کراچی میں محنت کشوں کا قتلِ عام

کراچی میں 5جولائی سے جاری قتلِ عام میں300سے زائد افراد ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہوئے،اس کے ساتھ بیشمار بسوں اور دکانوں کو نذر آتش کیا گیا اور حد تو یہ ہے کہ مختلف علاقوں میں مکانوں پر فائرنگ ،راکٹوں اور بمبوں سے حملے کیے گے ،جس نے خوف اور نفرت کی فضاء میں شدت سے اضافہ کردیا۔فوج اور رینجرز کی تعیناتی اور عشرت العباد کی گورنر کی ’’نوکری‘‘میں واپسی کے باوجود تصادم کی فضاء برقرار ہے۔
حکومت سے علیحدگی کے بعد کراچی کے حالات کے خراب ہونے کے خدشات موجود تھے،بظاہر تو علیحدگی کی وجہ کشمیر کے الیکشن بنے،لیکن حقیقت میں اس کی وجہ سندھ میں کمشنری نظام کی بحالی ہے، جس سے سابق حیدرآباد اور کراچی کے پانچ اضلاع کی بحالی سے ایم کیو ایم کی قوت شدید متاثر ہوگی۔پرویز مشرف کی آمریت میں کمشنری نظام، کراچی اور حیدرآبادکے اضلاع کے خاتمے سے ایم کیو ایم کی طاقت میں بڑا اضافہ ہوا تھا۔
پچھلے عرصے میں کراچی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی آئی اور مہاجر آبادی کا 42فیصد رہ گے ۔ان حالات میں اضلاع کی بحالی اور کمشنری نظام کی واپسی پر ایم کیو ایم کی قیادت شدید غصے میں ہے ۔
اس لئے ایم کیو ایم نے ایک بار پھر قتل عام شروع کردیا،تاکہ قوت کا مظاہرہ کیا جاسکے۔اس بار بھی پختون ہی اس غارت گری کانشانہ بنے۔
لیکن اس کے ساتھ طالبان کا شور مچا کر بدامنی کا سارا الزام پختونوں پر لگا دیا حالانکہ مختلف رپورٹوں کے مطابق اس قتل عام میں پختون ہی بڑی تعداد میں مارے گئے لیکن مہاجر اور دیگر قومیتوں کے افراد بھی اس ساری غارت گری کا نشانہ بنے ۔
ایم کیو ایم پچھلی دو دہائیوں سے زائد عرصے سے کراچی کو کنڑول کر رہی ہے 90کی دہائی میں یہ ریاست سے تضاد میں بھی آئی جس کے نتیجے میں اس کو فوجی آپریشنوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔لیکن 10,12سالوں میں ایم کیو ایم سامراج اور ریاست سے مکمل طور پر وابستہ رہی اور یوں نہ صرف سامراجی جنگ کی حامی بن کر ابھری اور جاگیرداری کی مخالفت کرتے ہوئے ،سرمائے کی نمائندہ بن کر ابھری
KESCکی موجودہ ہڑتال کے دوران محنت کشوں پر حملے اور زبردستی kescکے سنٹرز کو ہتھیار کے زور پر کھلونا یہ واضح کر رہا ہے ۔
یوں ایم کیو ایم کا فاسٹ کردار کھل کر سامنے آگیا کراچی میں ایم کیو ایم کی مسلح دستوں کی موجودگی کو اس لئے بھی برداشت کیا جاتا ہے۔تاکہ کراچی قومیت کی بنیاد پر تقسیم رہے اور محنت کشوں پر جڑت نہ بن پائے اور اگر کوئی بڑی تحریک پیدا ہو جائے تو ایم کیو ایم سرمایہ داری کے مفاد میں اسے جبر اور قومیت کی بنیاد پر توڑ دے ۔
لیکن پچھلے کچھ عرسے میں ایم کیو ایم ہی صرف واحد قوت نہیں رہ گئی بلکہ پختون تاجر ٹرانسپورٹ،ٹھیکیدار اور لینڈسے وابستہ پرت ای این پی میں منظم ہوئی ہے جو پختون محنت کشوں کی جدوجہد،قومیت اور ایم کیو ایم کے جبر کے خلاف اپنے ساتھ ملاتی ہوئی اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے پچھلے الیکشن میں اے این پی کی طرف سے سندہ اسمبلی میں دو نشستیں جیتنا اس کا ایک بڑا اظہار ہے یوں یہ جہاں ایک طرف ایم کیو ایم کی طرف سے یہ قتل عام جہاں کراچی میں اپنے آپ کو واحد قوت کے طور پر ظاہر کرنے کی کوشش ہے وہاں ای این پی کا رد عمل بالائی
ڈاھانچے میں مزید قوت و اختیار کا مطالبہ ہے جو ان کی معاشی مفادات کے لئے ضروری ہے یوں ایم کیو ایم اور اے این پی دونوں ہی محنت کشوں کی تحریکوں کو توڑنے یا پیچھے دھکیلنے کا باعث بنتے ہیں ۔
ان حالات میں انقلابی سوشلسٹوں کومحنت کشوں کی قومیت کی بنیاد پر تقسیم اور قتل عام کی طبقاتی بنیادوں کوواضح کرنا پڑے گا۔اس کے ساتھ ہمیں فاشسٹ حملوں کے خلاف دفاعی کمیٹوں کے قیام کے مظالبے کو بھی اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: