجہ سے کسانوں کے درمیانے طبقے کے بالائی حصے ،فیصلہ کن مواقعوں پر بڑے سرمایہ داروں کا ساتھ دیتے ہیں ۔،خاص طور پر جنگ اور انقلاب میں :نچلے حصے مزدوروں کا ساتھ دیتے ہیں ،درمیانے حصے کو مجبورا دو انتہائی متحارب گروہوں میں سے ایک کا چناؤ کرنا پڑتا ہے ۔بالشویک اقتدار اور کیرانسکی ازم کے درمیان،مزدور آمریت اور کو منتانگ کے درمیان،ان کے درمیان کوئی درمیانہ مرحلہ نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے یہ مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت نہیں ۔
7.مزدور طبقے کی آمریت جو کہ جمہوری مشرقی ممالک پر مزدوروں اور کسانوں کی جمہوری آمریت کے نعرے کو تھونپنے کی کمنٹرن کی شدید خواہش ،تاریخ نے حتمی طور پر طویل عرصہ پہلے ختم کر دی،اور اس کا رجعتی اثر ہو سکتا ہے ۔جب بھی اس نعرے کو مزدور آمریت کے نعرے کے مقابلے میں پیش کیا گیا ،اس نے مزدور طبقے کو سیاسی طور پر درمیانے طبقے میں تحلیل کر دیا اور اس کے نتیجے قومی سرمایہ داری کی بالا دستی کے لئے سازگار حالات پیدا ہوئے اور اس کا نتیجہ جمہوری انقلاب کی تباہی کی صورت میں نکلا ۔کمنٹرن کے پروگرام میں اس نعرہ کا شامل کیا جانا برائے راست مارکسزم اور بالشوازم کی اکتوبر روایت سے غداری ہے ۔
8. مزدور طبقے کی آمریت جو کہ جمہوری انقلاب کے قائد کے طور پر اقتدار میں آیا۔بہت جلد اور ناگزیر طور پر ان فرائض سے نبرد آزما ہوتا ہے جو کہ سرمایہ دارانہ ملکیت کے حقوق کے ساتھ گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں ۔جمہوری انقلاب برائے راست بڑھ کر سوشلسٹ انقلاب میں داخل ہو جاتا ہے اور اس طرح مسلسل انقلاب بن جاتا ہے ۔
9.مزدوروں کا اقتدار پر قابض ہونا انقلاب کو مکمل نہیں کرتا بلکہ اس کے راستے کھولتا ہے ۔سوشلسٹ تعمیر صرف طبقاتی جدوجہد کی بنیادوں پر قومی اور عالمی سطح پر ممکن ہے ۔عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ تعلقات کے وسیع غلبے کے حالات میں یہ جدوجہد ،ناگزیر طور پر دھماکوں کو جنم دے گی ۔اسی سوشلسٹ انقلاب کا مسلسل کردار پنہوں ہے اس سے قطع نظر کہ ایسا ایک پسماندہ ملک میں ہو رہا ہے جہاں ابھی کل ہی جمہوری انقلاب تکمیل تک پہنچا ہے یا ایک پرانا سرمایہ دار ملک ہے جس کے پیچھے پہلے ہی سے جمہوریت اور پارلیمانیت کا ایک لمبا عہد ہے ۔
10.قومی حدود میں سوشلسٹ انقلاب کی تکمیل نا قابل تصور ہے ۔سرمایہ دارانہ سماج میں بحران کی بنیادی وجوہوت میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ وہ کہ وہ پیداواری قوتیں جن کو اس نے تخلیق کیا ۔اب قومی ریاست کے ڈھانچے کے ساتھ مصلحت کے لئے تیار نہیں ۔اسی سے ایک طرف تو سامراجی جنگیں اور دوسری طرف سرمایہ داروں کے ا داروں کا ریاست متحدہ ہائے یورپ کا خیال پھوٹتا ہے ۔سوشلسٹ انقلاب کا آغاز قومی سطح سے ہوتا ہے یہ بین الاقوامی سطح پر پھیلتا ہے اور عالمی سطح پر مکمل ہوتا ہے ۔اس طرح سوشلسٹ انقلاب اپنے نئے اور وسیع تر لفظی معنوں میں مسلسل انقلاب بن جاتا ہے،یہ مکمل ہوتا ہے کرۂ ارض پر نئے سماج کی مکمل فتح سے۔
11.عالمی انقلاب کی نشونما کے اوپر دئیے گئے خاکے سے اس سوال کا خاتمہ ہو جاتا ہے کہ کون سے ملک سوشلزم کے لئے تیار ہیں اور کون سے نہیں ؟علمیت کی شیخی بھگارنے پر مبنی کمنٹرن کے موجودہ بے جان پروگرام کی یہی روح ہے جب کہ سرمایہ داری نے ایک عالمی منڈی ،عالمی تقسیم محنت اور عالمی پیداواری قوتوں کو تخلیق کیا ہے ،اس نے عالمی معیشت کو بھی بحثیت مجموعی سوشلسٹ تبدیلی کے لئے تیار کای ہے ۔مختلف ممالک اس عمل سے مختلف رفتار سے گزریں گے ۔پسماندہ ممالک مخصوص حالات میں مزدور آمریت کو ترقی یافتہ ممالک سے پہلے حاصل کر سکتے ہیں لیکن وہ سوشلزم کو ترقی یافتہ ممالک کی نسبت تاخیر سے حاصل کر پائیں گے ۔ایک پسماندہ نو آبادیاتی یا نیم نو آبادیاتی ملک کا محنت کش طبقہ اگر کسانوں کو متحد نہ کر سکے اور اقتدار کے حصول کے لئے بہت زیادہ تیار نہ ہو تو اس صورت میں اس کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہوگی کہ وہ جمہوری انقلاب کو اس کے منطقی انجام کو پہنچا سکے ۔اس کے برعکس ایک ایسا ملک جہاں اقتدار جمہوری انقلاب کے نتیجے میں مزدوروں کے ہاتھ میں ہو تو سوشلزم اور آمریت کی قسمت کا فیصلہ آخری تجزئے میں صرف قومی پیداواری قوتوں پر نہیں بلکہ عالمی سوشلسٹ انقلاب کی نشونما پر بھی ہو گا ۔
12.ایک ملک میں سوشلزم کا نظریہ ،جو کہ اکتوبر انقلاب کے خلاف رجعت کے خمیر سے اٹھا ہے ۔نظریہ مسلسل انقلاب کے آخری حد تک مسلسل مخالفت کرنے والا صرف یہی نظریہ ہے :
ہماری تنقید کے چابق کی وجہ سے ،رکھوالے یہ کوشش کرتے ہیں کہ ایک ملک میں سوشلزم کے نظرئیے کا اطلاق صرف خصوصی طور پر روس تک محدود رکھا جائے ،کیونکہ اس کے مخصوص خواص ہیں (اس کی وسعت اور اس کے قدرتی وسائل)،اس سے معاملہ بہتر نہیں ہوتا بلکہ بگڑتا ہے ۔بین الاقوامیت کے مؤقف سے ناطہ توڑنا ہمیشہ قومی (Messianism)کی طرف لے جاتا ہے یہ اپنے ملک کے حوالے سے خاص کمالات،اچھائیاں اور فضیلتوں کو منسوب کرتا ہے جو کہ مبینہ طور پر ایسا کردار ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے جو کہ دوسرے ملک ادا نہیں کر سکتے ۔
محنت کی عالمی تقسیم سوویت،صنعت کا غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار ،یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کی پیداواری قوتوں کی خام مال پر انحصار وغیرہ وغیرہ دنیا کے کسی ایک ملک میں آزادانہ سوشلسٹ معاشرے کی تعمیر کا ناممکن بنا دیتا ہے ۔
13.سٹالن اور بخارن کا نظریہ روسی انقلاب کے تجربے کے مکمل طور پر خلاف ہے ،نا صرف جمہوری انقلاب کو میکانکی طور پر سوشلسٹ انقلاب سے الگ کرتا ہے ۔مگر اس کے علاوہ قومی انقلاب اور بین الاقوامی انقلاب میں بھی رخنہ ڈالتا ہے ۔
یہ نظریہ پسماندہ ممالک کے انقلابات پر ناقابل حصول جمہوری آمریت کی حکومت قائم کرنے کا فریضہ بھی تھوپنا ہے ،جو کہ مزدور آمریت کی ضد ہے اس طرح یہ نظریہ سیاست میں خوش فہمیاں اور خیال پرستی کو متعارف کرتا ہے مشرق میں مزدور طبقے کی اقتدار کے حصول کی جدوجہد کو مفلوج کرتا ہے،اور نوآبادیاتی انقلاب کی فتح کو روکتا ہے۔
’’رکھوالوں ‘‘کے نظریہ کے نقطہ نظر سے مزدوروں کا اقتدار پر قابض ہونا انقلاب کی تکمیل کر دیتا ہے(سٹالن کے کلیہ کے مطابق،دس میں سے نو حصے کی حد تک) اور قومی اصلاحات کے عہد کا آغاز کردیتا ہے۔کولاک(بڑا زمیندار) کا سوشلزم میں داخل ہونے کا نظریہ اور عالمی سرمایہ داروں کی غیرجانبداری کا نظریہ، بنیادی طور ایک ملک میں سوشلزم کے نظریہ سے کسی طور پرالگ نہیں،وہ اکھٹے کھڑے یا گرے ہیں۔
قومی سوشلزم کے نظریہ کی وجہ سے، کیمونسٹ انٹرنیشنل گر کرفوجی مداخلت کے خلاف جدوجہد کا مفید امدادی ہتھیار بن کر رہ گی ہے۔کمنٹرن کی موجودہ پالیسی، اس کا طرز حکومت اور اس کے نمایاں افراد کا انتخاب اس بات کا مکمل اظہار کرتا ہے کہ کیمونسٹ انٹرنیشنل کو تنزلی کے ذریعے ایک ایسے امدادی یونٹ کا کردار دے دیا گیا کہ جس میں وہ آزدانہ فرائض ادا نہیں کرسکتی۔
14۔بخارن کا تخلیق کردہ کمنٹرن کا پروگرام مکمل طور پر انتخابیت ہے۔یہ ایک ملک میں سوشلزم کے نظریے کو بین الاقوامیت سے جوڑنے کی مایوس کن کوشش ہے،حالانکہ اس کو عالمی انقلاب کے مسلسل کردارسے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کیمونسٹ حزب اختلاف کمنٹرن میں درست پالیسی اور ایک صحت مند قیادت کے لیے جدوجہد مکمل طور پر مارکسٹ پروگرام کیلئے جدوجہد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔پروگرام کاسوال دو باہمی طوپر الگ نظر آنے والے دو نظریوں کے سوال سے جد ا نہیں ہے۔
جو کہ نظریہ مسلسل انقلاب ، اور ایک ملک میں سوشلزم کا نظریہ ہے۔مسلسل انقلاب کے مسئلے نے بہت پہلے لینن اور ٹراٹسکی کے دمیان موجودہ اختلاف رائے کو ختم کردیا تھا،جبکہ تاریخ نے ان کو مکمل طور مٹادیا۔اصل جدوجہد مارکس اور لینن کے نظریات جو کہ ایک طرف ہے اور سنٹرسٹوں کے منتخب کردہ مختلف نظریات کے درمیان ہے جو کہ دوسری طرف ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: